ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

عورتوں کا مرد ‎ڈاکٹر سے علاج کروانا

س: اگر مرد ماہر علاج نسواں ڈاکٹر ليڈى ڈاکٹر سے زيادہ ماہر ہو يا ليڈى ڈاکٹر تک رسائى خواتين کے لئے حرج کى حامل ہو توکيا مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا جائز ہے؟
ج: اگر علاج حرام نگاہ اور لمس پر متوقف ہو تو مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر ايسى ليڈى ڈاکٹر تک رسائى سے معذور يا رسائى مشکل ہوجائے جو کہ معالجہ کے لئے کفايت کرتى ہے ،تومرد سے علاج کرانا جائز ہے۔
 
700 /