ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
    پرنٹ  ;  PDF
     
    رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات

     

    جتنا ہوسکے مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں وہ اعمال زیادہ اور تکرار کے ساتھ انجام دیں جنہیں خداوند عالم پسندکرتا ہے،یہ ایسے اعمال ہیں جو  خالصانہ اور اللہ کے سامنے عاجزی کے ساتھ انجام دیے جائیں۔ وہ دعائیں جو وارد ہوئی ہیں یا وہ جو ان مقامات سےمخصوص نہیں ہیں—جیسے دعائے کمیل—ان کا اجتماعی طور پر پڑھنا بہت ہی نیک عمل ہے۔[1]
    حج ایک انسان کے لیے معنویت کے بیکراں ماحول میں داخل ہونے کا موقع ہے۔ ہم خامیوں اور مشکلات سے بھرپور اپنی  معمول کی زندگی سے خود کو نکال کر صفا، معنویت اور اللہ کی قربت  اور ریاضت سے معمور فضا میں لے آتے ہیں۔مناسک حج کے آغاز سے ہی ان چیزوں کوآپ  اپنے لئے حرام قرار دیتے ہیں جو معمولا مباح ہوتی ہیں۔ احرام کا مطلب ان چیزوں کو اپنے لئے حرام قرار دینا ہے جو عام اوقات میں جائز اور مباح ہوتی ہیں۔ ان میں بہت ساری چیزیں غفلت کا باعث بنتی ہیں اور بعض زوال کی طرف لے جاتی ہیں۔
    ظاہری اور مادی تفاخر کے تمام ذرائع ہم سے چھین لیے جاتے ہیں؛ سب سے پہلے لباس۔ عہدہ، مقام، رتبہ، اور قیمتی لباس، یہ سب ختم ہو جاتے ہیں اور سب ایک جیسے لباس میں آ جاتے ہیں۔  آئینے میں نہ دیکھیں، کیونکہ یہ خود پسندی اور خود نمائی کا ایک مظہر ہے۔ خوشبو کا استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ دکھاوے کا ایک ذریعہ ہے۔ چلتے وقت دھوپ یا بارش سے نہ بھاگیں اور چھت کے نیچے نہ جائیں، کیونکہ یہ آرام طلبی اور آسائش کی علامت ہے۔ اگر کسی ایسی جگہ سے گزریں جہاں بدبو ہو، تو اپنی ناک نہ بند کریں۔  اسی طرح احرام کے باقی تمام کاموں کا بھی یہی مقصد ہے؛ یعنی اس مدت کے دوران ان تمام چیزوں کو خود پر حرام کر لینا جو آرام و سکون کا باعث بنتی ہیں، یا نفسانی شہوات اور حرام جنسی خواہشات کو ابھارتی ہیں؛ چاہے وہ چیز فخر و غرور کا ذریعہ ہو یا امتیاز اور فرق پیدا کرنے والی ہو، یہ سب چیزیں ختم کر دی جاتی ہیں۔
    پھر بیت اللہ اور مسجد الحرام  میں داخل ہوتے ہیں جو پوری سادگی اور سجاوت سے خالی ہونے کے باوجود پرشکوہ اور عظمت سے بھرپور ہےاس  جلال و عظمت کو اپنی آنکھوں، اپنے ہاتھوں بلکہ پورے وجود سے محسوس کرتا ہے۔ یہ عظمت اور جلال مادی زینت و آرائش نہیں  بلکہ ایک ایسی روحانی اور باطنی شان و شوکت ہے جو عام انسانوں کے لیے بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔  پھر جب انسان حاجیوں کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا حصہ بنتا ہے، اور ایک مرکز کے گرد گریہ اور خشوع  کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کے ساتھ طواف کرتا ہے؛ پھر صفا و مروہ کی سعی بھی اسی کیفیت میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ عرفات اور مشعر میں وقوف  اور ایام منیٰ کی عبادات بھی اسی طرح ہیں اور یہی  حج ہے۔[2]
    جو لوگ مکّہ جاتے ہیں، وہ ان لمحات کو  مکّہ کو بازاروں میں گھومنے اور دکانوں کی سیر کی نذر نہ کریں۔ مکّہ ان بے اہمیت سرگرمیوں سے بہت برتر و بالا ہے۔ اگر تجارت کا شوق ہے تو بعد میں الگ سے کسی سفر میں جائیں، جہاں چاہیں جائیں۔ لیکن حج کے دوران ان  "ایام معلومات"  کو اپنے لیے، زیارت کے لیےاور یادِ خدا کے لیے محفوظ رکھیں، اور ان قیمتی دنوں کو بے وقعت کاموں میں ضائع نہ کریں۔ نمازِ جماعت میں شرکت کریں، اجتماعات میں شریک ہوں، اور حرمین شریفین میں نمازِ اوّل وقت کی جماعت کے ساتھ ادا ئیگی کو یقینی بنائیں۔ پورےایمان اور پرہیزگاری کے ساتھ  حاضر ہوجائیں جو ایرانی قوم کے شایان شان ہو۔[3]
    حج کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک بقائے باہمی ہے۔ ایسے افراد جو ایک دوسرے کو بالکل نہیں جانتے، مختلف ثقافتوں، علاقوں، رنگوں اور زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں یہاں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا ہوتا ہے۔[4]
    سیاسی اعتبار سے، حج کا مرکزی محور  امت مسلمہ کے اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ ہے۔ مسلمان بھائیوں کی ایک دوسرے سےدوری  سے دشمنوں کو موقع ملتا ہے اور امت کے درمیان تفرقے کا بیج پروان چڑھتا ہے۔ امت مسلمہ مختلف قوموں، نسلوں اور مسالک کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔ یہ تنوع، جو زمین کے ایک حساس اور اہم حصے میں جغرافیائی طور پر پھیلا ہوا ہے، خود اس عظیم امت کے لیے ایک قوت بن سکتا ہے۔ یہ تنوع ان کے مشترک ورثے، ثقافت اور تاریخ کو ایک وسیع دائرے میں زیادہ مؤثر اور کارآمد بنا سکتا ہے، اور انسانی و قدرتی صلاحیتوں کو اس امت کی خدمت میں استعمال کر سکتا ہے۔[5]
    حج، ان مستکبروں کے مقابلے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے، جو فساد، کمزوروں پر ظلم، قتل عام اور لُوٹ مار کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ آج امت مسلمہ کا عظیم پیکر ان کے ظلم و خباثت سے زخمی اور خون آلود ہے۔ حج، امتِ اسلامی کی عسکری اور ایمانی و ثقافتی  طاقت کی ایک شاندار نمائش ہے۔ یہی حج کی حقیقت، اس کی  روح، اور اس کے اہم ترین اہداف کا ایک حصہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے امام خمینی کبیرؒ نے "حجِ ابراہیمی" کا نام دیا تھا۔[6]
    وہ "حجِ ابراہیمی" جو اسلام نے مسلمانوں کو بطور ہدیہ عطا کیا ہے، عزت، معنویت، وحدت اور شکوہ و عظمت کا مظہر ہے۔ یہ حج امتِ اسلامی کی بزرگی اور خدا کی لازوال طاقت پرامت مسلمہ کے  اعتقاد کو دشمنوں اور بدخواہوں کے سامنے نمایاں کرتا ہے، اور اُنہیں اُس گندگی، ذلت اور محرومی سے ممتاز و الگ دکھاتا ہے جو عالمی غاصبوں اور مستکبروں نے انسانی معاشروں پر مسلط کر رکھی ہے۔
    اسلامی اور توحیدی حج اس نورانی کلام الہی  کا مظہر ہے: "أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ"[7]  یعنی کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں مہربان۔ یہ مشرکوں سے براءت اور اہلِ ایمان کے آپس میں باہمی  اُلفت و وحدت ظاہر کرنے کا مقام ہے۔[8]
     
     

    [1]  حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2022
    [2]  حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2007
    [3]  حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 1993
    [4]  حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2022
    [5]  حج کانفرنس کے موقع پر پیغام، 1995
    [6]  ایام حج کے موقع پر پیغام، 2019
    [7] فتح، آیت 29
    [8] ایام حج کے موقع پر مسلمانان عالم کے نام پیغام، 2015
700 /