قبلہ کی تشخیص

س: درج ذيل سوالوں کے جواب عنايت فرمائيں۔
١ ۔ بعض فقہى کتابوں ميں ذکر ہے کہ خرداد کى چوتھى اور تير کى چھبيسويں تاريخ بمطابق 25 مئى اور17 جولائى کو سورج عمودى طور پر خانہ کعبہ کے اوپر ہوتا ہے، تو کيا اس صورت ميں جس وقت مکہ ميں اذان ہوتى ہے اس وقت شاخص نصب کر کے جہت قبلہ کو معين کيا جا سکتا ہے؟ اور اگر مسجدوں کے محراب کے قبلہ کى جہت، شاخص کے سايہ سے مختلف ہو تو کس کو صحيح سمجھا جائے گا؟
٢۔ کيا قطب نما پر اعتماد کرنا صحيح ہے؟

ج: شاخص اور قطب نما کے ذريعہ اگر مکلف کو جہت قبلہ کا اطمينان حاصل ہو جائے تو اس پر اعتماد کرنا صحيح ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا واجب ہے،ور نہ تو جہت قبلہ کے تعين کيلئے مسجدوں کے محراب اور مسلمانوں کى قبروں پر اعتماد کر لينے ميں کوئى مضائقہ نہيں ہے۔

 

700 /