ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

خلیج فارس کے قومی دن کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام

آبنائے ہرمز کا نیا انتظامی نظام خطے کی تمام اقوام کے فائدے کا سبب بنے گا

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے 30 اپریل کو خلیج فارس کے قومی دن کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے، جس میں اہم نکات کی طرف اشارہ کیا گيا ہے۔ رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہمارے خطے کی مسلمان اقوام، خصوصاً ملتِ شریفِ ایرانِ اسلامی کے لیے خداوندِ متعال کی بے مثال نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت «خلیجِ فارس» ہے۔ یہ محض ایک آبی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسی الٰہی نعمت ہے جس نے ہماری شناخت، تاریخ اور تہذیب و تمدن کے ایک اہم حصے کو تشکیل دیا ہے، اور اقوام کے درمیان رابطے کے مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ، آبنائے ہرمز اور اس کے بعد بحیرۂ عمان کے ذریعے عالمی معیشت کی ایک حیاتی اور بے نظیر شاہراہ بھی فراہم کی ہے۔

یہ اسٹریٹجک سرمایہ صدیوں سے بے شمار شیاطینِ عالم کی طمع و لالچ کا مرکز رہا ہے۔ گزشتہ صدیوں میں یورپی اور امریکی بیگانہ قوتوں کی مسلسل جارحیت، خطے میں پیدا کی جانے والی ناامنی، اور علاقائی ممالک کو پہنچنے والے بے شمار نقصانات اور خطرات، درحقیقت خلیجِ فارس کے باشندوں کے خلاف عالمی استکبار کی طویل اور شوم سازشوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں، جن کی تازہ ترین مثال شیطانِ بزرگ کی حالیہ غنڈہ گردیاں اور جارحانہ اقدامات ہیں۔

ملتِ ایران، جو خلیجِ فارس کے طویل ترین ساحلی خطے کی مالک ہے، اس آبی گزرگاہ کی آزادی، استقلال اور بیگانہ قوتوں کے مقابلے میں مزاحمت کے راستے میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے والی ملت رہی ہے۔ پرتگالی استعمار کے اخراج اور آبنائے ہرمز کی آزادی سے لے کر—جس کی یاد میں دہم اردیبهشت (30 اپریل) کو «خلیجِ فارس کا قومی دن» قرار دیا گیا—ہالینڈ کی استعماری سازشوں کے خلاف جدوجہد، اور برطانوی استعمار کے مقابلے میں مزاحمت کی درخشاں داستانوں تک، یہ سلسلۂ ایثار و استقامت ہمیشہ جاری رہا ہے۔

تاہم انقلابِ اسلامی ان تمام مزاحمتوں کا نقطۂ عروج ثابت ہوا، جس نے خلیجِ فارس کے خطے سے مستکبر طاقتوں کے نفوذ اور تسلط کو محدود کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ آج جبکہ دنیا کے ظالم ترین طاقتوں کی سب سے بڑی فوجی یلغار اور جارحیت کو دو ماہ گزر چکے ہیں، اور امریکہ اپنی سازشوں میں ایک رسوا کن شکست کا سامنا کر چکا ہے، خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہو رہا ہے۔

خلیجِ فارس کے خطے کی اقوام، جو طویل عرصے تک اپنے حکمرانوں کی خاموشی اور ظالم طاقتوں کے سامنے ان کی ذلت آمیز تسلیم و رضا کی عادی بنا دی گئی تھیں، گزشتہ ساٹھ دنوں میں اپنی آنکھوں سے بحریۂ، فوج اور سپاہ کے جانباز اور دلیر فرزندوں کی استقامت، بصیرت اور مجاہدانہ عظمت کے حسین مناظر دیکھ چکی ہیں۔ اسی طرح انہوں نے جنوبی ایران کے غیور عوام اور نوجوانوں کی غیرت، شجاعت اور بیگانہ تسلط کے خلاف استقامت کا مشاہدہ کیا ہے، جو اس سرزمین کے عزم و استقلال کی زندہ علامت بن چکے ہیں۔

آج، خداوندِ متعال جلّ و علا کی عنایاتِ خاص اور تیسری جنگِ تحمیلی کے مظلوم شہداء کے خونِ پاک کی برکت سے—بالخصوص رہبرِ عظیم‌الشأن و دوراندیش انقلابِ اسلامی اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف—یہ حقیقت نہ صرف دنیا کی رائے عامہ اور خطۂ خلیج فارس کی اقوام کے لیے، بلکہ مختلف ممالک کے سلاطین و حکمرانوں کے لیے بھی آشکار ہو چکی ہے کہ اس خطے میں امریکی بیگانوں کی موجودگی، ان کا لنگر انداز ہونا اور اس خطے کو اپنی آماجگاہ بنانا، درحقیقت ناامنی کا سب سے بڑا عامل ہے؛ اور امریکہ کے یہ مصنوعی و کھوکھلے اڈّے نہ تو اپنی حفاظت کی قدرت رکھتے ہیں، چہ جائے کہ وہ اپنے علاقائی اتحادی اور امریکہ پرست عناصر کے لیے امن و سلامتی فراہم کر سکیں۔

اللہ کے فضل و کرم سے، خلیج فارس کا روشن مستقبل ایک ایسے خطے کے طور پر ابھر رہا ہے جو امریکی مداخلت سے پاک ہوگا اور اپنے عوام کی ترقی، آسائش اور پیشرفت کے لیے وقف ہوگا۔ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس آبی خطے، خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں «مشترکہ مالک» ہیں، اور وہ بیگانہ طاقتیں جو ہزاروں کیلومیٹر دور سے طمع و شرارت کے ساتھ اس خطے میں مداخلت کرتی ہیں، اس ملکیت میں کوئی مقام نہیں رکھتیں، سوائے اس کے کہ وہ اس کے گہرے تہہوں میں اپنے انجام کو پہنچیں۔

یہ فاتحانہ سلسلہ جو خداوندِ متعال کے فضل اور ایرانِ قوی کی مزاحمتی حکمتِ عملی کے سائے میں حاصل ہوا ہے، درحقیقت ایک نئے علاقائی و عالمی نظم کے طلوع کی نوید ہے۔

آج ملتِ ایران کی حیرت انگیز اور معجزہ‌نما بیداری صرف صیہونیت اور خونخوار امریکہ کے خلاف مزاحمت کرنے والے درجنوں ملین جان‌نثاروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مبعوث شدہ امتِ اسلامی کی صفِ اول میں موجود ہے۔ نوے ملین غیور و شریف ایرانی—ملک کے اندر اور بیرونِ ملک—اب اپنی تمام تر قومی، روحانی، انسانی، علمی، صنعتی اور جدید و بنیادی ٹیکنالوجی صلاحیتوں کو—نانو سے بایو تک، اور ایٹمی سے میزائل ٹیکنالوجی تک—اپنی قومی سرمایہ سمجھتے ہیں اور جس طرح وہ اپنی زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، اسی طرح ان صلاحیتوں کے بھی پاسبان ہوں گے۔

اسلامی ایران، شکرِ عملی کے ساتھ تنگۂ ہرمز کی حکمرانی کی نعمت کو بروئے کار لاتے ہوئے، خلیج فارس کے خطے کو مکمل طور پر محفوظ بنائے گا اور برسر پیکار دشمن کی سوء‌استفادہ پر مبنی سازشوں کا خاتمہ کرے گا۔ ابنائے ہرمز کے لیے نئے حقوقی قواعد اور انتظامی نظم و نسق، خطے کے تمام ممالک کے لیے امن، ترقی اور آسائش کا ضامن ثابت ہوگا اور اس کے اقتصادی ثمرات، اقوام کے دلوں کو شاد و آباد کریں گے، بِاِذنِ اللہ، وَلَو کَرِهَ الکافرون۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

30 اپریل 2026

700 /