ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

نامحرم مرد کا نطفہ ٹیوب کے زریعے عورت کے رحم میں منتقل کرنا

س: ايک شادى شدہ عورت جو صاحب اولاد نہيں ہوسکتى ايک اجنبى اور نامحرم مرد کے نطفے کے ساتھ عورت کے نطفے کو ملاکر اسکے رحم ميں رکھ ديا جائے کيا يہ عمل جائز ہے؟
ج: نامحرم مرد کے نطفے سے پيوند کارى بذات ِ خود جائز ہے ليکن حرام مقدمات مثلاً لمس، نگا ہ کرنا وغيرہ سے اجتناب کرنا واجب ہے۔بہر حال مذکورہ طريقے سے جو بچہ پيدا ہوگا وہ شوہر کا بچہ نہيں کہلائے گا بلکہ صاحب نطفہ مرد اور صاحب رحم وبيضہ بيوى کا بچہ کہلائے گا۔
 
700 /