رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کر کے آقائے شہید ایران کے جلوس جنازہ میں ایران اور عراق کے کروڑوں لوگوں کی شرکت کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا ہے اور امت کے شہید امام کو مخاطب کرتے ہوئے زور دے کر کہا ہے کہ ہم عہد کرتے ہیں کہ آپ اور ان دو جنگوں کے تمام شہیدوں کے پاکیزہ خون کا بدلہ مجرم اور ذلیل قاتلوں سے لے کر رہیں گے۔ یہ انتقام، ہماری قوم کا مطالبہ ہے اور اسے قطعی طور پر پورا ہونا چاہیے۔ یہ مجرم، جن کے بڑے اور چھوٹوں سب کی فہرست موجود ہے، بستر پر پرسکون موت کی آرزو اپنی قبر میں لے کر جائيں گے۔ رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السَّلامُ علیکَ یا ثاراللہِ وَ ابنَ ثارہ وَ الوِترَ المَوتور. السَّلامُ علیکَ وَ علی جَدِّکَ وَ اَبیکَ وَ اُمِّکَ وَ اَخیکَ وَ المَعصومینَ مِن وُلدِک.
سلام ہو اس امام پر، جس کے قیام کی حیات آفریں صدا نے بعثت نبوی کی گونج کو تاریخ کے دور افتادہ ترین گوشوں تک پہنچا دیا اور جس کے اثر سے ایران کا اسلامی انقلاب وجود میں آیا۔ ایسا انقلاب جس کی بنیاد ابتدا ہی سے حسینی تھی اور جو امام حسین علیہ السلام کے نعرے اور سیرت پر استوار ہوا اور پروان چڑھا۔ ایران کے آقائے شہید بھی اسی سیرت پر پلے بڑھے۔ وہ حسینی تھے، انھوں نے حسینی انداز میں سوچا، حسینی انداز میں آگے بڑھے، حسینی انداز میں جہاد اور مزاحمت کی، حسینی انداز میں زندگی گزاری اور حسینی مکتب کی راہ میں اپنا خون پیش کر کے درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔
حسینیوں کے زمرے میں وہ لوگ ہیں کہ جب امام حسین علیہ السلام کے مکتب اور ان کی راہ میں ان کا خون مظلومانہ طور پر زمین پر بہتا ہے تو امت اسلام اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور وہ وقت عاشورا سے اور وہ جگہ کربلا سے متصل ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی اسی حسینی جوش و جذبے نے، ہماری امت کو بعثت عطا کی ہے اور خمینی کبیر اور خامنہ ای شہید کے مکتب کو ایک نئی آب و تاب عطا کر دی ہے۔ یہی وہ عظیم ولولۂ حیات بخش ہے جو امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت اور ھل من ناصر ینصرنی کی ندا کی بازگشت بن کر پہلے ایران، پھر عراق اور اس کے بعد دیگر ممالک میں گونج رہا ہے اور باطل کی بنیادوں میں زلزلہ برپا کر رہا ہے۔ اسی مناسبت سے ایران اور عراق کے شہروں اور دیہاتوں بالخصوص تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں کروڑوں افراد کی حیرت انگیز، دشمن شکن اور تاریخی شرکت کی میں دل کی گہرائی سے قدردانی کرتا ہوں۔
ہماری قوم خون حسین کا بدلہ لینے والی اور منتقم ہے۔ اس عظیم قوم نے برسوں تک اپنے فرزندوں کو امام حسین کی راہ میں اور امام حسین اور حسینی سیرت کے دشمنوں کے خلاف جنگ میں قربان کیا اور اب بھی وہ ان کے اور اس دور کے حسینیوں کے خون کا انتقام لینے والی ہے۔
اب ہم اپنے رہبر شہید سے عرض کرتے ہیں: اے مظلوم مقتول! اے سرفراز مظلوم! اے خدا کے صالح بندے! اب جب ہم اشک بار آنکھوں اور غم زدہ دلوں کے ساتھ آپ کے جسم اطہر کو الوداع کہہ رہے ہیں تو آپ سے عہد کرتے ہیں کہ آپ کے مکتب کی حفاظت کریں گے، اس سیدھے راستے پر ثابت قدمی سے چلیں گے جو آپ نے ہمیں دکھایا ہے، اس راہ کی مشکلات سے ہرگز نہیں گھبرائیں گے اور آپ ہی کی طرح الہی بشارتوں اور وعدوں پر مکمل بھروسہ رکھیں گے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ آپ کے پاکیزہ خون اور ان دونوں جنگوں کے تمام شہداء کے خون کا انتقام ان بے غیرت اور مجرم قاتلوں سے ضرور لیں گے۔ یہ انتقام ہماری قوم کا مطالبہ ہے اور قطعی طور پر یہ پورا ہوگا۔ یہ مجرم، جن کے بڑوں اور چھوٹوں سب کی فہرست موجود ہے، پرسکون اور بستر پر موت کی آرزو اپنی قبر میں لے کر جائيں گے۔ انھیں جان لینا چاہیے کہ یہ معاملہ صرف میری ذات یا دیگر عہدیداران کے وجود پر موقوف نہیں۔ ہم رہیں یا نہ رہیں، یہ بات ہو کر رہے گي اور بہت جلد دنیا بھر کے آزاد انسانوں میں سے ہر ایک اس الہی ذمہ داری کے کسی نہ کسی حصے کو انجام دے گا۔
اے امت کے شہید پدر! شہادت کا وہ جام نوش کرنا، جس کی آپ نے عمر بھر آرزو کی، آپ کو مبارک ہو۔ شہادت کی وہ خلعت، اس جسم پر زیب تن کرنا آپ کو مبارک ہو جس پر آپ کی مادر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، آپ کے جد حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی نشانیاں موجود ہیں۔ اور آپ اے ان کے مظلوم ساتھیو! جو دشمن کے اچانک حملے کا نشانہ بنے اور درجۂ شہادت پر فائز ہوئے، آپ خوش نصیب ہیں کہ آج اس مولا کے مہمان ہیں جن کی عطوفت و مہربانی کو شاید آپ نے دنیا میں بارہا محسوس کیا ہوگا۔ وہ عظیم ہستی جو سبھی کے لیے بالخصوص اس سرزمین کے لوگوں کے لیے رحمت الٰہی کا دروازہ ہے، آج آپ کی میزبان ہے اور ان کا محفوظ جوار اب آپ کا گھر بن گيا ہے۔
اور آپ، اے عظیم المرتبت آقا! اے بزرگوار! اے امام رؤوف، یا اباالحسن الرضا المرتضیٰ، جن پر اللہ تعالیٰ کا بہترین درود و سلام ہو! آج آپ کے ایک ایسے خادم کا پارہ پارہ جسم، جس نے برسوں مسلسل محنت، جہاد اور خدمت سے آپ اور اہلبیت اطہار کی خدمت انجام دی، اپنے خاندان کے ان شہداء کے ساتھ، جن میں سے ہر ایک کربلا کے ایک شہید کی یاد تازہ کرتا ہے، اس پاک سرزمین میں اس دن تک کے لیے آرام کر رہا ہے، جب خداوند عالم کے حکم سے آفتاب عالم تاب، حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، پردۂ غیبت سے ظہور فرمائیں اور اس کرۂ ارض کے لوگوں پر اللہ کے نور رحمت کی بارش کریں، اس دن، جس کے بہت جلد آنے کی ہمیں امید ہے، صدیقین، شہداء اور اولیائے الٰہی میں سے درخشاں ستارے حضرت کی نصرت و رفاقت کا شرف حاصل کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے یہ شہید بھی ان میں شامل ہوں گے اور ایک مرتبہ پھر مجاہدت اور 'عہد الست' کی وفاداری کے نہایت درخشاں اور خالص مناظر پیش کریں گے اور شاید آج کے یہ شہید ساتھی بھی اس دن دوبارہ ان کی معیت میں ہوں۔
اے مولاۓ رؤوف! اپنے آقا کو، جنھوں نے اپنی ہر چیز آپ کی راہ میں قربان کر دی اور ان کے شہید ساتھیوں کو آپ کی بارگاہ میں اور آپ کے لطف و عنایت کے سپرد کرتے ہیں تاکہ جس طرح وہ دنیوی زندگی میں آپ کی مہربانیوں سے فیض یاب رہے، اسی طرح بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر آئندہ بھی آپ کے لطف و کرم سے بہرہ مند رہیں۔
آخر میں ہم ایک مرتبہ پھر اپنے مولا حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں اور اس مہربان ہستی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی پاکیزہ دعاؤں کا رخ ایران کے اس شہید، ان کے شہید ساتھیوں اور تمام شہداء کی طرف موڑیں اور خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ سے تمام شہداء کے درجات کی بلندی، ان کے پسماندگان کے لیے صبر و اجر اور مظلوم ایرانی قوم کے لیے یقینی اور قریب الوقوع فتح و نصرت کی دعا فرمائیں۔ ان شاء اللہ۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
9 جولائی
