ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

نماز اور روزه کی احکام

  • نماز
    • واجب نمازیں
    • یومیہ نمازیں
    • نماز صبح کا وقت
    • نماز ظہر و عصر کا وقت
    • نماز مغرب و عشاء کا وقت
    • احکام اوقات نماز
    • نمازوں کی ترتیب
    • مستحب نمازیں
    • قبلہ
    • نماز میں بدن کا ڈھانپنا
    • نماز پڑھنے والے کی جگہ کی شرائط
    • احکام مسجد
    • اذان و اقامہ
    • واجبات نماز
    • قنوت
    • تعقیبات نماز
    • نماز کا ترجمہ
    • مبطلات نماز (وہ چیزیں جو نماز کو باطل کرتی ہیں)
      پرنٹ  ;  PDF
       
      مبطلات نماز (وہ چیزیں جو نماز کو باطل کرتی ہیں)
       
      مسئلہ321۔ مبطلات نماز درج ذیل ہیں:
      1۔ ان شرائط میں سے کسی کا مفقود ہونا جن کی نماز میں رعایت کرنا ضروری ہے۔
      2۔ وضو یا غسل کا باطل ہونا۔
      3۔ قبلے سے رخ پھیرنا
      4۔ بات کرنا
      5۔ ہنسنا
      6۔ رونا
      7۔ نماز کی شکل باقی نہ رہنا
      8۔ کھانا اور پینا
      9۔ وہ شک جو نماز کو باطل کرتا ہے[1]
      10۔ ارکان نماز کو کم کرنا اور بڑھانا
      11۔ الحمد کے بعد آمین کہنا
      12۔ پیٹ پر ہاتھوں کو باندھنا (تکتف)
      مسئلہ322۔ اگر نماز کے دوران ان شرائط میں سے کوئی مفقود ہوجائے جن کی رعایت ضروری ہے مثلاً نماز کے دوران متوجہ ہوجائے کہ نماز کی جگہ غصبی ہے تو نماز باطل ہے۔
      مسئلہ323۔ اگر نماز کے دوران ایسی چیز سے دوچار ہوجائےجس سے وضو یا غسل یا تیمم باطل ہوتا ہے مثلاً نیند آئے یا پیشاب وغیرہ نکلے تو نماز باطل ہے۔
      مسئلہ324۔ اگر جان بوجھ کر قبلے سے اس حد تک اپنا بدن یا رخ پھیرے کہ دائیں اور بائیں طرف آسانی سے دیکھ سکتا ہو تو نماز باطل ہے اور اگر بھول کربھی ایسا کرے تو احتیاط واجب کی بناپر نماز باطل ہے لیکن اگر چہرے کو ایک طرف تھوڑا پھیرے تو نماز باطل نہیں ہے۔
      مسئلہ325۔ اگر نماز کے دوران جان بوجھ کر بات کرے تو چاہے ایک کلمہ ہی کیوں نہ ہو، نماز باطل ہے۔
      مسئلہ326۔ کھانسنے، چھینکنے اور گلہ صاف کرنے سے نکلنے والی آواز سے اگر کوئی حرف بن جائے تو بھی نماز باطل نہیں ہوتی ہے۔
      مسئلہ327۔ اگر ذکر کی نیت سے کوئی کلمہ ادا کرے مثلاً کہے: اللہ اکبر اور کہتے وقت آواز کو بلند کرے تا کہ کسی کو کوئی بات سمجھائے تو کوئی اشکال نہیں ہے لیکن کسی کو بات سمجھانے کی نیت سے ذکر پڑھے تو اگرچہ ذکر کی بھی نیت رکھتا ہو تو نماز باطل ہے۔
      مسئلہ328۔ ضروری ہے کہ انسان نماز کی حالت میں کسی کو سلام نہ کرے اور اگر کوئی دوسرا شخص اسے سلام کرے تو اس کا جواب دینا واجب ہے اور اس طرح جواب دے کہ کلمہ سلام پہلے ہو مثلاً کہے: سلام علیکم یا السلام علیکم؛ اور علیکم السلام نہ کہے۔
      مسئلہ329۔ اگر کوئی شخص کسی گروہ کو سلام کرے اور کہے: اَلسَّلامُ عَلَیکُم جَمِیعاًاور ان میں سے ایک نماز میں مشغول ہو چنانچہ دوسرا شخص اس کا جواب دے تو نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ جواب نہ دے۔
      مسئلہ330۔ بالغ شخص کی طرح اس بچے کے سلام کا جواب دینا بھی واجب ہے جو اچھے برے میں تمییز کرسکتا ہو۔
      مسئلہ331۔ سلام کا جواب فوراً دینا واجب ہے اگر کوئی کسی بھی وجہ سے اتنی تاخیر کرے کہ اس سلام کا جواب شمار نہ کیا جائے چنانچہ نماز کی حالت میں ہو تو سلام کا جواب نہیں دینا چاہئے اور اگر نماز کی حالت میں نہ ہو تو بھی جواب دینا واجب نہیں ہے اور اگر تاخیر کی مقدار میں شک کرے تو بھی یہی حکم ہے ، تاہم جان بوجھ کر جواب دینے میں تاخیر کی ہے تو گناہ کیا ہے۔
      مسئلہ332۔ نماز پڑھنے والے کو سلام کرتے ہوئے سلام علیکم کے بجائے فقط سلام کہے تو اگر عرفی طور پر اسے تحیت و سلام کہاجاتا ہو تو جواب دینا واجب ہے اور احتیاط کی بناپر اسی طرح جواب دے جو بیان ہوچکا ہے۔
      مسئلہ333۔ جان بوجھ کر اور آواز کے ساتھ ہنسنا (قہقہہ لگانا) نماز کو باطل کرتا ہے لیکن بھول کر یا بغیر آواز کے ہنسنے سے نماز باطل نہیں ہوتی ۔
      مسئلہ334۔ ایسا نمازی جو اپنی ہنسی نہ روک سکے، اگر اندرونی ہنسی کی شدت سے اس کا چہرہ سرخ ہوجائے یا بدن میں لرزش پیدا ہوجائے تو جب تک نماز کی شکل ختم نہیں ہوتی اس کی نماز صحیح ہے۔
      مسئلہ335۔ دنیاوی کام کے لئے جان بوجھ کر اور بلند آواز میں رونے سے نماز باطل ہوتی جاتی ہے لیکن خدا کے خوف سے یا آخرت کے لئے ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے بلکہ بہترین اعمال میں سے ہے۔
      مسئلہ336۔ ان کاموں کو انجام دینا جن سے نماز کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے مثلاً تالی بجانا اور ہوا میں اچھلنا،جان بوجھ کر ہو یا بھولے سے، نماز کوباطل کردیتاہے۔
      مسئلہ337۔ اگر نماز پڑھنے والا کسی کو کوئی بات سمجھانے یا سوال کا جواب دینے کے لئےنماز کی حالت میں ہاتھ یا آنکھ کو اس طرح تھوڑی حرکت دے کہ سکون یا نماز کی شکل کے منافی نہ ہو تو نماز باطل نہیں ہوتی ۔
      مسئلہ338۔ نماز میں آنکھوں کو بند کرنے میں کوئی اشکال نہیں اور نماز باطل نہیں ہوتی ، اگرچہ رکوع کے علاوہ مکروہ ہے۔
      مسئلہ339۔ قنوت کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر ملنا مکروہ ہے لیکن نماز باطل نہیں ہوتی ۔
      مسئلہ340۔ نماز کی حالت میں کھانا اور پینا نماز کو باطل کرتا ہے چاہے کم ہو یا زیادہ لیکن منہ کے اطراف میں باقی بچ جانے والی غذا کے ذرات کو نگلنا یا ذرا سی قند یا شکر کو چوسنا نماز باطل ہونے کا باعث نہیں ہے۔ اسی طرح اگر سہوا ًیا فراموشی سے کوئی چیز کھائے یا پیئے تو نماز باطل نہیں ہوتی ہےبشرطیکہ نماز کی شکل سے خارج نہ ہو۔
      مسئلہ341۔ اگر نماز پڑھنے والا عمدا ًیا سہوا ًکسی رکن کو کم کرے یا بڑھائے یا غیر رکنی واجبات میں سے کسی کو عمدا ًکم کرے یا بڑھائے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے۔
      مسئلہ342۔ سورہ حمد پڑھنے کے بعد آمین کہنا جائز نہیں اور نماز باطل ہونے کا سبب ہے لیکن اگر تقیہ کی خاطر ہوتو کوئی اشکال نہیں ہے۔ اسی طرح سینے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہونا اگر اس نیت سے ہو کہ یہ عمل نماز کا جزءہے تو نماز باطل کردیتا ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اس نیت کے بغیر بھی اس عمل کو انجام نہ دے۔
      مسئلہ343۔ بغیر کسی عذر کے واجب نماز کو توڑنا جائز نہیں ہے۔
      مسئلہ344۔ اگر نماز توڑے بغیر جان یا ایسے مال کی حفاظت کرنا ممکن نہ ہو کہ جسے بچانا واجب ہے تو ضروری ہے کہ نماز کو توڑدے اور مجموعی طور ان تمام جانی و مالی خطرات سے بچنے کے لئے نماز توڑنا جائز ہے جو نماز پڑھنے والے کے لئے قابل توجہ اور اہم ہوں۔
       

      [1] ۔ شکیات نماز میں بیان کئے جائیں گے۔
    • شكيّات نماز
    • سجدہ سہو
    • بھولے ہوئے سجدے اور تشہد کی قضا
    • مسافر کی نماز
    • قضا نماز
    • نماز کے لئے اجیر بنانا
    • والدین کی قضا نماز
    • نماز آیات
    • نماز عید فطر و عید قربان
    • نماز جماعت
    • نماز جمعہ
  • روزہ
700 /