ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

عید مبعث پیغمبر اسلام (ص)کی مناسبت سے عدالتوں سے بعض سزا یافتہ افراد کی سزاؤں میں تخفیف اور معافیت

 رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید بعثت کی مناسبت سے عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ شاہرودی کی طرف سےفوجی ، انقلابی ، تعزیراتی اور عام عدالتوں سے بعض سزا یافتہ افراد کی سزاؤں میں تخفیف اور بخشش کی درخواست سے موافقت کی ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نام عدلیہ کے سربراہ کے خط کا متن حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محضر مبارک رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای مد ظلہ العالی

با ہدیہ سلام و تحیات

پیغمبر اسلام (ص)کی بعثت کی بزرگ عید کی مناسبت (29 /4/1388)اور بنیادی آئین کی شق 11 کی دفعہ 110 کی روشنی میں تجویز پیش کی جاتی ہے کہ مذکورہ تاریخ تک ملک بھر کی فوجی ، انقلابی ، تعزیراتی اور عام عدالتوں سے جن سزا یافتہ افراد کی سزائیں مرحلہ اجرا تک پہنچ چکی ہیں مندرجہ ذیل تفصیل کے مطابق انھیں معاف یا کم کردیاجائے:

الف : قید کی سزا پانے والے افراد :

۱۔ تین سال تک قید کی سزا باقی ہو،چانچہ 29/4/1388 تک ایک چوتھائی سزا کاٹ لی ہو۔

۲۔ تین سال سےزیادہ سزا کا دو تہائي ، چنانچہ 29 /4 / 1388 تک اس کا پانچواں حصہ کاٹ لیا ہو۔

3۔ عمر قید کی سزا پانے والے افراد، چنانچہ 29/ 4/ 1388 تک 10 سال کی سزا کاٹ لی ہو تو ان کی سزا پندرہ سال کم کردی جائے۔

4۔ ان عورتوں کی قید کی باقی سزا جو قانونی حکم کی تاریخ سے قبل ایک یا چند فرزندوں کی سرپرست تھیں اور اب بھی ان کی قانونی سرپرست ہیں۔

5۔ اٹھارہ سال سے کم عمر قیدیوں کی قید اورجرمانہ کی سزا ( جن کی عمر جرم کے ارتکاب کے وقت 18 سال سے کمتر تھی) اور تحریری اسناد کی روشنی میں جن مردوں کی عمر65 سال اور جن عورتوں کی عمر 50 سال سے زائد ہو ، جن غیر ملکی شہریوں کے پاس معتبر اسناد نہیں ان کی صوبائی مراکز کے قانونی ڈاکٹروں کیطرف سے تائيد کے بعد ۔

ب) وہ افراد جو ناتوانی کی بنا پرنقدی جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے قید ہیں:

1۔ ایک لاکھ ملین ریال تک نقدی سزا باقی ہو۔

2۔ نقدی جرمانہ کی سزا ایک لاکھ ملین اور ایک ریال سے پانچ سوملین ریال تک کی سزا کو ایک پنجم تک کم کردیا جائے۔

نوٹ: متعدد سزاؤں کی صورت میں (عمر قید کی سزا کے علاوہ) دادناموں کی مجموعی سزاؤں کو محاسبہ کا ملاک قراردیا جائے گا۔

ج) عفو سے استفادہ کے شرائط:

1۔عمدی جرائم میں دو سے زیادہ بار سزا یافتہ نہ ہو۔

2۔ وہ قیدی جو پہلے معافیت سے استفادہ کرچکے ہیں اس صورت میں ان ضوابط سے استفادہ کرپائیں گے کہ اگر عمر قید کاٹ رہے ہیں تو ان کی پہلی معافیت کی تاریخ سے پانچ سال گذر چکے ہوں اور وہ افراد جو عمر قید کی سزا نہیں کاٹ رہے ان کی پہلی معافیت کی تاریخ سے قید کی سزا ایک تہائی باقی ہو۔

نوٹ: وہ سزا یافتہ افراد جو پہلے معافیت پاچکے ہیں لیکن نقدی جرمانہ کی وجہ سے قید میں ہیں اور اس کے ادا کرنے میں عاجز و ناتواں ہیں خصوصی مدعی نہ ہونے اور تمام جہات کے ثابت کی صورت میں معاف کئے جائیں۔

3۔ پہلی معافیت سے استفادہ کی صورت میں ،دس سال یا اس سے کمتر قید کی سزا یا نقدی جرمانہ کی باقی ماندہ سزا کے محاسبہ کا معیار معافیت کے نفاذ کے بعد ہوگا۔

4۔ خصوصی مدعی نہ ہویا 29/4/1388 کی تاریخ میں مدعی کی رضایت حاصل کرلے یا خصوصی مدعی کے ضرر ونقصان اور متضرر شخص ( حقیقی یا حقوقی) کا جبران و تلافی کرلی ہو۔

د) مندرجہ ذیل سزائیں اس معافیت سے مستثنی ہیں:

1۔ ماہر اسمگلر

2۔ مسلحانہ چوری

3۔ ناموس پر حملہ اور تجاوز

4۔ امنیتی جرائم میں سزا پانے والے افراد

5۔ محارب

6۔ ہتھیاروں کے اسمگلر

7۔ منشیات کی مسلحانہ اور منظم اسمگلنگ کرنے والے افراد

8۔ منشیات کے جرائم میں عمر قید یا بیس سال سے زیادہ کی سزا پانے والے افراد

9۔ اغوا ، رشوت ستانی اور غبن میں ملوث افراد

والامر الیکم والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید محمود ہاشمی شاہرودی

30/4/1388

بسمہ تعالی

با سلام و تحیت اور عید سعید مبعث کی مبارک باد کے ساتھ آپ کی تجاویز سے موافقت کی جاتی ہے۔

واسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید علی خامنہ ای

30 / تیر /1388

700 /