ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

نماز اور روزه کی احکام

  • نماز
    • واجب نمازیں
    • یومیہ نمازیں
    • نماز صبح کا وقت
    • نماز ظہر و عصر کا وقت
    • نماز مغرب و عشاء کا وقت
    • احکام اوقات نماز
      پرنٹ  ;  PDF
       
      احکام اوقات نماز
       
      مسئلہ 16۔ مستحب ہے کہ انسان نماز کو اول وقت میں پڑھے۔ اس کے بارے میں اسلامی دستورات میں تاکید کے ساتھ سفارش کی گئی ہے اور اگر اول وقت میں نہ پڑھ سکے تو اول وقت سے جتنا نزدیک پڑھ سکے بہتر ہے مگر یہ کہ تاخیر سے پڑھنا کسی لحاظ سے بہتر ہو مثلا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا چاہے۔
      مسئلہ 17۔ یومیہ نمازوں کا وقت معلوم کرنے کے لئے( حتی کہ قطب کے قریبی علاقوں میں بھی) اپنے علاقے کے افق کی رعایت کرے۔
      مسئلہ 18۔ نماز پڑھنے کے لئے مکلف کو چاہئے کہ وقت داخل ہونے پر یقین یا اطمینان حاصل کرے یا دو عادل مرد وقت داخل ہونے کی خبر دیں یا وقت شناس اور موثق موذن اذان دے۔
      مسئلہ 19۔ اگر نماز کا وقت داخل ہونے کا یقین ہوجائے اور نماز میں مشغول ہوجائے اور نماز کے دوران وقت داخل ہونے کے بارے میں شک کرے تو نماز باطل ہے۔ لیکن اگر نماز کے دوران وقت داخل ہونے پر یقین کرے اور شک کرے جو کچھ نماز میں پڑھا ہے ، وقت کے اندر پڑھا ہے یا نہیں؟ تو نماز صحیح ہے۔
      مسئلہ20۔ اگر مکلف کو ذرائع ابلاغ وغیرہ (جہاں سے شرعی اوقات کا اعلان کیا جاتا ہے) کے ذریعے وقت داخل ہونے پر اطمینان ہوجائے تو نماز پڑھ سکتا ہے۔
      مسئلہ 21۔ جب موذن اذان دینا شروع کرے اور مکلف کو وقت داخل ہونے پر اطمینان ہوجائے تو اذان ختم ہونے تک انتظار کرنا لازمی نہیں بلکہ چاہے تو نماز پڑھ سکتا ہے۔[1]
      مسئلہ22۔ اگر نماز کے وقت قرض خواہ اپنے قرضے کا مطالبہ کرے، اگر انسان ادا کرسکتا ہے تو پہلے قرضہ ادا کرے اور بعد میں نماز پڑھے۔ اسی طرح اگر کوئی اور فوری واجب کام پیش آجائے۔ البتہ اس صورت میں کہ جب نماز کا وقت تنگ ہو تو پہلے نماز بجا لائے۔
      مسئلہ23۔ اگر نماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ نماز کے بعض مستحبات کی وجہ سے کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا پڑے توان مستحبات کو انجام نہیں دینا چاہئے مثلاً قنوت پڑھنے سے نماز کا کچھ حصہ وقت گزرنے کے بعد پڑھنا پڑے تو قنوت کو نہیں پڑھنا چاہئے۔
      مسئلہ 24۔ اگر فقط ایک رکعت نماز پڑھنے کا وقت ہو تو نماز کو ادا کی نیت سے پڑھے لیکن جان بوجھ کر نمازمیں اس وقت تک تاخیر نہ کرے۔
      مسئلہ 25۔ اگر غروب آفتاب تک پانچ رکعت نماز پڑھنے کا وقت ہو تو نماز ظہر اور عصر دونوں کو پڑھے اور اگر اس سے کم وقت ہوتو ضروری ہے کہ فقط نماز عصر ادا کرے اور نماز ظہر کو قضا پڑھے۔ اگر آدھی رات تک پانچ رکعت پڑھنے کا وقت ہو تو نماز مغرب اور عشاء (دونوں) ادا کرے اور اگر اس سے کم وقت ہوتو فقط عشاء ادا کرے اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھے اور احتیاط واجب کی بناپر ادا اور قضا کی نیت کے بجائے مافی الذمہ کی نیت سےبجا لائے۔
      مسئلہ 26۔ جو شخص سفر میں ہو اگر غروب آفتاب تک تین رکعت پڑھنے کا وقت ہو تو نماز ظہرا ور عصر (دونوں) اد اکرے اور اگر اس سے کم وقت ہو تو فقط عصر کی نماز ادا کرے اور نماز ظہر کو قضا پڑھے۔ اگر آدھی رات تک چار رکعت نماز پڑھنے کا وقت ہو تو مغرب اور عشاء ادا کرے اور اگر اس سےکم وقت ہو تو پہلے عشاء کی نماز ادا کرے اور اس کے بعد احتیاط واجب کی بناپر مغرب کی نماز کو ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر مافی الذمہ کے قصد سے پڑھے۔ چنانچہ نماز عشاء پڑھنے کے بعد معلوم ہوجائے کہ آدھی رات ہونے سے پہلے ایک رکعت یا اس سے زیادہ پڑھنے کا وقت ہے تو فورا ادا کی نیت کے ساتھ نماز مغرب پڑھے۔
       

      [1] البتہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ نماز صبح میں احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے اذان شروع ہونے کے تقریباً دس منٹ بعد نماز فجر پڑھی جائے۔
    • نمازوں کی ترتیب
    • مستحب نمازیں
    • قبلہ
    • نماز میں بدن کا ڈھانپنا
    • نماز پڑھنے والے کی جگہ کی شرائط
    • احکام مسجد
    • اذان و اقامہ
    • واجبات نماز
    • قنوت
    • تعقیبات نماز
    • نماز کا ترجمہ
    • مبطلات نماز (وہ چیزیں جو نماز کو باطل کرتی ہیں)
    • شكيّات نماز
    • سجدہ سہو
    • بھولے ہوئے سجدے اور تشہد کی قضا
    • مسافر کی نماز
    • قضا نماز
    • نماز کے لئے اجیر بنانا
    • والدین کی قضا نماز
    • نماز آیات
    • نماز عید فطر و عید قربان
    • نماز جماعت
    • نماز جمعہ
  • روزہ
700 /