ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

احکام نماز

  • اہمیت اور شرائط نماز
  • اوقات نماز
  • قبلہ کے احکام
  • نماز کی جگہ کے احکام
  • مسجد کے احکام
  • دیگر مذہبی مقامات کے احکام
  • نماز گزار کالباس
  • سونے چاندی کا استعمال
  • اذان و اقامت
  • قرأت اور اس کے احکام
  • ذکرنماز
  • سجدہ اور اس کے احکام
  • مبطلات نماز
  • جواب سلام کے احکام
  • شکیات نماز
  • قضا نماز
  • ماں باپ کی قضا نمازیں
  • نماز جماعت
  • اس امام جماعت کا حکم کہ جس کی قرأت صحیح نہیں ہے
  • معذور کی امامت
  • نماز جماعت میں عورتوں کی شرکت
  • اہل سنت کی اقتدا
  • نماز جمعہ
  • نماز عیدین
  • نماز مسافر
  • جس شخص کا پیشہ یا پیشے کا مقدمہ سفر ہو
  • طلبہ کے احکام
  • قصد اقامت اورمسافتِ شرعی
  • حد ترخص
  • سفر معصیت
  • احکام وطن
  • بیوی بچوں کی تابعیت
  • بڑے شہروں کے احکام
  • نماز اجارہ
  • نماز آیات
    پرنٹ  ;  PDF
     
    نماز آیات
     
    س371. نماز آیات کیا ہے اورشریعت میں اس کے واجب ہونے کے اسباب کیا ہیں؟
    ج. یہ دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع اور دو سجدے ہیں، شریعت میں اس کے واجب ہونے کے اسباب یہ ہیں :
    سورج گہن اور چاندگہن خواہ ان کے معمولی حصے کو ہی لگے، اسی طرح زلزلہ اور ہر وہ غیر معمولی چیز جس سے اکثر لوگ خوفزدہ ہوجائیں، جیسے سرخ، سیاہ یا پیلی آندھیاں کہ جو غیر معمولی ہوں یا شدید تاریکی، یا زمین کا دھنسنا ، پہاڑ کا ٹوٹ کر گرنا،بجلی کی کڑک اور گرج اور وہ آگ جو کبھی آسمان میں نظر آتی ہے۔ سورج گہن ،چاند گہن اور زلزلہ کے علاوہ باقی سب چیزوں میں شرط ہے کہ عا م لوگ ان سے خوف زدہ ہوجائیں لذا اگر ان میں سے کوئی چیز خوفناک نہ ہو یا اس سے بہت کم لوگ خوف زدہ ہوں تو نماز آیات واجب نہیں ہے ۔
     
    س372. نماز آیات پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟
    ج. اسے بجا لانے کے چند طریقے ہیں :
    ١۔ نیت اور تکبیرة الاحرام کے بعد حمد و سورہ پڑھے پھر رکوع میں جائے اس کے بعد رکوع سے سر اٹھائے اورحمد و سورہ پڑھے اور رکوع میں جائے، پھر رکوع سے بلند ہوکر حمد و سورہ پڑھے پھر رکوع بجا لائے، پھر سر اٹھا ئے اور حمد وسورہ پڑھے اور اسی طرح اس رکعت میں پانچ رکوع بجا لائے پھر سجدے میں جائے اور دوسجدے بجا لانے کے بعد کھڑا ہو کر پہلی رکعت کی طرح عمل کرے پھر دو سجدے بجالائے اور اس کے بعد تشہد اور سلام پڑھے۔
    ٢۔ نیت ا ور تکبیرة الاحرام کے بعد سورہ حمد اور کسی سورہ کی ایک آیت پڑھ کر رکوع میں جائے (البتہ بسم اللہ کو ایک آیت شمار کرنا صحیح نہیں ہے) پھر رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اسی سورہ کی دوسری آیت پڑھے اور رکوع میں جائے، پھر سر اٹھاکر اسی سورہ کی تیسری آیت پڑھے ،پانچویں رکوع تک اسی طرح بجا لائے یہاں تک کہ جس سورے کی ایک ایک آیت ہر رکوع سے پہلے پڑھی تھی وہ تمام ہوجائے اس کے بعد پانچواں رکوع اور پھر دو سجدے بجالائے پھر کھڑا ہوجائے اور سورہ حمد اور کسی سورہ کی ایک آیت پڑھ کر رکوع کرے اور دوسری رکعت کو بھی پہلی رکعت کی طرح بجا لائے اور تشہد و سلام پڑھ کر نماز ختم کر دے، چنانچہ اگر ( اس طریقے کے مطابق ) ہر رکوع سے پہلے کسی سورہ کی ایک آیت پر اکتفا کرے تو سورہ حمد کو رکعت کی ابتداء میں ایک مرتبہ سے زیادہ نہ پڑھے البتہ سورہ کے حصے کرنے کی صورت میں ضروری نہیں ہے کہ پوری ایک آیت پڑھے بلکہ ایک آیت (بسم اللہ کے علاوہ)کے بھی دو حصے کر سکتا ہے۔
    ٣۔ مذکورہ دو طریقوں میں سے ایک رکعت کو ایک طریقہ سے اور دوسری کو دوسرے طریقے سے بجا لائے۔
    ٤۔ وہ سورہ جس کی ایک آیت پہلے رکوع سے قبل قیام میں پڑھی تھی، اسے دوسرے ، تیسرے یا چوتھے رکوع سے پہلے والے قیام میں ختم کردے اس صورت میں واجب ہے کہ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قیام میں سورہ حمد اور ایک دوسرا سورہ یا اسکی ایک آیت پڑھے اگر تیسرے یا چوتھے رکوع سے پہلے ہو اور اس صورت میں واجب ہے کہ اس سورہ کو پانچویں رکوع سے پہلے مکمل کردے ۔
     
    س373. کیا نما زآیات اسی شخص پر واجب ہے جو اس شہر میں ہے کہ جس میں حادثہ رونما ہوا ہے یا ہر اس شخص پر واجب ہے جسے اس کا علم ہوگیا ہو، خواہ وہ اس شہر میں نہ ہو کہ جس میں نہ ہو کہ جس میں حادثہ رونما ہوا ہے؟
    ج. نماز آیات اسی شخص پر واجب ہے جو حادثے والے شہر میں ہو اسی طرح اس شخص پر بھی واجب ہے جو اس سے متصل شہر میں رہتا ہو، اس طرح کہ دونوں کو ایک شہر کہا جاتا ہو۔
     
    س374. اگر زلزلہ کے وقت ایک شخص بے ہوش ہو اور زلزلہ ختم ہو جانے کے بعد ہوش میں آئے تو کیا اس پر بھی نما زآیات واجب ہے؟
    ج. اگر اسے زلزلہ واقع ہونے کی خبر نہ ہو یہاں تک کہ وقوع زلزلہ سے متصل وقت گزرجائے تواس پر نماز آیات واجب نہیں ہے اگر چہ احتیاط یہ ہے کہ نماز کو بجا لائے۔
     
    س375. کسی علاقہ میں زلزلہ آنے کے بعد مختصر مدت کے درمیان بہت سے چھوٹے چھوٹے زلزلے اور زمینی جھٹکے آتے ہیں، ان موارد میں نماز آیات کا کیا حکم ہے؟
    ج. ہر جھٹکا جسے مستقل زلزلہ شمار کیاجائے اسکے لئے علیحدہ نماز آیات واجب ہے خواہ شدید ہو یا خفیف۔
     
    س376. جب زلزلے درج کرنے والا مرکز اعلان کرے کہ فلاں علاقہ میں جس میں ہم رہتے ہیں زلزلہ کے کئی معمولی جھٹکے آئے ہیں اور جھٹکوں کی تعداد کا بھی ذکر کرے، لیکن ہم نے انہیں بالکل محسوس نہ کیا ہوتو کیا اس صورت میں ہمارے اوپر نماز آیات واجب ہے یا نہیں؟
    ج. اگر اس طرح ہو کہ کوئی اُسے محسوس نہ کرے اور صرف مشینوں کے ساتھ قابل ادراک ہو تو نماز آیات واجب نہیں ہے۔
  • نوافل
  • نماز کے متفرقہ احکام
700 /