رہبرِ معظم انقلابِ اسلامی حضرت آیتاللہ سید مجتبیٰ خامنہای نے ایک پیغام میں ملتِ ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اور مراجعِ عظام و اہلِ علم و دانش کی کوششوں کو سراہتے ہوئے، شہیدِ ایران کی الوداعی تقریب کے موقع پر ملت کے بے مثال اور تاریخی جوش و خروش کو، جو اپنی نوعیت کا ایک بے نظیر عوامی اُبھار تھا، بعثتِ ملت کے جلوے اور اسلامی ـ ایرانی شناخت کے پختہ عزم کے ایک نئے معیار سے تعبیر کیا۔ آپ نے ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے سے شیطانِ بزرگ کی بار بار عہد شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اب جبکہ امریکی دشمن جنگ بھڑکانے، مزید بھاری قیمت چکانے اور مزید رسوائی مول لینے کے درپے ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ملتِ عزیزِ ایران اور جبهۂ مقاومت کے پاس اس کے لیے ایسے سبق موجود ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ ان دنوں اسلام کے مجاہدین کی شجاعت اور جنوبی خطے کے بہادر عوام کی غیرت و حمیت نے ان میں سے بعض اسباق کی جھلک اسے دکھا دی ہے۔
رہبرِ انقلاب نے ایک بار پھر سماجی یکجہتی کو برقرار رکھنے اور تفرقے سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
ممکن ہے بعض لوگ پورے اخلاص اور خیرخواہی کے جذبے سے بعض ذمہ داروں کی کارکردگی پر تنقیدی رائے رکھتے ہوں۔ یہ عزیزان، جن میں سے بعض بصیرت کے میدان میں پیش پیش رہنے والوں میں شمار ہوتے ہیں، اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ طرزِ عمل:
اوّل: کسی بے گناہ پر ظلم کا سبب نہ بنے، کیونکہ یہ خود اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور عنایتوں سے محرومی کا باعث بنتا ہے۔
دوم: معاشرتی وحدت اور یکجہتی کو نقصان نہ پہنچائے؛ کیونکہ ان دونوں باتوں کی رعایت کے ساتھ کی جانے والی تنقید امور کی بہتری اور نشوونما کا سبب بنے گی۔
رہبرِ انقلابِ اسلامی کے پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عظیم الشان اور حیرت انگیز انقلابی قوم!
درود و سلام بھیجنے کے ساتھ شکریہ ادا کرتے ہیں آپ کا کہ جنہوں نے شہید رہبر معظم کے مثالی جنازے اور الوداعی رسومات میں قدردانی،وفادرای اور بصیرت دینی اور امت مسلمہ کے زعیم(راہنما) اور رہبرِ شہید سے اظہار عقیدت کے کے میدان میں انقلابی قوم کی مجموعی بصیرت، احساس ذمہ داری اور معرفت دینی کو ثابت کیا۔
تہران، قم، مشہد مقدس اور دیگر شہروں اور دیہاتوں میں وسیع پیمانے پہ پھیلے ہوئے کروڑوں افراد کے عظیم اجتماع کے گرمجوش دلوں، اشکبار آنکھوں اور مستحکم ارادوں نے انقلابی قوم کے دوست ممالک اور اس عالم کے آزاد فکر لوگوں کو متاثر کیا اور انقلابی قوم کے مستکبر دشمن کو حیرت، سرگردانی، غصے اور خوف میں مبتلاء کردیا۔ انقلابی قوم کے مجاہدانہ طرزِعمل کے ساتھ ساتھ، ایران اور امریکی صدر کے مابين پانے والے مذاکراتی دستاویز کے حوالے سے شیطان بزرگ(امریکہ)کا مستقل بنیادوں پہ مذاکراتی عہد نامے/کی خلاف ورزی نے سب پہ حقیقت ثابت کردی کہ امریکی صدر کے دستخط کتنے بے اہمیت اور غیر معتبر ہیں اور بدمعاشی، بربریت اور عنانیت، برتری طلبی؛ امریکی(شیطانی)نظریے کے ناقابل جدا اجزاء ہیں۔ آج شیطان بزرگ(امریکہ)نے دوبارہ اپنا اصلی چہرہ عیان کردیا ہے تاکہ دھوکہ دہی اور جرم کا سیاہ تجربہ، امریکہ کے جھوٹے ہونے، غیر منطقی ہونے اور ناقابل اعتماد ہونے پہ ایک ٹھوس دلیل بن جائے۔ اب جب کہ ہمارا امریکی دشمن جنگ بھڑکانے اور بھاری قیمت چکانے اور مزید بے عزتی کروانے کے در پے ہے، تو اسے(چاہیئے کہ یہ جان لے)کہ عزیز انقلابی قوم اور مقاومتی محاذ کے پاس اس لئے ناقابل فراموش عبرت امیز درس ہے، کہ مجاہدین اسلام اور ملک کے جنوبی حصے کے شجاع اور غیرت مند مردوں کی بہادری نے ان چند دنوں میں اس بات کو ثابت کردیا۔
یہ ضروری ہے کہ ایران کے باوقار اور با افتخار عوام کو یہ بتایا جائے کہ اس زمانے میں ہر سطح کے افراد اور حکام اور تمام شعبوں میں انقلاب اسلامی کے اعلی نظریات کو حاصل کرنے اورملک و قوم کی عزت اور آزادی کو یقینی بنانے کے لیے، بالخصوص مجرم صفت اور فریب کار امریکی دشمن کے مقابلے میں سب سے زیادہ اصولی امور پہ اصرار اور مشترکہ اہداف کی خاطر اتحاد پیدا کرنے پہ اصرار/تاکید شامل ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل بھی مکررا اور موکدا اس بات کا ذکر کیا گیا کہ اتحاد بین المسلمین کے تحفظ اور تفرقہ بازی، تنازعہ ایجاد کرنے اور سیاسی و سماجی اختلافات کو اجاگر کرنے سے پرہیز کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ البتہ قومی ہماہنگی اور سالمیت میں حکومتی عہدیداروں، رہبر شہید اور انقلاب اسلامی کے دلسوز اراکین کا کردار انتہائی اہم اور حساس ہے۔
اس بناء پہ وطن عزیز، حکومت کی تینوں افواج کے ذمہ دار اہل کاروں پر اعتماد کرتے ہوئے جن کی جانب سے کی لئے کی گئی قومی فلاح و بہبود اور کامیابی کے لئے کوششیں بالکل نمایاں ہیں، انقلاب اسلامی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے میدان میں ہمیشہ متحرک اور آمادہ رہیں گی۔ ممکن ہے کہ لوگ پورے خلوص اور خوش اسلوبی کے ساتھ بعض عہدیداروں کی کارکردگی پر تنقید کریں۔ میری رائے اگرچہ ان کی طرف سے نظام اسلامی(کے استحکام)کی خاطر ظاہر کی گئی یہ تشویش،گویا اپنے والوں کے لئے کی گئی تشویش کی مانند، ایک بیش قیمت سرمایہ اور بذات خود ایم مطلوبہ اور خوشآیند عمل شمار کیا جاتا ہے، ایسے عزیزوں کو جن میں سے بعض بصيرت افزائی کے علم برداروں میں سے ہیں، اس بات سے ہوشیار رہنا چاہیئے کہ ان کی یہ روش بے گناہ لوگوں کے ساتھ ظلم کا باعث نہ بنے ۔ ایسا(واقع رونما)ہونا بذات خود برکتوں اور خدائی تقرب سے محرومیت کا سبب ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ(خیال رکھیں کہ )قومی اتحاد و ھماھنگی میں ناکامی کا سبب بنے گا، کیوں کہ ان پہلوؤں کو برقرار رکھنے سے مختلف معاملات میں گشادگی اور ترقی ما باعث بنے گی۔ (اس بات کا)خیال رکھیں کہ دشمن کو ہماری طرف سے کوئی بھی اضافی کمزور پہلو، ان(پچھلی)کمزوریوں کے بشمول نہیں ملنی چاہیئے، (اس کا فائدہ یہ ہے)کہ جب ہم ان احتیاطی تدابیر کی مکمل طور پہ رعایت کریں گے تو لامحالہ اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک مرتبہ پھر فرداً فرداً أپ عزیز ملت سے کہ آپ رہبر کے صاحب کے اہل عزاء ہیں۔ ان تم تر(ریبر شہید کی الوداعی رسومات میں تما تر مشکلات اور بعض ناخوشایند واقعات کے باوجود ایک تاریخجی واقعہ تخلیق کیا(اس بات پہ)میں تہہ دل سے آپ(عوام)کی قدر کرتا ہوں۔ بالکل اسی طرح میں معزز مراجع تقلید، علماء کرام، دانشمند افراد، اشرافیہ، ثقافتی، سماجی اور سیاسی کارکنوں اور ریاستی و عسکری اداروں کی کوششوں اور اقدامات کے ساتھ ساتھ، سربلند و فاتح مقاومتی محاذ اور باافتخار نہضت اسلامی کے نمائندوں کے حضور شکریہ ادا کرتا ہوں، دعاگو ہیں کہ وہ تمام لوگ جو کسی بھی جہت سے اس تاریخی حماسے/مجاہدانہ وابستہ رہے ہیں، امام زمانہ(عج) کی خصوصی توجہ اور
دعاؤں کے حقدار قرار پائیں۔
سید مجتبی حسینی خامنهای،
۲۶ تیر ۱۴۰۵
