ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

ممتاز قاریوں، قرآن کے اساتذہ اور قرآنی شعبے میں فعال عناصر سے ملاقات

قرآن کی تلاوت کا ہدف، سامعین پر تاثیر ہونا چاہیے

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آج رمضان المبارک کے پہلے دن منعقدہ انس با قرآن کے نورانی اجتماع میں جو متعدد ممتاز قاریوں، اساتذہ اور فعال قرآنی عناصر کی موجودگی میں منعقد ہوا قرآن مجید کے مفاہیم اور موضوعات کو سامعین تک پہنچانے اور ان پر اثر انداز ہونے کیلئے قرآن کی تلاوت کے اجتماعات کو آیات کے ترجمے اور تفسیر کے ساتھ مزین کرنے کو ضروری قرار دیا اور ماہرین قرآن اور فعال عناصر سے تقاضا کیا کہ وہ اس اہم امر کے اجرا کے حوالے سے طریقے تلاش کریں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں بہت سے ممتاز، خوش لحن، اور مستند قاریوں کی موجودگی اور انکے تلاوت کے مختلف طریقوں سے آشنا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور فرمایا: رپورٹس کے مطابق، ملک میں قرآن کے میدان میں ترقی تمام میدانوں سے زیادہ ہے اور یہ امر بے انتہا مسرت کا باعث ہے۔
انہوں نے قاریان قرآن کو خدا کے پیغام کو لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی وجہ سے ایک ممتاز اور محترم ہدف اور مقام کا حامل قرار دیا اور مزید کہا: قرآن کو سننا اللہ پر ایمان اور خدا کی رحمت کے حصول کیلئے ایک لازم اور ضروری عمل ہے، جو آیات الٰہی پر غور و فکر کرنے کا زمینہ فراہم کرتا ہے، اس لیے قرآن کی تلاوت اور سننے میں سنجیدگی سے کام لینا چاہیے۔
اس سلسلے میں قائد انقلاب نے عوام الناس کو اس طرح عمل کرنے کی تلقین کی کہ وہ روزانہ قرآن کا ایک صفحہ پڑھ سکیں۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے قرآن کی زبان سے ملک کے عوام اور سامعین کی ناواقفیت کو قرآن کے معنی و مفہوم کو سمجھنے میں رکاوٹ قرار دیا اور تاکید کی: قرآن کے ماہرین اور فعال عناصر کو اس کے لیے راہیں تلاش کرنی چاہئیں تاکہ آیات کے عمدہ موضوعات تلاوت سننے والوں کے کانوں تک پہنچ جائیں۔
انہوں نے کہا: تمام مساجد کو قرآن کی تلاوت اور سننے اور آیات کی تفسیر کے بیان کے مقبول مراکز میں تبدیل ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قرآن مجید کو حکمت، عبرت اور زندگی کی کتاب کے طور پر جانا اور فرمایا: قرآن کریم ذاتی، خاندانی، سماجی، حکومتی اور حتی بین الاقوامی تعلقات کے تمام شعبوں میں حکمت و دانائی سے بھرا ہوا ہے، جس کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ خوش قسمتی سے، اس کام کے لیے تمام ضروری زمینہ آج ہمارے پاس دستیاب ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قاریوں کو مؤثر قرأت کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: بعض قرائتوں کا مقصد محض فن کا اظہار ہوتا ہے اور جیسا کہ بعض بیرون ملک قراء کی قرات میں دیکھا جاتا ہے، وہ زیادہ تر اپنے سامعین کو تلاوت کے لہجے، انداز اور خوبصورت طرز کے ذریعے متاثر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تلاوت مطلوبہ تلاوت نہیں ہے۔
انہوں نے اچھی قرأت کے مقصد کو سامعین پر اثر انداز ہونا سمجھا اور کہا: اس قسم کی قرأت میں شروع ہی سے آپ کا ہدف سامعین پر اثر انداز ہونا چاہیے اور اس صورت میں خود قاری کو قرآن کی تلاوت سے سب سے پہلے متاثر ہونا چاہیے۔ 
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سامعین پر اثرانداز ہونے کیلئے تلاوت قرآن کے بعض نایاب طریقوں کے مناسب اور بغیر زیادتی کے استعمال کو بجا قرار دیا اور اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ قرآن کی تلاوت ایک وسیع اور مرکب فن ہے، قاریوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: دقت کریں کہ آپ جس بھی لہجے میں پڑھتے ہیں۔ سننے والے کو متاثر کرنے کی نیت سے یہ کام انجام دیں۔
اس تقریب کے اختتام پر رہبر معظم انقلاب اسلامی کی امامت میں مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی گئ۔

700 /