فرزند رسول امام حسن مجتبی (ع) کی شب ولادت کے موقع پر

رہبر انقلاب اسلامی نے فارسی گو شعرا سے ملاقات کی

ہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گزشتہ روز تہران میں دانشوروں، ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات بالخصوص ہندوستان، افغانستان اور ترکی کے شعرا کے ساتھ ایک ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے شاعروں سے فرمایا کہ آج کی دنیا کے بعض عجیب مسائل کی مذمت میں اشعار کہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا: پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اصحاب میں شامل ایک شاعرکو یہ حکم دیا تھا کہ اپنے اشعار میں مشرکین کی (ہجو) مذمت کرے اورآج بھی قبائلی جاہلیت کے ساتھ ساتھ تلوار کے رقص جیسی جدید جاہلیت ، یا سعودی عرب کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق میں شامل کرنے جیسے مسائل ایسے ہیں کہ ان کی سنجیدگی سے ہجو کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ شام کے واقعات، عراق کے حالات بالخصوص مقدس مقامات کا دفاع کرنے والے افراد کے مقاصد کو شعر اور شاعری کے ذریعے اُجاگر کیا جائے.

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ آج بھی اکثر لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ امریکہ عراق میں کیا کرنے آیا تھا، اس کا مقصد کیا تھا اور امریکیوں کو کس طرح شکست ہوئی لیکن اس بات کو واضح کرانے کی اشد ضرورت ہے کہ کس طرح صدام کا عراق، شہید حکیم کےعراق میں بدل گیا۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس ملاقات میں انقلاب سے پہلے شاعری کے اغراض و مقاصد کو غیر انقلابی اہداف اور آگاہی اور قومی بیداری سے عاری قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت اکثر افراد جو نئی سوچ و فکر کی بات کرتے تھے انہوں نے ایران کی ترقی و پیشرفت میں کسی بھی قسم کا کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

 آپ نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کو جدید شاعری کے سنہری دور کا آغاز، اور جوانوں اور ملکی اہداف کی خدمت میں بصیرت افروز اشعار کہنے کے محرک کے ساتھ نوجوانوں اور شاعروں کا ورود قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس قسم کے شعرا کا دائرہ روز بروز وسیع تر ہوتا گیا اور آج  خوش قسمتی سے مذہبی و انقلابی اہداف سے مطابقت رکھنے والی شاعری کا غلبہ ہے اور اس قسم کی شاعری ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ ملاقات گزشتہ روزحضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے ہوئی اور اس تقریب میں شریک شعرا نے رہبر انقلاب اسلامی کی موجودگی میں اپنے اشعار پڑھ کرسنائے۔

 

700 /