﻿1
00:00:09,240 --> 00:00:11,520
بسم‌الله‌الرّحمن‌الرّحيم‌

2
00:00:11,580 --> 00:00:13,680
والحمدلله ربّ العالمين

3
00:00:14,180 --> 00:00:18,300
والصّلاة والسّلام علي سيّدنا محمّد و آلهالطّاهرين

4
00:00:20,040 --> 00:00:22,940
سيّما بقيّةالله في الأرضين

5
00:00:23,160 --> 00:00:27,220
محترم حضرات کو خوش آمديد پيش کرتا ہوں

6
00:00:29,160 --> 00:00:34,680
خبرگان کونسل کے سربراہ جناب آقائ يزدي نے جو خوبياں

7
00:00:34,660 --> 00:00:38,780
بيان کي ہيں

8
00:00:39,360 --> 00:00:43,240
ان کے علاوہ ايک اور خوبي بھي ہے جو بندہ سے مختص ہے

9
00:00:44,580 --> 00:00:53,240
اور وہ يہ کہ ہم ان جلسات ميں محترم حضرات کي قريب سے زيارت کرتے ہيں

10
00:00:53,980 --> 00:00:56,160
يہ بھي ہمارے لئے ايک فرصت اور موقع ہے

11
00:00:57,900 --> 00:01:06,540
اور ہم اللہ تعالي سے چاہتے ہيں کہ وہ آپ کو ، تمام حضرات اور دوستون کو کامياب اور مؤفق فرمائے

12
00:01:07,840 --> 00:01:11,100
کہ يہ سنگين ذمہ دارياں جو ہم سب کے دوش پر ہيں

13
00:01:11,280 --> 00:01:14,420
انشاء اللہ ، ان کو بہترين شکل و صورت ميں انجام ديں

14
00:01:17,320 --> 00:01:21,960
ميں سب سے پہلے جناب آقائ يزدي کو خبرگان کونسل کا صدر منتخب

15
00:01:22,680 --> 00:01:27,760
ہونے پر مبارک باد پيش کرتا ہوں

16
00:01:28,920 --> 00:01:33,360
خوب، ان کي شخصيت، ان کے ماضي اور حال کے

17
00:01:34,100 --> 00:01:41,960
تمام کارنامے اس بات کا مظہر ہيں کہ يہ انتخاب بجا اور مناسب انتخاب ہوا ہے

18
00:01:42,180 --> 00:01:47,280
ان شاء اللہ طبعيت و مزاج کے اعتبار سے اور گوناگوں تياريوں کے پيش نظر

19
00:01:49,020 --> 00:01:52,540
اللہ تعالي ان کي مدد اور نصرت فرمائے تاکہ وہ اپني ذمہ داريوں پر عمل کرسکيں

20
00:01:55,220 --> 00:02:00,820
مرحوم آقائ مہدوي (رضوان اللہ عليہ ) کو بھي ہم خراج تحسين پيش کرتے ہيں

21
00:02:02,560 --> 00:02:05,540
وہ ايک ممتاز اور نماياں شخصيت کے مالک تھے

22
00:02:06,960 --> 00:02:17,020
انقلاب کي کاميابي سے پہلے کي مجاہدت اور اس کے بعد اس طويل مدت ميں بھي جناب مہدوي مرحوم نے موثر

23
00:02:17,360 --> 00:02:20,320
خدمات انجام ديں

24
00:02:20,940 --> 00:02:32,140
وہ ايک،بااثر ، فعال، سرگرم اور باعمل عالم دين تھے

25
00:02:33,520 --> 00:02:40,300
اللہ تعالي کي بارگاہ ميں دعا کرتا ہوں کہ وہ انہيں جزائے خير عطا فرمائے

26
00:02:40,340 --> 00:02:44,900
اور ان پر اپني رحمت اور مغفرت نازل فرمائے

27
00:02:45,060 --> 00:02:53,960
بحمد اللہ يہ اجلاس داخلي انتخاب کے لئے منعقد ہوا

28
00:02:54,780 --> 00:02:58,960
جيسا کہ مجھے رپورٹ ملي ہے کہ يہ اجلاس بڑي سنجيدگي اور وقار کے ساتھ منعقد ہوا

29
00:02:59,740 --> 00:03:06,840
جو ان اداروں کے لئے بھي ايک اچھا نمونہ ہے جن ميں اندروني سطح پر اتنخاب ہوتا ہے

30
00:03:06,980 --> 00:03:16,240
يہ انتخاب بڑي متانت ،غير ضروري اور منفي باتوں کے بغير منعقد ہوا جبکہ عام طور پرانتخابات ميں مسائل پيش آتے ہيں   منعقد ہوا ،بحمد اللہ آپ نے بہت بڑا کام انجام ديا۔

31
00:03:16,900 --> 00:03:21,500
بحمد اللہ آپ نے بہت بڑا کام انجام ديا

32
00:03:24,120 --> 00:03:29,040
ہمارے علاقے ميں جو حالات حاکم ہيں

33
00:03:30,880 --> 00:03:36,160
بلکہ دنيا ميں جو صورتحال حکمفرما ہے

34
00:03:37,920 --> 00:03:45,380
اسلامي جمہوريہ ايران اور بعض سامراجي اور متکبر حکومتوں کے درميان جو چيلنج

35
00:03:46,660 --> 00:03:52,740
مختلف مسائل کے بارے ميں ہيں چاہےوہ ايٹمي مسئلہ ہو يا ديگر مسائل ہوں

36
00:03:55,180 --> 00:04:01,280
اسي طرح ملک کے اندر جو معيشت اور اقتصاد کے بارے ميں بحث ہے

37
00:04:03,000 --> 00:04:08,580
اور مختلف حکام جو اقدامات انجام دے رہے ہيں

38
00:04:08,780 --> 00:04:15,460
اسلامي مقاصد کو عملي جامہ پہنانے اور عوامي مفادات کے تحفظ کے سلسلے ميں

39
00:04:15,880 --> 00:04:21,640
اسي طرح اسلام سے ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کا مسئلہ

40
00:04:21,740 --> 00:04:30,180
جو اس وقت سامراجي طاقتوں اور مغربي ممالک ميں رائج  ہے

41
00:04:30,280 --> 00:04:38,000
ميري نظر ميں ہم ان تمام مطالب اورمسائل کے بارے ميں

42
00:04:38,000 --> 00:04:47,040
قرآني آيات اور اسلامي تعليمات کي روشني ميں جو نتيجہ ہم حاصل کرتے ہيں

43
00:04:47,040 --> 00:04:58,460
وہ يہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں سے ايک کامل اسلامي نظام کي تشکيل کا مطالبہ کيا ہے

44
00:05:01,360 --> 00:05:06,460
اسلام کا مطالبہ دين اسلام کے مکمل نفاذ کا مطالبہ ہے

45
00:05:08,680 --> 00:05:13,280
مجموعي طور پر انسان اسي نتيجے کو محسوس کرتا ہے

46
00:05:13,280 --> 00:05:22,040
دين کي کم سے کم سطح اور ديني احکام کي کم ترين سطح پر اکتفا کر لينے کي بات اسلام کي نظر ميں قابل قبول نہيں ہے

47
00:05:23,560 --> 00:05:30,440
ہماري اسلامي تعليمات ميں کم سے کم دين نام کي کوئي چيز نہيں ہے

48
00:05:30,440 --> 00:05:35,380
بلکہ قرآن مجيد کي متعدد آيات ميں

49
00:05:36,000 --> 00:05:41,260
دين کے بعض احکام پر عمل اور بعض احکام کو ترک کر دينے کي مذمت کي گئي ہے

50
00:05:43,280 --> 00:05:47,900
اَلَّذينَ جَعَلُوا القُرءانَ عِضين

51
00:05:49,500 --> 00:05:54,560
يا دوسري آيه‌ شريفه ميں‌ ہے  وَ يَقولونَ نُؤمِنُ بِبَعضٍ وَ نَکفُرُ بِبَعض

52
00:05:55,360 --> 00:05:59,060
يہ آيت منافقين کے بارے ميں ہے جواسي نکتہ کي طرف اشارہ کرتي ہے

53
00:06:01,780 --> 00:06:08,880
يہاں تک کہ دين کے بعض انتہائي اہم حصے

54
00:06:10,300 --> 00:06:16,520
جيسے عدل و انصاف کا قيام بھي کافي نہيں ہے

55
00:06:16,780 --> 00:06:24,060
کہ انسان اسي پر خوش ہو جائے کہ ہم تو عدل و انصاف کے قيام کي کوشش ميں مصروف ہيں عدل قائم کريں گے

56
00:06:24,060 --> 00:06:26,780
تو يہي اسلام کا نفاذ قرار پا جائے گا۔ نہيں، ايسا نہيں ہے

57
00:06:26,780 --> 00:06:33,540
بيشک معاشرے ميں انصاف کا قيام بہت ضروري اور انتہائي اہم مقصد ہے

58
00:06:34,560 --> 00:06:36,500
قرآن مجيد کے سورہ حديد کہ اس آيہ شريفہ سے

59
00:06:36,840 --> 00:06:46,400
لَقَد اَرسَلنا رُسُلَنا بِالبِيِّنت وَ اَنزَلنا مَعَهُمُ الکِتبَ وَ الميزانَ لِيَقومَ النّاسُ بِالقِسط

60
00:06:47,720 --> 00:06:51,080
سے بادي النظر ميں يہ محسوس ہوتا ہے کہ

61
00:06:51,760 --> 00:06:58,580
رسولوں کو مبعوث کرنے اور کتابيں نازل کرنے اور معارف الہيہ کا بنيادي مقصد عدل و انصاف کا قيام ہے

62
00:07:00,060 --> 00:07:06,740
چاہے اس جملے  لِيَقومَ النّاسُ بِالقِسط  کا کوئي بھي ہم معني نکاليں

63
00:07:07,820 --> 00:07:13,520
چاہے اس معني ميں ليں کہ  لِيَقومَ النّاسُ بِالقِسط

64
00:07:13,520 --> 00:07:19,240
يعني  لِيُقيمَ النّاسُ القِسطَ کہ 'ب' کے بارے ميں کہيں کہ يہ باء متعدي ہے

65
00:07:20,100 --> 00:07:26,220
يعني يہ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپني زندگي اور ماحول ميں عدل و انصاف قائم کريں

66
00:07:27,100 --> 00:07:32,080
يا 'ب' کو 'سببيہ' تسليم کريں يعني  لِيَقومَ النّاسُ بِسَبَبِ القِسط

67
00:07:32,420 --> 00:07:38,800
لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا سلوک کيا جائے ان دونوں معاني يا جو دوسرے ممکنہ معاني ہو سکتے ہيں

68
00:07:38,800 --> 00:07:45,240
جو بھي معني مراد ليں اس سے معاشرے ميں عدل و انصاف قائم کرنے کي اہميت اجاگر ہوتي ہے

69
00:07:45,240 --> 00:07:51,820
ليکن اس کا يہ مطلب نہيں ہے کہ اللہ تعالي اسي عمل کو کافي سمجھے گا

70
00:07:51,820 --> 00:07:55,280
کہ ہم عدل قائم کر ديں

71
00:07:55,740 --> 00:07:59,840
اور اپني ساري توانائي انصاف قائم کرنے پر صرف کر ديں

72
00:08:00,380 --> 00:08:07,100
چاہے اسلام کے ديگر احکامات پر عمل نہ کريں

73
00:08:07,100 --> 00:08:09,960
ايسا ہرگزنہيں آيہ شريفہ ميں ارشاد ہوتا ہے

74
00:08:09,880 --> 00:08:17,340
اَلَّذينَ اِن مَکَّنّهُم فِي الاَرضِ اَقامُوا الصّلوةَ وَ ءاتَوُا الزَّکوةَ وَ اَمَروا بِالمَعروفِ وَ نَهَوا عَنِ المُنکَر

75
00:08:19,240 --> 00:08:26,160
کہ روئے زمين پر صاحبان اختيار سے اللہ تعالي کے يہ مطالبے ہيں

76
00:08:26,160 --> 00:08:28,200
پہلا مطالبہ ہے اَقامُوا الصّلوة پھر اس کے بعد

77
00:08:30,180 --> 00:08:36,460
وَ ءاتَوُا الزَّکوةَ وَ اَمَروا بِالمَعروفِ وَ نَهَوا عَنِ المُنکَرِ وَ للهِ‌ عاقِبَةُ الاُمور

78
00:08:37,180 --> 00:08:41,840
ايسا نہيں ہے کہ اگر ہم عدل پر توجہ دے رہے ہيں تو ہميں حق حاصل ہے

79
00:08:41,840 --> 00:08:46,260
کہ ہم نماز برپا کرنے کے سلسلے ميں، نماز کي اہميت کے سلسلے ميں يا زکات کے بارے ميں

80
00:08:46,260 --> 00:08:52,240
يا امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کے بارے ميں غفلت سے کام ليں

81
00:08:52,520 --> 00:08:58,740
بلکہ  اَنِ اعبُدُوا اللهَ وَ اجتَنِبُوا الطّاغوت

82
00:08:58,800 --> 00:09:04,640
قرآن ميں يہ لفظ اور يہ مفہوم کئي بار بيان کيا گيا ہے

83
00:09:04,740 --> 00:09:10,940
جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالي نے انبياء (ع)کو توحيد اور اپني بندگي کا درس دينے

84
00:09:11,460 --> 00:09:19,220
اور انسانوں کو طاغوت سے دور رکھنے کے لئے بھيجا ہے بنيادي کام يہ ہے

85
00:09:19,820 --> 00:09:26,660
يا پھر اللہ تعالي نے سورہ شوري کي آيہ شريفہ ميں

86
00:09:27,020 --> 00:09:33,420
حضرت نوح (ع)، حضرت ابراہيم(ع)، حضرت موسي(ع) اور ديگر انبياء (ع)کو جو ہدايت کي ہے کہ اَن اَقيمُوا الدّين

87
00:09:34,080 --> 00:09:37,580
وہاں اقامہ دين مد نظر ہے

88
00:09:38,620 --> 00:09:41,200
يعني دين کا مکمل نفاذ ہونا چاہيے

89
00:09:41,320 --> 00:09:52,160
وَ لاتَتَفَرَّقوا فيهِ کَبُرَ عَلَي المُشرِکينَ ما تَدعوهُم اِلَيهِ اللهُ يَجتَبي اِلَيهِ مَن يَشآءُ وَ يَهدي اِلَيهِ مَن يُنيب

90
00:09:52,700 --> 00:10:01,540
يعني پورے دين، دين کے تمام ارکان اور تمام اجزاء پر توجہ دي گئي ہے

91
00:10:02,160 --> 00:10:09,680
پورے دين، دين کے تمام ارکان اور تمام اجزاء کے اصلي مخالف

92
00:10:09,800 --> 00:10:15,520
يعني دين کے مکمل طور پر اور تمام اجزاء و ارکان سميت نفاذ کے مخالف

93
00:10:17,300 --> 00:10:24,100
دنيا کے سرکش افراد اور عالمي مستکبرين  ہيں کَبُرَ عَلَي المُشرِکينَ ما تَدعوهُم اِلَيه

94
00:10:24,740 --> 00:10:28,480
اے رسول جس کي دعوت آپ دے رہے ہيں وہ مشرکين کے لئے بہت گراں اور ناگوار ہے

95
00:10:28,720 --> 00:10:33,440
يا پھر سورہ احزاب کے آغاز ميں آيہ شريفہ ميں ارشاد ہوتا ہے

96
00:10:33,860 --> 00:10:42,340
ياَ ايُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللهَ وَ لا تُطِعِ الکفِرينَ و المنِفقينَ اِنَّ اللهَ کانَ عَليمًا حَکيمًا

97
00:10:42,460 --> 00:10:51,560
يعني اللہ تعالي عليم بھي ہے اور دنيا کےتمام امور ، دنيا کے تمام اجزاء و ذرات اور ان ذرات کے جملہ امور کا علمي احاطہ رکھتا ہے

98
00:10:51,560 --> 00:10:55,240
اور اسي طرح اللہ حکيم بھي ہے

99
00:10:55,700 --> 00:11:01,400
اس نے آپ کے راستے کو بڑے حکيمانہ انداز ميں اس مجموعے کے اندر معين کر ديا ہے جس راہ پر آپ کو چلنا ہے

100
00:11:01,400 --> 00:11:11,160
وَ اتَّبِع ما يوحي‌ اِلَيکَ مِن رَبِّکَ اِنَّ اللهَ کانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا * وَ تَوَکَّل عَلَي اللهِ و کَفي‌ بِاللهِ وَکيلًا

101
00:11:11,560 --> 00:11:22,080
اے رسول(ص) آپ کے اس عمل کے خلاف عداوتيں سامنے آئيں گي۔ تو معاملہ يہ ہے

102
00:11:22,560 --> 00:11:28,620
ہم جس اسلامي نظام کے دعويدار ہيں اور جس کے نفاذ کے لئے کوشاں ہيں

103
00:11:29,400 --> 00:11:36,100
اس اسلامي نظام سے مراد ملک کے اندر موجود وہ تمام صورتيں ہيں

104
00:11:36,800 --> 00:11:43,740
جو عوام اور حکام کي عام رفتار اور نقل و حرکت کو منعکس کرتي ہيں ان کو نظام کہتے ہيں

105
00:11:44,700 --> 00:11:49,520
وہ تمام چيزيں جو عوام اور حکام کے عام طور پر فعل و عمل اور نقل و حرکت کا باعث بنتي ہيں،

106
00:11:49,520 --> 00:11:52,500
ان کي مجموعي صورت کو اسلامي نظام کہا جاتا ہے

107
00:11:52,840 --> 00:11:57,400
نظام اسي وقت حقيقي معني ميں اسلامي ہوگا

108
00:11:57,760 --> 00:12:01,040
جب اس ميں اسلام کے تمام اجزاء و ارکان محفوظ ہوں

109
00:12:02,020 --> 00:12:06,500
اس ميں اسلام کي ظاہري صورت اور عملي سيرت محفوظ ہوں

110
00:12:07,180 --> 00:12:12,320
ظاہري صورت سے مراد يہي ہماري گفتگو، بيان اور سرگرمياں ہيں جو ہم انجام ديتے ہيں

111
00:12:12,540 --> 00:12:17,770
يہ ظواہر امر ہيں؛ سيرت اسلام يہ ہے کہ

112
00:12:18,000 --> 00:12:24,670
ہم ايک ہدف کو، ايک نصب العين کو، ايک منزل کو مد نظر رکھيں

113
00:12:24,750 --> 00:12:31,850
اور تعريف کريں ،اور پھر اس منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے منصوبہ بندي کريں

114
00:12:32,150 --> 00:12:39,020
اس راہ پر عمل کريں اس کي طرف  پيش قدمي کے لئے تلاش و کوشش کريں،پورے وجود کے ساتھ آگے بڑھيں

115
00:12:39,500 --> 00:12:47,900
ايسي صورت ميں اسلامي سيرت کي پاسداري بھي ہو گي اور اسے رشد و تکامل بھي حاصل ہوگا

116
00:12:48,150 --> 00:12:51,300
يعني صرف ايک حد پر جاکر ٹھہر نہيں جائے گي

117
00:12:51,620 --> 00:12:59,200
تو يہ منصوبہ ہے اور ان اہداف تک پہنچنے کے لئے ہميں اس منصوبے کي ضرورت ہے

118
00:12:59,750 --> 00:13:08,220
ہم آج اسلامي ںظام کے مخالفين و مستکبرين

119
00:13:09,350 --> 00:13:14,000
بالخصوص اسلامي جمہوري نظام کے مخالفين کي زبان سے جوبات سن رہے ہيں

120
00:13:14,650 --> 00:13:21,250
اور جسے وہ رفتار کي تبديلي کہتے ہيں

121
00:13:21,400 --> 00:13:25,670
کبھي وہ کہتے ہيں کہ ہم نظام تبديل کرنا نہيں چاہتے،ہم رفتار  اور روش بدلنا چاہتے ہيں

122
00:13:25,700 --> 00:13:29,650
جبکہ نظام کي تبديلي اور روش کي تبديلي ميں کوئي فرق نہيں ہے

123
00:13:30,020 --> 00:13:38,120
يہ بالکل وہي چيز ہے؛ اسلامي سيرت کي تبديلي؛ يہي رفتار کي تبديلي ہے

124
00:13:39,150 --> 00:13:45,820
رفتار کي تبديلي کا مطلب يہ ہے کہ آپ نصب العين کي جانب پيش قدمي کے عمل ميں

125
00:13:45,950 --> 00:13:50,100
جن شرائط اور تقاضوں کي پابندي کرتے ہيں، انہيں ترک کر ديجئے

126
00:13:50,570 --> 00:13:57,470
ان سے پيچھے ہٹ جائے اور ان پر اتني توجہ نہ ديجئے اور ان کے بارے ميں اہتمام نہ کيجئے

127
00:13:57,470 --> 00:14:00,520
رفتار کي تبديلي کا يہي مفہوم ہے

128
00:14:00,520 --> 00:14:08,550
وہي چيز جو بعض بيانات اور تحريروں ميں دين کي کمترين سطح کے طور پر پيش کي جاتي ہے

129
00:14:09,100 --> 00:14:16,720
يعني اہداف سے پيچھے ہٹنا ديني سيرت کي نابودي کے معني ميں ہے

130
00:14:17,650 --> 00:14:23,500
کم سے کم دين کي اصطلاح  کا مطلب دين کو حذف کر دينا ہے

131
00:14:25,950 --> 00:14:31,000
اس صورت حال ميں ہمارا مقصد

132
00:14:31,000 --> 00:14:36,900
اور ہمارا حتمي طرز عمل يہ ہونا چاہيے

133
00:14:36,900 --> 00:14:41,900
کہ مکمل اسلام اور کامل اسلام کي فکر ميں لگے رہيں

134
00:14:42,050 --> 00:14:48,000
يعني اس کوشش ميں رہيں کہ حقيقت ميں جہاں تک ہماري توانائي ميں ہے ہم کام کريں

135
00:14:48,170 --> 00:14:53,670
اور ہماري توانائي اور طاقت ميں جو نہيں ہے اللہ نے ہميں اس کا حکم بھي نہيں ديا

136
00:14:54,170 --> 00:14:57,620
ليکن ہماري کوشش يہ ہوني چاہيے اور ہمارا ہدف يہ ہونا چاہيے

137
00:14:58,020 --> 00:15:06,700
کہ ہمارے معاشرے ميں مکمل اسلام اور کامل اسلام کا نفاذ ہونا چاہيے

138
00:15:07,520 --> 00:15:12,970
جب ہمارا ہدف يہ ہو تو پھر ايک مسئلہ پيش آئے گا جسے اسلام ہراسي کہتے ہيں

139
00:15:13,150 --> 00:15:23,250
جو آج دنيا ميں رائج ہےميرے خيال ميں اسلام ہراسي کے مسئلے ميں منفعل ہونے کي ضرورت نہيں ہے

140
00:15:23,920 --> 00:15:28,820
ہاں، اسلام ہراسي کا مسئلہ موجود ہے

141
00:15:28,820 --> 00:15:37,850
کچھ افراد ہيں جو عوام کو، معاشروں کو، نوجوانوں کو اور اذہان کو اسلام سے ہراساں کر رہے ہيں

142
00:15:37,850 --> 00:15:45,950
يہ کون افراد ہيں؟ جب ہم اس مسئلہ کاگہرائي اور دقت کے ساتھ جائزہ ليتے ہيں

143
00:15:46,270 --> 00:15:59,600
تو ہم صاف ديکھتے ہيں کہ يہ وہي مٹھي بھر توسيع پسند اور سرکش افراد ہيں جو اسلام کي حکمراني سے ہراساں ہيں

144
00:15:59,600 --> 00:16:01,600
وہ سياسي اسلام سے ڈرتے ہيں

145
00:16:01,850 --> 00:16:08,220
وہ معاشروں کے اندر اسلام کي موجودگي سے ہراساں ہيں

146
00:16:08,220 --> 00:16:12,700
ان کے خوف کي وجہ يہ ہے کہ ان کے مفادات خطرے ميں پڑ جائيں گے

147
00:16:12,700 --> 00:16:21,170
اسلام ہراسي در حقيقت اسلام کے مد مقابل طاقتوں کي پريشاني ،سراسيمگي اور بدحواسي کا مظہرہے

148
00:16:21,450 --> 00:16:28,300
حقيقي مسئلہ يہ ہےيعني يہاں آپ نے محنت کي، ايراني عوام نے فداکاري اور جانفشاني کامظاہرہ کيا،

149
00:16:28,300 --> 00:16:36,300
زحمتيں اٹھائيں، جد و جہد کي اسلامي نظام کو اقتدار تک پہنچايا، پھر اسے مضبوط اور مستحکم بنايا

150
00:16:36,300 --> 00:16:43,970
اس کي بنيادوں کو مضبوط کيا، مختلف حوادث کے سامنے اسے تحفظ عطا کيا

151
00:16:44,100 --> 00:16:50,000
روز بروز اس کي قوت و طاقت ميں اضافہ کيا؛ يہ چيز دنيا کي سرکش طاقتوں کو خوفزدہ کر رہي ہے

152
00:16:50,100 --> 00:16:57,820
آج جو اسلام ہراسي ہے وہ در حقيقت ان کي گہري تشويش اور عميق خدشات کا مظہر ہے،

153
00:16:57,820 --> 00:17:01,620
ان کي پريشاني کي علامت ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ آگے بڑھنے ميں کامياب ہوگئے ہيں

154
00:17:02,020 --> 00:17:08,450
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کاميابي کے ساتھ اس منزل تک پہنچ گيا ہے

155
00:17:09,000 --> 00:17:18,870
البتہ اس کے باوجود  اسلام کے خلاف ان کي حرکت

156
00:17:18,870 --> 00:17:23,270
اور اسلام ہراسي کے سلسلے ميں ان کي تلاش کا نتيجہ برعکس ہوگا

157
00:17:23,270 --> 00:17:27,500
کيونکہ ان کے اس عمل کي وجہ سے اسلام جوانوں کي توجہ کا مرکز بن جائے گا

158
00:17:28,820 --> 00:17:35,450
يعني دنيا کے عام انسانوں کو اگر ذرا سي توجہ دلائي جائے

159
00:17:35,900 --> 00:17:38,250
انہيں ذرا سا متنبہ کر ديا جائے

160
00:17:38,720 --> 00:17:45,250
تو لوگ اچانک اس سوچ ميں پڑ جائيں گے کہ صہيوني ذرائع ابلاغ ميں،

161
00:17:45,250 --> 00:17:50,200
طاقتور اور دولتمند حلقوں سے وابستہ ٹي وي چينلوں ميں

162
00:17:50,550 --> 00:17:54,870
اسلام کے خلاف جو يلغار ہو رہي ہے اس کي وجہ کيا ہے؟

163
00:17:55,500 --> 00:18:03,100
يہ خود ايک سوال ہے، اور ہماري نظر ميں يہ سوال بڑي برکتوں کا حامل ہے

164
00:18:03,100 --> 00:18:07,500
يہ سوال چيلنج کو فرصت ميں تبديل کر سکتا ہے

165
00:18:07,770 --> 00:18:16,770
ہميں تلاش کرني چاہيے يعني اسلامي جمہوري نظام کا سب سے بڑا اور اہم کام يہ ہے

166
00:18:16,970 --> 00:18:23,320
کہ ہم سب، جو جس جگہ پر بھي ہے اور وہ اس جگہ پرکچھ کام کرنے کي توانائي رکھتا ہے

167
00:18:23,320 --> 00:18:27,220
ہم سب کو  حقيقي اسلام کو پيش کرني کي کوشش کرني چاہيے

168
00:18:28,100 --> 00:18:36,520
ہميں دنيا ميں مظلوم کے حامي اور ظالم کے مخالف اسلام کو پيش کرنا چاہيے

169
00:18:37,850 --> 00:18:43,900
يہي نوجوان جو يورپ ميں ہيں، امريکہ ميں ہيں يا دوسرے دور دراز کے علاقوں ميں ہيں

170
00:18:44,450 --> 00:18:49,920
اسلام کي اس خصوصيت سے جوش و ولولہ ميں آ جائيں گے

171
00:18:50,770 --> 00:18:53,650
اگر انھيں  معلوم ہو جائے کہ اسلام کي تعريف يہ ہے کہ

172
00:18:53,820 --> 00:19:06,850
جو ظالموں  اور ستمگروں کے خلاف اور مظلوموں کے حق ميں حرکت کرتاہے

173
00:19:07,250 --> 00:19:08,800
اسلام کے پاس لائحہ عمل ہے اور اس کو اپني ذمہ داري سمجھتا ہے

174
00:19:09,100 --> 00:19:18,750
اسلام عقل و منطق کا طرفدار ہےاسلام عميق ، دقيق اور گہرے نظريات کا حامل ہے،

175
00:19:18,750 --> 00:19:28,620
اسلام فکر و تدبر کي دعوت ديتا ہے، وہ اسلام جس نے قرآن کريم ميں عقل و فکر و لبّ کو اتني اہميت دي ہےايسے اسلام کو ہميں دنيا کے سامنے پيش کرنا چاہيے

176
00:19:28,620 --> 00:19:39,920
اسلام عقل و منطق کا حامي ہے، اسلام طبقاتي نظام کے خلاف ہے، اسلام رجعت پسندي کے خلاف ہے، اسلام باطل اوہام و تخيلات کے خلاف ہے

177
00:19:40,120 --> 00:19:43,120
کچھ لوگ اسلام کو انہي چيزوں کے ذريعہ پہچانتے ہيں

178
00:19:43,120 --> 00:19:45,850
ہميں حقيقي اور خالص اسلامي کي معرفي کرني چاہيے ہميں کہنا چاہيے کہ اسلام يہ ہے

179
00:19:46,500 --> 00:19:51,250
اسلام غير ذمہ دارانہ رفتار کے بجائے فرائض پر عمل پيرا  رہنے کا درس ديتا ہے

180
00:19:52,500 --> 00:19:57,950
جي ہاں، آج بيشمار ادارے نوجوانوں کو غير مناسب اور غلط باتوں کي طرف دعوت دے رہے ہيں

181
00:19:58,150 --> 00:20:06,050
مختلف اور گوناگوں غير اخلاقي امور کي دعوت دي جاتي ہے

182
00:20:06,220 --> 00:20:09,920
جس اسلام نے انسان کو فرض شناس قرار ديا ہے

183
00:20:09,920 --> 00:20:13,650
وہ انسان سے فرائض پر عمل آوري چاہتا ہے

184
00:20:14,250 --> 00:20:20,000
زندگي کے امور ميں نماياں اسلام، سيکولر اسلام کے برخلاف ہے

185
00:20:20,320 --> 00:20:24,100
سيکولر اسلام سيکولر عيسائيت کي مانند ہے

186
00:20:24,720 --> 00:20:28,770
جو کليسا کے ايک گوشے ميں جاکر خود کو مقيد کر ليتا ہے

187
00:20:29,700 --> 00:20:34,520
لوگوں کي عام زندگي کے  بارے ميں اس کا کوئي منصوبہ اور عمل دخل نہيں ہوتا

188
00:20:34,900 --> 00:20:36,550
سيکولر اسلام بھي ايسا ہي ہے

189
00:20:36,550 --> 00:20:40,800
آج ايسے بھي افراد ہيں جو الگ تھلگ اور گوشہ گير اسلام کي دعوت ديتے ہيں

190
00:20:40,800 --> 00:20:43,770
ايسے اسلام کي دعوت جس کا لوگوں کي زندگي سے کوئي سر و کار نہ ہو

191
00:20:43,920 --> 00:20:49,770
يہ اسلام لوگوں سے بس يہ چاہتا ہے کہ وہ مسجد کے ايک گوشے ميں يا گھر کے اندر کچھ عبادت وغيرہ کر ليا کريں

192
00:20:51,320 --> 00:20:58,300
ليکن ہميں زندگي کے پليٹ فارم پر پوري طاقت و قدرت  کے ساتھ موجود اسلام سے لوگوں کو متعارف کرانا چاہيےکمزوروں کے لئے سراپا رحمت اسلام

193
00:20:58,920 --> 00:21:04,870
اور مستکبرين سے جہاد اور مقابلے کي دعوت دينے والے اسلام کا تعارف کرانا چاہيےميرے خيال ميں يہ ايک فريضہ ہے جو ہم سب کے دوش پر ہے

194
00:21:04,870 --> 00:21:14,150
ہمارے تبليغاتي اداروں، ہمارے علمي اداروں، ہمارے ديني علوم کے مراکز سب کو چاہيے کہ وہ اس مقصد کے لئے کام کريں

195
00:21:14,150 --> 00:21:19,950
اسلام پر جو آج شديد يلغار ہے اس کي وجہ يہي ہے

196
00:21:20,320 --> 00:21:23,800
جن لوگوں کي طرف سے يہ يلغار ہے، واضح ہے کہ يہ لوگ کون ہيں

197
00:21:23,800 --> 00:21:29,020
کون سے ادارے ہيں اور کون سے حلقے ہيں صاف ظاہر ہے

198
00:21:29,400 --> 00:21:36,320
کہ يہ سب سياسي و اقتصادي قوت رکھنے والے ايک طاقتور گروپ سے وابستہ ہيں

199
00:21:36,520 --> 00:21:45,050
جس ميں زيادہ تر يہودي صہيوني ہيں اور اگر يہودي صہيوني نہيں تو غير يہودي صيہوني ہيں

200
00:21:45,050 --> 00:21:49,300
آج دنيا ميں غير يہودي صہيوني بھي موجود ہيں

201
00:21:50,200 --> 00:21:55,020
ان کے مقابلے ميں ہميں چاہيے کہ اس موقع کا بہتر اور اچھا استعمال کريں

202
00:21:55,450 --> 00:22:02,370
اور دنيا کے لوگوں کے ذہن ميں اور نوجوانوں کے ذہن ميں يہ سوال اجاگر کريں

203
00:22:02,520 --> 00:22:05,050
کہ اسلام پر اتني شديد يلغار کي وجہ کيا ہے؟

204
00:22:05,050 --> 00:22:08,920
اس کے بعد ہم ان کے سامنےحقيقي اسلام کو پيش کريں

205
00:22:08,920 --> 00:22:16,850
ميرے خيال ميں ہم علمائے دين و اہل علم حضرات

206
00:22:16,850 --> 00:22:20,970
اور وہ لوگ جو ديني امور ميں مصروف عمل ہيں

207
00:22:22,150 --> 00:22:29,050
اپنے تمام مسائل ميں اس چيز کو اپنا مقصد بنا ليں يعني مکمل اسلام کا نفاذ

208
00:22:29,700 --> 00:22:37,220
اور اسلامي کے ساتھ جاري عداوتوں کا اس انداز سے مقابلہ کريں تو ہميں بڑي کاميابياں مل سکتي ہيں

209
00:22:38,020 --> 00:22:40,500
ہمارے سامنے عالمي چيلنج بھي ہيں

210
00:22:40,500 --> 00:22:45,600
ميرا خيال ہے کہ عالمي چيلنجوں کے بارے ميں سطحي انداز ميں فکر نہيں کرني چاہيے

211
00:22:49,870 --> 00:22:49,900
آج ہمارا چيلنج امريکہ کے ساتھ ہے

212
00:22:50,320 --> 00:22:53,170
يا بعض يورپي ملکوں سے ہمارے کچھ چيلنجز ہيں

213
00:22:53,770 --> 00:23:00,220
آج ايٹمي معاملہ ہمارے لئےسب سے واضح اور نماياں چيلنج ہے

214
00:23:00,320 --> 00:23:05,320
دوسرے بھي متعدد مسائل ہيں  جو ان ملکوں اور ہمارے درميان چيلنج کي حيثيت رکھتے ہيں

215
00:23:05,320 --> 00:23:10,420
ہميں ديکھنا چاہيے اور غور کرنا چاہيے کہ اس مسئلے کي اصل کيا ہے

216
00:23:10,700 --> 00:23:16,970
يعني ہميں اس کي تہہ تک پہنچنا چاہيے سطحي فکر سے دور رہناچاہيے

217
00:23:17,350 --> 00:23:22,900
اور جن مشکلات کا ہميں سامنا ہے ان کا بھي باريکي کے ساتھ جائزہ لينا چاہيے

218
00:23:23,250 --> 00:23:29,970
مثال کے طور پر آپ فرض کيجئے کہ پابنديوں سے ہميں نقصان پہنچا

219
00:23:29,970 --> 00:23:36,720
پابنديوں سے ہماري معيشت کو ہمارے ديگر امور کو نقصانات ہوئے

220
00:23:37,100 --> 00:23:42,120
يہ نقصانات کيوں ہوئے؟ اگر انسان اس کا غور اور باريکي سے جائزہ لے

221
00:23:42,520 --> 00:23:49,270
تو مشاہدہ کرے گا کہ يہ نقصانات تيل پر ہمارے انحصار کي وجہ سے پہنچے ہيں

222
00:23:50,820 --> 00:23:59,370
يا زيادہ تر نقصانات اقتصادي ميدان ميں عوام کي عدم موجودگي کي وجہ سے ہوئے ہيں

223
00:23:59,370 --> 00:24:03,000
يا معيشت کو حکومتي بنا دينے کي وجہ سے پہنچے ہيں

224
00:24:03,950 --> 00:24:13,450
اگر ہم جائزہ ليں اور اصلي وجوہات کي نشاندہي کريں اور ان اصلي وجوہات کا تدارک کر ليں

225
00:24:13,870 --> 00:24:16,800
تو پابندياں غير مؤثر ہو جائيں گي يا ان کا اثر بہت محدود ہو جائے گا

226
00:24:17,420 --> 00:24:20,100
دشمن اگر ہم پر پابندي لگانے ميں کامياب ہو جاتا ہے

227
00:24:20,100 --> 00:24:26,020
ہمارے تيل کو نشانہ بناتا ہے اور اس سے ہميں تکليف پہنچتي ہے

228
00:24:26,120 --> 00:24:31,720
تو اس کي وجہ يہ ہے کہ ہم نے تيل کو اپني زندگي ميں اور اپني معيشت ميں بہت بنيادي مقام دے رکھا ہے

229
00:24:32,720 --> 00:24:36,570
دشمن جب ہماري حکومت کے خلاف کارروائي کرتا ہے

230
00:24:36,700 --> 00:24:41,300
تو مختلف حکومتي اداروں پر پابندياں لگاتا ہے

231
00:24:41,450 --> 00:24:44,070
اس کي وجہ يہ ہے کہ يہ ادارے حکومت سے وابستہ ہيں

232
00:24:44,570 --> 00:24:52,150
ہم اقتصادي ميدان ميں مختلف عوامي طبقات کو شامل کر سکتے تھے

233
00:24:52,670 --> 00:25:00,070
ہم نے انقلاب کے ابتدائي ايام ميں غلطياں کيں اور پھر ان غلطيوں پر اصرار کيا

234
00:25:00,200 --> 00:25:03,270
کہ سب کچھ حکومت کے ہاتھ ميں ہونا چاہيے

235
00:25:04,150 --> 00:25:09,450
ضروريات زندگي کي معمولي  چيزوں کو بھي ہم نے حکومت کے حوالےکر ديا

236
00:25:09,450 --> 00:25:13,600
تو اس کا نتيجہ يہي مشکلات ہيں ان مشکلات کو حل کرنا چاہيے

237
00:25:15,870 --> 00:25:21,520
ميرے خيال ميں اگر اس نہج پر سوچا جائے اور اس طرح کام کيا جائے تو مشکلات حل ہو جائيں گي

238
00:25:21,750 --> 00:25:29,670
يعني ہم مشکلات کے سلسلے ميں مد مقابل فريق کي محبت اور مہرباني کے محتاج نہيں رہيں گے

239
00:25:30,020 --> 00:25:33,500
ہم خود حقيقت ميں مؤثر ثابت ہوسکتے ہيں

240
00:25:34,020 --> 00:25:40,220
ان چيلنجوں پر اثرانداز ہوسکتے ہيں جو ہمارے اور ہمارے دشمنوں اور مستکبرين کے درميان ہيں

241
00:25:40,220 --> 00:25:43,870
منجملہ ان مذاکرات کے سلسلے ميں بھي جو اس وقت جاري ہيں

242
00:25:44,370 --> 00:25:58,300
سر دست يہي مذاکرات ہماري سفارتي سرگرميوں پر اور ہماري خارجہ پاليسي پر سب سے زيادہ اثر انداز ہيں

243
00:25:58,300 --> 00:26:01,070
ايٹمي معاملے سے متعلق مذاکرات ہيں

244
00:26:01,350 --> 00:26:11,420
يہي بات، يہي معيار اور يہي منطقي روش ميرے خيال ميں ان مذاکرات کے سلسلے ميں انتہائي مؤثر اورنتيجہ خيز ثابت ہوگي

245
00:26:12,050 --> 00:26:14,620
البتہ ميں يہاں يہ بھي بتادوں

246
00:26:15,900 --> 00:26:22,970
کہ ايٹمي مذاکرات کے لئے صدر محترم نے جس ٹيم اور وفد کو مامور کيا ہے

247
00:26:23,500 --> 00:26:27,520
اس ٹيم کے ارکان امين اور بڑے اچھے افراد ہيں

248
00:26:27,870 --> 00:26:33,550
بعض کو ہم قريب سے جانتے ہيں جو قابل اعتماد افراد ہيں

249
00:26:33,550 --> 00:26:38,500
بعض ديگر کو ہم ان کي گفتار اور ان کي کارکردگي کے توسط سے بالواسطہ طور پر پہچانتے ہيں

250
00:26:38,770 --> 00:26:43,920
يہ امين بھي ہيں، ہمدرد بھي ہيں، محنت کر رہے ہيں، کام کر رہے ہيں

251
00:26:44,050 --> 00:26:47,670
اس چيز کو منصفانہ طور پر بيان کرنا ضروري ہے

252
00:26:47,670 --> 00:26:50,620
ليکن پھر بھي مجھے تشويش ہے

253
00:26:51,370 --> 00:26:59,950
البتہ اس کے باوجود کہ يہ افراد اور يہ عزيز برادران بہت اچھے افراد ہيں، امين افراد ہيں

254
00:27:00,470 --> 00:27:04,800
اور ہميں معلوم ہے کہ ملک کي بھلائي کے لئے کام کر رہے ہيں

255
00:27:04,800 --> 00:27:09,750
کيونکہ مد مقابل فريق، مکار اور فريب کارہے

256
00:27:10,500 --> 00:27:14,600
جو چيزيں عام طور پر آنکھوں سے پوشيدہ رہ جاتي ہيں

257
00:27:15,100 --> 00:27:24,470
ان پر ان مکار اور عيار افراد اور حلقوں کي نظر رہتي ہے جو بظاہر بھاري بھرکم نظر آتے ہيں

258
00:27:24,470 --> 00:27:26,570
انسان سوچ بھي نہيں سکتا کہ يہ لوگ بھي مکاري کريں گے

259
00:27:28,120 --> 00:27:32,900
آج امريکہ بظاہر بھاري بھرکم نظر آتا ہے

260
00:27:33,050 --> 00:27:39,070
مالي طاقت، اقتصادي طاقت، سياسي طاقت، عسکري طاقت، سکيورٹي کي طاقت، کے لحاظ سے

261
00:27:40,470 --> 00:27:45,120
ايسے ميں اس حقيقت کي طرف سے غفلت ہو جاتي ہے

262
00:27:45,520 --> 00:27:49,670
کہ يہي امريکي قوي سسٹم، کمزور انسانوں کے خلاف موذيانہ کارروائيوں ميں مصروف ہو سکتا ہےجبکہ وہ حقيقت ميں مصروف ہے

263
00:27:51,200 --> 00:27:59,270
وہ عياري اور مکاري کرتا ہے، فريب ديتا ہے، پيٹھ ميں خنجر گھونپتا ہے

264
00:28:00,050 --> 00:28:05,350
صورت حال ايسي ہے۔ ہميں اس غلط فہمي ميں مبتلا نہيں ہونا چاہيےکہ چونکہ ان کے پاس ايٹم بم ہے

265
00:28:05,350 --> 00:28:14,920
طاقتور فوجي وسائل ہيں تو انہيں کسي کو دھوکہ دينے اور فريب ميں رکھنے کي ضرورت ہي نہيں ہے

266
00:28:15,650 --> 00:28:19,470
ايسا نہيں ہے، اتفاق سے انہيں اس کي ضرورت بھي ہے اور وہ اس پر عمل بھي کر رہے ہيں

267
00:28:19,570 --> 00:28:23,770
حقيقي دھوکہ ديتے ہيں يہ چيز ہماري تشويش کا باعث ہے

268
00:28:23,920 --> 00:28:28,170
ہميں دشمن کي سازشوں کے بارے ميں  ہوشيار رہنا چاہيے

269
00:28:28,170 --> 00:28:32,920
جب بھي مذاکرات کے اختتام کے لئے طے شدہ ڈيڈ لائن نزديک آتي ہے

270
00:28:33,150 --> 00:28:37,020
مد مقابل فريق کا لب و لہجہ

271
00:28:37,120 --> 00:28:42,350
بالخصوص امريکيوں کا لہجہ زيادہ سخت ،تند، اور تيز ہو جاتا ہے

272
00:28:42,500 --> 00:28:49,220
ايسا اس لئے ہوتا ہے کہ يہ ان کا حربہ ہے يہ ان کا مکر اور فريب ہے

273
00:28:49,770 --> 00:28:54,070
آپ ملاحظہ کر رہے ہيں کہ وہ جو بيان ديتے ہيں وہ بڑے گھٹيا اور پست ہوتے ہيں

274
00:28:54,070 --> 00:28:55,920
ان کے بيان بيزاري اور بد دلي پر مبني ہوتے ہيں

275
00:28:56,120 --> 00:28:59,150
امريکي حکام نے انہي ايام ميں

276
00:28:59,950 --> 00:29:07,150
جب ايک صہيوني مسخرہ وہاں گيا اور اس نے خرافات بولنا شروع کيا

277
00:29:08,200 --> 00:29:12,220
تو امريکي حکام نے خود کو الگ ظاہر کرنے کے لئے بيان ديئے

278
00:29:12,220 --> 00:29:17,070
ليکن انہوں نے ايران کو بھي مورد الزام ٹھہرايا، ايران پر دہشت گردي کي حمايت کا الزام لگايا

279
00:29:17,150 --> 00:29:19,670
يہ بات مضحکہ خيز ہے

280
00:29:19,670 --> 00:29:23,620
آج دنيا ميں سب ديکھ رہے ہيں

281
00:29:23,970 --> 00:29:29,470
کہ وہ طاقت اور وہ حکومت جو خبيث ترين دہشت گردوں

282
00:29:29,470 --> 00:29:34,420
يعني انہيں داعش وغيرہ کي حمايت کرتي رہي ہےجس نے انہيں وجود بخشا ہے

283
00:29:34,900 --> 00:29:38,670
اور اب بھي بظاہر کہتے ہيں کہ ہم ان کا مقابلہ کر رہے ہيں

284
00:29:39,100 --> 00:29:44,450
ان کي حمايت سے باز نہيں آتي وہ امريکي حکومت اور اس کي اتحادي حکومتيں ہيں

285
00:29:44,550 --> 00:29:50,050
علاقے ميں جو لوگ اب بھي امريکہ کو گلے لگائے ہوئے ہيں، امريکي جن کي مدد کر رہے ہيں

286
00:29:50,050 --> 00:29:51,820
امريکي جن کي پشت پناہي کر رہے ہيں، امريکي جن کا تعاون کر رہے ہيں

287
00:29:51,900 --> 00:30:00,270
وہي دہشت گردي اور خبيث ترين اور خوں آشام دہشت گردوں کي حمايت کررہے ہيں

288
00:30:01,020 --> 00:30:09,470
امريکہ اس غاصب صہيوني حکومت کي بھي حمايت کر رہا ہے

289
00:30:09,470 --> 00:30:13,850
جو سرکاري طور پر اپنے دہشت گرد ہونے کا اعتراف کرتي ہے امريکہ اس کي اعلانيہ

290
00:30:13,850 --> 00:30:17,420
اور آشکارا حمايت کر رہا ہے دہشت گردي کا حقيقي مصداق يہي حکومت ہے

291
00:30:18,120 --> 00:30:22,720
دہشت گردي کي حمايت کي بدترين شکل يہي ہے جس کے وہ مرتکب ہو رہے ہيں

292
00:30:22,720 --> 00:30:28,950
دہشت گردوں کي حمايت خود کرتے ہيں اور الزام اسلامي جمہوريہ پر عائد کرتے ہيں

293
00:30:28,950 --> 00:30:34,700
کہ وہ دہشت گردوں کي حامي ہے۔ ان باتوں پر توجہ ديني چاہيے

294
00:30:34,700 --> 00:30:38,650
يہي خط جو امريکي سينيٹروں نے لکھا

295
00:30:39,570 --> 00:30:46,320
اس خط ميں انسان مختلف حقيقي باتوں کو مشاہدہ کرسکتا ہے

296
00:30:46,370 --> 00:30:51,500
يہ خط امريکي نظام ميں سياسي اخلاقيات کے زوال اور انحطاط کي ايک علامت ہے

297
00:30:51,800 --> 00:30:54,700
صاف ظاہر ہے کہ يہ لوگ سقوط اور زوال کے مرحلے ميں پہنچ گئےہيں

298
00:30:54,700 --> 00:31:06,200
کيونکہ دنيا کي تمام حکومتيں بين الاقوامي سطح پر مسلمہ اور معتبر قوانين کے اعتبار سے اپني ذمہ داريوں کي پابند رہتي ہيں

299
00:31:06,650 --> 00:31:11,100
اگر کسي ملک ميں کوئي حکومت اقتدار ميں ہے، اور وہ کوئي معاہدہ کرتي ہے

300
00:31:11,470 --> 00:31:15,520
اور پھر وہ حکومت ختم ہو جاتي ہے اور ايک نئي حکومت تشکيل پاتي ہے تو وہ معاہدہ اپني جگہ قائم رہتا ہے

301
00:31:15,770 --> 00:31:17,400
معاہدے کو کالعدم اور منسوخ نہيں کيا جاتا

302
00:31:17,720 --> 00:31:27,070
امريکي نادان  سينيٹروں نے تو واضح طور پر اعلان کر ديا ہے کہ اگر امريکہ کي موجودہ حکومت اقتدار سے ہٹي

303
00:31:27,620 --> 00:31:32,470
تو جو معاہدہ آپ کے ساتھ وہ کرے گي، جو وعدہ کرے گي ان کو کالعدم اور منسوخ کرديا جائے گا

304
00:31:32,850 --> 00:31:36,650
يہ سياسي اخلاقيات کےزوال اور انحطاط کا بدترين مرحلہ ہے

305
00:31:37,350 --> 00:31:42,470
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امريکي نظام ايسا نظام ہے جو حقيقت ميں قابل اعتبار نہيں ہے اور يہ نظام جاري رہنے کے قابل نہيں ہے

306
00:31:42,670 --> 00:31:48,270
يعني يہ سسٹم انتشار سے دوچار ہے

307
00:31:48,470 --> 00:31:54,270
کہ انسان اس کے اندر ان چيزوں کا مشاہدہ کر رہا ہے

308
00:31:54,270 --> 00:32:01,520
پھر کہتے ہيں کہ ہم ايرانيوں کو سکھانا چاہتے ہيں، سمجھانا چاہتے ہيں کہ ہمارے قوانين کيا ہيں

309
00:32:01,800 --> 00:32:06,470
ظاہر ہے ہميں ان کے درس کي ضرورت نہيں ہے؛ معاہدہ ہو گيا

310
00:32:06,670 --> 00:32:13,420
تب بھي ہم خوب جانتے ہيں کہ کس طرح عمل کرنا ہے کہ وہ بعد ميں اسلامي جمہوريہ ايران کو کہيں پھنسا نہ پائيں

311
00:32:13,700 --> 00:32:18,020
اسلامي جمہوري نظام کے حکام اس سے اچھي طرح واقف ہيں کہ کيسے کام کرنا ہے

312
00:32:18,270 --> 00:32:22,170
ان کے سبق کي ہميں کوئي ضرورت نہيں ہے ہہرحال ان کا طرز عمل يہي ہے

313
00:32:22,170 --> 00:32:24,800
يہ ان کے حقيقي زوال اور  انحطاط کي علامت ہے

314
00:32:25,950 --> 00:32:29,100
بہرحال ان تمام کاموں ميں جو ہم انجام دے رہے ہيں

315
00:32:29,170 --> 00:32:31,050
اپني تمام کوششوں ميں جو ہم کررہے ہيں

316
00:32:31,050 --> 00:32:35,320
ان تمام فيصلوں ميں جو اقتصادي امور کے بارے ميں ہم کر رہے ہيں

317
00:32:35,320 --> 00:32:42,270
اور ثقافتي مسائل کے بارے ميں ہم جو منصوبے بنا رہے ہيں، اگر زندگي رہي اور نئے سال کا موقع آيا

318
00:32:42,470 --> 00:32:47,200
تو کچھ باتيں ہيں جنہيں ان شاء اللہ اس وقت بيان کروں گا

319
00:32:47,420 --> 00:32:57,970
ہميں ہرگز يہ بات فراموش نہيں کرني چاہيے کہ اسلام کو مکمل طور پر نافذ کرنا ہمارا فريضہ ہے

320
00:32:58,500 --> 00:33:02,350
ہميں اسلام کامل کي طرف بڑھنا ہے

321
00:33:02,520 --> 00:33:08,100
يہ نہ ہو کہ ہم اسلامي اہداف و مقاصد ميں کمي کرنا شروع کر ديں

322
00:33:09,520 --> 00:33:13,550
تاکہ فلاں معاملے ميں کامياب ہوجائيں، نہيں

323
00:33:13,650 --> 00:33:18,150
ہماري کاميابي اور ہماري پيشرفت کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ انشا اللہ کامل اسلام کو عملي جامہ پہنائيں

324
00:33:18,150 --> 00:33:21,900
اگر ہم اس ميں کامياب ہو گئے تو اللہ تعالي بھي ہماري مدد کرے گا

325
00:33:22,770 --> 00:33:31,700
يقيني طور پر اللہ تعالي کي مدد اور  نصرت کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ ہم دين الہي کي نصرت کريں

326
00:33:32,400 --> 00:33:35,700
اِن تَنصُرُوا اللهَ يَنصُرکُم

327
00:33:35,870 --> 00:33:40,400
اس سے بھي زيادہ واضح اور آشکار اور کيا بات ہوگي

328
00:33:40,600 --> 00:33:43,820
اِن تَنصُرُوا الله يعني دين خدا کي نصرت کريں

329
00:33:44,270 --> 00:33:47,900
اِن تَنصُرُوا اللهَ يَنصُرکُم وَ يُثَبِّت اَقدامَکُم

330
00:33:48,650 --> 00:33:51,150
وَ لَيَنصُرَنَّ اللهُ مَن يَنصُرُه

331
00:33:51,270 --> 00:33:57,920
يہ ايسي چيزيں ہيں جنہيں انتہائي تاکيد کے ساتھ بيان کيا گيا ہے۔ يہ اللہ تعالي کے محکم وعدے ہيں ان پر گہري توجہ رکھني چاہيے

332
00:33:58,550 --> 00:34:01,100
اَلظّآنّينَ بِاللهِ ظَنَّ السَّوء

333
00:34:02,750 --> 00:34:12,670
اگر کوئي انسان اللہ تعالي کے وعدے کے پورا ہونے کے بارے ميں يقين نہ کرے تو اس کا اللہ تعالي کے بارے ميں يہ بہت بڑا سوء ظن ہے

334
00:34:12,670 --> 00:34:16,600
اللہ تعالي نے سورہ انّا فتحنا ميں

335
00:34:17,420 --> 00:34:22,370
ايسے لوگوں کو اپنے کو غيظ و غضب کا سزاوار قرار ديا ہے

336
00:34:22,370 --> 00:34:26,050
اللہ تعالي کي بارگاہ ميں دعا کرتا ہوں  کہ وہ ہميں اور آپ کو يہ توفيق مرحمت فرمائے

337
00:34:26,520 --> 00:34:31,450
کہ اس سلسلے ميں جو ہمارا فريضہ ہے اس پر ہم عمل کر سکيں

338
00:34:32,170 --> 00:34:37,000
اس طرح کے عمل پر جو برکات الہيہ نازل ہوتي ہيں،

339
00:34:37,000 --> 00:34:42,220
انشا اللہ انھيں  ہمارے اور ہماري قوم کے شامل حال فرمائے

340
00:34:42,220 --> 00:34:47,620
اميدوار ہيں کہ اللہ تعالي حضرت امام (رہ) کي روح مطہر کو شاد اور خوشحال فرمائے

341
00:34:48,170 --> 00:34:53,320
شہدا کي ارواح طيبہ کو بھي شاد فرمائے جنہوں نے يہ راستہ ہميں دکھايا

342
00:34:53,470 --> 00:34:56,770
اور ہمارے سامنے يہ راستہ کھولا اور ہميں اس راستے پر گامزن کر ديا

343
00:34:57,320 --> 00:35:00,020
و السّلام ‌عليکم ‌و رحمة الله ‌و برکاته‌