ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

نۓ سوالات کے جوابات (‫‫فروری)

 
کاروباری معاہدہ
سوال1: ایک کاروباری معاہدے میں کام کے اختتام پر منافع کی تقسیم کے حوالے سے طے ہوا کہ تمام حاصل شدہ منافع میں سے اصل سرمایے کے دس فیصد کے برابر رقم سرمایہ کار کو ملے گی اور بقیہ عامل ﴿کاروبار کرنے والے﴾ کو دی جائے گی۔ اگر حاصل شدہ منافع اصل سرمایے کے دس فیصد سے کم ہوا تو تمام تر منافع سرمایہ کار کو ملے گا اور اگر کوئی منافع حاصل نہ ہوا تو اسے کچھ نہیں دیا جائے گا۔ کیا اس طرح کا معاہدہ صحیح ہے؟
جواب: اگر یہ معاہدہ، عقدِ وکالت کے ضمن میں ہو تو کوئی حرج نہیں، اس طرح کہ عامل ﴿کاروبار کرنے والا﴾ سرمایہ کار کی طرف سے وکیل بن جائے کہ رقم کو کاروبار میں صرف کرے گا اور سرمایہ کار کو منافع کا ایک حصہ بیان شدہ طریقہ کار کے تحت ادا کرے گا اور بقیہ مقدار کو اپنی اجرت کے طور پر خود رکھے گا۔
 
میراث تقسیم نہ کرنے کی وصیت
سوال2: کیا شرعی طور پر یہ وصیت کی جاسکتی ہے کہ مرنے کے بعد بچ جانے والی میراث کو جب تک ورثاء میں سے معین کردہ شخص زندہ ہو اس وقت تک تقیسم نہ کیا جائے یعنی میراث کی تقسیم اس معین کردہ شخص کی موت کے بعد تک موکول کر دی جائے؟
جواب: اگر تمام ورثا متوفی کی حیات میں یا اس کی موت کے بعد اس وصیت کو قبول کرلیں تو وصیت نافذ ہوگی، بصورت دیگر اس کے مال کے صرف ایک تہائی حصے پر نافذ ہوگی۔
 
انگور کی زکات
سوال3: ایک شخص جس کا انگور کا باغ ہے وہ انگوروں کی کشمش نہیں بنانا چاہتا﴿ مثلاً بیچنا یا پھل کے طور پر استعمال کرنا یا ان کا شیرہ بنانا چاہتا ہے﴾، کیا ان انگوروں پر زکات ہوگی؟
جواب: اگر انگور کی فصل کا وزن بالفرض کہ اس کی کشمش بنائی جائے تو نصاب کی مقدار ﴿847.207 کلو گرام کشمش﴾ تک پہنچ رہا ہو تو اس صورت میں زکات کا حساب لگا کر اس کی ادائیگی کرنا ضروری ہے۔
 
آرائشی پرندے کا ملنا
سوال4: طوطے، چڑیا وغیرہ جیسے ان آرائشی پرندوں کو پکڑنا جو کہیں سے ملے ہوں جبکہ ان کے مالک کے ملنے کا احتمال نہ ہو، کیا حکم رکھتا ہے؟
جواب: اگر پرندہ کسی شہر یا گاوں سے ملے اور اس میں ایسی کوئی نشانی ہو جس سے پتہ چلے اس کا کوئی مالک ہے تو اسے پکڑنا جائز نہیں ہے اور اگر پکڑ لے تو اس کی حفاظت کے اخراجات اسے اپنی جیب سے دینا ہوں گے اور ضروری ہے کہ اس کے مالک کو تلاش کرے اور اگر مالک کے ملنے سے ناامید ہوجائے تو ضروری ہے کہ خود پرندے یا اس کی قیمت کو مالک کی طرف سے صدقہ دے۔
 
زمین کے سائز اور کاغذات میں اختلاف کی صورت میں قیمت کا مطالبہ کرنا
سوال5: معاہدے ﴿بیع نامہ﴾ میں ایک اپارٹمنٹ کا رقبہ 88 میٹر بتایا گیا ہے لیکن کاغذات کی تیاری کے دو سال بعد پتہ چلا کہ پراپرٹی کا رقبہ 97 میٹر ہے، کیا بیچنے والے کو خریدار سے کچھ مانگنے کا حق ہے؟
جواب: اگر اپارٹمنٹ کو پیمائشی مقدار کی بنیاد پر (مثلاً اس صورت میں کہ فی مربع میٹر کی فلاں قیمت ہوگی) فروخت کیا گیا ہے تو چاہے اضافی رقبہ کی قیمت وصول کر لے یا معاملے کو فسخ ﴿منسوخ﴾ کر دے۔ تاہم اگر بیچنے والے نے اپنی یا کسی دوسرے کی پیمائش کی بنیاد پر طے شدہ رقم کے عوض اٹھاسی میٹر کا اپارٹمنٹ بیچا ہے﴿یعنی معاملہ فی مربع میٹر کی بجائے مجموعی طور پر 88 میٹر کے اپارٹمنٹ پر کیا جائے﴾ تو اسے صرف فسخ ﴿منسوخ﴾ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
 
معاملہ کی گئی چیز کے معیوب ہونے پر فسخ اور ارش لینے کا حق
سوال6: کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ میں نے جو گاڑی خریدی ہے اس کے انجن میں کوئی بڑا مسئلہ ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہ طرفین کے درمیان طے شدہ معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ گاڑی صحیح و سالم ہے اور خریدار کے لیے فسخ کرنے کا حق محفوظ ہے، کیا اتنا وقت گزرنے اور انتقال کے قانونی کاغذات بن جانے کے بعد مجھے شرعی طور پر معاملہ فسخ ﴿منسوخ﴾ کرنے کی اجازت ہے؟
جواب: آپ کو اختیار حاصل ہے کہ چاہیں تو معاملے کو فسخ کردیں یا بیچنے والے سے ارش لے لیں (صحیح اور خراب یا معیوب گاڑی کی قیمت میں جو فرق ہے اتنی رقم واپس لے لیں)۔
 
اولاد کا نفقہ
سوال7: اگر ایک عورت کی اپنی مستقل آمدنی ہو تو کیا اس پر اولاد کے نفقہ میں حصہ دینا واجب ہے؟
جواب: اگر اولاد کا اپنا کوئی مال نہ ہو تو ان کے نفقہ کی ذمہ داری باپ پر ہے اور اگر باپ فقیر ہو تو نفقہ کی ادائیگی دادا پر واجب ہوگی لیکن اگر وہ ﴿یا اس کے اجداد اگر زندہ ہوں﴾ بھی مالی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو اس صورت میں ماں پر نفقہ ادا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

 

700 /