ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا پیغام حج

امریکہ و صہیونی رژیم سے براءت کی وسعت عالمگیر صورت اختیار کرجاۓ گی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لبَّیک، اللّھم لبَّیک، لبَّیک لا شریکَ لَکَ لبَّیک، اِنَّ‌ الحَمدَ وَ النِّعمَۃَ لَکَ وَ المُلک...

موسمِ حجِ اس سال بھی آ پہنچا اور اُمّتِ اسلام کے حاجیوں نے بندگی کا احرام باندھا اور لبّیک کی صدا بلند کی، تاکہ مادّی اور معمولی زندگی سے ہجرت کرکے ایک الٰہی اور سعادت مند زندگی کی طرف قدم بڑھائیں؛ ایسی توحیدی زندگی جو حضرتِ حق جلّ و علا کی عبودیت کے محور پر استوار ہو، اور جس میں ہر قسم کے "اَندادُاللّٰہ" سے نفی، براءت اور بیزاری اختیار کی جائے۔ لیکن یہ ہجرت صرف بیتُ اللہ کے امسال کے زائرین اور حجاج سے مخصوص نہیں، بلکہ ایران اور پوری دنیا کے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو شامل ہے؛ خواہ وہ اپنی زندگی کے گزشتہ برسوں میں حج کی سعادت حاصل کر چکے ہوں یا ابھی تک اس فریضے کی ادائیگی سے مشرف نہ ہوئے ہوں۔

اس ہجرت کی شرط یہ ہے کہ انسان ہمیشہ کے لیے ذکرِ الٰہی کے گرد احرامِ دائمی باندھ لے؛ حق کے محور کے گرد دائمی طواف کرے؛ فرائضِ الٰہی کی بلند و دشوار چوٹیوں کے درمیان مسلسل سعی کرتا رہے؛ مکّار شیطان اور اس کے تمام فریب انگیز مظاہر و پیروکاروں کو برابر رمی کرتا رہے؛ توجہ، خشوع اور تضرع سے لبریز وقوف اختیار کرے؛ زمین گیر محتاجوں اور راہ گیروں کو کھانا کھلائے؛ نفسانی خواہشات اور گمراہی کی طرف لے جانے والی خواہشات کو قربان کرے؛ باطن کی ہر آلودگی کو دور کرے؛ اور ہر حال میں خدمت کے لیے آمادہ رہتے ہوئے حق کے دفاع کا پرچم بلند رکھے۔

اسی طرح ملتِ ایران نے بھی انقلابِ اسلامی کے میقات میں قدم رکھتے ہوئے اسی ہجرت کے راستے کو اختیار کیا، امامِ کبیر خمینیؒ کی ابراہیمی صدا پر لبّیک کہا، غلامی و محکومی کا لباس اتار پھینکا، دنیا و آخرت کی سعادت کا احرام زیبِ تن کیا، اور لبّیک کی صداؤں اور شوقِ عمل کے ساتھ کوشش کی کہ اسلامِ نابِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معارف کے محور پر طواف کرے اور اپنے آپ کو عدلِ جہانی اور ولایتِ عظمیٰ کے آفتابِ عالم تاب کے نور سے قریب تر کرے۔

اللّٰہُ اَکْبَر، اللّٰہُ اَکْبَر، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَر، اللّٰہُ اَکْبَر وَلِلّٰہِ الْحَمْد، اللّٰہُ اَکْبَرُ عَلٰی مَا ہَدَانَا۔

ہاں! اللّٰہُ اَکْبَر؛ اور اسی ہتھیارِ اللّٰہُ اَکْبَر کے ساتھ ملتِ مسلمانِ ایران نے 47 برس قبل قیام کیا، طاغوتی، آمر اور وابستۂ مغرب پہلوی حکومت کو سرنگوں کیا، حریص و متکبر امریکہ کے ہاتھ پاؤں اس سرزمین سے کاٹ دیے اور صہیونیت کے نفوذ کا مکمل خاتمہ کر دیا۔

اور اسی ہتھیارِ اللّٰہُ اَکْبَر کے ذریعے، جب صدامی بعثی حکومت نے ایران کی سرزمین پر جارحیت کی، تو غیرت مند مجاہدوں اور جان نثار نوجوانوں نے آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کی عظیم حماسہ آفرینی کی۔ انہوں نے اس حقیقت کے باوجود کہ مشرق و مغرب کی تمام بڑی طاقتیں بعثی حکومت کی پشت پناہی کر رہی تھیں، دشمن کو اس کی جگہ پر روک دیا، اور اسی استقامت و پائیداری کو بعد کے برسوں میں اقتصادی محاصروں، بغاوتوں، ظالمانہ پابندیوں، اور جمہوریۂ اسلامی کے خلاف دشمن کی بے شمار سیاسی، تبلیغاتی اور اقتصادی یلغاروں کے مقابلے میں بھی مضبوطی اور استواری کے ساتھ جاری رکھا۔

اللّٰہُ اَکْبَر؛ یہی ہتھیارِ اللّٰہُ اَکْبَر تھا جس نے اُمتِ اسلامی اور محاذِ مقاومت کے مجاہد جوانوں کے درمیان ایران سے لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک، اور افریقہ و یمن سے افغانستان، پاکستان اور دنیا کی تمام آزاد ملتوں تک، اتصال و یگانگت کے رشتوں کو مضبوط و مستحکم کیا؛ یہاں تک کہ یہ حبلِ متین اُمتِ اسلامی کے وجود اور تشخص کے دفاع کے لیے غاصب صہیونی جارحیت کے مقابل کھڑا ہوا، داعش کے فتنہ لپیٹ دیا، طوفانُ الاقصیٰ کی بنیاد رکھی، اور متزلزل صہیونی رژیم کی سانسوں کو رک رک کر چلنے پر مجبور کر دیا۔

اللّٰہُ اَکْبَر؛ ہاں! اللہ تبارک و تعالیٰ ہر اُس وصف سے کہیں بلند و برتر ہے جس میں اسے محدود کیا جا سکے۔ یہی ہتھیارِ اللّٰہُ اَکْبَر تھا جس کے سہارے جمہوریۂ اسلامی ایران نے (جون 2025) خرداد ۱۴۰۴ کی مسلط کردہ دوسری جنگ میں صہیونی رژیم کو اپنے شدید اور کاری ضربات کے نیچے بے بس کر دیا، جارح امریکہ کو ایک سخت اور فیصلہ کن طمانچہ رسید کیا، اور دشمن کو ایران کو سرنگوں کرنے اور تسلیم کروانے کے اپنے مقصد میں ناکام بنا دیا۔

اور یہی ہتھیارِ اللّٰہُ اَکْبَر تھا جس نے ملتِ ایران کو ایسی قوت، توانائی اور روحانی استحکام عطا کیا کہ قائدِ عظیم الشأن، فرزندِ صالحِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ‌ای اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کی جانگداز شہادت کے بعد، یہ ملت ایک نئی الٰہی بعثت سے سرفراز ہوئی اور جس میدان میں بھی ضرورت پیش آئی، پورے عزم و اخلاص کے ساتھ حاضر ہوئی، یہاں تک کہ اپنی شاندار حماسہ سازی سے دنیا کی نگاہوں کو خیرہ کر دیا۔

بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ ہر اُس بیان سے بلند تر ہے جو اس کے شایانِ شان عظمت کو مکمل طور پر بیان کر سکے۔ اسی ہتھیار اللّٰہُ اَکْبَر کے ذریعے اسلامی ایران کے غیرت مند مجاہدوں اور جان نثار مسلح افواج نے، محاذِ مقاومت کے جانبازوں خصوصاً عزیز لبنان کے مجاہدین کی ہمراہی میں، تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکی۔صہیونی دہشت گرد اتحاد کی دو مسلح ترین افواج کے مقابل نمایاں اور فیصلہ کن کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے اپنے ربّ کریم پر توکل کرتے ہوئے، اپنے میزائلوں، ڈرونوں اور دفاعی طاقت کے ذریعے خشکی، فضا اور سمندر میں شیطانِ بزرگ یعنی امریکہ اور اس کے تربیت یافتہ صہیونی آلۂ کار کو رمی کیا، اور اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کے اس سچے وعدے کا مشاہدہ کیا جو راہِ خدا میں جہاد کرنے والوں کی نصرت کے بارے میں دیا گیا ہے۔

اور ایک بار پھر اللّٰہُ اَکْبَر؛ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ ہر وصف سے برتر ہے، اور اس کے لشکر ہر طاقت اور ہر قوت پر غالب ہیں۔ اور اسی ہتھیارِ اللّٰہُ اَکْبَر کے ذریعے، ملتِ ایران اور محاذِ مقاومت کی بعثت کے بعد، پوری اُمتِ اسلامی کی بعثت کا مرحلہ بھی رقم ہوگا، اور مشرکین سے براءت کا پیغام صرف حج کے رمیِ جمرات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمانوں کی انفرادی، اجتماعی اور سیاسی زندگیوں میں جاری و ساری ہو جائے گا۔ اُمتِ اسلامی اور خطے کی اقوام بے شمار مشترک صلاحیتوں اور مفادات کی حامل ہیں، جو آنے والے زمانے میں خطے اور دنیا کے نئے نظم اور نئی ہندسی ساخت کی تشکیل کریں گے۔

میں خلوصِ دل اور صدقِ نیت کے ساتھ تمام اسلامی ممالک اور حکومتوں کو خیر، نیکی، اخوت اور باہمی تعاون کی دعوت دیتا ہوں، تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اُمتِ اسلامی کی پیشرفت اور عالمِ اسلام کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔

اس سلسلے میں ایک حقیقت مسلّم ہے کہ زمانے کی سوئی کبھی پیچھے نہیں لوٹتی، اور خطے کی ملتیں اور سرزمینیں اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈھال بننے کو تیار نہیں ہوں گی۔ امریکہ نہ صرف یہ کہ آئندہ اس خطے میں اپنی شرارتوں اور فوجی اڈوں کے قیام کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں پائے گا، بلکہ وہ روز بروز اپنی سابقہ حیثیت اور نفوذ سے بھی دور ہوتا چلا جائے گا۔

اور متزلزل صہیونی رژیم، یہ سرطانی غدّہ، بھی اپنی منحوس عمر کے آخری مراحل کے قریب پہنچ چکا ہے، اور فضلِ الٰہی سے، رہبرِ عظیم الشأن شہید قدّس اللہ نفسہ الزکیہ کی دس سال قبل کی گئی بصیرت افروز اور قاطع پیش گوئی کے مطابق، اُس تاریخ کے پچیس سال مکمل ہوتے نہیں دیکھ سکے گا، اِن شاء اللہ تعالیٰ۔

اسی وجہ سے اس سال مسئلۂ براءت از مشرکین دوچنداں اہمیت اختیار کر گیا ہے، اور امریکہ و صہیونی رژیم سے براءت کی وسعت اور گہرائی محض موسمِ حج اور میقاتِ حج کی رسمی تقریب تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ان مبارک ایام کے بعد ایران اور دنیا کے مختلف خطوں میں «مرگ بر آمریکا» اور «مرگ بر اسرائیل» کے نعرے اُمتِ اسلامی اور دنیا کے مظلوموں، خصوصاً نوجوان نسل کے عمومی اور ہمہ گیر شعار کی صورت اختیار کر جائیں گے۔

مستقبل اُمتِ اسلامی اور تمدّنِ نوینِ اسلامی کا ہے، اور ہم میں سے ہر شخص اپنی ہمت، استعداد اور ذمہ داری کے مطابق اس رووںشن مستقبل کی تعمیر اور اس کے قریب تر ہونے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ امسال حج میں شریک ایرانی زائرین اور حجاجِ کرام پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے سامنے اس تیسری جنگ کی فتح و کامیابی کی صحیح تشریح بیان کریں اور انہیں ایک روشن اور امید افزا مستقبل کی نوید دیں۔

میں تمام معزز حجاجِ کرام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ منجیِ بشریت، حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لیے خصوصی دعا کریں، اُمتِ اسلامی کے اتحاد، فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی آزادی، عالمِ اسلام کی عظیم مشکلات کے ازالے، اور استکبارِ جهانی کے مقابل حتمی نصرت و کامیابی کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دستِ دعا بلند کریں، اور اس ناچیز کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

بارِ الٰہا! محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما، اور اپنی لطف و رأفت کی نگاہ تمام حجاج اور پوری اُمتِ اسلام پر مبذول فرما۔ انہیں حجِ مقبول و مبرور کی توفیق عطا فرما، ان کے دلوں کو معرفت، بصیرت اور نورِ ایمان سے منور فرما، اور اُمتِ اسلامی کی اصلاح اور دشمنانِ اسلام پر حتمی غلبے کی راہ میں ان کے عزم و ارادے کو مزید مستحکم فرما۔

بارِ الٰہا! اپنی وسیع رحمت اور بے پایاں فضل کو راہِ خدا کے تمام شہداء، بالخصوص شہدائے محاذِ مقاومت، اور ان سب کے سردار، رہبرِ عظیم الشأنِ شہید، اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف کی ارواحِ مطہرہ پر نازل فرما۔ حاجیوں کے حج، عبادت گزاروں کی عبادت، اور ان مجاہد و کوشاں افراد کی سعی و کوشش کا وافر اجر و ثواب، جو قائدِ اُمت کی ہدایت و رہنمائی سے فیضیاب ہوئے، ان کی روحِ ملکوتی کو عطا فرما، اور ملتِ ایران اور پوری اُمتِ اسلامی کو ان کے راستے اور مقصد کے تسلسل میں کامیابی و استقامت نصیب فرما۔

بارِ الٰہا! اپنے برگزیدہ ولی، ہمارے آقا و مولا حضرت مہدیِ منتظر صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علی آبائہ الطاہرین پر اپنی برترین صلوات و سلام نازل فرما، اور ہم سب کو، نیز پوری اُمتِ اسلامی کو، اُن کی پاکیزہ، مقبول اور مستجاب دعاؤں کے سایۂ رحمت میں جگہ عطا فرما۔ دنیا کو اُن کے مبارک قدموں سے منور و مزین فرما، اور جس وعدۂ حق کا تو نے اعلان فرمایا ہے، اسے ہمارے سامنے جلوہ گر فرما؛ کہ ہمارے دل اُس وعدۂ حتمی پر کامل اطمینان اور یقین سے لبریز ہیں:

«وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَهُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا»

(اللہ نے تم میں سے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیے، وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور اقتدار عطا کرے گا، جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو اقتدار عطا کیا تھا، اور ان کے لیے ان کے پسندیدہ دین کو استحکام بخشے گا، اور ان کے خوف کو امن و اطمینان سے بدل دے گا۔

والسّلام علی جَمیع اخواننا المسلمین و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

9 ذی الحجہ 1447

700 /