ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

روزہ کے احکام

  • روزہ کا معنی
  • روزه کے اقسام
  • روزہ واجب ہونے کی شرایط
  • مہینے کی پہلی تاریخ ثابت ہونے کے طریقے
  • روزہ کی نیت
  • مبطلات روزہ
  • روزہ اور علاج معالجہ کے احکام
  • خواتین کے احکام
  • فطرہ
  • نماز عید فطر
  • قضا روزے
  • استیجاری روزہ
    پرنٹ  ;  PDF

    استیجاری روزہ

    زندہ شخص کے قضا روزوں کی نیابت کرنا
    308. میرے والد پر کچھ قضا روزے ہیں لیکن وہ نہیں رکھ سکتا ہے اب میں جو کہ بڑا بیٹا ہوں کیا میرے لئے جائز ہے کہ والد کی حیات میں  باپ کے ترک شدہ نمازوں کی قضا بجا لاوں یا کسی کو انجام دینے پر اجیر بناوں؟
    ج۔ زنده شخص کی نماز اور روزوں کی نیابت کرنا صحیح نہیں ہے.

    باپ کے   ترکه سے  انکے روزوں کی قضا کے لئے اجیر لینا
    309. کوئی شخص مرجائے اور اس کی جائیداد اور مکان ہو جس میں اس کے بچے رہ رہےہیں اور اسکے ذمے نماز اور روزوں کی قضا بھی ہو اور بڑا بیٹا اپنے روزہ مرہ کاموں کی وجہ سے قضا انجام دینے پر قادر نہ ہو تو کیا اس گھر کو بیچ کر نماز اور روزوں کی قضا بجالانا واجب ہے؟
    ج۔ اس فرض میں گھر وارثوں کی ملکیت ہے جسکا بیچنا واجب نہیں لیکن اگر باپ کے ذمے کوئی نماز یا روزے کی قضا باقی ہو تو ہر حال میں بڑے بیٹے پر واجب ہے مگر یہ کہ میت نے ایک تہائی مال سے اجیر لینے کی وصیت کی ہو اور وہی ایک تہائی تمام نماز اور روزوں کی قضا کے لئے کافی ہو تو اس صورت میں ایک تہائی ترکہ اس کام میں خرچ کرے.

    روزے کی قضا کے لئےبڑے بیٹے کے نام باپ کی وصیت 
    310. چونکہ میں اپنے باپ کا بڑا بیٹا ہوں اور شرعا انکی قضا نمازیں اور روزے مجھ پر واجب ہیں, اگر کئی سال کی قضا ان پر ہو لیکن وصیت صرف  ایک سال کے روزے اور نماز کے بارے میں کرے تو میرا وظیفہ کیا ہے؟
    ج۔ اگر میت نے ایک تہائی  ترکه سے قضا نماز او رروزوں کو بجالانے کی وصیت کی ہو تو  اسی ایک تہائی مال سے کسی کو اجیر بنائےاور اگر انکی قضا نمازیں اور روزے وصیت کی ہوئی تعداد سے زیادہ ہوں تو وہ آپ پر واجب ہیں کہ انکی قضا بجالائے گرچہ آپ کے اپنے مال سے کسی کو اجیر بنائے..

    میت کے قضا روزوں کے لئے  ترکه کافی نہ ہونا
    311. کوئی شخص مرجائے جبکہ اس پر نماز  اور روزوں کی قضا ہو اور کوئی بیٹا بھی نہ ہو اور کچھ مال اس نے اپنے بعد کے لئے چھوڑا ہے اور وہ یا نماز یا روزہ میں سے کسی ایک کے لئے کافی ہے تو کس کو مقدم کیا جائے؟
    ج۔ نماز اور روزے میں سے کسی ایک کو برتری نہیں ہے اور وارثوں پر واجب نہیں ہے کہ  ترکه  کو قضا نماز اور روزے کی بجا آوری میں خرچ کرے مگر یہ کہ اس بارے میں وصیت کی ہو تو اس صورت میں  ایک تہائی مال میں ان کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے جتنی مقدار کے لئے کافی بنے کسی کو اجیر لینا چاہئے.

    باپ کے قضا روزوں کے لئے بڑے بیٹے کے توسط کس کو اجیر بنانا
    312. بڑا  بیٹا کسی کو باپ  کے روزوں کے لئے اجیر بنانا چاہتا ہے تو کیا اس پر میت کا ترکہ استعمال کرسکتا ہے؟
    ج۔ نہیں, بلکہ بڑا بیٹا خود سے باپ کے قضا روزے رکھے یا اپنے مال سے کسی کو اجیر بنائے انہیں یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ میت کےترکہ سے خرچ کرے مگر یہ کہ باپ نے وصیت کی ہو.

    نذر اور قسم کے کفارے کے  روزے ہوتے ہوئے استیجاری روزے لینا

    313. کسی کے ذمے نذ ریا قسم کے کفارے کے روزے ہوں تو کیا وہ کسی کے قضا روزوں کے لئے اجیر بن سکتا ہے؟
    ج۔ کوئی مانع نہیں ہے.

    قضا یا کفارہ کے  روزے ہوتے ہوئے اجیر بننا
    314. جس پر قضا یا کفارہ کا روزہ واجب ہو کیا وہ کسی اور کے روزوں کے لئے  اجیر یا نائب بن سکتا ہے یا تبرعا اور ثواب کے لئے کسی کا روزہ رکھ سکتا ہے؟
    ج۔  استیجاری روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن تبرعی طور پر کسی کا روزہ رکھنا محل اشکال ہے.

    وکیل یا اجیر کا عبادت انجام نہ دینا
    315. زید چند افراد کی طرف سےقضا روزوں کی انجام دہی کے لئے اجیر لینے پر وکیل بنا؛ یعنی جو افراد اجیر ہوتے ہیں ان کو دینے کے لئے کچھ رقم لی لیکن اس میں خیانت کی اور کسی کو اس کام پر اجیر نہیں کیا  او راب اپنے کئے پر پشیمان ہے اور برئ الذمہ ہونا چاہتا ہےتو کیا کسی کو اجیر بنائے یا جو رقم لیا تھا اسکو آج کی قیمت پر  مالک کو واپس کرےیا جتنی رقم لی تھی اس کی مقدار میں مقروض ہے؟ اور اگر خود اجیر بنا ہو اور قضا بجا لانے سے پہلے مرجائے تو کیا حکم ہے؟
    ج۔ اگر جو شخص اجیر لینے پر وکیل ہے کسی کو قضا نماز یا روزے انجام دینے کے لئے اجیر لینے سے پہلے وکالت کی مدت ختم ہوگئی تو صرف جو مال دریافت کیا ہے اس کا ضامن ہے۔ بصورت دیگر اختیار ہے یا لی ہوئی رقم سے کسی کو نماز اور روزوں کے لئے اجیر بنائے یا وکالت کو فسخ کرکے رقم مالک کو واپس کرے, اور اگر پیسوں کی ارزش میں اختلاف ہوجائے تو احتیاط کی بنا پر صلح کریں۔ لیکن جو شخص  قضا نماز یا روزہ انجام دینے کے لئے خود اجیر بنا ہو تاکہ وہ خود اس کام کو انجام دے تو اس کے مرنے سے اجارہ فسخ ہوتا ہےاور  اجرت کے لئے لی ہوئی رقم کو اس کے ترکہ سے دینا پڑے گا۔ اور اگر قضا انجام دینے میں خود اس کو ہی انجام دینے کی شرط نہ ہو تو  وہ اس کام کا مقروض ہے اوراسکے وارث  اس کے  ترکه  سے کسی کو اجیر بنائے البتہ اگر کوئی  ترکه  ہو تو اور اگر نہ ہو تو وارثوں کے ذمے کوئی چیز نہیں ہے.

    استیجاری روزہ توڑتے کا کفارہ
    316. اگر کوئی شخص ماہ رمضان کے قضا روزے رکھنے پر اجیر بنے اور زوال کے بعد افطار کرے تو اس پر کفارہ واجب ہے یا نہیں؟
    ج۔ اس پر کفارہ واجب نہیں ہے.

    قضا روزوں کے لئے غیر ورثہ کو وصیت کرنا
    317. کسی شہید نے اپنے ایک دوست کو وصیت کی  کہ احتیاط کے طور پر  ان کی طرف سے چند دن قضا روزہ رکھے, لیکن شہید کے وارث ان مسائل کے پابند نہیں ہیں اور وصیت  ان کو بیان کرنا بھی ممکن ہے دوسری طرف سے شہید کے دوست کے لئے روزہ رکھنا بھی باعث مشقت ہے, کیا کوئی دوسرا راستہ ہے؟
    ج۔ اگر شهید نے دوست کو وصیت کی ہو کہ وہ خود روزہ رکھے تو اس میں شہید کے وارثوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اگر  اس شخص کے لئے شہید کی نیابت میں روزہ رکھنا باعث مشقت ہے تو اس سے تکلیف ساقط ہے.

  • روزے کا کفارہ
700 /