شہدائے مدافع حرم اور سرحدی افواج کے اہل خانہ سے رہبر انقلاب کا خطاب:

دشمن جان لے، ایران مستحکم ہے اور دشمنوں کو طمانچہ رسید کرے گا

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اتوار کی شام کو حرم اہل بیت رسول علیہم السلام کی حفاظت کی راہ میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ اور سرحدی افواج کے شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس دوران آپ نے اس بات پر تاکید کی کہ ملت ایران جو پر امن زندگی بسر کر رہی ہے وہ ان شہیدوں کی مرہون منّت ہے لہذا ملک کے ذمہ داروں  اور تمام عوام کو چاہئے کہ شہیدوں اور ان کے اہل خانہ کے اس حق کو سمجھیں اور اس کی قدر کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے گذشتہ دنوں امریکی حکام کے دھمکی آمیز بیانات کو کھوکھلی لفاظی  قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکی حکام ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی دنوں سے ہی ایران کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کی سوچ رہے ہیں لیکن وہ ملت ایران کو طمانچہ نہیں مار سکیں گے بلکہ ملت ایران ان کو طمانچہ رسید کرے گی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر" شہادت" کے مفہوم پر روشنی ڈالی اور اسے گہرے مفہوم اور بلند معانی کا حامل قرار دیتے ہوئے شہادت کو اللہ تعالی سے ایک منافع بخش تجارت کے مترادف قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ شہادت ایک تاجرانہ موت ہے جس میں خدا ابدی سعادت کے بدلے میں انسان کی جان کو جو فانی  اور ختم ہونے والی ہے،  خرید لیتا ہے اور شہید کو شفاعت کرنے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شہدا کے اہل خانہ کے صبر و استقامت کے جذبے کو انتہائی قیمتی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب اور اس کی طاقت محفوظ رہنے کی وجہ شہیدوں کے گھرانوں کی جانب سے شہادت، جہاد، صبر اور استقامت جیسے گہرے مفاہیم اور اقدار کا مظاہرہ ہے اور ان اقدار کو معاشرے سے چھین لینا دشمنوں کے ناپاک عزائم میں شامل ہے۔ اور افسوس اس بات کا ہے کہ بعض لوگ اس پر قلم فرسائی بھی کرتے ہیں ۔

قائد انقلاب اسلامی نے سخت دشمنیوں کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام  پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ امریکی صدر کی لفاظیاں  کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ اسلامی نظام، کامیابی کے ابتدائی ایام سے ہی مختلف سازشوں کا سامنا کر رہا ہے تاہم ملت ایران کے بدخواہ ہمارا کچھ بگاڑ نہی نہیں سکے ہیں ۔

آّپ نے تاکید کی کہ یہ لوگ اس وقت بھی اسلامی جمہوریہ ایران کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے جب یہ انقلاب ایک نئے اگے ہوئے  پودے کی مانند نحیف اور کمزور تھا تو اب کیا کرسکیں گے جب یہ نظام ایک تناور  درخت بن چکا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے  امریکی حکام کے گذشتہ دنوں کے بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جس میں ایران کے اسلامی نظام کو تبدیل کرنے کی بات کی گئی تھی ، ان کو مخاطب کرکے کہا : گذشتہ اڑتیس سال کے دوران کب ایسا ہوا ہے کہ تم  اسلامی نظام کو ختم کرنے کے خواہاں  نہ رہے ہو لیکن  ہمیشہ تمہیں  شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور آج کے بعد بھی یہی ہوتا  رہے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ کے نئے حکام کو ناتجربہ کار اور اناڑی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ان ناتجربہ کار افراد نے ایران کے عوام اور منتظمین کو پہچانا نہیں ہے تاہم جب انہیں منہ کی کھانی  پڑے گی تو اس وقت معاملہ ان کے سمجھ میں آجائے گا کہ حساب کتاب ہے کیا چیز۔

آپ نے فرمایا کہ امریکی حکام، انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتدائی دنوں سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو گرانے کی کوشش میں مصروف تھے، اور جنہیں یہ  حسرت تھی، وہ اپنی اس آرزو کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے اور اس کے بعد بھی ایسا ہی  ہوگا۔

آپ نے زور دیکر فرمایا کہ: " تمام لوگ ،دشمن اور پرخلوص دوست اور وہ دوست بھی ،جن پر بعض اوقات خوف  طاری  ہوجاتا ہے، جان لیں  کہ اسلامی جمہوریہ ایران مستحکم اور مکمل اقتدار کے ساتھ  ڈٹا ہوا ہے اور دشمن ملت ایران کو طمانچہ مار نہیں سکتے بلکہ یہ ملت ایران ہے جو انہیں طمانچہ رسید کرے گی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ شہیدوں کی قدر و قیمت کو معاشرے میں نمایاں ہونا چاہیۓ ،  فرمایا کہ اگر حرم اہل بیت رسول علیہم السلام کی حفاظت کی راہ میں شہید ہونے والے افراد نہ ہوتے تو آج فتنہ بپا کرنے والے، خبیث اور اہل بیت علیہم السلام کے   دشمن عناصر سے ایران کے شہروں کے اندر مقابلہ کرنا پڑتا، کیونکہ یہ لوگ عراق کی سرحدوں سے ایران میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ انہیں روک دیا گیا اور ان کا قلع قمع  کردیا گیا اور آج ان  کی جڑیں عراق اور شام سے بھی مکمل طور پر اکھاڑی جا رہی ہیں۔

قائد انقلاب نے ملک میں موجود امن و امان کو مدافعین حرم اور سرحدی افواج کا مرہون منت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ سرحدوں اور شہروں کی سالمیت اور منشیات کی روک تھام، ان سرحدی افواج کی کوششوں کا نتیجہ ہے جو سرزمین ایران کا پورے وجود سے دفاع کر رہی ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ حفاظت  اور انٹیلی جنس کے شعبے کے شہیدوں نے بھی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عوام کو دہشت گردانہ واقعات اور قتل عام سے محفوظ بنادیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملک کی خدمت صرف پانی اور روٹی کا انتظام کرنا نہیں بلکہ حفاظت  اس سے بڑھ کر ہے جس کے حصول کے لئے شہیدوں نے اور حرم ، سرحدوں  اور شہروں کا دفاع کرنے والوں  نے اپنی جان کی بازی لگا دی اور ملک کی سالمیت ان کی مرہون منت ہے۔

آپ نے زور دیکر کہا کہ ہم سب ان شہیدوں کے مرہون منت ہیں اور شہیدوں کی یاد بھلانے یا ان کے اہل خانہ کی جانب بے توجہی برتنے کی کوشش ملک سے غداری کے مترادف قرار دی جائے گی۔

شہدا کے گھرانوں سے ملاقات کے بعد، نماز مغرب و عشاء قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئی  اور افطار کا اہتمام کیا گیا۔

700 /