ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

    • تقلید
    • احکام طهارت
    • احکام نماز
    • احکام روزہ
    • خمس کے احکام
    • جہاد
    • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
    • حرام معاملات
    • شطرنج اور آلات قمار
    • موسیقی اور غنا
    • رقص
    • تالی بجانا
    • نامحرم کی تصویر اور فلم
    • ڈش ا نٹینا
    • تھیٹر اور سینما
    • مصوری اور مجسمہ سازی
    • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
    • قسمت آزمائی
    • رشوت
    • طبی مسائل
      • حمل روکنا
      • اسقاطِ حمل
      • مصنوعی حمل
        پرنٹ  ;  PDF
         
        مصنوعی حمل
         
        س1272:
        الف۔کیا شرعی میاں بیوی کے نطفوں کو ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے ملانا جائز ہے؟
        ب۔ برفرض جواز،کیا مذکورہ عمل کو نامحرم ڈاکٹر انجام دے سکتا ہے؟ آیا پیدا ہونے والا بچہ مذکورہ میاں بیوی کا ہوگا؟
        ج۔ اگر بذات خود یہ عمل جائز نہ ہو تو اگر ازدواجی زندگی مذکورہ عمل پر موقوف ہو تو کیا حکم ہے ؟
        ج:
        الف: بذات خود مذکورہ عمل جائز ہے لیکن چھونے اور دیکھنے جیسے حرام مقدمات سے پرہیز کرنا واجب ہے ۔
        ب: مذکورہ طریقے سے پیدا ہونے والا بچہ صاحب نطفہ ماں باپ کے ساتھ ملحق ہوگا ۔
        ج: کہا جاچکاہے کہ مذکورہ عمل بذات خود جائز ہے۔
         
        س1273: بعض میاں بیوی ، زوجہ کے بیضے (Ovum)نہ ہونے کی وجہ سے کہ جن کا مصنوعی حمل کیلئے وجود ضروری ہوتا ہے ایک دوسرے سے جداہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں یابیماری کے علاج کے ممکن نہ ہونے اور اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دیگرنفسیاتی اور ازدواجی مشکلات کاشکار ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں کیا جائز ہے کہ کسی اور عورت کے بیضے لے کر سائنسی طریقے سے رحم سے باہر شوہر کے نطفے کے ساتھ ملا کر اسے بیوی کے رحم میں رکھ دیا جائے؟
        ج: مذکورہ عمل بذاتِ خود شرعاً اشکال نہیں رکھتالیکن پید اہونے والے بچے کا صاحب رحم عورت کا بچہ کہلانا مشکل ہے اور یہ نطفے والے مرد اور بیضے والی عورت کے ساتھ ملحق ہوگا لہذا نسب کے شرعی احکام کے سلسلے میں احتیاط کرنا ہوگی۔
         
        س1274: اگرشوہر کا نطفہ لیا جائے اور شوہر کے مرنے کے بعد اسے زوجہ کے بیضے(Ovum) کے ساتھ ملا کر زوجہ کے رحم میں رکھ دیا جائے توکیا
        ١۔مذکورہ عمل شرعا جائز ہے ؟
        ٢۔ جو بچہ پیدا ہوگا کیا وہ اس مرد کا بچہ ہوگا اور شرعی لحاظ سے اسکے ساتھ ملحق ہوگا؟
        ٣۔ مولود صاحب نطفہ کا وارث بنے گا ؟
        ج: مذکورہ عمل بذاتِ خود اشکال نہیں رکھتااور بچہ رحم والی عورت کے ساتھ ملحق ہو گا اور بعید نہیں ہے کہ اسے صاحب ِ نطفہ مرد سے بھی ملحق کیا جائے لیکن اس کاوارث قرار نہیں پائے گا۔
         
        س1275: ایک مرد جو صاحب اولاد نہیں ہوسکتا کیا کسی غیر مرد کے نطفے کو اسکی بیوی کے رحم میں رکھ کر اسکی بیوی کے بیضے کے ساتھ ملانا جائز ہے؟
        ج: غیر مرد کے نطفے کے ذریعے مصنوعی طور پر عورت کو حاملہ کرنا بذات ِ خود جائز ہے لیکن حرام مقدمات مثلاً لمس حرام اور نگا ہ کرنا وغیرہ سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔بہر حال مذکورہ طریقے سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ شوہر کا بچہ نہیں کہلائے گا بلکہ صاحب نطفہ مرد اور صاحب رحم وبیضہ عورت کا بچہ کہلائے گا ۔
         
        س1276:
        ١۔گر ایک شادی شدہ عورت یائسگی و غیرہ کی وجہ سے بیضہ بنانے کے قابل نہ ہو تو کیا اس شخص کی دوسری بیوی کے بیضے کو شوہر کے نطفہ سے ملاکر اسکے رحم میں رکھنا جائز ہے کیا اس بیوی یادوسری بیوی کے دائمی یا موقت ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق ہے؟
        ٢۔ دومیں سے کونسی عورت اس بچے کی ماں ہوگی صاحب بیضہ یا صاحب رحم ؟
        ٣۔ کیا مذکورہ عمل ایسی صورت میں بھی جائز ہے جہاں دوسری بیوی کے بیضے کی اس لئے ضرورت ہو کہ صاحب رحم بیوی کا اپنا بیضہ اس قدر کمزور ہے کہ اگراسے شوہر کے نطفے سے ملایا جائے تو اس بات کا خوف ہے کہ بچہ معذور پیدا ہوگا؟
        ج:
        ١۔خود یہ عمل شرعی طور پر جائز ہے اور اس حکم میں فرق نہیں ہے کہ دونوں بیویاں دائمی ہوں تا منقطع یا ایک دائمی ہو اور ایک منقطع۔
        ٢۔ بچہ صاحب نطفہ مرد اور صاحب بیضہ عورت سے ملحق ہوگا اور اس کا صاحب رحم عورت سے ملحق ہونا مشکل ہے لہذا نسب کے لحاظ سے احتیاط کرنا ضروری ہے۔
        ٣۔یہ کام بذات خود جائز ہے۔
         
        س1277: کیا مندرجہ ذیل حالات میں زوجہ اور اس کے مردہ شوہر کے نطفوں کو مصنوعی طریقے سے ملاناجائز ہے؟
        ١۔ شوہر کی وفات کے بعد لیکن عدت گزرنے سے پہلے؟
        ٢۔ شوہر کی وفات اور عدت گزرنے کے بعد ؟
        ٣۔ اگر پہلے شوہر کی وفات کے بعد عورت شادی کرلے تو کیا پہلے شوہر کے نطفے سے پیوند کاری کرناجائز ہے؟ اور کیا دوسرے شوہر کے مرنے کے بعد پہلے شوہر کے نطفے سے پیوند کاری کی جاسکتی ہے؟
        ج: مذکورہ عمل بذات ِ خود اشکال نہیں رکھتا اور اس بات میں کوئی فرق نہیں ہے کہ عدت ختم ہوچکی ہویا نہ نیز عورت شادی کرچکی ہو یا نہ اور اگر شادی کرچکی ہو تو فرق نہیں ہے کہ دوسرے شوہر کی زندگی میں یہ کام انجام پائے یا مرنے کے بعد ہاں اگر دوسرا شوہر زندہ ہو توضروری ہے کہ یہ عمل اس کی اجازت اور اذن سے انجام پائے۔
         
        س1278: آج کل رحم سے باہر ملائے گئے بیضوں کو بعض مخصوص جگہوں پر زندہ محفوظ رکھاجاسکتاہے تا کہ ضرورت کے وقت انھیں صاحب نطفہ کے رحم میں قرار دیا جائے آیا یہ عمل جائز ہے ؟
        ج: اس عمل میں بذات خود کوئی حرج نہیں ہے ۔
         
      • تبديلى جنس
      • لاش کو چیرنا پھاڑنا اور اعضا کی پیوند کاری
      • طباعت کے متفرقہ مسائل
      • ختنہ
      • میڈیکل کی تعلیم
    • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
    • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
    • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
    • ظالم حکومت میں کام کرنا
    • لباس کے احکام
    • مغربی ثقافت کی پیروی
    • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
    • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
    • داڑھی مونڈنا
    • محفل گناہ میں شرکت کرنا
    • دعا لکھنا اور استخارہ
    • دینی رسومات کا احیاء
    • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
    • تجارت و معاملات
    • سود کے احکام
    • حقِ شفعہ
    • اجارہ
    • ضمانت
    • رہن
    • شراکت
    • ہبہ
    • دین و قرض
    • صلح
    • وکالت
    • صدقہ
    • عاریہ اور ودیعہ
    • وصیّت
    • غصب کے احکام
    • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
    • مضاربہ کے احکام
    • بینک
    • بیمہ (انشورنس)
    • سرکاری اموال
    • وقف
    • قبرستان کے احکام
700 /