حضرت آیتاللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای، رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی نے حزباللہ کے سیکریٹری جنرل اور اس کے مؤمن و شجاع مجاہدین کی جانب سے ارسال کردہ بیعت و وفاداری کے خط کے جواب میں، دشمنِ صہیونی کے خلاف جدوجہد میں حزباللہ لبنان کی پیش قدمی اور دنیا کی آزاد اقوام کے لیے ظلم و استکبار سے نجات کی راہ میں اس کی تحریک آفرین جدوجہد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، لبنان کے مجاہدین کے دفاع میں ایران کی مستقل اور حکمتِ عملی پر مبنی پالیسی کے جاری رہنے پر زور دیا۔ انہوں نے واضح فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے لبنان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور صہیونی حکومت کی جارحیت کے مکمل اور بلاشرط خاتمے کو جارح امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے مفاہمت نامے کی پہلی شرط قرار دیا ہے۔
حزباللہ کے مجاہدین کے خط کے جواب میں رہبرِ انقلاب کے مکمل پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
يَـٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَٰتِلُواْ الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُواْ فِيكُمۡ غِلۡظَةࣰۚ وَاعۡلَمُوٓاْ أَنَّ اللَّهَ مَعَ الۡمُتَّقِينَ(سورہ توبہ آیت نمبر 123)
ترجمہ: اے ایمان والو! ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے نزدیک ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر ٹھوس شدت کا احساس کریں اور جان رکھو اللہ متقین کے ساتھ ہے۔
جناب حجت الاسلام و المسلمين شیخ نعیم قاسم،
سیکرٹری جنرل حزب اللہ اور تمام صابر و جانباز کمانڈرز،
السلام علیکم و رحمت اللہ۔
آپ برادران ایمانی، میرے فرزندوں اور حزب اللہ کے باایمان مجاہدین کا (لکھا گیا) خط کہ جو كلمة الله کی سربلندی، قرآن مجید(کے وعدہ و وعید)پہ یقین محکم، امام خمینی(رح) اور قائد شہید آیت اللہ خامنہ ای(رح)کے باوقار نظریات کو اجاگر کرنے کے لئے پایداری و استقامت کے حامل پیغامات پہ مشتمل تھا، تعریف و احترام کا حقدار ہے۔
آج جب کہ دنیا کی قومیں امریکہ اور مجرم صیہونی ریاست اور انسانی نسل کش طاقتوں کے ظلم و فساد سے تنگ آچکی ہیں؛ جہاد و مقاومت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا اور اس راہِ جہاد میں پائیداری اور استقامت، خدا کے وعدہ شدہ نصرت/ مدد کو مجاہدین کا مقدار ٹہرائے گی(ان شاءاللہ)۔[....وَكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِينَ] ترجمہ: اور ہمیشہ لازم ہے ہم پر مومنین کی نصرت کرنا[سورہ روم آیت نمبر 47]
اب جب کہ حزب اللہ لبنان کہ جو صیہونی ریاست کے مقابلے میں ہراول دستے کے طور پہ ایک مضبوط چٹان کی مانند کھڑی ہوئی ہے۔(حزب اللہ کی)یہ استقامت اس عالم کی آزاد قوموں کے لئے عالمی استکبار اور اس کے آلہ کاروں کے ظلم و ستم سے نجات کے لئے ایک الہام بخش پیغام واقع ہوا ہے۔ بلاشبہ اس عظیم کارنامےکا ایک قابل توجہ حصہ لبنانی عوام اور بلخصوص جنوبی لبنان کے عوام کے صبر، فداکاری اور ہمراہی کی مرہون منت ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی رہبر معظم اور شہید انقلاب امام سید علی خامنهای کی پالیسی کے مطابق مظلوم و با قدرت مجاہدین کے دفاع کو اپنی اسٹریٹیجک پالیسی کے نصب العين کے طور پہ معین کیا ہے۔ سرزمین لبنان کے مکمل تحفظ اور صیہونی ریاست کی جانب سے کئے گئے ناجائز قبضے اور غاصب امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے مکمل خاتمے کو بغیر کسی شروط و شرائط کے مفاہمتی عمل کی انجام پانے کی اولین شرط قرار دیا۔
صلوات اور خدا کی رحمت ہو شہداء پر اور زخمیوں اور ان کے صابر لواحقین پر، خدا کی راہ میں ہجرت کرنے والوں پر جنہوں نے اپنے اوپر آنے والی مصیبتوں پہ صبر و تحمل کرنے کے راستے کو ہموار کیا۔ خدا کا سلام ہو حزب اللہ کے تمام شہداء کے سردار سید حسن نصر اللہ کی روحِ ملکوتی پر، اور مقاومت اسلامی کے پیشرو کمانڈرز اور ان کے شہید دوستوں پر(کہ خدا ان سے راضی ہو)کہ جنہوں نے مقاومتِ اسلامی کے پودے کو ایک تنومند درخت میں تبدیل کردیا کہ جس کی جڑیں ثابت اور مضبوط اور اس کی شاخیں آسمانوں میں ہیں۔
حزب اللہی مجاہدین ایسے مجاہدین کہ جنہوں نے اپنی جدوجہد اور مقاومت سے عالم اسلام میں لبنان کی بالادستی کو جلا بخشی۔ اپنے خط کے اختتام پہ میں امیدوار ہوں ہمارے سرور و سالار؛ امام زمانہ(عج)کی(ہمارے حق میں کی گئی)دعائے خیر کی برکات سے اور خداوند متعال کی بے حساب عنایات اور فضل و کرم تمام مجاهدین اسلام، شہداء، مقاومت کے سابقہ معذور فوجی، اور خدا کی راہ میں ہجرت کرنے والوں اور ان کے صابر خاندانوں کے شامل حال ہوگا۔
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسۡتُضۡعِفُواْ فِي الۡأَرۡضِ وَنَجۡعَلَهُمۡ أَئِمَّةࣰ وَنَجۡعَلَهُمُ الۡوَٰرِثِينَ
اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بے بس کر دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور ہم انہی کو وارث بنائیں۔
والسلام علیکم و رحمة الله و برکاته
سید مجتبی حسینی خامنهای
حزب اللہ کے رہبر معظم کو لکھے گئے خط کا متن
آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنهای،
السلام عليكم،
خدا کا شکر جس نے مومنوں کو جہاد کے لئے منتخب کیا:
حمد و ثناء خداوند متعال کی جو مومنوں کو عزت اور ستم گاروں کو ذلیل و خوار کرنے والا ہے؛ وہی(خدا)کہ جس نے ہماری زندگی کو جہاد(فی سبیل اللہ)اور ظہور(امام زمانہ عج)کے لئے زمینہ سازی کا وسیلہ قرار دیا اور ہماری موت کو بدترین مخلوق کے ہاتھوں اپنی راہ میں شہادت(کی موت)قرار دیا۔
درود و سلام ہو حضرت محمد(ص)اور ان کے صاحب عصمت و طہارت خاندان پر، (ہم دعاگو ہیں کہ)خداوند متعال ان(اہل بیت عصمت و طہارت)کے فرج میں تعجیل فرمائے۔ اس حال میں کہ خدا ہمیں خیر و عافیت میں رکھے اور فرج امام زمانہ (عج) کا دیدار نصیب فرمائے۔ قرآن مجید میں ارشاد خداوند ہورہا ہے۔يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو(سورہ نساء آیت نمبر 59) اما بعد۔۔۔
اے ہمارے سید و سردار، ہمارے قائد، ولی فقیہ،ہر دل عزیز و گراں قدر آیت اللہ سید مجتبی خامنهای۔ السلام علیکم و رحمت اللہ۔ ہم آپ کے(ایمانی)بھائی، روحانی فرزند، حزب اللہ کے خامنهایون اور لبنان میں مقاومت اسلامی؛ آپ کے خدمت میں یہ پیغام بھیج رہے ہیں۔ اس حال میں کہ دل اس امید سے سرشار اور آرزو سے لبریز ہیں کہ آپ مکمل خیر و عافیت میں اور خدا مضبوط قلعے اور اس کی پناہ میں ہیں۔
سب سے پہلے(ہم حزب اللھی)ہمارے روحانی باپ، ولی فقیہ اور شہید۔ باپ کی شہادت پہ ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ وہ شہادت کہ جس کے ذریعے امت مسلمہ کی قیادت اور راہ خدا میں مسلسل جدوجہد کی متعدد دہائیاں اختتام پذیر ہوئیں،(آپ کو)اس حال میں شہادت ملی کہ علم و عمل کو آپ نے سمیٹا ہوا تھا اور بخشش وعطا کے دروازوں کو ایک عارف فقیہ، قرآنی مفکر اور رہبر کے عنوان سے کھولا ہوا تھا، یہاں تک کہ اپنے جد بزرگوار(امیر المؤمنین علیہ السلام)کی مانند دور حاضر کے ابن ملجم کے ہاتھوں شہادت پہ فائز ہوئے۔
(جیسا کہ ہم نے شہید رہبر کی شہادت پہ ہدیہ تبریک پیش کیا)بالکل اسی طرح ہم آپ کے(روحانی)فرزندوں (ایمانی)بھائیوں، بیٹیوں اور بہنوں کی شہادتوں پہ،(ان کے)زخمی ہونے پہ، ان کی فداکاریوں پہ جو مقاومتی محاذ پہ(موجود ہیں)اور اس امت کے فدائیوں میں سے ہیں، خاص طور پہ آپ کی پاک و مطہر سرزمین(ایران اسلامی)کے غیور فرزندوں کے لئے آپ کو دوبارہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ اور خداوند متعال سے دعاگو ہیں کہ شہداء کو اپنی رحمت سے بہرہ مند اور زخمیوں کو شفائے کاملہ اور عاجلہ اور ان کے خاندان کو صبر عنایت فرمائے۔
ہم(حزب اللہی جوان)جو ہمیشہ مشہد امام رضا(ع)کی زیارت سے مشرف اور امام روؤف(ع)کے حضور ولایت کے پاکیزہ سرچشمے سے سیراب ہوتے رہے ہیں، اس حالت میں کہ ایک ہاتھ سے پرچم امام حسين(ع)؛جہاد کے عزم اور ظہور امام زمانہ(عج)کی زمینہ سازی کے ارادے سے بلند کئے ہوئے ہیں، اور دشمن سے بلافاصلہ برسر پیکار ہیں [جو*لبیک*اور *ھیہات من الذلہ*سے تعبیر کیا جاسکتا ہے]، (اسی طرح)دوسرے ہاتھ سے اپنے عزیز بھائیوں، امام رضا(ع)کے فرزندوں، مکتب امام خمینی(رح)کے شاگردوں، امام خامنهای کے تائید شدہ مجاہدوں اور آپ کے مشن کے علم بردار افراد یعنی سپاہ پاسداران اور مقدس بسیج فورس اور ہر وہ شریف انسان جو ایران میں خوشبوے ولایت سے بہرہ مند ہورہا ہے؛ مصافحہ(ہاتھ ملانا)کرتے ہیں۔
ہم(حزب اللہی جوان)آپ سے عہد کرتے ہیں کہ اسی کرامتوں کے راستے پہ گامزن رہیں گے، اس انداز میں کہ ظہور امام زمانہ(عج)کے لئے زمینہ سازی اور صبر و تحمل سے کام لیں گے، جیسے ہم اپنے شہید ولی فقیہ کے ساتھ تھے آپ کے ساتھ بھی ویسے ہی رہیں گے، بغیر اس کے کہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے گھبرائیں۔
(اے رہبرِ عزیز)شہداء، زخمیوں، اسیروں اور گم شدہ مجاہدوں اور کے صابر خاندانوں کی امانتیں ہماری گردن پہ ہیں اور ہمارے دلوں میں جذبہ خامنهای جاری ہے وہ جذبہ جس کا عنوان اقتدار اسلام اور خدا پہ بھروسہ ہے۔ اور ہم آپ کی قیادت میں آگے بڑھیں گے۔ اس حال میں کہ پرچم اسلام کو قرآن مجید اور عترت رسول خدا(ص)کی ہدایت کی چھاؤں میں اپنے ہاتھوں میں تھامیں گے۔ ہمارے راستے کے چراغ امام زمانہ(عج)ہیں اور پیشوا وہ شہداء ہیں جو اس راہ ِشہادت میں ہم پہ سبقت لے گئے۔
ہم ہرگز راہ ہدایت میں احساس تنہائی نہیں کریں گے اس حال میں کہ امت مقاومت اور مجاہدین کے شہداء، زخمیوں، ماؤں، ان کے آباء کے قافلے ہمارے ساتھ ہیں ہم اسی حال میں اپنے لیڈر اور مجاہد اسلام شیخ عیسی قاسم کے سائے میں آگے بڑھیں گے اور ہم زمین کے وارث اور پیشوا(کہ جنہیں قرآن کے مطابق زمین میں بے بس کردیا گیا)اور منصور آل محمد(ص)کے ذریعے دین خدا کے تمام عالم پہ ظاہر اور کھل کر سامنے آنے کے وعدہِ خدا پہ یقین رکھتے ہیں اور جب تک یہ وعدہ(فرج امام زمانہ)محقق نہیں ہوتا، آپ ہم سے اطاعت، کامیابی کی امید اور شہادت کے شوق کے علاوہ کچھ اور نہیں دیکھیں گے
وَءَاخِرُ دَعۡوَىٰهُمۡ أَنِ الۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ الۡعَٰلَمِين
آپ کے(ایمانی اور مخلص)بھائی،
مقاومت اسلامی لبنان
