یازدہم اور دوازدہم اردیبهشت (یکم اور ۲ مئی) کے یہ دو دن، وہ ایام ہیں جن میں محنت کش اور معلم کے مقام و منزلت کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ زبانی اور علامتی تجلیل سے قطعِ نظر، جو اپنی جگہ ایک مناسب اور بجا عمل ہے، ہر ملک کی ترقی علم اور عمل کے دو پروں کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ معلم اس مقصد کے تحقق کے اولین مرحلے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ علم کی تعلیم، مہارتوں کی افزائش، اور آئندہ نسل کی بصیرت کی نشوونما اور شناخت کی تعمیر کا ایک اہم حصہ اسی کے کندھوں پر عائد ہوتا ہے۔
وہ طلبہ، طالبات، دانشجویان اور طلاب جو کسی معلم کی سرپرستی اور تربیت میں رشد و نمو پاتے ہیں، مستقبل قریب میں اپنے حاصل کردہ علوم اور سیکھی ہوئی مہارتوں کو عملی میدان میں بروئے کار لاتے ہیں، اور بعید نہیں کہ اپنے اخلاق، رویّوں اور گفتار میں، خاندان کی گرم آغوش سے لے کر تعلیمی و پیشہ ورانہ ماحول اور گلی کوچوں تک، اپنے اساتذہ کی شخصیت، کردار اور طرزِ فکر کے آئینہ دار بن جائیں۔
دوسری جانب، کام کا میدان ایک وسیع اور ہمہ گیر میدان ہے جو گھروں، دفاتر، کاروباری مراکز اور مساجد سے لے کر کھیتوں، کارخانوں، ورکشاپوں، کانوں اور بے شمار خدماتی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس عظیم دائرے میں جس قدر محنت، جدوجہد اور احساسِ ذمہ داری زیادہ ہوگا، جو ہر بڑی کامیابی کے بنیادی ارکان ہیں، اسی قدر ملک کی ترقی اور خوشحالی مستحکم اور پائیدار ہوگی۔
ہم جانتے ہیں کہ ایک محنت کش، احساس ذمہ داری، امانت داری اور حسنِ عمل کے سائے میں کبھی ایسا بلند مقام حاصل کر لیتا ہے کہ جس طرح معلم اور مربی کے مہربان ہاتھ کو بوسۂ تشکر دیا جاتا ہے، اسی طرح اس کے ہنرمند اور توانا ہاتھ بھی قدردانی اور احترام کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ البتہ اس مقام تک پہنچنے کی بنیاد انسان کے اولین مربیوں، یعنی والدین کی آغوشِ تربیت میں رکھی جاتی ہے، اور اس کے بعد معلم کی صحبت اور رہنمائی سے تکمیل پاتی ہے۔
آج جبکہ جمهوری اسلامی ایران نے سینتالیس برس سے زائد عرصے کی مجاہدانہ جدوجہد کے بعد، فضلِ الٰہی کے سہارے، اپنے ارتقاء اور پیشرفت کے دشمنوں کے خلاف عسکری میدان میں اپنی قابلِ توجہ قوت و توانائی کا ایک حصہ دنیا پر ثابت کر دیا ہے، اب اقتصادی اور ثقافتی جہاد کے میدان میں بھی دشمن کو مایوس اور شکست خوردہ بنانا ضروری ہے۔
اس معرکے میں معلمین ثقافتی محاذ کے مؤثر ترین عناصر ہیں، جبکہ محنت کش اقتصادی میدان کے مؤثر ترین سپاہیوں میں شمار ہوتے ہیں؛ یہاں تک کہ یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں طبقے ثقافت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اس خاص مقام اور اس حقیقت کو بخوبی درک کریں کہ ان کی ذمہ داری محض ایک پیشہ نہیں جس کے بدلے اجرت حاصل کی جاتی ہے، بلکہ ایک عظیم قومی اور تمدنی فریضہ ہے۔
اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ سالانہ یا وقتی زبانی تعریفی مراسم اگرچہ بجا اور مناسب ہیں، لیکن ان دونوں طبقوں کی خدمات کا حقیقی اعتراف اس سے کہیں زیادہ گہرا، مؤثر اور عملی ہونا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح ملتِ عزیزِ ایران مختلف میدانوں اور سڑکوں پر اپنی مسلح افواج کی حمایت کے لیے بھرپور انداز میں حاضر ہوتی ہے، اسی طرح معلمین اور محنت کشوں کی معاونت اور حمایت میں بھی بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس ضمن میں ضروری ہے کہ طلبہ اور متعلمین کے خاندانوں کی مدارس اور جامعات کے انتظامی و تربیتی امور میں شمولیت کو پہلے سے زیادہ فروغ دیا جائے۔ اسی طرح ملکی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر ایرانی محنت کشوں اور پیداواری قوتوں کی حمایت کی جائے۔ بالخصوص وہ کاروباری اور اقتصادی مراکز جو مشکلات کا شکار ہیں، حتی المقدور افرادی قوت میں کمی اور کارکنوں کی برطرفی سے اجتناب کریں، خواہ وہ پیداواری شعبے سے تعلق رکھتے ہوں یا خدماتی شعبے سے؛ بلکہ ہر محنت کش کو اپنے ادارے اور کاروبار کا ایک قیمتی سرمایہ تصور کریں۔ اور یقیناً حکومت بھی اپنی استطاعت کے مطابق اس خیرخواہانہ روش کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرے۔
ان شاء اللہ، ایرانِ عزیز جس طرح طویل جدوجہد کے بعد ایک نمایاں عسکری طاقت کے طور پر ابھرا ہے، اسی طرح ایرانی۔اسلامی شناخت کے خطوط کو واضح اور مستحکم کرتے ہوئے، اور اس شناخت کو معلمین و مربیوں کے ذریعے نوجوان نسل کے اذہان و نفوس میں مزید راسخ بنا کر، نیز داخلی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر جو ایرانی محنت کشوں کی شبانہ روز کاوشوں کا ثمرہ ہیں، ترقی و تعالی کی بلند ترین چوٹیوں کی جانب اپنے سفر کو جاری رکھے گا۔
اور یہ امر، ہمارے آقا و مولا حضرت ولیِ عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعاؤں اور توجہات کے طفیل، فضلِ الٰہی سے، مزید سرعت اور کامیابی کے ساتھ تحقق پذیر ہوگا، بِاِذنِ اللہ تعالیٰ۔
والسّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
یکم مئی 2026
