ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی سے افغانستان کے صدر اشرف غنی کی ملاقات

سرحدی دریاوں کے موضوع کو جلد از جلد حل کیا جائے / افغانستان کی ترقی کو اپنی ترقی سمجھتے ہیں

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات میں ایران اور افغانستان کی مشترکہ سرحدوں اور عوام کے درمیان اعتقادی، ثقافتی اور تاریخی یکسانیت کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ افغانستان کی مصلحت اور اسکے امن و امان کے لئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں اور تمام میدانوں میں افغانستان کی پیشرفت و ترقی کو اپنی پیشرفت اور ترقی سمجھتا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے افغانستان کے عوام کو ہوشیار، غیرت مند اور شجاع قرار دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ افغانستان قدرتی ذخائر اور افرادی قوت جیسی دو عظیم نعمتوں سے مالامال ہے اور اگر ان نعمتوں سے مناسب طور پر استفادہ کیا جائے تو بہت اچھی پیشرفت اور ترقی حاصل کی جاسکتی ہے۔
آپ نے جنگ کے ایام اور اس کے بعد ایرانی عوام کی جانب سے افغان عوام کی میزبانی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ افغانستان کے عوام کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی نگاہ بعض دوسرے ممالک من جملہ امریکہ اور برطانیہ کے برخلاف ہمیشہ محترمانہ، برادرانہ اور مہمان نوازی پر مبنی ہے اور افغانستان کی جانب سے اپنے قدرتی ذخائر سے استفادہ کرنے کے سلسلے میں ایران، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے کسی قسم کی مدد سے دریغ نہیں کرے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح دونوں ملکوں کے مابین سرحد پر واقع دریاوں کے موضوع کو جلد از جلد حل کئے جانے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران اور افغانستان جنکی مشترکہ سرحدیں، ثقافت اور مشترکہ ضرورتیں ہیں، اس طرح کے مسائل انکے باہمی تعلقات میں شکوے شکایات اور ناراضگی کا سبب نہ بنیں۔
اس ملاقات میں صدر مملکت حسن روحانی بھی موجود تھے، افغانستان کے صدر اشرف غنی نے تہران سے معاہدوں خاص طور پر چابہار کے زریعے ہندوستان تک ٹرانزٹ کی بحالی کے معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ ایرانی عوام کی مہمان نوازی اور جناب عالی کی افغانستان کے لئے مثبت سوچ کی قدردانی کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ تہران سے مذاکرات کے بعد باہمی تعاون کے میدان میں گذشتہ سے زیادہ اضافے کے مواقع فراہم ہوں گے۔
صدر اشرف غنی نے مزید کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران مشترکہ سرحدوں پر واقع دریاوں سے استفادہ کئے جانے کے سلسلے میں ماہرین کی نشست کا انعقاد کیا جائے گا اور ہمیں امید ہے کہ یہ مسائل بہتر انداز میں حل ہوجائیں گے۔

 

700 /