ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

    • حج کی فضيلت اور اہمیت
    • حج ترک کرنے کا حکم
    • حج اور عمرہ کے اقسام
    • حج تمتع اور عمرہ تمتع کا اجمالی ڈھانچہ
    • حج اِفراد اورعمرہ مفردہ
    • حج قِران
    • حج تمتع کے کلی احکام
    • پہلا حصه حَجة الاسلام اورنيابتي حج
    • دوسرا حصه عمرہ کے اعمال
    • تیسرا حصہ حج کے اعمال
    • حج اور عمرہ کے استفتائات
      • استطاعت
      • نیابتی حج
      • حج اِفراد اور عمرہ مفردہ
      • مکہ سے خارج اور اس میں داخل ہونا
      • میقات
      • احرام اور اسکا لباس
      • محرمات احرام
      • طواف اور اسکی نماز
      • سعی
      • مشعر (مزدلفہ)
      • حلق و تقصیر
      • ذبح اور قربانی
      • منیٰ میں رات گزارنا اور وہاں سے کوچ کرنا
      • رمی جمرات
      • متفرقہ مسائل
        پرنٹ  ;  PDF

        متفرقہ مسائل

          سوال ۱۳۰: مسجد الحرام کے فرش کو آب قلیل سے پاک کیا جاتا ہے اور آب قلیل کو ہی نجاست پر ڈالا جاتا ہے،  اس طرح سے کہ عموما نجاست کا اس جگہ باقی رہنا مشخص ہے،  تو کیا مسجد کے فرش پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟
          جواب:مذکورہ صورت میں مسجد کے تمام مقامات کا نجس ہونا ثابت نہیں ہے اور اسکی تحقیق و جستجو بھی ضروری نہیں ہے۔ بنا بر ایں مسجد کے فرش کے پتھروں  پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔
         
        سوال ۱۳۱: جب مسجد الحرام خون،  پیشاب یا کسی اور نجاست کی وجہ سے نجس ہو جاتا ہے اور  ملازمین اس کو پاک کرنے کے لئے جو طریقہ اپناتے ہیں وہ ہماری نظر میں پاک کرنے والی نہیں ہے تو ایسی حالت میں جو نماز  مسجد الحرام کی زمین  (گیلی ہو یا خشک)پر پڑھی جاتی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟
          جواب: جب تک  سجدے کی جگہ کے نجس ہونے پر یقین نہیں ہو تو اسکی نماز صحیح ہے۔
         
        سوال ۱۳۲: آیا کعبہ کے ارد گرد دائرے کی شکل میں نماز جماعت پڑھنا جائز اور کافی ہے؟
          جواب: وہ افراد جو امام کے پیچھے یا اس کے دائیں یا بائیں کھڑے ہوں انکی نماز صحیح ہے،  اور بنا بر احتیاط مستحب،  جو شخص امام کے دونوں اطراف میں سے کسی ایک طرف کھڑا ہے اسے چاہئے کہ امام جماعت اور کعبہ کے درمیانی فاصلے کی رعایت کرے اور امام سے زیادہ  کعبہ سے  نزدیک نہ ہو،  لیکن وہ افراد جو کعبہ کی دوسری طرف یعنی امام کے مد مقابل کھڑے ہوں انکی نماز درست نہیں۔
         
        سوال ۱۳۳: کیا  مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں سنی امام جماعت کے پیچھے نماز پڑھنا کفایت کرتا ہے؟
          جواب: مجزی ہے،  انشاء اللہ ۔
         
         سوال ۱۳۴: اہل سنت کے پیچھے نماز جماعت پڑھنا صرف ادا نمازوں میں جائز ہے یا قضا نمازوں میں بھی انکے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
          جواب: قدر متیقن اقتداء کا جواز صرف ادا نمازوں کے لئے ہے اور قضا نمازوں میں اقتداء کا صحیح ہونا محل اشکال ہے بلکہ منع ہے۔
         
        سوال ۱۳۵: اذان اور اقامت کے دوران مسجد الحرام اور مسجد النبی سے باہر نکلنے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ اس وقت اہل سنت مسجد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں اور ہمیں باہر نکلتا دیکھ کر باتیں کرتے ہیں اور عیب سمجھتے ہیں؟
          جواب: اگر یہ کام دوسروں کی نظر میں  اول وقت کی نماز  کو کم اہمیت دینے کے مترادف ہو  اور بالخصوص یہ بات مذہب کی توہین  کا باعث بن رہی ہو تو پھرجائز نہیں ہے۔
         
        سوال ۱۳۶: بعض استفتائات میں آیا ہے کہ آپ مکہ  مکرمہ کے ہوٹلوں میں نماز جماعت پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ کیا حج کے کاروانوں کے رکنے کی جگہوں اور گھر وغیرہ میں نماز جماعت برپا کرنا جائز ہے؟ اور اس بات کو بھی بتاتے چلیں کہ  یہ گھر اور مکانات صرف کاروانوں سے مختص ہیں اور یہاں نماز جماعت کا انعقاد حاجیوں کو مسجد الحرام میں جاکر نماز ادا کرنے سے روکنے کا سبب نہیں بنے گا۔
          جواب:اگر دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کر لے اور حاجیوں کے لئے د وسرے مسلمانوں کے ساتھ نماز جماعت  میں شرکت نہ کرنے کے الزامات  کا باعث بنے تو گھروں اور کاروان سرا میں بھی نماز جماعت جائز نہیں ہے۔
         

         سوال ۱۳۷: جس شخص نے  مکہ مکرمہ میں دس دن اقامت کی نیت کی ہے اس کے لئے عرفات ،  مشعر،  منی اور اسی طرح ان کے درمیانی فاصلوں میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
          جواب: اگر عرفات جانے سے پہلے اس نے مکہ میں دس روز قیام کا قصد کیا ہےاور اس نیت کے ساتھ کم از کم ایک چار رکعتی نماز بھی پڑھ لی ہے تو جبتک وہ کوئی نیا سفر انجام نہیں دے گا اقامت کے حکم باقی ہے،  اور اقامت کی شرط پوری ہو جانے کے بعد اسکا عرفات اور مشعر الحرام یا منی جانا سفر شمار نہیں ہوگا۔
         
        سوال ۱۳۸: نماز قصر پڑھنے یا پوری پڑھنے میں  اختیار کا حکم مکہ اور مدینہ کے تمام مقامات کے لئے ہے یا صرف مسجد الحرام اور مسجد النبی سے مختص ہے؟ اور یہ کہ ان دونوں شہروں کے نئے اور پرانے علاقوں کے درمیان کوئی فرق ہے یا نہیں؟
          جواب : قصر اور کامل نماز کے درمیان اختیار ان دونوں شہروں کے تمام مقامات کے لئے ہے،  اور علی الظاہر ان شہروں کے نئے اور پرانے محلوں کے درمیان بھی کوئی فرق نہیں ہے،  اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ قصر اور کامل نماز کا اختیار ان دونوں شہروں کے پرانے علاقوں ،  بلکہ تنہا ان دو مقدس مسجدوں سے مختص ہے اور ان مقدس مسجدوں کے علاوہ دونوں شہروں کے دوسرے مقامات پر نماز قصر پڑھی جائے،  مگر یہ کہ دس روز قیام کا قصد کیا گیا ہو۔
         
        سوال ۱۳۹: جو مشرکین سے برائت کے مراسم میں شرکت نہ کرے اس کی حج کے بارے میں کیا حکم ہے؟
          جواب: اس عمل سے اس کے حج کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،  اگرچہ اس شخص نے اپنے آپ کو خدا کے دشمنوں سے برائت کے اعلان کے مراسم کی فضیلت سے محروم رکھا۔
         
         سوال ۱۴۰: آیا کوئی خاتون حیض یا نفاس کے دوران  رواق مسجد الحرام اور مسعی کی مشترکہ دیوار پر بیٹھ سکتی ہے؟
          جواب: کوئی حرج نہیں ہے،  مگر یہ کہ  دیوارمسجد الحرام کا حصہ  ہونا ثابت ہوجائے۔
         
        سوال ۱۴۱: میری والدہ پیغمبر اکرم ﷺکی ذریت سے ہیں کیا میں بھی سید کہلاؤں گی؟ کیا میں اپنی ماہانہ  عادت کے ایام کو ساٹھ سال کی عمر تک حیض قرار دے سکتی ہوں اور  ان ایام میں نماز و روزہ انجام نہ دوں؟
          جواب: یائسگی کی عمر کا تعیین محل تامل اور احتیاط ہے۔ اور خواتین اس مسئلہ میں دوسرے مجتہد جامع الشرائط کی جانب رجوع کر سکتی ہیں۔
         
         سوال ۱۴۲: کوئی شخص اگر روئیت ہلال میں اختلاف کی وجہ سے اپنے وقوف اور روز عید پر شک کرے، اس کے حج کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا اسے حج کو دوبارہ انجام دینا چاہئے یا نہیں؟
          جواب: اگر وہ شخص  ذی الحجہ کی روئیت ہلال کے اثبات میں اہل سنت کے مفتی کے نظر اور فتوی کے مطابق عمل کرے تو  کافی ہے۔ پس جب بھی اس نے وقوف کو دوسرے لوگوں کے ساتھ انجام دے تو گویا اس نے حج انجام دیا ہے اور یہی کافی ہے۔

          سوال ۱۴۳:حج اِفراد بجا لانے کے لئے  شرعی مسافت کی مقدار وہاں کے باسیوں کے لئے سولہ فرسخ ہے ۔
          سوال الف : اس فاصلے کا تعین کہاں سے کیا جائے؟ اگر معیار جدہ کے آخری گھروں اور مکہ مکرمہ کے ابتدائی گھروں کو بنایا جائے،  تو آپ کی نظر میں کیا شہر مکہ میں توسیع ہو سکتی ہے اور کیا ہر وہ علاقہ کہ جس کو عرف عام میں مکہ کا جز سمجھا جاتا ہے مکہ کا حصہ ہے؟
          جواب: ہر وہ مکلف کہ جو مکہ کے نزدیک کسی قریہ یا شہر میں رہائش پذیر ہے،  اس کے لئے مسافت کا معیار،  اس کے اپنے شہر یا دیہات کا آخری نقطہ اور مکہ مکرمہ کا ابتدائی علاقہ ہے،  اور شہر مکہ میں توسیع ہو سکتی ہے،  اور فاصلے کے تعین کے لئے معیارمکہ کے اطراف میں واقع وہ علاقے ہیں کہ جنہیں لوگ موجودہ دور میں مکہ کا ہی حصہ سمجھتے ہیں۔
          سوال ب: کیا آپ کی نظر میں مسافت کی ابتدا مکلف جس علاقے میں رہایش پذیر ہے اس علاقے  کا آخری نقطہ  ہو گا؟
          جواب: جیسا کہ بیان کیا گیا،  مکلف کے لئے  اس کے شہر اور مکہ کے درمیان مسافت کا معیار،  اس کے اپنے علاقہ اورموجودہ شہر  مکہ کے درمیان کا فاصلہ ہے  اگرچہ احوط یہ ہے کہ اس فاصلے کی ابتدا  اپنے گھر سے کرے۔
         
         سوال ۱۴۴:اگر کوئی شخص مقام ابراہیم کی پشت پر تلاوت قرآن مجید،  دعا یا مستحب نمازوں میں مصروف رہنا چاہتا ہے جبکہ بھیڑیا اژدہام میں  لوگ مقام ابراہیم کے پیچھے نماز طواف بجا لانا چاہتے ہیں  تو کیا اس مکان میں تلاوت ،  دعا یا مستحب نمازوں میں مشغول رہ کر  واجب نماز طواف بجا لانے والے لوگوں کے لئے جگہ تنگ کرنا جایز ہے ؟
          جواب:مذکورہ مستحب عبادتوں کے لئے اولی بلکہ احوط یہ ہے کہ نماز طواف کے لئے بھیڑ یا اژدہام  ہونے والی جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ انجام دے۔
         
         سوال ۱۴۵: کیا مسجد النبی میں زمین پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سجدہ کے لئے ایسی چیز جس پر سجدہ صحیح ہے- کاغذیا چٹائی وغیرہ- کو سامنے رکھنے سے انسان مورد توجہ قرار پاتا ہے اور نمازی  مغرضانہ نظروں کی زد میں آجاتا ہے اور مخالفوں کو مذاق اڑانے کا بہانہ مل جاتا ہے؟
          جواب: جس جگہ تقیہ واجب ہو جاتا ہے وہاں پر انسان  زمین اور اس جیسی چیزوں پر سجدہ کرے اور ضروری نہیں ہے کہ نماز کے لئے کسی اور جگہ چلا جائے،  لیکن اگر اسی مقام پر بغیر زحمت اور تکلیف کے وہ کاغذ یا چٹائی وغیرہ  پر سجدہ کر سکتا ہو تو بنا بر احتیاط واجب انہی چیزوں پر سجدہ کرے۔
         
        سوال ۱۴۶: کیا مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی فرش کے پتھروں پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ اور کلی طور پر کن پتھروں یا فرش پر سجدہ کیا جاسکتا ہے؟ اور اینٹ اور مٹی کے برتن پر سجدہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
          جواب: سنگ مرمر اور ایسے دوسرے پتھر جنہیں  تعمیرات یا عمارتوں کی تزئین و آرایش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ان پر سجدہ کرنا صحیح ہے،  اسی طرح عقیق،  در اور فیروزہ وغیرہ پر بھی سجدہ کرنا صحیح ہے،  اگرچہ   احتیاط ہے کہ آخر میں ذکر کئے گئے پتھروں پر سجدہ نہ کیا جائے۔  اینٹ ،  چونے،  مٹی کے برتنوں،  اور سیمنٹ وغیرہ پر سجدہ کرنا بھی صحیح ہے۔
         
        سوال ۱۴۷: اگر کوئی شیعہ مسلمان اہل سنت کی کسی مسجد میں نماز جماعت سے پہلے دو رکعت نماز تحیت مسجد پڑھے،  کیا اسکے لئے جائز ہے کہ وہ کسی ایسی چیز پر سجدہ کرے جس پر سجدہ کرنا صحیح نہ ہو؟
          جواب: اگر اسلامی وحدت کا یہ تقاضا ہو کہ کسی ایسی چیز کا استعمال نہ کیا جائے جس پر سجدہ صحیح ہے تو یہ عمل جائز ہے۔
         
        سوال ۱۴۸: آیت اللہ صافی گلپائگانی کی مناسک حج کے اعمال پر مشتمل کتاب میں حج سے متعلق بہت سارے مستحب اعمال ذکر کئے گئے ہیں۔ ولی امر مسلمین کا ان اعمال کو انجام دینے کے سلسلے میں کیا حکم ہے؟
          جواب: ثواب کی امید کی نیت سے ان اعمال کے انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
         
         سوال ۱۴۹: مسجد الحرام  اور اس کے اطراف میں ٹھنڈے پانی کے نلکوں اور کولروں سے- کہ جو پینے کے لئے مختص کئے گئے ہیں- وضو کرنے کا کیا حکم ہے؟
          جواب: ایسا پانی جو وضو کرنےکے لئے مباح ہونے میں شک ہو تو ایسے وضو کے صحیح ہونے میں اشکال ہے بلکہ  منع ہے  ۔
         
        سوال ۱۵۰: لوگوں کے درمیان یہ بات رائج ہے کہ زیارت،  طواف یا عمرہ مفردہ جیسے مستحب اعمال کو اپنے لئے اور دوسروں کو ثواب پہنچانے کے لئے انجام دیتے ہیں کیا ایک ہی عمل  اپنی طرف سے بھی ہو اور دوسروں کی نیابت میں  بھی  ہو،  صحیح ہے ؟
          جواب: اپنے مستحب حج یا عمرہ میں دوسروں کو بھی شامل کرنا جائز ہے۔
         
        سوال 151: اگر اعلم نے کسی مسئلہ کے بارے میں فتوی نہ دیا ہو اور احتیاط واجب پر اکتفا کیا ہو،  لیکن فالاعلم نے احتیاط کا فتوی نہیں دیا ہو تو کیا مقلد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات  کو جان لے کہ اعلم مجتہد نے اس  مسئلہ کو احتیاط واجب قرار دیا ہے اور فالاعلم کی طرف رجوع کرنے کی نیت کرے یا یہی کافی ہے کہ اس نے اپنے شرعی وظیفے کو انجام دیا  ہے اور اسکا عمل فالاعلم کے فتوے کے مطابق تھا؟ دوسرے لفظوں میں،   مثال کے طور پر   احرام باندھنے کے لئے اعلم کی نظر احرام  کو قدیمی مکہ سے باندھنا  احتیاط واجب ہے اور فالاعلم  نے اس سلسلے میں احتیاط کا فتوی نہ  دیا ہو  اور اعلم کا مقلد نے جدید مکہ سے احرام باندھا  ہواور پھر حج کے اعمال  بجا لانےکے بعد  معلوم ہوجائے  کہ اعلم نے اس سلسلے میں احتیاط واجب کا فتوی دیا ہے،  تو  اس کا عمل صحیح ہے یا نہیں؟ اور اب اسکا کیا وظیفہ ہے؟
          جواب: اگر عمل انجام دیتے وقت اسکا عمل کسی ایسے مرجع کے فتوے کے مطابق ہو کہ شرعی طور پر جس کی تقلید پر وہ اپنے عمل کی بنا رکھ سکتا ہو تو اسکا عمل صحیح اور کافی ہے۔
         
        سوال 152: بعض مواقع پر بیت اللہ کے زائرین یا دوسرے مسافر نماز کے وقت ہوائی جہاز میں ہوتے ہیں۔ اور ہاں ہوائی جہاز میں نماز کی ادائیگی کے لئے طمانینہ اور استقرار  کے لئے کوئی مانع بھی نہیں ہےاب  اگر نماز کی دوسری شرائط مثلاً قیام،  قبلہ،  رکوع اور  سجود وغیرہ کی رعایت کی جائے،  تو کیا یہ جانتے ہوئے یا احتمال دیتے ہوئے کہ نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے مقصد تک پہنچیں گے اور جہاز سے اترنے کے بعد نماز ادا کر سکتے ہیں،  تو کیا جہاز میں نماز ادا کرنا کافی ہے یا نماز میں تاخیر کرنا ضروری ہے اور اگر اس حالت میں نماز پڑھے اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی جہاز اتر جائے تو نماز کا دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
          جواب: اگر بدن میں سکون اور استقرار اور رو بہ قبلہ ہونا ممکن ہو تو نماز صحیح اور مجزی ہے بلکہ اول وقت کی  فضیلت کو درک کرنے کے لئے نماز ادا کرنا افضل ہے۔
         
         سوال 153: مدینہ منورہ میں حاجت پوری ہونے کے لئے تین دن  روزے رکھنے  کا استحباب مسافروں سے مختص ہے یا مدینہ کے باشندےاور وہ شخص نے دس دن اقامت کا قصد کیا ہو اسکے لئے بھی یہ عمل مستحب ہے ؟
          جواب: یہ صرف مسافروں سے مختص نہیں ہے اور یہاں پر مسافر کا ذکر اسکے سفر کے دوران  روزے سے استثناء کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
         
         سوال 154: کوئی شخص مستحب عمرہ تمتع انجام دے رہا ہو وہ بغیر کسی عذر کے اپنی مرضی سے اسے ادھورا چھوڑ کر حج تمتع انجام نہ دے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اور اگر ایسا کرنا جائز ہے تو اس کے لئے طواف نساء انجام دینا ضروری ہے یا نہیں؟
          جواب: وہ عمرہ کو ادھورا چھوڑ سکتا ہے اور اسکے اوپر کوئی شے نہیں ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ طواف نساء انجام دے۔

700 /