ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

احکام نماز

  • اہمیت اور شرائط نماز
  • اوقات نماز
  • قبلہ کے احکام
  • نماز کی جگہ کے احکام
  • مسجد کے احکام
  • دیگر مذہبی مقامات کے احکام
  • نماز گزار کالباس
  • سونے چاندی کا استعمال
  • اذان و اقامت
  • قرأت اور اس کے احکام
  • ذکرنماز
  • سجدہ اور اس کے احکام
  • مبطلات نماز
  • جواب سلام کے احکام
  • شکیات نماز
  • قضا نماز
  • ماں باپ کی قضا نمازیں
  • نماز جماعت
  • اس امام جماعت کا حکم کہ جس کی قرأت صحیح نہیں ہے
  • معذور کی امامت
  • نماز جماعت میں عورتوں کی شرکت
  • اہل سنت کی اقتدا
  • نماز جمعہ
  • نماز عیدین
  • نماز مسافر
  • جس شخص کا پیشہ یا پیشے کا مقدمہ سفر ہو
    پرنٹ  ;  PDF
     
    جس شخص کا پیشہ یا پیشے کا مقدمہ سفر ہو
     
    س301. جس شخص کا سفر اس کے پیشے کا مقدمہ ہو، کیا وہ سفر میں پوری نماز پڑھے گااور اس کا روزہ بھی صحیح ہے ، یا یہ (پوری نماز پڑھنا) اس شخص سے مخصوص ہے جس کا خود پیشہ سفر ہو اور مرجع دینی، امام خمینی کے اس قول کے کیا معنی ہیں"جس کا پیشہ سفر ہو" کیا کوئی شخص ایسا بھی پایا جاتا ہے جس کا پیشہ سفر ہو؟ اس لئے کہ چرواہے، ڈرائیور اور ملاح و غیرہ کا پیشہ بھی چرانا، ڈرائیونگ کرنا اور کشتی چلانا ہے، اور بنیادی طور پر ایسا کوئی شخص نہیں پایا جاتا کہ جس نے سفر کو پیشے کے طور پر اختیار کیا ہو؟
    ج. جس شخص کا سفر اس کے پیشے کا مقدمہ ہو، اگر وہ ہر دس دن میں کم از کم ایک مرتبہ کام کیلئے اپنے کام کی جگہ پر جاتا ہے تو وہ وہاں پوری نماز پڑھے گا اور اس کا روزہ بھی صحیح ہے اور فقہاء (رضوان اللہ علیھم) کے کلام "جس کا شغل سفر ہو" سے مراد وہ شخص ہے جس کے کام کا دارومدار سفر پر ہو جیسے وہ مشاغل جو آپ نے سوال میں ذکر کئے ہیں۔
     
    س302. ان لوگوں کے روزے اور نماز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو ایک شہر میں کام کرنے کے لئے ایک سال سے زائد مدت تک قیام کرتے ہیں یا وہ رضاکار جو کسی شہر میں فوجی خدمت انجام دینے کے لئے ایک یا دو سال قیام کرتے ہیں، کیا ان پرہر سفر کے بعد دس روزکے قیام کی نیت کرنا واجب ہے تاکہ وہ روزہ رکھ سکیں اور پوری نماز پڑھ سکیں یا نہیں؟ اور اگر وہ دس روز سے کم قیام کی نیت کریں تو ان کے روزہ و نماز کا کیا حکم ہے؟
    ج. مفروضہ صورت میں اس شہر میں نماز پوری اور روزہ صحیح ہے ۔
     
    س303. جنگی طیاروں کے پائلٹ، جو اکثر ایام میں فوجی اڈوں سے پرواز کرتے ہیں اور شرعی مسافت سے کہیں زیادہ فاصلہ طے کرنے کے بعد واپس آتے ہیں، ان کی نماز اور روزے کا کیا حکم ہے۔
    ج. اس سلسلہ میں ان کا حکم وہی ہے جو ڈرائیوروں، کشتیوں کے ملاحوں اور جہازوں کے پائلٹوں کا ہے یعنی سفر میں انکی نماز پوری اور روزہ صحیح ہے۔
     
    س304. وہ قبائلی جو تین یا چار ماہ کیلئے گرم علاقے سے سرد علاقے کی طرف یا برعکس نقل مکانی کرتے ہیں لیکن سال کا باقی حصہ اپنے ہی علاقے میں گزارتے ہیں تو کیا انکے دو وطن شمار ہوں گے ؟ نیز ان میں سے ایک مقام پر رہائش کے دوران میں جو دوسرے مقام کی طرف سفر کرتے ہیں اس میں انکی نماز کا قصر یا تمام ہونے کے لحاظ سے کیا حکم ہے ؟
    ج. اگر وہ ہمیشہ گرم سے سرد علاقہ اور سرد سے گرم علاقہ کی طرف نقل مکانی کا قصد رکھتے ہوں تاکہ اپنے سال کے بعض ایام ایک جگہ گزاریں اور بعض ایام دوسری جگہ گزاریں اور انہوں نے دونوں جگہوں کو اپنی دائمی زندگی کے لئے اختیار کر رکھا ہو تو دونوں جگہیں ان کیلئے وطن شمار ہوں گی اور دونوں پر وطن کا حکم عائد ہوگا۔ اور اگر دونوں وطنوں کے درمیان کا فاصلہ، شرعی مسافت کے برابر ہو تو ایک وطن سے دوسرے وطن کی طرف سفر کے راستے میں ان کا حکم وہی ہے جو تمام مسافروں کا ہے۔
     
    س305. میں ایک شہر (سمنان)میں سرکاری ملازم ہوں اورمیری ملازمت کی جگہ اور گھر کے درمیان تقریبا ٣٥ کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور روزانہ اس مسافت کو اپنی ملازمت کی جگہ پہنچنے کے لئے طے کرتا ہوں۔ پس اگر کسی کام سے میں اس شہر میں چند راتیں ٹھہرنے کا ارادہ کرلوں تو میں اپنی نماز کیسے پڑھوں گا؟ کیا مجھ پر پوری نماز پڑھنا واجب ہے یا نہیں؟ مثال کے طور پر اگر میں جمعہ کو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے سمنان جاؤں تو کیا مجھے پوری نماز پڑھنا ہوگی یا نہیں؟
    ج. اگر آپ کا سفر آپ کی اس ملازمت کیلئے نہیں ہے جس کے لئے آپ روزانہ جاتے ہیں تو اس پر شغل والے سفر کا حکم عائد نہیں ہوگا، لیکن اگر سفر خود اسی ملازمت کیلئے ہو لیکن اسکے ضمن میں دیگرکا موں، جیسے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملاقات و غیرہ کو بھی انجام دیں اور بعض اوقات وہاں پر ایک رات یا چند راتیں ٹھہر جائیں تو کام کے لئے سفر کا حکم ان اسباب کی وجہ سے نہیں بدلے گا، بلکہ آپ کو پوری نماز پڑھنا ہوگی اور روزہ رکھنا ہوگا۔
     
    س306. اگر ملازمت کی جگہ پر کہ جس کیلئے میں نے سفر کیا ہے، دفتری اوقات کے بعد ذاتی کام انجام دوں، مثلاً صبح سات بجے سے دو بجے تک دفتری کام انجام دوں اور دو بجے کے بعد ذاتی کام انجام دوں تو میری نماز اور روزہ کا کیا حکم ہے؟
    ج. دفتری کام کو انجام دینے کے بعد ذاتی کاموں کو انجام دینا " کام کیلئے سفرکرنے" کے حکم کو تبدیل نہیں کرتا۔
     
    س307. ان رضاکاروں کے روزہ و نماز کا کیا حکم ہے جو یہ جانتے ہیں کہ وہ دس دن سے زائد ایک جگہ قیام کریں گے، لیکن اس کا اختیار خود ان کے ہاتھ میں نہیں ہے؟ امید ہے امام خمینی کا فتویٰ بھی بیان فرمائیں گے؟
    ج. مفروضہ سوال میں اگر انہیں دس دن یا اس سے زائد ایک جگہ رہنے کا اطمینان ہوتو ان پر پوری نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا واجب ہے، اور یہی فتوی امام خمینی کا بھی ہے۔
     
    س308. ان سپاہیوں کے روزے اور نمازکا کیا حکم ہے جو فوج یا پاسداران انقلاب میں شامل ہیں اور دس دن سے زیادہ چھاؤنیوں میں اور دس دن سے زیادہ سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں؟ براہ مہربانی امام خمینی کا فتویٰ بھی بیان فرمائیں؟
    ج. اگر وہ دس دن یا اس سے زیادہ ایک جگہ قیام کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں یا وہ جانتے ہوں کہ دس دن یا اس سے زیادہ وہاں رہنا ہوگا تو وہاں پر انکی نماز پوری ہوگی اور انہیں روزہ بھی رکھنا ہوگا اور امام خمینی کا فتوی بھی یہی ہے۔
     
    س 309. امام خمینی کی توضیح المسائل کے باب "نماز مسافر" ،"ساتویں شرط" میں آیا ہے: "ڈرائیور پر واجب ہے کہ پہلے سفر کے بعد پوری نماز پڑھے، لیکن پہلے سفر میں اس کی نماز قصر ہے خواہ سفر طویل ہی کیوں نہ ہو" تو کیا پہلے سفر سے مراد وطن سے چلنا اور لوٹ کر وطن واپس آنا ہے یا نہیں بلکہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ جانے سے پہلا سفر مکمل ہوجائیگا؟
    ج. اگر اسکی آمد و رفت عرف عام میں ایک سفر شمار ہوتی ہے جیسے استاد جو پڑھانے کیلئے اپنے وطن سے کسی شہر کی طرف سفر کرتاہے اور پھر شام کو یا اگلے دن اپنے گھر واپس آجاتاہے تو اس صورت میں اسکی رفت و آمد کو پہلا سفر شمار کیا جائے گا اور اگر عرف عام میں ایک سفر شمار نہ کیا جائے جیسے ڈرائیور جو سامان اٹھانے کیلئے ایک منزل کی طرف سفر کرتاہے اور پھر وہاں سے مسافروں کو سوار کرنے یا دوسرا سامان اٹھانے کیلئے سفر کرتاہے اور اسکے بعد اپنے وطن کی طرف پلٹ آتاہے تو اس صورت میں اپنی پہلی منزل مقصود تک پہنچ کر اسکا پہلا سفر مکمل ہوجائیگا۔
     
    س 310. وہ شخص جس کا مستقل پیشہ ڈرائیونگ نہ ہو، بلکہ مختصر مدت کے لئے ڈرائیونگ کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہو، جیسے چھاؤنیوں و غیرہ میں فوجیوں پر موٹرگاڑی چلانے کی ذمہ داری عائد کر دی جاتی ہے، کیا ایسا شخص مسافر کے حکم میں ہے یا اس پر پوری نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا واجب ہے؟
    ج. اگر عرف عام میں گاڑی کی ڈرائیونگ کو اس مدت میں ان کا پیشہ سمجھا جائے تو اس مدت میں ان کا وہی حکم ہے جو تمام ڈرائیوروں کا ہے۔
     
    س 311. جب کسی ڈرائیور کی گاڑی میں کوئی نقص پیدا ہو جائے اور وہ اس کے پرزے خریدنے اور اسے ٹھیک کرنے کیلئے دوسرے شہر جائے تو کیا اس طرح کے سفر میں وہ پوری نماز پڑھے گا یا قصر، جبکہ اس سفر میں اس کی گاڑی اس کے ساتھ نہیں ہے؟
    ج. مذکورہ صورت میں بھی اس کا سفر شغل والا ہے اور نماز پوری ہے۔
     
  • طلبہ کے احکام
  • قصد اقامت اورمسافتِ شرعی
  • حد ترخص
  • سفر معصیت
  • احکام وطن
  • بیوی بچوں کی تابعیت
  • بڑے شہروں کے احکام
  • نماز اجارہ
  • نماز آیات
  • نوافل
  • نماز کے متفرقہ احکام
700 /