ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

روزہ کے احکام

  • روزہ کا معنی
  • روزه کے اقسام
  • روزہ واجب ہونے کی شرایط
  • مہینے کی پہلی تاریخ ثابت ہونے کے طریقے
  • روزہ کی نیت
  • مبطلات روزہ
  • روزہ اور علاج معالجہ کے احکام
  • خواتین کے احکام
  • فطرہ
  • نماز عید فطر
  • قضا روزے
  • استیجاری روزہ
  • روزے کا کفارہ
    • کفارہ کا وجوب اور اس کے موارد
      پرنٹ  ;  PDF

      کفارہ کا وجوب اور اس کے موارد

      318. جو کام روزے کو باطل کرتے ہیں اگر ان کو جان بوجھ کراپنے  اختیار سے انجام دیا جائے تو اس دن کے روزے کی قضا بجا لانے کے علاوہ کفارہ بھی واجب  ہوجاتا ہے.

      319. کوئی شخص ماہ رمضان کی رات میں جنب ہوجائے اور اس گمان سے دوبارہ سوجائےکہ صبح کی اذان سے پہلے بیدار ہو کر غسل کرے گا لیکن اذان تک بیدار نہ ہوسکے تو اس دن کی قضا اس پر واجب نہیں ہے.

      320. اگر مسئلہ سے لاعلمی کی وجہ سے ایسا کام انجام دے جو روزہ کو باطل کرتا ہے- مثلا دیگر کھانے کی چیزوں کی طرح  دوائی کھانے سے بھی روزہ باطل ہونے کو نہ جانتا ہو اور ماہ رمضان میں  دوائی کھا لے- تو  روزے کی قضا واجب ہے لیکن کفارہ واجب نہیں.

      321. اگر کسی وجہ سے روزہ باطل کرنا جائز یا واجب ہوجائے مثلا روزہ توڑنے پر کسی کو مجبور کیا جائےیا کسی کو ڈوبتے ہوئے کی جان بچانے کی خاطر پانی میں کود پڑے تو اس صورت میں ایسے شخص پر کفارہ واجب نہیں لیکن قضا بجالانا واجب ہے.

      322. اسلامی شریعت میں ماہ رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ درج ذیل تین چیزوں میں سے ایک ہے:   ایک غلام آزاد کرنا یا  دو مہینے روزے رکھنا یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلانا۔ چون کہ آج کل غلام نہیں پائے جاتے اس لئے مکلف کو چاہئے کہ دوسرے دو کاموں میں سے ایک کو انجام دے.

      323. ساٹھ فقیروں کو دو طریقے سے کھانا دیا جاسکتا ہے: یا پکائے ہوئے کھانے سے انکو پیٹ پھر کر کھلائے, یا ہر ایک کو 750 گرم  گندم, یا روٹی یا چاول یا ان جیسے دیگر چیزوں سے دیدے.

      324. اگر تینوں کفاروں میں سے کسی ایک کو بھی انجام نہ دے سکے تو جتنے فقیروں کو کھانا کھلاسکتا ہے کھلائے او راحتیاط یہ ہے کہ استغفار بھی بجالائے۔ اور اگر کسی بھی صورت میں فقیروں کو کھانا نہیں کھلاسکتا ہے تو استغفار کرے یعنی دل اور زبان سے کہے: استغفر اللہ ( یعنی خدا وند کریم سے طلب بخشش کرتا ہوں ).

      325. کوئی شخص روزہ رکھنے یا فقیر کو کھانا کھلانے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا اور اس لئے استغفار بجا لایا  اور بعد میں اسے استطاعت حاصل ہوجائے تو کیا روزہ رکھے گا یا فقیر کو کھانا کھلائے۔ احتیاط یہ ہے کہ اس کام کو انجام دے اگرچہ استغفار کافی ہونا بعید بھی نہیں ہے.

      326. جو شخص  ماہ رمضان  کے کفارے کے دو مہینے  روزے رکھنا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ ایک مہینہ اور ایک روز کو مسلسل رکھے اور باقی دن اگر مسلسل نہ رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے.

      327.جو عورت کفارے کے ساٹھ دن روزہ رکھ رہی ہے اور ان دنوں کے درمیان عادت ہوجائے  یا  اور کوئی ایسی حالت رخ دے تو  عادت کے ایام ختم ہونے کے بعد باقی روزوں کو رکھے اور دوبارہ ابتدا سے روزہ رکھنا لازم نہیں ہے.

      328. اگر حرام طریقے سے جماع , یا کوئی حرام چیز کھانے یا پینے سے ماہ رمضان کا روزہ باطل کرے تو بنابراحتیاط تینوں کفارے  (غلام آزاد کرنا, ساٹھ روزے رکھنا, ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلانا )اس پر واجب ہیں اگر تینوں ممکن نہ ہوں تو جو ممکن ہواسے ادا کرے, اگرچہ اس احتیاط کا واجب نہ ہونا بعید نہیں ہے.

      329. اگر روزہ دار روزہ باطل کرنے والی کسی چیز کو ایک  دن میں کئی بار انجام دےتو اس پر صرف ایک کفارہ واجب ہےلیکن اگر یہ کام ہمبستری یا استمناء ہو تو احتیاط واجب یہ ہے جتنی بار  ہمبستری یا استمناء کیا ہے اتنے کفارے ادا کرے.

      330. اگر روزہ دارے کے منہ میں اسکے اندر سے کوئی چیز نکلے تو دوبارہ اس کو نہیں نگلنا چاہئے اور اگر جان بوجھ کر نگل لے تو قضا اور کفارہ دونوں اس پر واجب ہیں.

      331. اگر کسی خاص دن میں روزہ رکھنے کی نذر کر لے اور اس دن جان بوجھ کر روزہ نہ رکھے یا رکھنے کے بعد توڑ دے تو اس پر نذر کا کفارہ واجب ہے اور نذر کا کفارہ وہی قسم کا کفارہ ہے.

      * قسم کا کفارہ  دس فقیروں کو لباس دینا یا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا ہے.

      332. اگر روزہ دار ایک ایسے شخص کے کہنے پر جو کہے کہ مغرب کا وقت ہوگیا ہے اور جس کےکہنے پر اسے اعتماد نہ ہو روزہ افطار کرلے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ مغرب کا وقت نہیں ہوا ہے تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں.

      333. جان بوجھ کر روزہ باطل کرنے کے بعد سفر پر جانے سے کفارہ ساقط نہیں ہوگا.

      334. جس شخص پر کفارہ واجب ہے اس کو فورا انجام دینا لازمی نہیں لیکن اتنا بھی دیر نہ کرے کہ واجب کے ادا کرنے میں کوتاہی محسوب ہوجائے.

      335. واجب کفارے کو کئی سال تک ادا نہ کرنے سے اس پر کوئی اور چیز اضافہ نہیں ہوتی.

      336. جو  شخص کفارے میں ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلانا چاہتا ہے( جس کی تفصیل گزشتہ مسائل میں بیان ہوئی) اگر اسے ساٹھ فقیر نہ ملے تو  دو نفر یا اس سے زیادہ کا حصہ ایک فقیر کو نہیں دے سکتا البتہ فقیر کے گھر والوں کی تعداد کے مطابق اسے دے سکتا ہے اور وہ ان پر خرچ کرے, اور فقیر ہونے میں مرد اور عورت یا چھوٹے اور بڑے میں کوئی فرق نہیں ہے.

      337. جس نے ماہ رمضان کا قضا روزہ رکھا ہے اگر ظہر کے بعد جان بوجھ کر روزہ باطل کرے تو دس فقیروں کو کھانا دینا واجب ہے اور کھانا نہیں دے سکتا ہو تو تین دن روزہ رکھے.

      مریض اور عمداً افطار کرنے  کے کفارے میں فرق
      338. کیا جان بوجھ کر افطار کرنے کا کفارہ اور مریض کے کفارے میں کوئی فرق ہے؟
      ج۔ جی هاں, ان دونوں میں فرق ہے 1۔ مقدار میں۔ 2۔ مصرف میں۔ جان بوجھ کر افطار کرے تو یا ساٹھ فقیروں کو  پیٹ بھر کے کھانا کھلائے ( یا ہر ایک کو ایک مدّ طعام دے)یا دو مہینے روزہ  رکھےلیکن مریض کے کفارے میں اگر اگلے ماہ رمضان تک بیماری باقی رہے تو ہر دن کے عوض ایک  مدّ  طعا م فقیر کو  دینا پڑے گا ۔افطار عمدی کے کفارے میں اگر ساٹھ فقیر نہ ملے تو ہر ایک کو ایک مدّ  طعام سے زیادہ نہیں دے سکتا؛ لیکن مریض کے کفارے میں یہ لازم نہیں ہے.

      قضا روزوں کے عمدی افطار کا کفارہ
      339. اگر کسی کے ذمے دس دن کے قضا روزے ہوں اور ماہ شعبان کی بیس تاریخ سے روزہ رکھنا شروع کرے, کیا زوال سے پہلے یا زوال کے بعد ان روزوں میں افطار کرسکتا ہے؟ اور اگر زوال سے پہلے یا بعد میں افطار کرے تو کتنا کفارہ دینا پڑے گا؟
      ج۔ اس فرض میں احتیاط کی بنا پر جان بوجھ کر افطار کرنا جائز نہیں ہے اور اگر زوال سے پہلے افطار کرے تو تاخیر کے کفارے کے علاوہ اور کچھ اس پر واجب نہیں لیکن زوال کے بعد کرے تو اس پر کفارہ واجب ہے یعنی دس مسکینوں کو کھانا دینا, اور یہ ممکن نہ ہوتو تین دن روزہ رکھنا واجب ہے.

      ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھنا
      340. اگر کسی نے ایک سو بیس دن روزے نہیں رکھا ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا ہر دن کے لئے ساٹھ روزے رکھے گا؟ اور کیا اس پر کفارہ واجب ہے؟
      ج۔ ماہ رمضان کے جو روزے چھٹے  ہیں  انکی قضا واجب ہے, اور اگر جان بوجھ کر کسی شرعی عذر کے بغیر افطار کیا ہو تو ہر دن کا کفارہ بھی واجب ہے ۔یعنی ساٹھ دن  روزے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا , یا ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک مدّ  طعام.

      محل سکونت میں افطار کرنا
      341. کوئی مسافر  کہیں دس دن ٹھہرنے کا قصد رکھتا تھا لیکن اقامت سے منصرف ہوگیا اور ماہ رمضان سے پہلے ہی وطن واپس لوٹنے  کا  ارادہ کیا لیکن گاڑی  دیر ہونے کی وجہ سے نہیں لوٹ سکا اور ماہ رمضان اسی شہر میں آن پہنچااگر یہ شخص اسی شہر میں ر روزہ باطل کرنے والی کسی چیز کا مرتکب ہوجائے تو اسکا کیا حکم ہے ؟
      ج۔ دس دن کی قصد اقامت تحقق پانے کے بعد ( قصد اقامت کے بعد ایک چار رکعتی نماز پڑھ چکا ہو) اس پر روزہ واجب  اور ایسا کام جو روزے کو باطل کرتا ہو ,انجام دینا جائز نہیں ہے اور اگر ایسے کام کا مرتکب ہوجائے تو اس پر کفارہ  ( ساٹھ روزے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا دینا)واجب ہے لیکن  اگر اس شہر میں قصد اقامت مستقر ہونے سے پہلے  اور ایک چار رکعتی نماز کامل پڑھنے سے پہلے منصرف ہوجائے تو اس کے ذمے کوئی چیز نہیں ہے.

      حرام چیزوں سے روزہ توڑنا
      342. اگر حرام طریقے سے جماع   کرے یا استمناء  کرے یا کوئی حرام چیز کھانے یا پینے سے ماہ رمضان کا روزہ باطل کرے تو اسکا کیا حکم ہے؟
      ج۔ مذکورہ فرض میں یا  ساٹھ روزے رکھے یا  ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلائے اور احتیاط مستحب یہ ہے دونوں کفارے اس پر واجب ہیں.

      343. اگر مکلف یہ جانتے ہوئے کہ استمناء سے روزہ باطل ہوتا ہے , پھر بھی جان بوجھ کر انجام دے تو کیا اس پر تینوں کفارے واجب ہیں؟
      ج۔  اگر منی خارج بھی ہوجائے تو اس پر تینوں کفارے واجب نہیں ہوتے ہیں لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ سارے کفارے ادا کرے.

      مبطلات روزہ میں تکرار
      344. اگر روزہ دار شخص دن میں کئی بار روزہ باطل کرنے والے کام کا مرتکب ہوجائے تو اسکا وظیفہ کیا ہے؟
      ج۔ اس پر ایک کفارہ واجب ہے لیکن اگر یہ کام ہمبستری یا استمناء ہو تو احتیاط واجب یہ ہے جتنی بار  ہمبستری یا استمناء کیا ہے اتنے کفارے ادا کرے.

      جان بوجھ کر قے کرنا
      345. کیا جان بوجھ کر قے کرنا کفارے کا باعث بنتا ہے؟
      ج۔ قے کرنا کفارہ کا موجب ہے.
    • کفارہ ادا کرنے کی کیفیت
    • فدیہ اور تأخير کا کفارہ
    • روزے کے کفارہ کا مصرف
700 /