ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

احکام نماز

  • اہمیت اور شرائط نماز
  • اوقات نماز
  • قبلہ کے احکام
  • نماز کی جگہ کے احکام
  • مسجد کے احکام
  • دیگر مذہبی مقامات کے احکام
  • نماز گزار کالباس
  • سونے چاندی کا استعمال
  • اذان و اقامت
  • قرأت اور اس کے احکام
  • ذکرنماز
  • سجدہ اور اس کے احکام
  • مبطلات نماز
  • جواب سلام کے احکام
  • شکیات نماز
  • قضا نماز
  • ماں باپ کی قضا نمازیں
  • نماز جماعت
  • اس امام جماعت کا حکم کہ جس کی قرأت صحیح نہیں ہے
  • معذور کی امامت
  • نماز جماعت میں عورتوں کی شرکت
  • اہل سنت کی اقتدا
  • نماز جمعہ
  • نماز عیدین
  • نماز مسافر
  • جس شخص کا پیشہ یا پیشے کا مقدمہ سفر ہو
  • طلبہ کے احکام
    پرنٹ  ;  PDF
     
    طلبہ کے احکام
     
    س 312. یونیورسٹیوں کے ان طلبہ کا کیا حکم ہے جو ہفتہ میں کم از کم دو دن تحصیل علم کیلئے سفر کرتے ہیں یا ان ملازمین کا کیا حکم ہے جو ہر ہفتہ اپنے کام کے لئے سفر کرتے ہیں؟ واضح رہے کہ وہ ہر ہفتہ سفر کرتے ہیں لیکن کبھی یونیورسٹی یا کام کی جگہ میں چھٹی ہوجانے کی وجہ سے وہ ایک ماہ تک اپنے اصلی وطن میں رہتے ہیں اور اس ایک ماہ کی مدت میں سفر نہیں کرتے تو جب وہ ایک ماہ کے بعد پھر سے سفر کا آغاز کریں گے تو کیا اس پہلے سفر میں انکی نماز قاعدے کے مطابق قصر ہو گی اور اس کے بعد وہ پوری نماز پڑھیں گے اور اگر اس کام والے سفر سے پہلے کسی ذاتی سفر پر گیا ہو تو حکم کیا ہوگا؟
    ج. تحصیل علم کیلئے سفر میں نماز اور روزے کا حکم احتیاط پر مبنی ہے(1)، خواہ ان کا سفر ہفتہ وار ہو یا روزانہ ہو، لیکن جو شخص کام کے لئے سفر کرتا ہے خواہ وہ مستقل کام کرتا ہو یا کسی دفتر میں اگر وہ دس دن میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے کام کرنے کی جگہ اور اپنے وطن یا اپنی رہائشگاہ کے درمیان رفت و آمد کرتا ہو تو وہ پوری نماز پڑھے گا اور اس کا روزہ رکھنا بھی صحیح ہو گا اور جب وہ کام والے دو سفروں کے درمیان اپنے وطن میں یا کسی اور جگہ پر دس دن کا قیام کرے تو ان دس دنوں کے بعد کام کے لئے کئے جانے والے پہلے سفر میں نماز قصر پڑھے گا اور روزہ نہیں رکھے گا لیکن اگر اپنے کام والے اس سفر سے پہلے کسی ذاتی سفر پر گیا ہو تو اس ذاتی سفر کے دوران نماز قصر اور اس کے بعد کام والے سفر کے درمیان پوری ہوگی لیکن بہرحال اس کام والے سفر کے دوران یہ احتیاط "کہ نماز پوری بھی پڑھے اور قصر بھی پڑھے" ترک نہ کیا جائے۔
     
    س 313. میں رفسنجان کے قریب سکول میں ٹیچر ہوں لیکن یونیورسٹی میں داخلہ ہوجانے کی وجہ سے اس میں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے پر بھی مامور ہوں چنانچہ ہفتے کے پہلے تین دن کرمان میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول ہوتا ہوں اور باقی دن اپنے شہر میں اپنی ڈیوٹی انجام دیتاہوں میری نماز اور روزوں کا کیا حکم ہے کیا مجھ پر طالب علم و الا حکم عائد ہوگا یا نہیں ؟
    ج. اگر آپ تعلیم حاصل کرنے پر مأ مور ہیں تو آپ کی نماز پوری ہے اور روزہ بھی صحیح ہے ۔
     
    س 314. اگر دینی طالب علم یہ نیت کرے کہ وہ تبلیغ کو اپنا مشغلہ بنائے گا تو مذکورہ فرض کے مطابق وہ سفر میں پوری نماز پڑھ سکتا ہے اور روزہ بھی رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر اس شخص کا سفر تبلیغ، ہدایت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے نہ ہو بلکہ کسی اور کام کے لئے سفر کرے تو اس کے روزے نماز کا کیا حکم ہے؟
    ج. اگر تبلیغ و ہدایت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو عرف عام میں اس کا شغل اور کام کہا جاتا ہو تو ان چیزوں کے لئے اس کے سفر کا حکم وہی ہے جو شغل کے لئے سفر کرنے والوں کا ہے اور اگر کبھی ان کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے سفر کرے تو دیگر تمام مسافروں کی طرح نماز قصر پڑھے اور اس کا روزہ صحیح نہیں ہے ۔
     
    س 315. جو لوگ غیر معینہ مدت کے لئے سفر کرتے ہیں جیسے حوزہ علمیہ کے طالب علم یا حکومت کے وہ ملازمین جو کسی شہر میں غیر معینہ مدت کے لئے مامور کئے جاتے ہیں، ان کے روزوں اور نماز کا کیا حکم ہے؟
    ج. مذکورہ صورت میں اگر وہاں ایک دو سال ٹھہرنے کا ا رادہ ہو تو نماز پوری اور روزہ صحیح ہے۔
     
    س 316. اگر دینی طالب علم اس شہر میں رہتا ہے جو اس کا وطن نہیں ہے اور وہاں دس روز قیام کی نیت کرنے سے قبل وہ جانتا تھا یا یہ قصد رکھتا تھا کہ شہر سے باہر واقع مسجد میں ہر ہفتے جائے گا۔ آیا وہ دس دن کے قیام کی نیت کر سکتا ہے یا نہیں؟
    ج. قصد اقامت کے دوران شرعی مسافت سے کم اتنی مقدار باہر جانے کا ارادہ کہ جسے عرف میں ایک جگہ دس دن ٹھہرنے کے ساتھ منافی شمار نہیں کیا جاتا، قصد اقامت کو ختم نہیں کرتا مثلاً اس کا ارادہ یہ ہو کہ ان دس دنوں کے دوران تین دفعہ اور ہر دفعہ تقریباً پانچ گھنٹے شرعی مسافت سے کم تک جائے گا اور واپس آئے گا۔
     

    1 ۔ایسی صورت حال رکھنے والے افراد شرائط کی رعایت کرتے ہوئے کسی دوسرے مجتہد کے فتوا کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور اگر رجوع نہ کریں تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ نماز پوری بھی پڑھیں اور قصر بھی اور ماہ رمضان میں ضروری ہے کہ احتیاطاً روزہ رکھیں اور بعد میں اس کی قضا بھی کریں۔
     
  • قصد اقامت اورمسافتِ شرعی
  • حد ترخص
  • سفر معصیت
  • احکام وطن
  • بیوی بچوں کی تابعیت
  • بڑے شہروں کے احکام
  • نماز اجارہ
  • نماز آیات
  • نوافل
  • نماز کے متفرقہ احکام
700 /