ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

احکام نماز

  • اہمیت اور شرائط نماز
  • اوقات نماز
  • قبلہ کے احکام
  • نماز کی جگہ کے احکام
  • مسجد کے احکام
  • دیگر مذہبی مقامات کے احکام
  • نماز گزار کالباس
  • سونے چاندی کا استعمال
  • اذان و اقامت
  • قرأت اور اس کے احکام
  • ذکرنماز
  • سجدہ اور اس کے احکام
  • مبطلات نماز
  • جواب سلام کے احکام
  • شکیات نماز
  • قضا نماز
  • ماں باپ کی قضا نمازیں
    پرنٹ  ;  PDF
     
    س 199. میرے والد فالج (برین ہیمبرج) کا شکار ہوئے اور اس کے بعد دو سال تک مریض رہے، اس مرض کی بنا پر وہ اچھے برے میں تمیز نہیں کر پاتے تھے یعنی ان سے سوچنے سمجھنے کی قوت ہی سلب ہو گئی تھی، چنانچہ دو برسوں کے دوران انہوں نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی نماز ادا کی۔ میں ان کا بڑا بیٹا ہوں، لہذا کیا مجھ پر ان کے روزہ اور نماز کی قضا واجب ہے؟. جبکہ میں جانتا ہوں کہ اگر وہ مذکورہ مرض میں مبتلا نہ ہوتے تو ان کی قضا مجھ پر واجب تھی۔ اس مسئلہ میں آپ میری راہنمائی فرمائیں۔
    ج. اگر ان کی قوت عاقلہ اتنی زیادہ کمزور نہیں ہوئی تھی کہ جس پر جنون کا عنوان صادق آ سکے اور نماز کے پورے اوقات میں وہ بے ہوش بھی نہیں رہتے تھے تو ان کی چھوٹ جانے والی نمازوںاور روزوں کی قضا واجب ہے ورنہ اس سلسلے میں آپ پر کچھ واجب نہیں ہے۔
     
    س 200. اگر ایک شخص مر جائے تو اس کے روزہ کا کفارہ دینا کس پر واجب ہے؟ کیا اس کے بیٹوں اور بیٹیوں پر یہ کفارہ دینا واجب ہے؟ یا کوئی اور شخص بھی دے سکتا ہے؟
    ج. جو کفارہ باپ پر واجب تھا اگر وہ کفارۂ مخیرہ تھا یعنی وہ روزہ رکھنے اور کھانا کھلانے پر قدرت رکھتا تھا تو اگر اسکے ترکہ میں سے کفارہ کا دینا ممکن ہو تو اس میں سے نکالا جائے، ورنہ واجب یہ ہے کہ بڑا بیٹا روزے رکھے۔
     
    س 201. ایک سن رسیدہ آدمی بعض معلوم اسباب کی بناپر اپنے گھروالوں سے الگ ہوجاتا ہے اور اس کیلئے ان سے رابطہ رکھنا مقدور نہیں ہے اور یہی اپنے باپ کا سب سے بڑا بیٹا بھی ہے، اسی زمانے میں اس کے والد کا انتقال ہو جاتاہے اور وہ باپ کی قضا نمازوںو غیرہ کی مقدار نہیں جانتا ہے اور اس کے پاس اتنا مال بھی نہیں ہے کہ وہ باپ کی نماز اجارہ پرپڑھوائے۔ نیز بڑھاپے کی وجہ سے خود بھی باپ کی قضا نمازیں بجا نہیں لا سکتا اسکی ذمہ داری کیا ہے؟
    ج. باپ کی صرف انہی نمازوں کی قضا واجب ہے جن کے چھوٹ جانے کا بڑے بیٹے کو یقین ہو اور جس طریقے سے بھی ممکن ہو بڑے بیٹے پر باپ کی نمازوں کی قضا واجب ہے۔ ہاں اگر وہ انہیں ادا نہ کر سکتا ہوحتی کہ کسی کو اجیر بنا کر بھی تو وہ معذور ہے۔
     
    س202. اگر کسی شخص کی اولاد میں سے سب سے بڑی بیٹی ہو اور دوسرے نمبر پر بیٹا ہو تو کیا ماں باپ کی قضا نمازیں اور روزے اس بیٹے پر واجب ہیں؟
    ج. معیار یہ ہے کہ بیٹوں میں سب سے بڑا بیٹا ہو اگر اس کے والدکے اور بیٹے بھی ہوں لہذا مذکورہ سوال میں باپ کے روزے اور نمازوں کی قضا اس بیٹے پر واجب ہے جو باپ کی اولاد میں سے دوسرے نمبر پرہے اور ماں کی چھوٹی ہوئی نمازوں اور روزوں کی قضا بھی بنا بر احتیاط واجب ہے۔
     
    س 203. اگر بڑے بیٹے کا باپ سے پہلے انتقال ہو جائے ۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ۔ تو کیا باقی اولاد سے باپ کی نمازوں کی قضا ساقط ہو جائے گی یا نہیں؟
    ج. باپ کے روزہ اور نماز کی قضا اس بڑے بیٹے پر واجب ہے، جو باپ کی وفات کے وقت زندہ ہو خواہ وہ باپ کی پہلی اولاد یا پہلا بیٹا نہ بھی ہو۔
     
    س 204. میں اپنے باپ کی اولاد میں بڑا بیٹا ہوں، کیا مجھ پر واجب ہے کہ باپ کی قضا نمازوں کی ادائیگی کی غرض سے ان کی زندگی میں ان سے تحقیق کروں یا ان پر واجب ہے کہ وہ مجھے ان کی مقدار سے با خبر کریں، پس اگر وہ با خبر نہ کریں تو میرا کیا فریضہ ہے؟
    ج. آپ پر تحقیق اور سوال کرنا واجب نہیں ہے، لیکن اس سلسلہ میں باپ پر واجب ہے کہ جب تک اسکے پاس فرصت ہے خود پڑھے اور اگرنہ پڑھ سکے تو وصیت کرے بہر حال بڑے بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کے ان روزوں اور نمازوں کی قضا کرے کہ جن کے چھوٹ جانے کا اسے یقین ہے۔
     
    س 205. ایک شخص کا انتقال ہوا ہے، اور اس کا کل اثاثہ وہ گھر ہے جس میں اس کی اولاد رہتی ہے، اور اس کے ذمہ روزے اور نمازیں باقی رہ گئے ہیں اور بڑا بیٹا اپنی روزمرہ مصروفیات کی بنا پر انہیں ادا نہیں کر سکتا، پس کیا ان پر واجب ہے کہ وہ اس گھر کو فروخت کر کے باپ کے روزے اور نمازیں قضاکروائیں؟
    ج. مذکورہ فرض میں گھر بیچنا واجب نہیں ہے لیکن باپ کی نمازوں اور روزوں کی قضا بہر صورت اس کے بڑے بیٹے پر ہے، لیکن اگر مرنے والا یہ وصیت کر جائے کہ اس کے ترکہ کے ایک تہائی حصہ سے اجرت پر نماز اور روزہ کی قضا کرائیں اورایک تہائی ترکہ بھی اس کی تمام نمازوں اور روزوں کی قضا کے لئے کافی ہو تو ترکہ میں سے ایک تہائی مال اس کام میں صرف کرنا واجب ہے۔
     
    س 206. اگر بڑا بیٹا جس پر باپ کی قضا نماز یںواجب تھیں، مر جائے تو کیا اس قضا کو بڑے بیٹے کے وارث ادا کریں گے یا یہ قضا اسکے دوسرے بڑے بیٹے پر واجب ہو گی؟
    ج. باپ کی جو قضا نمازیں اور روزے بڑے بیٹے پر واجب تھے، باپ کے فوت ہوجانے کے بعد اس بڑے بیٹے کے فوت ہوجانے کی صورت میں اسکے بیٹے یابھائی پر واجب نہیں ہیں۔
     
    س 207. اگر باپ نے کوئی نماز نہ پڑھی ہو تو کیا اس کی ساری نمازیں قضا ہیں اور بڑے بیٹے پر ان کا بجا لانا واجب ہے؟
    ج. بنا بر احتیاط اس کی نمازوں کی قضا واجب ہے۔
     
    س 208. جس باپ نے جان بوجھ کر اپنے تمام عبادی اعمال کو ترک کر دیا ہو تو کیا بڑے بیٹے پر اسکی تمام نمازوں اور روزوں کا ادا کرنا واجب ہے کہ جن کی مقدار پچاس سال تک پہنچتی ہے؟
    ج. اس صورت میں بھی احتیاط ان کی قضا کرنے میں ہے۔
     
    س 209. جب بڑے بیٹے پر خود اس کی نماز اور روزوں کی بھی قضا ہو اور باپ کے روزے اور نمازوں کی قضا بھی ہو تو اس وقت دونوں میں سے کس کو مقدم کرے گا؟
    ج. اس صورت میں اسے اختیار ہے کہ جس کو بھی پہلے شروع کرے صحیح ہے۔
     
    س 210. میرے والد کے ذمہ کچھ قضا نمازیں ہیں لیکن انہیں ادا کرنے کی ان میں استطاعت نہیں ہے اور میں ان کا بڑا بیٹا ہوں، کیا یہ جائز ہے کہ میں ان کی چھوٹ جانے والی نمازیں بجا لاؤں یا کسی شخص کو اس کا م کے لئے اجیر کروں جبکہ وہ ابھی زندہ ہیں؟
    ج. زندہ شخص کی قضا نمازوں اور روزوں کی نیابت صحیح نہیں ہے۔
  • نماز جماعت
  • اس امام جماعت کا حکم کہ جس کی قرأت صحیح نہیں ہے
  • معذور کی امامت
  • نماز جماعت میں عورتوں کی شرکت
  • اہل سنت کی اقتدا
  • نماز جمعہ
  • نماز عیدین
  • نماز مسافر
  • جس شخص کا پیشہ یا پیشے کا مقدمہ سفر ہو
  • طلبہ کے احکام
  • قصد اقامت اورمسافتِ شرعی
  • حد ترخص
  • سفر معصیت
  • احکام وطن
  • بیوی بچوں کی تابعیت
  • بڑے شہروں کے احکام
  • نماز اجارہ
  • نماز آیات
  • نوافل
  • نماز کے متفرقہ احکام
700 /