حضرت آیتاللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای، سپہ سالارِ اعلیٰ، نے الگ الگ احکامات جاری کرتے ہوئے مسلح افواج کے چھ اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور افسران کو نئی ذمہ داریاں اور فرائض سونپے۔
ان احکامات کے مطابق، سپہ سالار علی عبداللّہی کو لیفٹیننٹ جنرل کا عہدہ دے کر مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری کو مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اسی طرح بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو لیفٹیننٹ جنرل کا عہدہ دے کر سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل مصطفیٰ ایزدی کو سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے سربراہ کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں، ان احکامات کے تحت سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کی سربراہی بریگیڈیئر جنرل علی عظمایی کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ حجۃالاسلام والمسلمین حسین طائب کو بسیجِ مستضعفین کی تنظیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
سپہ سالارِ اعلیٰ کی جانب سے ان چھ فوجی کمانڈروں کی تقرری اور نئی ذمہ داریوں سے متعلق الگ الگ احکامات کا متن درج ذیل ہے:
حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنهای سپریم لیڈر اور کمانڈر ان چیف نے ایک حکم نامے میں میجر جنرل علی عبد الہی کو مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پہ تعینات کیا۔
سپریم لیڈر اور کمانڈر ان چیف کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
میجر جنرل اور (فضائی فوج کے)پائلٹ جناب عبد الہی صاحب۔ صیہونی اور امریکی دشمن کے ہاتھوں لیفٹیننٹ جنرل سید عبد الرحيم موسوی کی باافتخار اور سربلند شہادت کے پیش نظر جناب عالی کو مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پہ منصوب کرتا ہوں۔
(آپ سے)درج ذیل مطالبات پورا کرنے کی توقع ہے۔
1۔ کٹیر الجھتی قدرت اور طاقت اور آمادگی میں ارتقاء اور مسلح افواج اور بسیج فورس کو جدید تقاضوں سے ھماھنگ کرنا۔
2۔ انقلاب اسلامی ایران کے نظام مقدس کے خلاف ھر سطح اور ھر قسم کی روایتی یا جدید فوجی، نفسیاتی اور ترکیبی خطروں کے مقابلے میں بروقت، مؤثر اور انقلابی جواب دینے کی صلاحیت کو ممکن بنانا۔
3۔ شہید رہبر کی تدبیر کی بنیاد پہ مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر اور خاتم الأنبياء ہیڈ کوارٹر کو ایک دوسرے میں ضم کرنےکے عمل کو پائے تکمیل تک پہنچانا۔
امید ہے کہ خداوند متعال کی عنایتوں، ہمارے مولا و آقا(امام زمانہ عج)کی پر خیر و بابرکت دعاؤں تمام مسلح افواج کی توفیقات خیر میں اضافہ اور فتح و کامیابی حاصل ہو۔
سید مجتبی حسینی خامنهای
سپریم کمانڈر ان چیف(رہبر معظم) سید مجتبی حسینی خامنهای کی جانب سے بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری کی چیف آف جنرل اسٹاف کے منصب پہ تقرری
بسم اللہ الرحمن الرحيم
ریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری آپ کی وفاداری، قابل قدر اہلیت اور قیمتی تجربے اور چیف آف جنرل اسٹاف کی تجویز کے پیش نظر آپ کو ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پہ تعینات کرتا ہوں۔
دفاعی اور سیکیورٹی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مدد کرنا، انقلاب اسلامی کی مسلح افواج کی روحانی طاقت اور جہادی جذبے کی تقویت، افواج کی معیشتی ضروریات پہ توجہ دینا اور آپ پہ کئے گئے اعتماد پہ پورا اترنے؛ ان تمام ذمہ داریوں کی ادائیگی آپ سے متوقع ہے۔
امید ہے کہ ہمارے مولا و آقا کی توجہات اور پر خیر و برکت دعائیں آپ کی اور پوری مسلح افواج کی توفیقات خیر میں اضافے کا باعث بنے گی۔
سید مجتبی حسینی خامنهای
بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کی کمانڈر ان چیف پاسداران انقلاب اسلامی کے عہدے پہ تقرری
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بریگیڈیئر جنرل پاسداران انقلاب اسلامی احمد وحیدی
صیہونی اور امریکی دشمن کے ہاتھوں میجر جنرل پاسداران انقلاب محمد پاکپور کی باافتخار اور سر بلند شہادت اور آپ کی قابل ستائش خدمات اور قیمتی تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے جناب عالی کو کمانڈر ان چیف پاسداران انقلاب اسلامی کے عہدے پہ منصوب کرتا ہوں۔
ان حالات میں جب کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مقدس نظام اسلامی عالمی استکبار سے ایک اسٹریٹیجک اور فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہے۔ آپ سے درج ذیل امور کی تکمیل متوقع ہے۔
1۔ افرادی صلاحیتوں میں مسلسل اور جامع بنیادوں پہ ارتقاء دشمن کی زیادہ سے زیادہ روک تھام اور ہوشیار انداز میں آمادہ رہنا تاکہ(دشمن کے مقابلے میں)جارحانہ کاروائیاں انجام دی جاسکیں۔
2۔ سہاہ پاسداران کے اداری معاملات میں ثقافتی ارتقاء، تقوا، بصیرت اور انقلابی جوش و ولولے کو کمانڈروں اور پاسدارن انقلاب کے تمام افراد میں (یکسوی کے سات)اندرونی جوہر کے عنوان سے پروان چڑھانا۔
3۔ تمام سطحوں پر تنظیمی ڈھانچے کا استحکام اور کمانڈروں کی صلاحیتوں میں وسعت کہ جو روحانی بنیادوں اور جدید مہارتوں پہ استوار ہو۔
امید ہے کہ ہمارے مولا و آقا(امام زمانہ عج) کی شفاعت اور دعاؤں کے سائے میں دوگنی کامیابیاں اور یکے بعد دیگرے فتوحات نظام مقدس جمهوری اسلامی ایران کی تمام مسلح افواج کو نصیب ہو۔
سید مجتبی حسینی خامنهای
سردار دریادار علی عظمائی کو پاسدارن انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر کے عہدے پر تقرری
(رہبر معظم)آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنهای،(سپریم کمانڈر ان چیف) نے ایک حکم نامے میں سردار دریادار على عظمائی کو پاسدارن انقلاب کے بحری دستے کے کمانڈر کے منصب پہ فائز کیا۔
سپریم کمانڈر ان چیف(رہبر معظم)کے حکم نامے کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحيم
پاسدارن انقلاب کے بحری دستے کے وائس ایڈمرل سردار علی رضا تنگسیری کی صیہونی اور امریکی دشمن کے ہاتھوں باافتخار اور سربلند شہادت اور آپ کی قابل قدر خدمات اور قیمتی تجربے کے پیش نظر آپ کو سپاہ پاسداران انقلاب کے بحری دستے کے کمانڈر ان چیف کے عہدے پہ منصوب کرتا ہوں۔
آپ سے: تربیت، مہارتوں، بحری ساز و سامان اور سہولیات میں بہتری، جنگی تیاریوں میں اضافے کے ساتھ اطلاعات کے شعبے میں برتری کا حصول، معنوی اور بصیرتی حوالے سے کمال اور روزگار و معاش(اقتصاد) کے متعلق ضروریات پہ توجہ دينا شامل ہے۔ ان سب باتوں کا مقصد ایک ایسی بحری فوج کی تشکیل ہے جو انقلاب اسلامی کے شایان شان ہو۔ مزید برآں سپاہ پاسداران کے دیگر اجزاء، بسيج فورس، جمہوریہ اسلامی کی بحریہ اور ديگر متعلقہ شہری شعبوں کے ساتھ موثر اور باہمی تعاون پہ مبنی روابط درکار ہیں۔
امید ہے کہ ہمارے مولا و آقا(امام زمانہعج)کی دعائیں اور توجہات آپ کی اور مجاہدین اسلام کی مسلسل کامیابیوں کا سبب بنیں۔
سید مجتبی حسینی خامنهای
حجت الاسلام و المسلمین حسین طائب پاسداران انقلاب کی بسیج فورس کے سربراہ کے عنوان سے تقرری
حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنهای، کمانڈر ان چیف نے ایک حکم نامے میں حجت الاسلام و المسلمین آقای حسين طائب کو پاسداران انقلاب اسلامی کے ادارہ ے بسیج کے سربراہ کی مسؤولیت پر مقرر کیا۔
سپریم کمانڈر ان چیف(رہب معظم)کے حکم نامے کا متن اس طرح ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حجت الاسلام آقای حسین طائب، میجر جنرل سردار غلام رضا سلیمانی صاحب کی صیہونی و امریکی دشمن کے ہاتھوں باافتخار اور سربلند شہادت اور آپ کے بلند عزم و حوصلے، قابل قدر ذکر خدمات اور قیمتی تجربے کے پیش نظر جناب عالی کو سپاہ پاسداران انقلاب کے ادارہ ے بسیج کے سربراہ کے عہدے پہ مقرر کرتا۔ مملکت خداداد کے موجودہ حالات کو مد نظر درج ذیل امور کی تکمیل متوقع ہے۔
1۔ مقاومتی و بسیجی ثقافت کا فروغ اور استحکام اس مقصد کے تحت کہ[ہر ایرانی، ایک بسیجی]کا شعار تحقق پذیر ہوجائے۔ انقلاب اسلامی کی مضبوطی، اتحاد اور اس کی حفاظت کے لئے لوگوں اور کروڑوں جانبازوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا۔
2۔ عوامی معلوماتی نیٹورک کے استحکام، عوامی سطح دشمن کے خطرات سے ہمٹنے لئے ضروری تربیت اور مہارتوں میں اضافے کے ساتھ بصیرت کا فروغ اور جدید علوم و فنون کا استعمال۔
3۔ مسجد کو مرکز و محور بناتے ہوئے دیگر اداروں کے ساتھ تعمیری اور مؤثر سماجی خدمات کی فراہمی کے مقصد کے پیش نظر مختلف شعبوں اور محلوں میں جہادی نیز بسیجی یونٹس کا دائرہ کار وسیع کرنا۔
4۔ صیہونی و امریکی استکبار کے مقابلے میں پورے عالم میں مقاومت اور عوامی استقامت کے عظیم ہداف کے پیش نظر بسیجی ثقافت کو فروخ دینا۔
امید ہے کہ ہمارے مولا و آقا(امام زمانہ)کی دعائیں اور توجہات تمام بسیجیوں اور جناب عال کے لئے مسلسل کامیابیوں کا سبب قرار پائے۔
سید مجتبی حسینی خامنهای
