اگر کوئى شخص امام رضا عليہ السلام کى زيارت کے لئے سفر کرے اور يہ جانتا ہو کہ وہاں دس روز سے کم قيام کرے گا، ليکن نماز پورى پڑھنے کى غرض سے دس روز ٹھہرنے کى نيت کرلے تو اس کا کيا حکم ہے؟
جو وضو نمازظہر و عصر سے پہلے کيا گيا ہے کيا نماز مغرب و عشاءکيلئے کافى ہے جبکہ اس مدت ميں کوئى مبطل وضو بھى سرزد نہ ہوا ہو يا نہيں؟ بلکہ ہر نماز کيلئے خاص نيت اور وضو کى ضرورت ہے۔
جس شخص نے اپنے وطن سے اعراض نہيں کيا ہے ليکن چھ سال سے کسى اور شہر ميں مقيم ہے، لہذا جب وہ اپنے وطن جائے تو کيا وہاں اس کو پورى نماز پڑھنى چاہئے يا قصر؟ واضح رہے کہ وہ امام خمينى کى تقليد پر باقى ہے۔
کيا شارع مقدس نے عورتوں کو بھى مسجدوں ميں نماز جماعت يا نماز جمعہ ميں شريک ہونے کى اسى طرح ترغيب دلائى ہے جس طرح مردوں کو دلائى ہے، يا عورتوں کا گھر ميں نماز پڑھنا افضل ہے؟
ترنّم کے ساتھ شعر و غيرہ پڑھنے کے دوران عورت کى آواز سننے کا کيا حکم ہے چاہے سننے والا جوان ہو يا نہيں؟ مرد ہو يا عورت ؟اور اگر عورت محارم ميں سے ہو تو کيا حکم ہے؟