ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

حرام موسیقی کا معیار

س: کيا موسيقى کے حرام ہونے کامعيار فقط لہو ومطرب ہونا ہے ۔ يا يہ کہ ہيجان ميں لانا بھى اس ميں شامل ہے؟ اور اگر کوئى ساز،موسيقى سننے والے کو حزن اور گريہ کى طرف لے جائے تو اس کا کيا حکم ہے ؟ اور ان غزليات کے پڑھنے کا کيا حکم ہے جو کہ راگوں سے پڑھى جاتى ہے اور اس کے ساتھ موسيقى بھى بجائى جاتى ہے۔
ج: معيار يہ ہے کہ موسيقى اور آلات موسيقى بجانے کى کيفيت اسکى تمام طبيعى خصوصيات اور خواص کے ساتھ ملاحظہ کى جائے اور يہ ديکھا جائے کہ کيا يہ مطرب اور لہوى موسيقى ہے جو فسق و فجور اور لہو و لعب کى محافل کے مشابہ ہے يا نہيں ؟ چنانچہ جو موسيقى بھى طبيعى طور پر لہوى ہو وہ حرام ہے چاہے جوش و ہيجان کا باعث بنے يا نہ بنے نيز سا معين کے لئے موجب حزن و بکاءہو يا نہ ہو ۔ مجالس لہو و لعب کے ساتھ سازگار موسيقى اور غناءکى طرز پر موسيقى کے ساتھ گائے جانے والى غذلوں کا گانا اور سننا حرام ہے۔
 
700 /