ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

احکام نماز

  • اہمیت اور شرائط نماز
  • اوقات نماز
  • قبلہ کے احکام
  • نماز کی جگہ کے احکام
  • مسجد کے احکام
  • دیگر مذہبی مقامات کے احکام
  • نماز گزار کالباس
  • سونے چاندی کا استعمال
  • اذان و اقامت
  • قرأت اور اس کے احکام
  • ذکرنماز
  • سجدہ اور اس کے احکام
  • مبطلات نماز
  • جواب سلام کے احکام
  • شکیات نماز
  • قضا نماز
  • ماں باپ کی قضا نمازیں
  • نماز جماعت
  • اس امام جماعت کا حکم کہ جس کی قرأت صحیح نہیں ہے
  • معذور کی امامت
  • نماز جماعت میں عورتوں کی شرکت
  • اہل سنت کی اقتدا
  • نماز جمعہ
  • نماز عیدین
  • نماز مسافر
  • جس شخص کا پیشہ یا پیشے کا مقدمہ سفر ہو
  • طلبہ کے احکام
  • قصد اقامت اورمسافتِ شرعی
    پرنٹ  ;  PDF
     
    قصد اقامت اورمسافتِ شرعی
     
    س 317. میں جس جگہ ملازمت کرتا ہوں وہ قریبی شہر سے شرعی مسافت سے کم فاصلہ پر واقع ہے اور چونکہ دونوں جگہ میرا وطن نہیں ہے، لہذا میں اپنی ملازمت کی جگہ دس روز ٹھہرنے کا قصد کرتا ہوں تا کہ پوری نماز پڑھ سکوں اور روزہ رکھ سکوں اور جب میں اپنے کام کی جگہ پر دس روز قیام کرنے کا قصد کرتا ہوں تو دس روز کے دوران میں یا اس کے بعد قریبی شہر میں جانے کا قصد نہیں کرتا، پس درج ذیل حالات میں شرعی حکم کیا ہے؟
    ١۔ جب میں اچانک یا کسی کام سے دس دن کامل ہونے سے پہلے اس شہر میں جاؤں اور تقریباً دو گھنٹے وہاں ٹھہرنے کے بعد اپنے کام کی جگہ واپس آ جاؤں۔
    ٢۔ جب میں دس روز کامل ہونے کے بعد اس شہر کے کسی ایک معین محلے میں جاؤں اور میرے وہاں تک جانے کا فاصلہ شرعی مسافت سے زیادہ نہ ہو اورایک رات ، وہاں قیام کر کے میں اپنی قیامگاہ کی طرف واپس آجاؤں۔
    ٣۔ جب میں دس روز قیام کے بعد اس شہر کے کسی ایک معین محلہ کے قصد سے نکلوں، لیکن اس محلہ میں پہنچنے کے بعد میرا ارادہ بدل جائے اور میں ایک اور محلے میں جانے کی نیت کر لوں جو میری قیامگاہ سے شرعی مسافت سے زیادہ دور ہے؟
    ج.
    ١۔٢۔ قیام گاہ پر پوری نمازوالے حکم کے ثابت ہوجانے کے بعد خواہ وہ قیام گاہ میں کم از کم ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کی وجہ سے ہی ہو شرعی مسافت سے کم فاصلہ تک جانے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہے ایک دن جائے یا کئی دن اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپنی قیامگاہ سے دس دن کامل ہونے کے بعد نکلے یا دس دن کامل ہونے سے قبل، بلکہ نئے سفر سے پہلے تک پوری نماز پڑھے گا اور روزہ رکھے گا۔
    ٣۔ مذکورہ صورت میں چونکہ شرعی سفر واقع ہی نہیں ہوا اس لیے قصد اقامت ختم نہیں ہوگا۔
     
    س 318. مسافر اپنے وطن سے نکلنے کے بعد اگر اس راستے سے گزرے جہاں سے اس کے اصلی وطن کی اذان کی آوازسنائی دے، یا اس کے وطن کے گھروں کی دیواریں دکھائی دیں تو کیا اس سے مسافت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
    ج. اگر اپنے وطن سے نہ گزرے تو اس سے شرعی مسافت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اس سے سفر کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا، لیکن جب تک وہ اپنے وطن اور حد ترخص کے درمیان والے مقام میں ہے اس پر مسافر والا حکم جاری نہیں ہوگا۔
     
    س 319. جہاں میں ملازم ہوں اور فی الحال جہاں میرا قیام ہے، وہ میرا اصلی وطن نہیں ہے اور اس جگہ اور میرے وطن کے درمیان شرعی مسافت سے زیادہ فاصلہ ہے۔ ملازمت کی جگہ کو میں نے اپنا اصلی وطن نہیں بنایا ہے اور یہ ممکن ہے کہ وہاں فقط چند سال رہوں، میں بعض اوقات وہاں سے دفتری کاموں کے لئے مہینے بھر میں دو یا تین دن کے سفر پر جاتا ہوں لہذا جب میں اس شہر سے نکل کر جس میں، میں رہائش پذیر ہوں مسافت شرعی سے زیادہ دور جاؤں اور پھر وہیں لوٹ آؤں تو کیا مجھ پر واجب ہے کہ دس دن کے قیام کی نیت کروں یا اس کی ضرورت نہیں ہے؟ اور اگر دس دن کے قیام کی نیت واجب ہے تو شہر کے اطراف میں کتنی مسافت تک میں جا سکتا ہوں؟
    ج. مذکورہ صورت میں اس جگہ آپ مسافر کا حکم نہیں رکھتے اور آپ کی نماز پوری اور روزہ صحیح ہے۔
     
    س 320. ایک شخص چند سال سے اپنے وطن سے چار کلومیٹر دور رہتا ہے اور ہر ہفتہ گھر جاتا ہے لہذا اگر یہ شخص اس مقام کی طرف سفر کرے کہ جس کا اس کے وطن سے ٢٥ کلو میٹر کا فاصلہ ہے، لیکن جس جگہ وہ چند سال تعلیم حاصل کرتا رہاہے وہاں سے اس کا فاصلہ ٢٢ کلومیٹر ہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
    ج. اگر وطن سے اس جگہ تک سفر کرے تو اسکی نماز قصر ہے ۔
     
    س 321. ایک مسافر نے تین فرسخ تک جانے کا قصدکیا، لیکن ابتداء ہی سے اس کا ارادہ تھا کہ وہ اس سفر کے دوران ایک خاص کام کی انجام دہی کیلئے ایک چھوٹے راستے سے ایک فرسخ تک جائے گا پھر اصلی راستہ پر آجائے گا اور اپنے سفر کو جاری رکھے گا تو اس مسافر کے روزہ اور نماز کا کیا حکم ہے؟
    ج. اس پر مسافر کا حکم جاری نہیں ہو گا اور مسافت شرعی کو پورا کرنے کیلئے اصلی راستہ سے نکل کر دوبارہ اس پر لوٹ آنے کا شرعی مسافت کی تکمیل کیلئے اضافہ کرنا کافی نہیں ہے۔
     
    س 322. امام خمینی کے (اس) فتویٰ کے پیش نظر کہ جب آٹھ فرسخ کا سفر کرے تو نماز قصر پڑھے اور روزہ نہ رکھنا واجب ہے، اگر جانے کا راستہ چار فرسخ سے کم ہو لیکن واپسی پر سواری نہ ملنے یا راستے کی مشکلات کے پیش نظر ایسا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جو چھ فرسخ سے زیادہ ہو تو اس صورت میں نماز و روزہ کا کیا حکم ہے؟
    ج. اگر جانا چار فرسخ سے کم ہو اور فقط واپسی کا راستہ بھی شرعی مسافت کے برابر نہ ہو تو نماز پوری پڑھے گا اور روزہ رکھے گا۔
     
    س 323. جو شخص اپنی قیام گاہ سے ایسی جگہ جائے جس کا فاصلہ شرعی مسافت سے کم ہو اور ہفتہ بھر میں اس جگہ سے متعدد بار دوسری جگہوں کا سفر کرے، اس طرح کہ کل مسافت آٹھ فرسخ سے زیادہ ہو جائے تو اس کا کیا فریضہ ہے؟
    ج. اگر وہ گھر سے نکلتے وقت شرعی مسافت کا قصد نہیں رکھتا تھا اور اس کی پہلی منزل اور ان دوسری جگہوں کے درمیان کا فاصلہ بھی شرعی مسافت کے برابر نہ تھا تو اس پر سفر کا حکم جاری نہیں ہوگا۔
     
    س 324. اگر ایک شخص اپنے شہر سے کسی خاص جگہ کے قصد سے نکلے اور پھر اس جگہ اِدھر اُدھر گھومتا رہے تو کیا اس کا یہ اِدھر اُدھر گھومنا اس مسافت میں شمار ہو گا جو اس نے اپنے گھر سے طے کی ہے؟
    ج. منزل مقصود پر ادھر ادھر گھومنا مسافت میں شمار نہیں ہو گا۔
     
    س 325. کیا قصد اقامت کے وقت قیام گاہ سے چار فرسخ سے کم فاصلے پر جانے کی نیت کی جاسکتی ہے؟
    ج. اقامت گاہ سے شرعی مسافت سے کم فاصلے تک جانے کا قصد اگر دس دن کے قیام کے صادق آنے کو ضرر نہ پہنچائے جیسے کہ اس کا ارادہ یہ ہو کہ ان دس دنوں کے دوران تین دفعہ اور ہر بار تقریباً پانچ گھنٹے شرعی مسافت سے کم تک جائے گا اور واپس آئے گا تو ایسی نیت قصد اقامت کے صحیح ہونے کے لئے مضر نہیں ہے۔
     
    س 326. اس بات کے پیش نظر کہ اپنی قیامگاہ سے اپنی جائے ملازمت تک آنا جانا کہ جن کے درمیان ٢٤کلو میٹر سے زیادہ کا فاصلہ ہے پوری نماز پڑھنے کا موجب ہے، اگر میں اپنی ملازمت کے شہر کے حدود سے باہر نکلوں یا کسی دوسرے شہر کی طرف جاؤں کہ جس کا فاصلہ میرے کام کرنے کی جگہ سے شرعی مسافت سے کم ہے اور ظہر سے قبل یا بعد اپنی ملازمت کی جگہ واپس آجاؤں تو کیا میری نماز پھر بھی پوری ہوگی؟
    ج. ملازمت کی جگہ سے شرعی مسافت سے کم فاصلے تک جانے سے اگرچہ اس کا آپ کے کام کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو، جائے ملازمت پر آپ کے روزہ اورنماز کا حکم نہیں بدلے گا، اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ آپ اپنی ملازمت کی جگہ پر ظہر سے قبل واپس آئیں یا اسکے بعد۔
     
    س327. ایک شخص اپنے وطن سے ا س شہر کی طرف سفر کرتا ہے کہ جس کی ابتدا تک شرعی مسافت نہیں ہے لیکن جو نقطہ اس کی منزل مقصود ہے (جیسے اس کے دوست کا گھر) اس تک مسافت شرعی ہے تو کیا شرعی مسافت کا حساب کرنے کیلئے معیار شہر کی ابتدا ہے یا وہ نقطہ جو اس کی منزل مقسود ہے؟
    ج. اگر اس نے کسی خاص نقطے کیلئے سفر کیا ہو اس طرح کہ شہر سے عبور اُس نکتہ تک پہنچنے کا راستہ ہو تو مسافت کا حساب کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس نقطے کو مدنظر رکھا جائے لیکن اگر باوجود اس کے کہ اس کی کوئی خاص منزل مقصود ہے شہر میں بھی کام رکھتا ہو اس طرح کہ شہر میں پہنچ جانا منزل مقصود تک پہنچنا شمار ہوتا ہو تو شہر کی ابتدا معیار ہے۔
     
    س328. میں ہر ہفتہ حضرت سیدہ معصومہ "علیہا السلام "کے مرقد کی زیارت اور مسجد جمکران کے اعمال بجالانے کی غرض سے قم جاتا ہوں، اس سفر میں مجھے پوری نماز پڑھنا ہوگی یا قصر؟
    ج. اس سفر میں آپ کا حکم وہی ہے جوتما م مسافروں کا ہے اور آپ کی نماز قصر ہے ۔
     
    س329. شہر"کا شمر" میری جائے ولادت ہے اور١٩٦٦(١٣٤٥ ہجری شمسی)سے ١٩٩٠ (١٣٦٩ ہجری شمسی) تک میں تہران میں مقیم رہاہوں اور اسے میں نے اپنا وطن بنا رکھا تھا اور اب تین سال سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ادارے کی طرف سے بندر عباس میں تعینات ہوں اور ایک سال کے اندر پھر اپنے وطن تہران لوٹ جاؤں گا، اس بات کے پیش نظر کہ میں جب تک بندر عباس میں ہوں ہر لحظے امکان ہے کہ مجھے بندرعباس کے ساتھ ملحق شہروں میں ڈیوٹی کیلئے جانا پڑے اورکچھ مدت مجھے وہاں ٹھہرنا پڑے اور ادارے کی طرف سے میری جو ڈیوٹی لگائی جاتی ہے اسکے وقت کا بھی پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ براہ مہربانی سب سے پہلے میرے روزہ و نماز کا حکم بیان فرمائیں؟
    دوسرے یہ کہ میری زوجہ کی نماز و روزہ کا کیا حکم ہے، جبکہ وہ خانہ دار ہے، اسکی جائے پیدائش تہران ہے اور وہ میری وجہ سے بندر عباس میں رہتی ہے؟
    ج. مذکورہ صورت میں آپ اُس جگہ مسافر والا حکم نہیں رکھتے اور آپ اور آپ کی بیوی کی نماز وہاں پوری ہے اور روزہ صحیح ہے۔
     
    س330. ایک شخص نے ایک جگہ دس دن ٹھہرنے کا قصد کیا ہے، کیونکہ اسے علم تھا کہ وہاں دس دن ٹھہرے گا یا اس نے اس امر کا عزم کررکھا تھا، پھر اس نے ایک چار رکعتی نماز پوری پڑھ لی جس سے اس پر پوری نماز پڑھنے کا حکم لاگو ہوگیا۔ اب اسے ایک غیر ضروری سفر پیش آگیا ہے تو کیا اس کے لئے یہ سفر جائز ہے؟
    ج. اس کے سفر کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے خواہ سفر غیر ضروری ہو۔
     
    س331. اگر کوئی شخص امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے سفر کرے اور یہ جانتا ہو کہ وہاں دس روز سے کم قیام کرے گا، لیکن نماز پوری پڑھنے کی غرض سے دس روز ٹھہرنے کی نیت کرلے تو اس کا کیا حکم ہے؟
    ج. اگر وہ جانتا ہو کہ وہاں دس روز قیام نہیں کرے گا تو اس کا دس دن ٹھہرنے کی نیت کرنا بے معنی ہے اور اس کی نیت کا کوئی اثر نہیں ہے بلکہ وہاں نماز قصر پڑھے گا۔
     
    س332. غیر مقامی ملازم پیشہ لوگ جو اپنے کام والے شہر میں کبھی بھی دس روز قیام نہیں کرتے اور ان کا سفر بھی شرعی مسافت سے کم ہوتا ہے تو نماز کے سلسلہ میں ان کا کیا حکم ہے قصر پڑھیں یا پوری؟
    ج. مفروضہ صورت میں اگر ملازمت کی جگہ میں دس دن قیام نہ کرے تو اس کا سفر شغل والا سفر شمار ہوگا اور رہائش گاہ، ملازمت کی جگہ اور ان دو کے درمیان نماز پوری ہوگی۔
     
    س333. اگر کوئی شخص کسی جگہ سفر کرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہاں کتنے دن قیام کرنا ہے، دس روز یا اس سے کم تو وہ کس طرح نماز پڑھے؟
    ج. مردد شخص کی ذمہ داری یہ ہے کہ تیس دن تک نماز قصر پڑھے اور اسکے بعد پوری پڑھے اگرچہ اسے اسی دن واپس پلٹنا ہو۔
     
    س334. جو شخص دومقامات پر تبلیغ کرتا ہے اور اس علاقہ میں دس روز قیام کا قصد بھی رکھتا ہے تو اس کے روزہ و نماز کا کیا حکم ہے؟
    ج. اگر عرف عام میں یہ دو علاقے شمار ہوں تو وہ نہ دونوں مقامات میں قصد اقامت کرسکتا ہے اور نہ ہی ایک مقام پر، جبکہ وہ دس روز کے اندر دوسرے مقام تک رفت و آمد کا قصد رکھتا ہو۔
  • حد ترخص
  • سفر معصیت
  • احکام وطن
  • بیوی بچوں کی تابعیت
  • بڑے شہروں کے احکام
  • نماز اجارہ
  • نماز آیات
  • نوافل
  • نماز کے متفرقہ احکام
700 /