ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ہزاروں افسروں کی ملاقات

سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے اثر ورسوخ, اقتصاد اور سیکورٹی اثر و رسوخ سے زیادہ خطرناک ہے/ دشمن فیصلہ کرنے والے یا پلاننگ کرنے والے مراکز میں اثر و رسوخ پیدا کرنا چاہتا ہے

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ہزاروں افسروں سے ملاقات میں سپاہ پاسداران کو عظیم الہی نعمت اور اندرونی اور بیرونی مسائل میں اسلامی انقلاب کا با خبر اور آگاہ محافظ قرار دیا اور اسلامی انقلاب کی زاویوں اور اسکے ملزومات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن انقلاب کو ختم کرنے کی کھوکھلی امید لئے سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے اثر و رسوخ پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن دشمن کی اس سازش کو، دشمن کی سازشوں کی پہچان، انقلابی فکر کو مستحکم اور اسکی تقویت کرکے اور اپنے اہداف کے تحقق کے لئے مسلسل حرکت کے زریعے ان اہداف کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملاقات میں پاسدار سپاہیوں کے مقام اور موجودہ شرائط اور مستقبل میں انکے سنگین وظایف کی تشریح کرتے ہوئے چار لفظوں "سپاہ"، "پاسداران"، "انقلاب"، اور "اسلامی" کے مختلف زاویوں، خصوصیات اور انکی اہمیت پر گفتگو فرمائی۔
آپ نے لفظ سپاہ کے معنی آرگنائزیشن، نظم اور انضباط کو بتاتے ہوئے فرمایا کہ کسی بھی آرگنائزیشن اور ادارے کے لئے سپاہ کی طرح ادارتی سطح پر اسلامی انقلاب کی ایک عظیم اور عزیز تاریخی اور موجودہ دور کے واقعے کی پاسداری جیسے وظیفے کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے " بوڑھا نہ ہونے اور تجدید حیات" کو رشد اور گہرائی اور " نئے کارآمد اور سمجھدار عناصر کی تربیت" کو سپاہ کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ سپاہ اپنے اندر موجود نئے عناصر کی تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ، ان اداروں اور آرگنائزیشنز پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کہ جہاں اس کے عناصر اپنے وظایف انجام دینے کے لئے جاتے ہیں اور اثر انداز ہونے والے انسانوں کی تربیت بھی کرتی ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ سپاہ کے تنظیمی ڈھانچے کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اقتدار کے وجود میں آنے کے ساتھ " زمینی، سیاسی، شناختہ شدہ اور عزت بخش" ہے، فرمایا کہ سپاہ کی ایک آرگنائزیشن ہونے کی خصوصیت کے ساتھ ساتھ ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ ادارہ جوانوں کی خدمات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پرانے اور قدیمی ارکان کے تجربات سے بھی استفادہ کرتا ہے اور اس طریقے کو باقی رہنا چاہئے اور سپاہ میں نسل منقطع ہونے کا سلسلہ پیدا نہیں ہونا چاہئے۔
آپ نے اس کے بعد لفظ "پاسدار" اور " انقلاب کی پاسداری" کے معنی  انقلابی ارادے، شناخت اور حاضر رہنے کو قرار دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انقلاب کی پاسداری تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انقلابی ارادہ ابھی تک مستحکم ہے اور انقلاب بھی اپنی پوری قدرت اور طاقت کے ساتھ زندہ اور موجود ہے کیونکہ اگر انقلاب زندہ نہ ہوتا تو اسکی پاسداری بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے " انقلاب کی پاسداری" کے مفہوم کی ایک اور جہت، انقلاب کو درپیش خطرات کو قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر دھمکیوں اور خطرات کا وجود نہ ہوتا تو انقلاب کی پاسداری کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی، پس خطرات اور دھمکیوں پر توجہ کرتے ہوئے انکی شناخت کیا جانا ضروری ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ سپاہ کے وظایف میں سے ایک اصلی وظیفہ، مستقل بنیادوں پر داخلی، علاقائی اور عالمی مسائل کی رصد ہے تاکہ خطرات کی شناخت کی جاسکے، فرمایا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایک سر نیچے جھکائے ہوئے اپنے کام میں مشغول ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک آگاہ اور بینا ناظر اور اندرونی اور بیرونی مسائل کی جانب متوجہ ادارہ ہے۔
آپ نے سپاہ کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سپاہ کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو چاہئے کہ وہ مستقل بنیادوں پر مسائل کی جانچ پڑتال اور خطرات کی شناسائی کرے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے "انقلاب کی پاسداری" کا ایک اور معنی اور مفہوم " ہوشیاری اور دائمی بیداری" کو قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کریں گے لیکن چونکہ اسلامی انقلاب مسلسل بنیادوں پر دشمنوں اور رخنہ اندازی کرنے والوں کی دھمکیوں اور خطرات کے نشانے پر ہے ، لہذا سپاہ کی جانب سے ہوشیاری اور مکمل بیداری اور ان خطرات کے مقابلے میں خاطر خواہ آمادگی نہایت ضروری ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے " انقلاب کی پاسداری" کا ایک اور معنی " انقلاب کی قدر و قیمت اور اسکی اہمیت کو سمجھنا" قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی قدر کو جاننا اور اسکی اہمیت کو سمجھنا، انقلاب کی بہ نسبت آگاہانہ، روشن اور جامع معرفت ہے اور سپاہ کے تمام شعبوں اور سلسلہ مراتب میں اس معرفت کا پایا جانا ضروری ہے۔
آپ نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دشمن کے نفوذ کا ایک راستہ اعتقادات میں رخنہ ڈالنا ہے، فرمایا کہ اس طرح کی رخنہ اندازی کے مقابلے کی ایک راہ یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کی قابل قبول اور منطقی شکل اور قدرت بیان میں اضافے کے ذریعے سپاہیوں کو انقلاب کی مستحکم منطق سے لیس کیا جائے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے دشمن کی شناخت کو "انقلاب کی پاسداری: کا ایک اور مفہوم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ دشمن سے مراد عالمی استکبار اور اس کا کامل مظہر امریکہ ہے کہ عقب ماندہ ذہنوں کے حامل ڈکٹیٹر اور ضعیف النفس افراد اسکے آلہ کار ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ انقلاب کی پاسدرای کا لازمہ دشمن کے معرفتی اور عملی کمزورویوں کی شناخت ہے اور ان افراد کی توجیہ کیا جانا ہے کہ جو دشمن کی صحیح شناخت نہیں رکھتے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن کی بعض کمزوریوں اور انکے مبانی میں تضاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کے دشمن وہ لوگ ہیں کہ جو کئی سالوں سے " امن و امان کی برقراری"، " دہشتگردی سے مقابلہ"، " جمہوریت کی بحالی"، اور " صلح و امن کی بحالی" کے نعروں کے ساتھ خطے میں آئے لیکن ابھی تک انکی موجودگی کے نتیجے میں نا امنی، وحشی گری اور خونخوار دہشتگردی کا ظہور، اور جنگ کی آگ کے شعلوں میں اضافے کی صورت میں موجود ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ  خطے میں " جمہوریت کی بحالی" کا نعرہ کہ جو امریکیوں کی جانب سے لگایا گیا، اب وہ نعرہ خود ان کے لئے ایک بڑی مشکل اور پاوں کے کانٹے میں تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ خطے کے عقب ماندہ ترین اور ڈکٹیٹر ترین حکمران، امریکہ کی مدد اور حمایت کے ذریعے، اپنے جرائم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کو چار لفظوں " سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی" پر مرکوز کر رکھا تھا، سپاہ اور پاسدار کے مفہوم اور معنی پر گفتگو کرنے کے بعد انقلاب کے حقیقی معنی کی تشریح فرمائی۔
آپ نے انقلاب کو حقیقی، ماندگار، دائمی اور تبدیل نہ ہونے والا انقلاب گردانتے ہوئے فرمایا کہ اغیار کے بعض تھنک ٹینکس کے افکار و نظریات کے برخلاف کہ ملک کے اندر بھی بعض افراد اسکی تکرار کرتے ہیں، انقلاب ختم ہونے والا نہیں ہے اور اسکا اسلامی جمہوریہ میں تبدیل ہوجانا بھی اس معنی میں ہے کہ وہ یہ فکر کر رہے تھے کہ یہ کام ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بنیادی نظریات کے پیش کئے جانے کو انقلاب کا سب سے پہلا قدم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ اصول اور نظریات، وسائل اور طریقوں کے برخلاف تبدیل ہونے والے نہیں ہیں۔
رہبر انقلاب نے قرآنی تعبیروں سے استفادہ کرتے ہوئے اہداف کا مطلب حیات طیبہ کو قرار دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ حیات طیبہ میں تمام موارد شامل ہوتے ہیں کہ ایک ملت کو سعادت حاصل کرنے کے لئے ان تمام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ نے قومی عزت و وقار، استقلال یعنی قومی سطح پر ظلم و ستم اور عالمی استکبار کے تسلط سے آزادی، عالمی علم و تمدن میں معنویت کے ہمراہ پیشرفت، عدل و عدالت، رفاہ، اسلامی خلاقیت اور اسلامی طرز زندگی کو حیات طیبیہ کی خصوصیات بتاتے ہوئے فرمایا کہ اس آئیڈیل معاشرے کی جانب حرکت کرنا، درحقیقت پروردگار کی جانب ایک مسلسل اور دائمی تحول پر مشتمل سفر ہے۔
آپ نے خدا پر ایمان اور طاغوت سے کفر برتنے کو حیات طیبہ کی ایک اور خصوصیت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مغرب میں کیا جانے والا پروپیگنڈا کہ بعض اوقات ملک کے اندر بھی اسکی کچھ اس انداز میں تکرار کی جاتی ہے کہ جو استکبار کے خلاف ملت کے تنفر کی تدریجی کمزوری کا باعث بنتی ہے، کہا جاتا ہے کہ ہر کسی کا خدا پر ایمان رکھنا اور طاغوت سے کفر برتنا ضروری نہیں ہے لیکن خداوند متعال پر ایمان رکھنا اور طاغوت سے کفر برتنا حیات طیبہ کی آپس میں منسلک ایک خصوصیت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے داخلی سیاست اور ڈپلومیسی میں آئیڈیا لوجی کے شکار ہونے کو مغربی پروپیگنڈے کا ایک اور محور قرار دیا اور فرمایا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اصولوں کو اپنے خارجہ سیاست میں شامل نہ کریں لیکن فکر، عقیدہ اور آئیڈیولوجی ہر میدان میں متعین کرنے والے رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اغیار کے پروپیگنڈے میں گذشتہ دنوں مطرح کئے جانے والے دو موضوعات میں تناقض کے بارے میں گفتگو کی۔
آپ نے فرمایا کہ دشمن ایک طرف کہتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ خطے میں طاقت ور اور اثر و رسوخ کا حامل ہے اور دوسری طرف وہ یہ کہتا ہے کہ انقلابی فکر و نظریے کو کنارے رکھ دیں تاکہ عالمی معاشرے میں جذب ہو سکیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے تضاد رکھتی ہیں کیونکہ ہماری قدرت و طاقت اور اثر و رسوخ ہمارے انقلابی افکار و نظریات کی وجہ سے ہے اور اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا تو ہم کمزور ہوجائیں گے۔
آپ نے فرمایا کہ دشمن کا اصلی ہدف یہ ہے کہ ملت ایران انقلابی افکار کو چھوڑ دے تاکہ اسکی قدرت و طاقت ختم ہوجائے اور وہ ان چند زور زبردستی کرنے والے ملکوں میں ضم اور محو ہوجائے کہ جو اپنے آپ کو عالمی معاشرے کا نام دیتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے انقلاب کے مفہوم پر مختلف زاویوں سے گفتگو کرنے کے بعد "سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی" کے چوتھے لفظ یعنی لفظ اسلامی کی خصوصیات پر گفتگو فرمائی۔
آپ نے تاکید فرمائی کہ اسلام، انقلاب کی اساس اور بنیاد ہے لیکن بعض افراد اسلام کے نام سے بھی ڈرتے ہیں اسی لئے وہ اسلامی انقلاب کی جگہ انقلاب ۵۷ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
رہبر انقلاب نے اسلام ناب کو "انقلاب کا مکمل محتوا" قرار دیا اور تکفیریوں کے عامیانہ، جاہلانہ اور انحرافی افکار پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام عقل اور نقل پر تکیہ کرتا ہے، اور قرآن، معارف پیغمبر اور اہلیبیت علیہم السلام ہمارے انقلاب کا اصل مبنا ہیں کہ جو آج دنیا کی تمام تر جدید محفلوں میں اپنی قوی منطق کی وجہ سے پیش کرنے اور دفاع کرنے کے قابل ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مسلمان امتوں کے دلوں اور افکار میں اسلامی انقلاب کے نفوذ کرجانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ " شخصی افعال پر مشتمل اسلام"، " سیکولر اسلام"، " بغیر شہادت اور جہاد کا اسلام"، اور بغیر نہی از منکر کا اسلام قابل قبول نہیں ہے اور اسلام انقلاب کو قرآنی آیات اور امام راحل رح کے وصیت نامے اور ان کی تقریروں اور مکتوبات میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کے اس حصے کے آخر میں پاسدار سپاہیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی اس معنی اور مفہوم کے ساتھ وسیع اور عمیق ہیں اور آپ کو چاہئے کہ اپنی مکمل ہوشیاری اور اپنی بھرپور توانائی کے ساتھ اس پاسداری کو جاری رکھیں۔
آپ نے ان باتوں اور تحریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہ جو دانستہ یا نا دانستہ طور پر سپاہ کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں فرمایا کہ پاسدران اللہ کی عظیم نعمت ہیں اور ہم سب کو اس نعمت کی قدر دانی کرنا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے سپاہ کی قدردانی کے سلسلے میں سب سے پہلے خود اس آرگنائزیشن کے متوجہ رہنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے معنوی، فکری اور عملی اسٹرکچر کو دن بدن مستحکم کرکے، دوسروں کو بہانہ فراہم کرنے سے شدید پرہیز، ان مسائل سے دوری اختیار کرکے کہ جن کی وجہ سے سپاہ کی عزت و وقار پر حرف آئے اور انقلاب کے سیدھے راستے پر گامزن رہ کر اقتصادی، مالی، سیاسی، اور سپاہ پاسداران کی شان و منزلت کی قدردانی اور اسکی حفاظت کریں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح سپاہ پاسدارن کو تمام تر خطرات کی جانب متوجہ رہنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن کی جانب سے اثر و رسوخ کی کوشش بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔
آپ نے فرمایا کہ اقتصاد اور سیکورٹی کے لحاظ سے اثر و رسوخ بہت زیادہ خطرناک ہے اور اسکے سنگین نقصانات ہیں لیکن سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے اثر ورسوخ پیدا کرنا اس سے بھی بڑا خطرہ ہے کہ جس کی طرف ہمیں متوجہ رہنا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ثقافتی حوالے سے اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لئے دشمن کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ گذاری اور عوام کی اعتقادات میں تدریجی تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سیاسی میدان میں بھی اغیار اس کوشش میں ہیں کہ فیصلے کرنے والے مراکز اور اگر نہ ہو تو ان مراکز میں کہ جہاں پلاننگ کی جاتی ہے نفوذ کریں اور اگر یہ سازش کامیاب ہو گئی تو سمت کے تعین، فیصلوں اور ملک کی عمومی حرکت اغیار کے فیصلوں اور انکی خواہشات کے مطابق مرتب اور اجرا کی جائے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں عمومی بیداری پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس بات کے انظار میں ہیں اس ملت اور نظام کو نیند آجائے تاکہ وہ اپنے اہداف حاصل کرسکیں لیکن ملت اور حکام اس بات کی کبھی اجازت نہیں دیں کہ  ملت ایران کو خواب غفلت میں مبتلا کرنے کی اغیار کی شیطنت کی امید دشمن کے اپنے دلوں میں ہی مر جائے گی۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای اس بات کی تاکید کی کہ ملک میں انقلابی افکار و نظریات کی بنیادوں کو اتنا زیادہ مضبوط اور مستحکم کر دیا جائے کہ کوئی بھی چیز اس کے درخشاں راستے میں خلل پیدا نہ کرسکے اور یہ تمام ذی شعور افراد کا اساسی وظیفہ ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح ماہ ذی الحج کی اہمیت اور اسکی قدر و منزلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام افراد کو اس مہینے کے دنوں اور گھنٹوں اور خاص طور پر عرفہ کے عظیم دن سے معنوی طور پر بہرمند ہونے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ یوم عرفہ کی قدر کو پہچاننا چاہئے اور اس دن کی مطالب سے سرشار دعائوں کو مکمل توجہ اور غور و فکر کے ساتھ پڑھنا چاہئے اور زندگی کے دشوار اور طولانی راستے اور طاقت و توانائی اور نشاط حاصل کرنے کا سامان اس سے حاصل کرنا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی کی گفتگو سے پہلے سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی میں ولی فقیہ کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین سعیدی  نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں انجام دی جانے والی ثقافتی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔
اسی طرح سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ جنرل جعفری نے بھی پورے خطے میں مزاحمت کے میدان میں خداوند متعال کی نصرت اور مدد کے تحقق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ اسلامی انقلاب کے اصولوں اور اقداروں کی پاسداری کریں گے اور اپنے مخالفین کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ دشمنوں کے لئے راستہ ہموار کریں۔
سردار جعفری نے اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لئے دشمن کے نئے طریقے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ دشمن کی نئی چالوں کے مقابلے کے لئے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وہ اپنی قدرت و طاقت اور اپنے میزائیلوں کو مزید دقیق کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی آئیڈیالوجی اور انقلاب کے مورد نظر مثالی نمونوں کی جانب بھی توجہ رکھے۔
سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ ہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں ایران اسلامی مختلف سماجی میدانوں میں کسی بھی زمانے میں اس طرح کی قدرت، طاقت اور دفاعی اور سیکورٹی کے لحاظ سے تونائی من جملہ آمادہ فورسز کا حامل نہیں رہا جیسا کہ آج ہے۔




700 /