ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

روزہ کے احکام

  • روزہ کا معنی
  • روزه کے اقسام
  • روزہ واجب ہونے کی شرایط
  • مہینے کی پہلی تاریخ ثابت ہونے کے طریقے
  • روزہ کی نیت
  • مبطلات روزہ
  • روزہ اور علاج معالجہ کے احکام
  • خواتین کے احکام
  • فطرہ
  • نماز عید فطر
  • قضا روزے
    • وہ صورتیں جن میں فقط روزے کی قضا واجب ہے
    • قضا روزے کے احکام
      پرنٹ  ;  PDF

      قضا روزے کے احکام

      267.  جو شخص ایک یا کئی دن تک بیہوش رہے تو جو واجب روزے اس سے چھٹ گئے ہیں ان دنوں کی قضا اس پر واجب نہیں ہے.

      268. جس شخص سے مست ہونے کی وجہ سے روزے چھٹ جائے , جیسا کہ مست ہونے کی وجہ سے روزے کی نیت نہ کرے گرچہ سارا دن کچھ کھایا پیا نہ ہو, فوت شدہ روزے کی قضا واجب ہے.

      269. جو شخص روزے کی نیت کرنے کے بعد پھر مست ہوجائے اور سارا دن یا دن کے کچھ حصے کو مستی کی حالت میں گزاردے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس دن کی قضا بجالائے بالخصوص اگر مستی شدید ہو اور عقل زائل کرے,پہلے والا مسئلہ اور اس مسئلے میں فرق نہیں کہ مست کرنے والی چیز, استعمال کرنے والے کے لئے حرام ہو یا کسی بیماری یا موضوع سے اگاہی نہ ہونے کی وجہ سے  حلال ہو.

      270. خواتین  حیض یا نفاس کی وجہ سے جتنے دن  روزے نہیں رکھ پائی ہیں ماہ رمضان کے بعد انکی قضا واجب ہے.

      271. جس نے کسی عذر کی وجہ سے ماہ رمضان کے چند دن روزے نہ رکھے ہوں اور اب ان کی تعداد بھول جائے مثلا سفر پر پچیس رمضان کو گیا تھا یا چھبیس کو , اگر پچیس کو گیا ہے تو چھ دن قضا ہوئے ہیں اور اگر چھبیس کو گیا ہے تو پانچ دن, تو کم مقدار کی قضا بجالا سکتے ہیں۔ لیکن اگر عذر شروع ہونے کی تاریخ معلوم ہو مثلا پانچ تاریخ کو سفر پہ گیا ہے لیکن واپسی کی تاریخ کے بارے میں شک ہو کہ اگر دسویں رات کو واپس آیا ہے تو پانچ دن اسے قضا ہوئے ہیں اور اگر گیارھویں رات کو واپس آیا ہے تو چھ دن قضا ہوئے ہیں, تو اس صورت میں زیادہ والی مقدار کی قضا بجالائے.

      272. اگر کسی پر کئی ماہ رمضان کے قضا روزے ہوں تو جس مہینے کے بھی روزے پہلے رکھے کوئی مانع نہیں ہے, لیکن اگر آخری ماہ رمضان کے قضا روزوں کے لئے وقت تنگ ہو مثلا پانچ دن کی قضا اس پر ہے اور اب ماہ رمضان کے لئے بھی پانچ دن باقی ہیں تو اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ آخری ماہ رمضان کے روزوں کی قضا بجا لائے.

      273. جس نے ماہ رمضان کا قضا روزہ رکھا ہو اور وقت تنگ بھی نہ ہو تو ظہر سے پہلے روزے کو باطل کرسکتا ہے لیکن اگر وقت تنگ ہو یعنی جتنے دن آیندہ  ماہ رمضان کے لئے باقی ہیں اتنےد ن اس پر قضا واجب ہو  تو احتیاط یہ ہے کہ روزے کو ظہر سے پہلے بھی باطل نہ کرے.

      274. جو شخص کسی بیماری کی وجہ سے ماہ  رمضان کے روزے نہ رکھ سکا ہو اور یہ بیماری اگلے ماہ رمضان تک طول پکڑے تو گزشتہ ماہ رمضان کے روزوں کی قضا اس پر واجب نہیں ہے او راسے چاہئے کہ ہر دن کا ایک مدّ طعام  دیدے.

      275. جس شخص نے سفر کی وجہ سے ماہ رمضان المبارک  کا روزہ نہ رکھا ہو اور اگلے سال تک سفر میں ہی رہےتو گزشتہ ماہ رمضان کے روزوں کی قضا اس سے ساقط نہیں ہوگی  اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ہر روز کے بدلے ایک مد طعام  کفارہ بھی  ادا کرے ۔

      276. اگر ماہ رمضان میں کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھے اور ماہ رمضان کے بعد عذر برطرف ہونے کے باوجود اگلے ماہ رمضان تک قضا بجا نہ لائےتو روزے کی قضا کے ساتھ ساتھ ہر دن کے لئے ایک مدّ طعام بھی دیدے.

      277. اگر ماہ رمضان کے قضا روزوں کو چند سال تک  نہ رکھے تو قضا رکھے اور ابتدائی سال سے تاخیر کرنے کی وجہ سے کفارہ ( ہر دن کا ایک مدّ) بھی دے لیکن بعد والے سالوں میں تاخیر کرنے سے مدّ اس پر واجب نہیں ہوتا.

      278. جس شخص پر چند دنوں کا مدّدینا واجب ہے وہ ایک ہی فقیر کو چند دنوں کا کفارہ( مدّ) دے سکتا ہے.

      279. والد  یا بنابر احتیاط واجب والدہ   سےسفر کے علاوہ کسی اور عذر کی وجہ سے جو روزے قضا ہوئے تھے اور وہ قضا بھی رکھ سکتے تھے لیکن نہیں رکھے ہیں تو ان کے مرنے کے بعد بڑے بیٹے پر واجب ہے  کہ انکے روزے  کی قضا خود رکھے یا کسی کو اجیر بنائے, لیکن جو روزے سفر کی وجہ سے نہیں رکھے تھے اور قضا کرنے کی فرصت بھی نہ ملی ہو تب بھی انکی قضا واجب ہے.

      280. جو روزے ماں باپ نے جان بوجھ کر نہیں رکھے ہیں , بنا بر احتیاط بڑا بیٹا خود  قضا بجا لائے یا کسی کو اجیر بنائے.

      قضا روزے ہوتے ہوئےمستحب یا نذر کا روزہ رکھنا
      281. جس کے ذمے قضا روزے ہوں کیا وہ مستحب روزہ رکھ سکتا ہے؟
      ج۔ جس پر ماه رمضان کے قضا روزے واجب ہوں وہ مستحب روزہ نہیں رکھ سکتا ہے.

      282. جس کے ذمے ماہ رمضان کے قضا روزے ہوں کیا وہ  روزہ نذر کرسکتا ہے؟
      ج۔ اگر نذر کے روزے کو قضا کے روزوں کے بعد رکھنے کا قصد رکھتا ہو تو نذر صحیح ہے.

      سفر میں چھٹے ہوئے روزوں کی قضا
      283. میں کسی دینی ذمہ داری کو نبھانے کیلئے  ماہ رمضان میں سفر کرنے کی وجہ سے اٹھارہ روزے میرے ذمے ہیں اب میرا وظیفہ کیا ہے ؟کیا ان روزوں کی قضا  واجب ہے؟
      ج۔ سفر کی وجہ سے ماہ رمضان کے جو روزے  چھٹے ہیں انکی قضا واجب ہے.

      حکم شرعی نہ جاننے کی وجہ سے روزہ باطل کرنا
      284. اگر کوئی شخص مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سےجان بوجھ کر روزہ افطار کرچکا ہو تو اس کے بارے میں آپ کی رأی کیا ہے کیا اس پر فقط قضا واجب ہے یا اس کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟
      ج۔ اگر مسئلہ سے لاعلمی کی وجہ سے ایسا کام انجام دے جو روزہ کو باطل کرتا ہے- مثلا دیگر کھانے کی چیزوں کی طرح  دوائی کھانے سے بھی روزہ باطل ہونے کو نہ جانتا ہو اور ماہ رمضان میں  دوائی کھا لے- تو  روزے کی قضا واجب ہے لیکن کفارہ واجب نہیں.

      قضا روزوں کی تعداد معلوم نہ ہونا
      285. اگر کسی کو قضا روزے اور قضا نمازوں کی تعداد کا علم نہ ہو تو اسکے لئے کیا حکم ہے؟ اور اگر کسی کو یہ علم نہیں کہ روزہ کو جان بوجھ کر  توڑا ہے یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے, تو اسکا کیا حکم ہے ؟
      ج۔ نماز اور روزوں کی اتنی مقدار قضا بجالانا کافی ہے کہ جتنی مقدار چھٹ جانے کا یقین ہے, اور اگر جان بوجھ کر روزہ توڑنے کا یقین نہ ہو تو کفارہ واجب نہیں ہے.

      قضا روزہ رکھنے میں شک کرنا
      286. اگر شک کروں کہ جو قضا روزے میرے ذمے تھے انہیں انجام دے چکا  ہوں یا نہیں, اس صورت میں میری ذمہ داری کیا ہے؟
      ج۔ اگر روزہ قضا ہونے کا یقین ہو تو اتنی مقدار میں روزے کی قضا  واجب ہے جس سے قضا پورا ہونے کا یقین ہوجائے.

      قضا روزوں کو انجام دینے میں قدرت نہ ہونا
      287. کچھ لوگ کمیونسٹوں کے پروپیگنڈوں کی وجہ کئی سال تک نماز اور روزے ترک کرچکے تھے لیکن  سویت یونین کے سربراہوں کے نام امام خمینی کے اس تاریخی پیغام کے بعد اپنی غلطی کو سمجھ چکے ہیں اور اللہ تعالی کے حضور توبہ کرچکے ہیں اور اب یہ لوگ ان تمام نماز اور روزوں کی قضا بجانہیں لاسکتے ہیں, انکا وظیفہ کیا ہے؟
      ج۔ جتنے روزے اور نمازوں کی قضا بجا لاسکتے ہیں ان کو انجام دیں اور باقی کی نسبت وصیت کریں.

      بلوغ کی علامتیں نہ جان کر روزہ نہ رکھنا
      288. میرے بالغ ہوئے چھ مہینے گزر گئے ہیں اور بلوغ کو پہنچنے سے چند ہفتے پہلے یہ سوچتا تھا کہ بلوغ کی علامت فقط قمری پندرہ سال پورے ہونا ہے۔لیکن اب لڑکوں کے بلوغ کے بارے میں ایک کتاب پڑھا تو وہاں پر کچھ اور علامتوں کا بھی ذکر تھا جو مجھ میں ہیں لیکن کب وجود میں آئی ہیں اسکا مجھے علم نہیں ہے, کیا اب میرے ذمے نماز اور روزہ کی قضا ہیں یا نہیں جبکہ بعض اوقات میں نماز بھی پڑھا کرتا تھا اور گزشتہ سال ماہ رمضان کے پورے روزے بھی رکھ چکا ہوں, اس حوالے سے میری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
      ج۔ بالغ ہونے کے بعد جتنی نمازیں اور روزے  قضا ہونے کا یقین ہے انکی قضا واجب ہے.

      289. چودہ سال کی عمر سے پہلے میں احتلام ہوتا تھا لیکن یہ بالغ ہونے کی علامت ہونے کو نہیں جانتا تھااس لئے پندرہ سال کی عمر تک روزہ نہیں رکھا ہے تو کیا مجھ پر صرف قضا واجب ہے یا کفارہ بھی؟
      ج۔ روزوں کی قضا واجب ہے.
    • مریض کے قضا روزے
    • والدین کے قضا روزے
    • قضا روزوں کو رکھنے میں سستی اور تاخیر
  • استیجاری روزہ
  • روزے کا کفارہ
700 /