ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

ہفتہ وحدت کی مناسبت سے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنه‌ای کا پیغام

تفرقہ انگیزی کی ہر کوشش دشمن کے مقصد کی تکمیل ہے

يوم ولادت باسعادت حضرت ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص)اور حضرت امام‌ جعفر صادق(ع)کی مبارکباد کے ساتھ ہفتہ وحدت کی مناسبت پہ دیے گئے پیغام میں رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی خامنه‌ای نے امت مسلمہ کو کمزور کرنے کے لئے اختلافات کو اجاگر کرنے(کے منصونے)کو بدنیتوں اور اسلام دشمنوں کا منصوبہ قرار دیا، اور امریکہ کے جرائم پیشہ چہرے سے فریبانہ نقاب کے ہٹ جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اتحاد بین المسلمین، کفر کے مقابلے میں ایک دوسرے کا دفاع کرنا اور مختلف معاملات میں باہمی اشتراک و تعاون بڑھانے کو ضروری سمجھا اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے خطاب کرتے ہوئے تاکیدا فرمایا:"جعلی امریکی و صیہونی نظام کے جرائم پیشہ حکام، اتحاد بین المسلمين اور پوری امت مسلمہ اور اس کے ساتھ ساتھ شمالی افریقہ اور مغربی ایشیاء کی مظلوم اقوام کے جانی دشمن ہیں لہذا آپ(مسلم حکمران)اپنے دشمن کو پہچانیں اور اس کے منصوبوں کا(ڈٹ کر)مقابلہ کریں۔ ایران میں اسلامی مکتب فکر کے اتحاد پر مبنی اسباق(تعلیمات)کے کامیاب نفاذ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر پوری قوم پہ زور دیا کہ وہ کسی بھی صورت اپنے درمیان کسی قسم کے انتشار یا اختلاف کو پیدا ہونے نہ دیں"۔
 رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بِسۡمِ اللَّهِ الرَّحۡمَٰنِ الرَّحِيمِ
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ اللَّهِۚ وَالَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ 

میں عظیم انقلابی قوم اور پوری امت مسلمہ کو اس بابرکت موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جو اس ہستی کی ولادت باسعادت کا دن ہے جو"عظیم نوربخش ہستی، اشرف المخلوقات، چراغ فروزاں، خداوند متعال کے منتخب شدہ(بندے)، شہرِ علم، رحمت للعالمین اور عالم اسلام کے پیغمبر گرامی(ص)"اور اس کے ساتھ ان کے پاکیزہ دل فرزند، خدا کی ثابت حجت، حضرت امام جعفر صادق(ص) کی ولادت باسعادت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اس وقت سے کہ جب مکہ مکرمہ میں حضرت محمد مصطفی(ص)کا وجود آیا، سعادت بشری کا وہ امکان/محور جو بارگاہ الہی میں کمال بندگی پر منحصر ہے، ایک نئی آب و تاب سے جلوہ گر ہوا؛(رسول اللہ کی آمد سے)انبیاء، مقرب فرشتے، اور مقدس ہستیوں کی روحیں خوشی میں ڈوب گئیں جبکہ جنّ و انس میں موجود شیطان غصے، حسد اور غم و اندوہ کا شکار تھے۔ کیوں کہ بے شمار مخلوقات میں سے خداوند متعال کی برترین مخلوق اس دنیا میں قدم رکھ رہی تھی اور اس کے ساتھ بہت ہی جلد منصب نبوت و خاتم النبيين پہ فائز ہوکر اور قرآن عظیم اور بشریت کے تمام تر پہلوؤں کی ہدایات کے مشن کو لے کر چلا جائے تاکہ انسانیت کے عظیم قافلے کی سمت، خدا کی بندگی اور کمال کی جانب متعین کی جاسکے۔ آنحضرت(ص)اور ان کے باعصمت وصیّوں کی حیات طیبہ مکمل طور پہ ہدایت و بندگی، معرفت و محبت، عقیدہ و جہاد، زندگی گذارنے اور انفرادی و اجتماعی حسن اخلاق، امانت و صداقت، عزت و کرامت، علم و عمل، رحمت اور دو ٹوک موقف اپنانے، عدل و انصاف اور اتحاد و اخوت کا درس ہے۔ یہ درس جتنا بہتر انداز میں سیکھا اور اس پہ عمل کیا جائے بنی نوع انسان کے سعادت اور خوش نصیبی کی بلندیوں تک رسائی حاصل کرنا اتنا ہی آسان ہوگا۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر رحمت(ص)کی پاکیزہ روح اور اسی طرح ان کے پاکیزہ جانشینوں اور حجتوں کی پاک ارواح مسلمانوں اور معاشرے کے حالات پہ ہمیشہ پریشاں، ہدایت گر اور مہربان رہتے ہیں۔ جب بھی ان شفیق روحانی والدین کے فرزندوں سے کوئی خطا سرزد ہوتی ہے تو وہ رنجیدہ ہوتے ہیں اور جب بھی مومنین ان کے دستورات پہ عمل کرتے ہیں تو ان ہستیوں کے قلوب شاد ہوجاتے ہیں۔ اس دور میں، صدر اسلام سے آج تک اسلام اور اہل اسلام مشکل دور سے گذرنے اور متعدد فراز و نشیب طے کرنے کے بعد فیصلہ کن مرحلے پہ پہنچ چکے ہیں۔ آج مسلمان انتہائی موثر اور تاریخ ساز کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آج وہ دن ہے کہ جو حق کے باطل پہ، اور اسلام کے کفر پہ غلبے کا نظریہ ماضی کے تمام ادوار کی بنسبت تحقق پذیر ہونے کے زیادہ قریب ہوچکا ہے۔
اس اہم معاملے کی پہلی شرط مسلمانوں کا اتحاد ہے۔ عالمی کفر کے مقابلے میں وحدت مسلمین(اتحاد بین المسلمين)ایک قرآنی حکمت عملی اور خالص محمدی اسلام کی مستند تعليم ہے، کوئی معمولی اور عارضی مسئلہ نہیں۔ وحدت سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشروں کی عمومی سطح پہ، سب مسلمانوں کے درمیان مشترکہ نقاط کو محور اور اصل بنایا جائے۔ اس کے ساتھ کوشش ہماری کوشش ہوگی کہ معقول دلائل کی بنیاد پر، روحِ اخوت و یکجہتی کی عین رعایت کرتے ہوئے اور جیسا کہ قرآنی تعليمات سے ہمیں نتیجہ ملتا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ ہمراہی کرتے ہوئے، صلح و آشتی کی رعایت کرتے ہوئے، اختلافی نقاط کو مشترکہ نقاط میں بدلا جائے۔

ایک بات جو مسلمہ حقیقت ہے،اسلامی معاشروں میں ہر ایک مسلمان کو عالمی کفر سے نمٹنے کے لئے"أَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ "کو اپنے فکر و بیان کا محور قرار دیں اور اسی طریقے سے وحدت اور اتحاد بین المسلمين حاصل ہوسکے گا۔ جب بھی عمل درآمد کے اعتبار سے اس آسمانی پیغام کے دو میں سے کوئی ایک حصہ کم ہوگا تو مسلمان بھی اس والا مقام سے کہ جس کے مدینہ منورہ میں شاہد تھے، دور ہوجائیں گے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔
یہ اصول انقلاب اسلامی کے بنیادی اصولوں اور پیغامات میں سے ایک ہے۔ پہلے"ہفتہ وحدت"کے انعقاد کا تعلق، ایرانی سال 1356(تقریبا پچاس سال پہلے)اور ظالم پہلوی حکومت کے خلاف کی گئی جدوجہد کے دور سے ہے؛ اس وقت کہ جب عظیم الشان شہید رہبر نے ایران شہر(ایک ایرانی شہر کا نام)میں اپنی جلا وطنی کے دوران اس سوچ کو پیش کیا تو شیعہ و سنی دونوں مذاہب نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔انقلاب اسلامی کے بانی امام خمینی رح کی تدبیر سے انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد کچھ ہی عرصے اور نہایت تیزی سے "ہفتہ وحدت"نے سرکاری حیثیت حاصل کرلی۔ مسلمانوں کے درمیان وحدت کی معاملہ ایرانی قوم کے مابين ایک کامیاب حیثیت رکھتا ہے دشمنوں کی سازشیں اسے ناکام کرنے میں بے اثر رہی ہیں۔
(ہوشیار رہیں)بد نیت(لوگ)ہمیشہ اس عظیم نعمت کو مٹانے کے در پہ ہیں۔ وہ چیز جو انہیں(ہمارے مقابلے میں)امید دلاتی ہے، (امت مسلمہ کے مابین)اختلاف کا اجاگر ہونا ہے۔ اگرچہ مذہبی و عقیدتی معاملات میں اختلافات کا ہونا دشمن کے اہم  ترین مقاصد میں سے ایک ہے اور وہ اس سے بہت زیادہ امیدیں رکھتا ہے لیکن فقط اس پہ اکتفا نہیں کرتا اور اس کوشش میں رہتا ہے کہ مختلف نسلی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی اختلافات کو بہانے کے طور پہ استعمال کرے تاکہ ایران اور ہر اسلامی ممالک میں موجود مسلمانوں کے مابین اختلاف ایجاد کرنے کے طور پہ تبدیل کرے تاکہ امت مسلمہ کو بکھرتے ہوئے اور اس کی طاقت کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھ سکے اور ایک بہتر موقع پر ان اپنا تسلط قائم کر سکے۔ اس بارے میں قرآن کریم کا حکم اس آیت میں ذکر ہوا ہے"وَلَا تَنَٰزَعُواْ فَتَفۡشَلُواْ وَتَذۡهَبَ رِيحُكُمۡۖ"۔
لہٰذا، کوئی بھی شخص خواہ کسی بھی مقام پہ فائز ہو، وہ  کام کرے جو مسلمانوں کے درمیان تفرقے کا باعث بنے اور اس سے مسلم معاشرے میں انتشار پھیلے، چاہے وہ جان بوجھ کر ہو یا انجانے میں، قصدا ہو یا غیر ارادی طور پہ، گویا وہ دشمن کے مقاصد کو آگے بڑھا رہا ہے۔ آج کے دور میں کوئی کیسے اپنے ایسے عمل کو جہالت اور غفلت کا نام دے سکتا ہے، جبکہ عالمی طاغوتی طاقتوں کہ جن کا سرغنہ جرائم پیشہ امریکہ ہے اپنے متکبرانہ عزائم کے مکروہ چہرے سے دھوکہ دہی اور جاہ طلبی کے کمزور نقاب کو اتار پھینکا ہے، اور اپنے مکارانہ رویے کو الگ رکھ دیا ہے اور اپنے خون آلود پنچے دنیا پر عیان کردیے ہیں۔ آج وہ وقت ہے کہ مسلمان غور و فکر کریں اور واقعات کا دقت کے ساتھ جائزہ لیں۔ آیا اگر مسلمان ایک ہاتھ کی مانند ہوتے بوتے جو اپنی مٹھی کو مضبوطی سے  بند کرتا ہے، تو کیا فلسطینی قوم اس انداز میں بے یار و مددگار، قبضہ کرنے والوں کے ظلم و ستم اور جرائم کا نشانہ بنتی؟اور اگر خليج فارس کے قرب و جوار میں ساکن اقوام اور مسلم حکومتیں اسلام کے علم کے سائے میں اپنا اتحاد برقرار رکھتیں، تو کیا وہ بد عنوان، فاسد افراد ہزاروں کلومیٹر دور سے ان کی سرزمین اور اثاثوں پہ بری نظر ڈالنے کی جرات کرتے؟اسلامی حکومتوں کے حکمرانوں، بلخصوص مغربی ایشیاء اور خليج فارس کے حکمرانوں کی پرزور اور مکرّر نصیحت کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں، اس کی سازش کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں۔ امت مسلمہ کی مشکلات کا حل نیکی اور خیر کی راہ اتحاد، دوستی اور باہمی تعاون میں پوشیده ہے۔ امریکی جرائم پیشہ حکمران اور ناجائز صیہونی حکومت اس اتحاد اور دوستی کے سخت ترين دشمن ہیں۔ وہ فقط مقاومتی محاذ، اور انقلاب اسلامی کے دشمن نہیں بلکہ وہ پوری امت مسلمہ، مغربی ایشیاء اور شمالی افریقہ کی اقوام کے دشمن ہیں۔ یہاں تک کہ ان ممالک کے حکمران جن میں سے اکثر کو ان کا ہمنوا سمجھا جاتا ہے، بھی اس دشمنی سے محفوظ نہیں چنانچہ، عالمی استکبار کے راہنماؤں کی جانب سے بعض اسلامی سربراہان مملکت کی کھلی بے حرمتی اور ان کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال ہمارے اور آپ کی یادداشت میں موجود ہے۔
دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے اتحاد اور تفرقے سے اجتناب اسلام کا بنیادی درس ہے۔ دوسرا درس دشمن کے مقابلے میں ایک دوسرے کا دفاع اور تیسرا درس مسلمانوں کی زندگی کے روحانی و مادی پہلوؤں جن میں دولت، تحفظ، علم اور ترقی شامل یے میں باہمی تعاون اور اشتراک عمل کی مختلف صورتوں کا احاطہ کرتا ہے، جس کا حتمی مقصد جدید اسلامی تہذیب کا قیام ہے۔ یوں مسلمانوں کے مابين اتحاد ایک کامیاب اسلامی تہذیب و تمدن کے حصول کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فکری و نظریاتی ڈھانچہ جو اسلامی دنیا کے لئے ہمارے عزم و آرزو کی عکاسی کرتا ہے؛ ہمارے ملک عزیز میں کافی حد تک عملی جامہ پہن چکا ہے۔ لہٰذا میں ایک بار پھر قوم کے ہر فرد پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے درمیان کسی قسم کے اختلاف یا تفرقے کو ہرگز پیدا نہ ہونے دیں۔

والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاته،
سید مجتبی حسینی خامنه‌ای 
17 ربیع الاول 1448

700 /