ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی کی دوسری برسی کی مناسبت سے پیغام

مکتبِ خمینیِ کبیر و خامنہ‌ایِ عزیز کےتربیت شدہ افراد نےاپنےخون سےوفائےعہد نبھایا

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شہدائے پروازِ اردیبهشت (مئیْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ)  کی یاد اور اُن کے محور، شہید صدرِ جمہوریہ حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی کی گراں قدر یاد، اسلامی جمہوریہ ایران میں اُن بے شمار خدمت گزار شہداء کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتی ہے جنہوں نے راہِ خدمت میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔ شہید مطہری، شہید بہشتی، شہید رجائی اور شہید باہنر سے لے کر شہید رئیسی، شہید آلِ ہاشم، شہید امیرعبداللہیان اور شہید لاریجانی تک، یہ سب وہ ممتاز اور تربیت یافتہ شخصیات تھیں جو مکتبِ خمینیِ کبیر اور خامنہ‌ایِ عزیز اعلیٰ اللہ مقامہما الشریف کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھیں، اور جنہوں نے اسلامی جمہوریہ کے ذمہ داران کی مخلصانہ اور مجاہدانہ خدمت کے قلمدان کو اپنے خونِ پاک کے دستخط سے مزین کیا۔

شہید رئیسی کی نمایاں خصوصیات میں احساسِ ذمہ داری، جوانوں پر اعتماد، عدالت پسندی، فعال اور مفید سفارت کاری، اور بالخصوص عوامی مزاج و طرزِ عمل قابلِ ذکر ہیں۔ یہی اوصاف ایران کے دوستوں، بالخصوص محاذِ مقاومت کے مجاہدین اور نظامِ اسلامی کے خیرخواہوں کے لیے باعثِ دلگرمی کا باعث تھے۔ اور یہ تمام صفات اُس گہری روحانیت کے ساتھ آمیختہ تھیں جو اُن کی روح کی گہرائیوں میں راسخ تھی۔

عوام اور ذمہ داران کے باہمی تعلق میں جب مؤثر اور مثبت صفات جلوہ گر ہوتی ہیں تو اُن کے نتیجے میں قدر شناسی اور محبت کا باہمی رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کی آخری رخصت، اُن کے مولا و مخدوم حضرت ابی الحسن اما رضا علیہ آلاف التحیۃ والثناء کے جوارِ اقدس تک، ایک بے مثال اور تاریخی شان و شوکت کے ساتھ انجام پائی۔

اس شہیدِ عزیز کا ادھورا رہ جانے والا دورِ صدارت، ملت اور ملک کی خدمت، خیرخواہی اور استقلالِ ملی کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کا ایک روشن پیمانہ اور قابلِ تقلید نمونہ بن کر سامنے آیا۔

آج ہم اُس عظیم اور بے نظیر استقامت کے شاہد ہیں جو ملتِ ایران نے دو عالمی دہشت گرد افواج کے مقابل تاریخی مزاحمت کے میدان میں دکھائی ہے۔ یہ عظیم کارنامہ اسلامی جمہوریہ کے تمام ذمہ داران—رہبر سے لے کر تینوں شعبوں کے سربراہان اور مختلف سطحوں کے منتظمین تک—کی ذمہ داریوں کو پہلے سے کہیں زیادہ سنگین اور حساس بنا دیتا ہے۔

آج ملت، حکومت اور اسلامی جمہوریہ کے تمام اداروں کے درمیان موجود اتحاد و انسجام کی نعمت کا حقیقی شکر یہ ہے کہ ذمہ داران اپنے اندر خدمت کے جذبے، مجاہدانہ کوشش اور عوامی خدمت کے عزم کو دوچنداں کریں؛ عوام کے مسائل اور بالخصوص اقتصادی و معاشی مشکلات کے حل کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں؛ میدان میں براہِ راست حاضر رہیں؛ اور اس بیدار و مبعوث ملت کے لیے ملک کی پیشرفت اور روشن مستقبل کی جانب امید افزا حرکت میں ایک فعال اور مؤثر کردار متعین کریں۔

راہِ خدمت کے شہداء پر خداوندِ متعال کی رحمت و رضوان نازل ہو، اور نصرتِ الٰہی اُن کے شاملِ حال رہے۔ ہمارے آقا و مولا حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعائیں ملتِ مسلمانِ ایران کے خدمت گزاروں کے لیے پشت پناہ اور سرمایۂ توفیق رہیں۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

20 مئی 2026

700 /