ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

صنعت کاروں اور کارخانوں کے مالکان سے ملاقات میں خطاب

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 30 جنوری 2022 کو ملک کے کچھ صنعت کاروں اور کارخانوں کے مالکان سے ملاقات میں، انٹرپرینیورز اور صنعت کاروں کو، امریکہ کے ساتھ معاشی جنگ میں، مقدس دفاع کے پاکیزہ طینت و با اخلاص سپاہیوں کی مانند قرار دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس خطاب میں اقتصادیات سے متعلق بڑی اہم گفتگو کی۔ رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل بعض صنعت کاروں اور کارباریوں نے اپنی تجاویز پیش کیں۔ (1) آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا خطاب حسب ذیل ہے؛

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

و الحمدللہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا محمّد و آلہ الطّاہرین و لعنۃ اللہ علی اعدائہم اجمعین.

عزیز بھائيو اور بہنو! آپ سب کا خیر مقدم ہے اور میں اس نشست میں موجود محترم عہدیداران، نائب صدر جناب مخبر صاحب(2) اور وزراء نیز صدر کے معاونین سے خاص طور پر تاکید کرتا ہوں کہ ان دوستوں کے بیانوں میں جو نکات تھے - جن بھائيوں نے بات کی اور جس محترم بہن نے تقریر کی - ان کے نکات پر توجہ دیں۔

ان نشست کا ایک اہم ترین فائدہ یہی ہے کہ آپ محترم عہدیداران، اقتصادی میدان میں سرگرم افراد کے مسائل کو، ان کے راہ کی رکاوٹوں کو براہ راست ان کی زبان سے سنتے ہیں۔ ان کی ساری باتوں سے میں نے جو اجمالی نتیجہ نکالا ہے وہ یہ ہے کہ عہدیداروں کے ذمے دو اصلی کام ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جناب مخبر صاحب اور دیگر احباب اس پر توجہ دیں۔ ایک: ملک کے پورے صنعتی ڈھانچے بالخصوص بعض صنعتوں کے لیے ایک اسٹریٹیجک روڈمیپ کی تیاری ہے اور دوسرے: سینٹرلائیزڈ مینیجمینٹ اور گائڈلائن ہے۔ البتہ میری رائے سے سبھی واقف ہیں؛ میں معاشی و اقتصادی سرگرمیوں میں حکومت اور حکومتی اداروں کی مداخلت سے اتفاق نہیں رکھتا لیکن ان کی رہنمائي، نگرانی اور مدد سے پورا اتفاق رکھتا ہوں، یہ کام ضرور ہونا چاہیے۔ بنابریں اسٹریٹیجک روڈ میپ اور جامع مینیجمینٹ، ضروری کاموں میں سے ایک ہے۔ ہمارے دفتر کے جو افراد یہاں ہیں، وہ ان نکات کو نوٹ کریں اور مجھے دیں جو دوستوں نے مجھے مخاطب کر کے بیان کیے ہیں اور ہم سے اور ہمارے دفتر سے جن چیزوں کا مطالبہ کیا ہے، ان شاء اللہ ہم انھیں دیکھیں گے۔

خیر، نومبر 2019 میں اسی جگہ پر ہماری ایسی ہی ایک نشست تھی۔ اس نشست میں جو لوگ موجود تھے اور جنھوں نے کچھ باتیں بیان کی تھیں انھوں نے ابھی کچھ ہفتے پہلے مجھے ایک خط لکھا، ان دو برسوں میں انھوں نے جو کامیابیاں حاصل کی تھیں، ان کا بھی تذکرہ کیا اور اپنی ناکامیوں کا بھی ذکر کیا۔ اس نشست کے بعد کے اس دو سال کے عرصے میں، بحمد اللہ، اس نشست میں شامل افراد نے اچھی کامیابیاں حاصل کی ہیں، کافی پیشرفت کی ہے، کچھ ناکامیاں بھی رہی ہیں؛ ان ناکامیوں میں سے کچھ کا تعلق حکومتی اداروں کی جانب سے ساتھ نہ دیے جانے سے ہے یعنی حکومتی اداروں کو جو مدد کرنی چاہیے تھی وہ انھوں نے نہیں کی؛ لہذا وہ کاروباری، وہ کام نہیں کر سکا جو اس کے پیش نظر تھا اور وہ اسے انجام دے سکتا تھا؛ بعض کا تعلق کچھ دوسرے اسباب سے ہے جیسے اسمگلنگ وغیرہ۔ البتہ پابندی کے مسئلے نے بھی کامیابیوں کی رفتار کو روکنے میں اپنی جگہ پر قابل توجہ کردار ادا کیا ہے۔

خیر میں اپنی باتوں کو اس طرح شروع کرتا ہوں کہ ہمارے ملک کی معیشت سنہ دو ہزار گیارہ میں، ایک بہت اہم اور بڑی کشمکش سے دوچار تھی۔ یعنی ہم معاشی جنگ کا سامنا کر رہے تھے۔ ہمارے مقابلے میں جو تھے ان میں اصل امریکی حکومت تھی اور یورپ اور بعض دیگر علاقوں میں اس کے حلیف تھے۔ باضابطہ طور پر انھوں نے اسلامی جمہوریہ سے جنگ شروع کی، جنگ کا اعلان بھی کیا۔ البتہ سنہ دو ہزار اٹھارہ سے دشمن کی طرف سے یہ جنگ زیادہ شدید ہو گئی۔ اس جنگ سے ان کا ہدف، ایران کی معیشت کا شیرازہ بکھیر دینا تھا، ان کا ارادہ یہ تھا۔ حالانکہ معیشت کا شیرازہ بکھیرنا اور ایران کی معیشت کو تباہ کرنا، عوام کو اسلامی جمہوری نظام کے مقابلے میں کھڑا کرنے اور اپنے خباثت آمیز سیاسی مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان کی ایک تمہیدی کارروائی تھی؛ دشمن کا اصلی ہدف یہ تھا۔ ان کا اندازہ غلط تھا؛ البتہ مجھے اس طرح بتایا گيا -میں نے خود تحقیق نہیں کی- کہ امریکیوں نے ایرانی معیشت کا شیرازہ بکھیرنے کے لیے ایک وقت بھی طے کر دیا تھا۔ چھے مہینے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ چھے مہینے میں ایران کی معیشت کو تباہ کر دیں گے۔ میں نے اس بات کے بارے میں تحقیق نہیں کی اور اسے نہیں جانتا لیکن مجھے یہی بتایا گيا- مگر دشمن یہ نہ کر سکا۔ چھے مہینے کے بجائے دس سال گزر چکے ہیں اور دس سال کے اس عرصے میں بھی جنگ کی شدت روز بروز بڑھتی ہی گئي ہے لیکن ملک میں پیداوار اور معیشت کا محاذ بحمد اللہ اپنی جگہ پر قائم ہے، زندہ ہے۔ وہ لشکر جو دشمن کے مقابلے میں ڈٹ گيا، آپ لوگ تھے۔ اس مقدس دفاع کے فوجی افسر، روزگار پیدا کرنے والے اور اچھے معاشی مینیجر تھے۔ اس کے سپاہی کے رول میں مزدور تھے۔ اس میدان کے بااخلاص سپاہی، مزدور تھے۔ اس پرافتخار کام میں -ملک کی معیشت کی حفاظت کے پرافتخار کام میں- آپ سب اور سارے کاروباری شامل ہیں۔ البتہ کچھ نقصانات بھی ہوئے ہیں جن کی طرف بعد میں، میں ایک مختصر اشارہ کروں گا۔

میرے خیال میں اگر ان برسوں میں حکومتی عہدیداران مزید تعاون کرتے، زیادہ لحاظ کرتے تو ہم زیادہ قابل فخر کارنامے انجام دیتے اور ہماری صورتحال، موجودہ صورتحال سے یقینی طور پر بہتر ہوتی اور یہ مسائل جو ان برسوں میں پیش آئے ہیں، ان میں سے بہت سے، حکومتی عہدیداروں کی مدد کے نتیجے میں رفع ہو جاتے۔

میں یہاں پر تاکید کروں گا کہ جن کامیابیوں کا آپ نے یہاں تذکرہ کیا ہے، اچھا ہوگا کہ انھیں عوام بھی سنیں؛ دشمن کے حربوں میں سے ایک نفسیاتی جنگ بھی ہے۔ اس معاشی اور حقیقی جنگ کے ساتھ دشمن ایک نفسیاتی جنگ بھی لڑ رہا ہے، معاشی شعبوں سے لے کر تمام مختلف میدانوں تک میں۔ اچھا ہے کہ عوام بھی آپ کی ان کامیابیوں کے بارے میں جانیں۔ قومی میڈیا اسے خود مینوفیکچررز کی زبانی نشر کرے۔ حکومتی عہدیداروں کی زبانی تو کچھ چیزیں نشر ہوتی ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ خود صنعت کاروں اور کاروباریوں کی زبان سے کچھ چیزیں اور کچھ حقائق بیان ہوں اور عوام ان سے مطلع ہوں۔

جہاں تک نقصانات کی بات ہے تو سنہ دو ہزار دس کے عشرے کے اقتصادی اعداد و شمار -ملک کے بڑے اقتصادیات کے اعداد و شمار- واقعی خوش آئند نہیں ہیں: ناخالص داخلی پیداوار میں پیشرفت کے اعداد و شمار، ملک میں سرمائے کی پیداوار کے اعداد و شمار، افراط زر کے اعداد و شمار، لکویڈٹی سے متعلق اعداد و شمار؛ یہ سب خوش آئندہ نہیں رہے ہیں۔ مشینوں کی فراہمی سے متعلق اعداد و شمار کسی بھی صورت میں مطلوبہ اعداد و شمار نہیں ہیں یا اسی طرح ہاؤسنگ وغیرہ۔ یہ وہ حقائق ہیں کہ اگر عہدیداران، ان اعداد و شمار کو مد نظر رکھتے ہوئے صورتحال کی بہتر انداز میں رہنمائی کر پاتے تو یقینی طور پر ملک کی معیشت کی حالت آج بہت بہتر ہوتی۔ ان حقائق کے اثرات، عوام کی زندگي میں سامنے آئے ہیں۔ یہ جو ہم عوام کی معیشت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہیں، وہ انھیں چیزوں کی وجہ سے ہے۔ ان مشکلات کا سبب صرف پابندی نہیں ہے؛ ہاں بلاشبہ پابندیاں مؤثر رہی ہیں لیکن صرف پابندی نہیں ہے؛ اس کا بڑا حصہ بعض غلط فیصلے یا ناقص کارکردگي وغیرہ سے متعلق ہے؛ اسے روکا جا سکتا تھا۔

تمام صاحب رائے افراد کے بقول، چاہے وہ ملکی صاحب رائے افراد ہوں یا غیر ملکی معاشی ماہرین، ہمارا ملک بڑی اقتصادی گنجائش کا حامل ہے؛ مطلب یہ کہ اقتصادی لحاظ سے آج ہماری جو صورتحال ہے اس سے کئي گنا بہتر ہو سکتی ہے۔ سارے وسائل پائے جاتے ہیں، ہمارے پاس بہت زیادہ سرمایہ اور ذخائر ہیں، بے تحاشا گنجائشیں ہیں کہ جن سے کارآمد، محنتی اور ہمدرد ڈائریکٹروں کو استفادہ کرنا چاہیے۔ اقتصادیات میں کامیابی کی مثالیں بھی ہیں؛ آپ ہی لوگ، جن لوگوں نے تقریر کی، یہ کامیاب مثالیں ہی تو ہیں نا! ان لوگوں نے ملک کی ان ہی گنجائشوں سے استفادہ کیا۔ بنابریں بحمد اللہ ہمارے پاس کامیاب مثالیں ہیں۔

اور وہ کارپوریٹس جو پابندیوں کے خاتمے کے منتظر نہیں رہے۔ آپ اپنی باتوں میں جن نکات سے استفادہ کر سکتے تھے، حالانکہ خود انھوں نے کھل کر نہیں کہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی ترقی و پیشرفت کے لیے اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ پابندیاں اٹھا لی جائيں یا فلاں جگہ ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچ جائيں! نہیں انھوں نے اپنا کام کیا، اپنی کوشش کی اور ان اچھے نتائج تک پہنچے بھی۔ یہ وہی بات ہے جسے میں ہمیشہ دوہراتا ہوں کہ ملکی معیشت اور ملک کی معاشی سرگرمیوں کو مشروط نہ کیجیے؛ فلاں کام پر، جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے، منحصر نہ کیجیے! ہم اپنے حوصلے اور ضرورت کے مطابق کام کریں۔ بحمد اللہ اس لحاظ سے ہمارے پاس بہت اچھی گنجائشیں ہیں۔

اس سلسلے میں، میں نے عہدیداران وغیرہ سے جو باتیں کہی ہیں، جو نصیحتیں کی ہیں وہ کافی ہیں اور میں انھیں یہاں دوہرانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ میں ہمیشہ ماہرین کے مشوروں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرتا ہوں۔ یعنی معاشی مسائل سمیت مختلف میدانوں کے ماہرین کی قدر کرتا ہوں، ان کی باتیں سنتا ہوں اور ماہرین کی رائے سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے اسے عوام تک، معاشرے تک اور ملکی عہدیداران تک پہنچا دیتا ہوں۔

مثال کے طور پر فرض کیجیے کہ کام کے ماحول کو بہتر بنانے، غیر ضروری اور پریشان کن ضابطوں کو ختم کرنے، لائسنس - کام کے لائسنس - کے حصول کو آسان بنانے، لائسنس حاصل کرنے کے لیے سنگل ونڈو بنانے - ان میں سے کچھ، کسی حد تک انجام پا چکے ہیں لیکن جیسا ہونا چاہیے، ویسا اب تک نہیں ہو پایا ہے - یا قوانین کا ثبات، معیشت کو قابل پیش بینی بنانا - ایسا ہو کہ کاروباری حساب کتاب کر سکے، اندازہ لگا سکے - سرمایہ کاری کی سیفٹی، پیداواری سرگرمیوں کے لیے حوصلہ افزا پالیسیوں پر تاکید، ملک میں پیداواری چین کو نالج بیسڈ بنانے پر لگاتار تاکید، بدعنوانی سے جنگ، ملکی صنعتوں کی حمایت، اسمگلنگ کی بھرپور روک تھام اور یہ ان ضروری کاموں میں سے ایک ہے جنھیں میں عہدیداروں سے زور دے کر کہتا ہوں کہ اس معاملے کو سنجیدگي سے لیجیے، سنجیدگي سے لیجیے؛ اسمگلنگ سے مقابلہ پوری طرح سے ٹھوس اور بے رحمانہ ہونا چاہئے۔ آپ یہ نہ دیکھئے کہ یہ فلاں سامان ہے، ہم اسے لائے ہیں تو اور استعمال کر لیں! نہیں، میں نے یہ کہا ہلے کہ اسمگل کر کے لائي گئي لگژری اشیاء کو، کرشنگ مشین کے نیچے ڈال کر کرش کر دیجیے ورنہ اگر آپ نے ان چیزوں کو کسی دوسری طرح بازار میں پہنچا دیا تب بھی وہی ہوگا، ملکی صنعت کو نقصان ہوگا؛ اور اسی طرح کی دوسری باتیں۔ ہمارے اپنے پروڈکشنز کے لیے نئی عالمی منڈیوں کی تشکیل، بجٹ میں خسارے کی بات، حکومت کا مالیاتی نظم و ضبط؛ یہ وہ باتیں ہیں جنھیں ہم نے ہمیشہ دوہرایا ہے۔ ان میں سے بعض باتوں پر عمل ہوا ہے اور ان کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں اور بعض پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ غیر ضروری قوانین کو کم کرنے اور کچھ دیگر باتوں پر واقعی توجہ نہیں دی گئي ہے؛ مثال کے طور پر مجھے کچھ اعداد و شمار دیے گئے ہیں کہ سن دو ہزار اٹھارہ سے سن دو ہزار اکیس تک صرف کسٹمز کے شعبے میں ڈیڑھ ہزار نوٹیفکیشن جاری ہوئے ہیں! تو ان میں سے کس پر عمل کریں؟ کس کو پڑھیں؟ ان چیزوں کو سنجیدگي سے روکا جانا چاہیے، کوشش کی جانی چاہیے۔

اور اب پروڈکشن کے بارے میں کچھ باتیں؛ ان گزشتہ کچھ برسوں میں ہم نے پروڈکشن پر بہت زیادہ تاکید کی ہے اور میرا ماننا ہے کہ پیداوار کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے جسے آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں، میں بھی اختصار سے کچھ عرض کروں گا۔ پہلے مرحلے میں جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ پیداوار ایک جہاد ہے: "اشھد انک جاھدت فی اللہ حق جھادہ"(3) یہ بات ہم ائمہ علیہم السلام سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں اور ہمیشہ کہتے ہیں؛ جہاد! آج پیداوار، جہاد ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جہاد کے معنی میں ہم نے بارہا کہا ہے کہ جہاد، اس کوشش کو کہا جاتا ہے کہ جو دشمن کے حملے اور دشمن کی ریشہ دوانیوں کے مقابلے میں ہو، دشمن کے مقابلے میں ہو۔ ہر کوشش، جہاد نہیں ہے؛ وہ کوشش جو دشمن کے حملے کے مقابلے میں ہو، وہ جہاد ہے۔

تو آج ملک کی معیشت کے خلاف دشمنوں کی عداوت کیا اس سے بھی زیادہ واضح ہو سکتی ہے؟ دشمن دو طرف سے آيا تاکہ ملک کی پیداوار کو تباہ کر دے: ایک سمت تو تیل اور گیس کی تھی جسے ملک کے زر مبادلہ کا سب سے اہم منبع اور ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ دوسری سمت لین دین کی تھی۔ یعنی تیل اور گيس کے میدان سے، جو زر مبادلہ کا بڑا اہم منبع ہے، ملک کو کچھ بھی حاصل نہ ہو، دنیا سے لین دین بھی محدود ہو جائے، مشکل کھڑی کر دی جائے، اس پر پابندی لگا دی جائے۔ مطلب یہ کہ اصل میں پیداواری شعبہ منہ کے بل زمین پر گر جائے، گھٹنے ٹیک دے، پوری طرح سے تباہ ہو جائے۔ اس کا یہی تو مطلب ہے۔ جب آپ کے پاس زر مبادلہ نہ ہو، غیر ملکی گاہک بھی نہ ہو تو پھر پیداوار کا کوئي مطلب ہی نہیں ہے؛ ان کا ہدف یہ تھا۔ اس ہدف کے مقابلے میں، اس کھلی دشمنی کے مقابلے میں جو بھی کوئي قدم اٹھائے، اس نے جہاد کیا ہے۔ آپ صنعت کار اس میدان میں کام کر رہے ہیں۔ یہ جہاد ہے۔ بنابریں اس نکتے پر توجہ دیجیے کہ ایک کام اس طرح کا ہے۔ اگر آپ کی نیت خدا کے لیے ملک کی خدمت اور عوام کی خدمت ہو تو یہ سب سے بڑی عبادتوں میں سے ایک ہے جو آپ انجام دے رہے ہیں۔

البتہ خوش قسمتی سے دشمن، پیداوار کے محاذ کو شکست نہیں دے سکا اور اس محاذ کو سر نہیں کر سکا؛ جی ہاں! عوام کی معیشت مسائل سے دوچار ہوئي، کچھ چوٹیں لگیں لیکن وہ ان برسوں میں پیداوار کے محاذ کو ہرا نہیں سکا جس کی مثال آپ لوگ عملی طور پر پیش کر رہے ہیں۔ آج خود وہ دشمن اعتراف کر رہا ہے کہ شدید ترین دباؤ کی پالیسی، امریکا کی ذلت آمیز شکست پر منتج ہوئي ہے۔ یہ امریکی وزارت خارجہ کے جملے ہیں کہ ان کے ترجمان نے ابھی کچھ دن پہلے ہی اس کا اعلان کیا۔ اس نے کہا کہ ایران کے خلاف شدید ترین دباؤ کی پالیسی، امریکا کی ذلت آمیز شکست پر منتج ہوئي ہے، یہ اس کا جملہ ہے۔ الحمد للہ؛ یہ اس کوشش کی وجہ سے تھا جو ملک میں انجام پائي۔ یہ شکست درحقیقت آپ کام اور روزگار پیدا کرنے والوں اور مزدوروں نے دشمن پر مسلط کی ہے۔

ایک نکتہ یہ ہے کہ میں نے پچھلے سال اعلان کیا تھا، "پیداوار میں تیز رفتاری"(4) پیداوار میں تیز رفتاری کی اہمیت ہے کیونکہ واقعی اگر آپ پیداوار کو تیز رفتار عطا کر سکے، تو ملک کے تمام اہم معاشی انڈیکیٹرز بدل جائیں گے، ان میں تبدیلی آ جائے گي؛ پیداوار اس طرح کی ہوتی ہے۔ یعنی پائيدار روزگار وجود میں آتا ہے، بے روزگاری کم ہو جاتی ہے۔ برآمدات میں رونق پیدا ہو جاتی ہے۔ ملک کے لیے زرمبادلہ کی آمدنی شروع ہو جاتی ہے۔ افراط زر کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ ان سب کے علاوہ ملک میں معاشی خودمختاری پیدا ہوتی ہے اور یہ قومی عزت و سربلندی کا سبب ہے - ممالک اپنی معاشی خودمختاری، اپنی داخلی معاشی صلاحیتوں پر فخر کرتے ہیں اور سربلند ہوتے ہیں- اس سے قومی عزت و سلامتی آتی ہے۔ قومی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور باہر سے مسلط کیے جانے والے یا ملک کے اندر پیدا ہونے والے جھٹکوں سے ملک کی معیشت برداشت کر لیتی ہے، البتہ استقامتی معیشت کی پالیسی کا جو اعلان ہوا(5) اس میں ان سب باتوں کو مدنظر رکھا گيا ہے اور بیان کیا گيا ہے۔

اس سلسلے ایک نکتہ کوالٹی کا ہے۔ ہم جب پیداوار پر تاکید کرتے ہیں تو ہمارا مقصد صرف بے تحاشا پیداوار نہیں ہے، کوالٹی بنیادی مسئلہ ہے۔ ایک بنیادی اصول کے طور پر پیداوار کی کوالٹی پر ضرور توجہ دی جانی چاہیے۔ اس سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ اگر آپ یہ دیکھتے ہیں کہ ملکی پروڈکٹس کی حمایت کی جاتی ہے - چاہے وہ ٹیرف اور بینکنگ سہولیات جیسی عملی حمایت ہو یا تشہیراتی حمایت جیسے میں اور بعض ملکی حکام نے ملکی پروڈکٹس کی حمایت پر تاکید کی ہے جس کا اثر پہلے بھی رہا ہے اور اب بھی ہے - تو یہ چیز کوالٹی بہتر سے بہتر ہونے اور اسی طرح ٹیکنالوجی بہتر ہونے پر منتج ہونی چاہیے۔ ٹیکنالوجی کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے لیکن فی الحال میں کوالٹی پر تاکید کر رہا ہوں کہ پروڈکٹس کی کوالٹی بہتر سے بہتر ہونی چاہیے۔

افسوس کی بات ہے کہ بعض ملکی پیداواروں میں ہم اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان میں کوالٹی پر توجہ نہیں دی جاتی؛ یہ بہت بری بات ہے۔ اتنے برسوں تک ملک میں آٹوموبائل صنعت کی اتنی زیادہ حمایت ہوئي لیکن گاڑیوں کی کوالٹی اچھی نہیں ہے؛ لوگ خوش نہیں ہیں، وہ ٹھیک کہتے ہیں، عوام حق بجانب ہیں؛ یعنی عوام کا اعتراض بجا ہے۔ یہ صنعت، خریدار کو راضی نہیں رکھ پائي ہے؛ آپ کو خریدار کو خوش رکھنا ہی ہوگا۔ اس لیے کوالٹی کا مسئلہ پہلے درجے کا مسئلہ ہے۔ اگر حمایت کے اس ماحول سے کوالٹی بہتر بنانے کے لیے بھی استفادہ نہ کیا جائے اور قیمت بڑھانے کے لیے غلط فائدہ بھی اٹھایا جائے تو یہ ایک دوسری مشکل ہے۔ قیمت بڑھا دیں اور کوالٹی بہتر نہ ہو لیکن حکومتی، تشہیراتی اور بینکوں وغیرہ کی مدد اور غیر ملکی سامانوں پر پابندی کے سبب قیمتیں بڑھ جائيں، یہ بہت بری بات ہے۔ مجھے ان دوستوں سے شکوہ ہے جو گھریلو سامان تیار کرنے والے ہیں۔ ہم نے ان کی حمایت کی اور ان کا نام بھی لیا۔ میں نے سنا ہے کہ بعض سامانوں کی قیمت دو برابر ہو گئی ہے؛ کیوں؟ مدد اور حمایت کا صلہ اس طرح نہیں دیا جانا چاہیے۔ اگر ہم کوالٹی بہتر نہیں بنائیں گے تو کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ غیر ملکی منڈیوں کو فتح کریں؟ کوالٹی بہت زیادہ مؤثر ہے؛ یہ ایک نکتہ۔

پیداوار اور پروڈکشن کے سلسلے میں ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ملک کو روزگار پیدا کرنے پر خاص توجہ دینی چاہیے؛ ملک کے بعض پروڈکٹس، بنیادی و اہم اور ملک کی حیاتی ضرورت کے پروڈکٹس ہیں؛ جیسے فرض کیجیے کہ تیل کی صنعت، فولاد وغیرہ کی صنعت، لیکن روزگار پیدا کرنے کے معاملے میں یہ بعض دیگر صنعتوں کی طرح نہیں ہیں۔ دیکھیے ان بنیادی صنعتوں پر توجہ دینا لازمی ہے، ضروری ہے، واجب ہے لیکن روزگار پیدا کرنے والی صنعتوں کی طرف سے غفلت ایک بڑی مشکل ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتی اداروں اور بینکوں کو ایسا کام کرنا چاہیے کہ پیداوار، صحیح معنی میں روزگار پیدا کرنے کی سمت میں آگے بڑھے۔ کیونکہ روزگار کا مسئلہ، ملک کے لیے ایک حیاتی مسئلہ ہے۔ اور یہ اہم صنعتیں بھی اپنے ارد گرد، روزگار پیدا کرنے والی صنعتوں کی ایک چين تیار کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تیل کی صنعت کے ذیل میں بہت ساری صنعتیں موجود ہیں، جن کا ایک نمونہ پیٹرو ریفائنریز ہیں، جس کا قانون پارلمینٹ میں سنہ دو ہزار انیس میں پاس ہوا اور اس وقت کی حکومت کے حوالے بھی کر دیا گيا لیکن افسوس کہ اس پر کام نہیں ہوا، اس پر کام کیا جانا چاہیے۔ یہ صنعتیں، عوام کے متوسط سرمایوں کو بھی روزگار کے میدان میں لے آتی ہیں اور روزگار بھی پیدا کرتی ہیں۔ فولاد کی صنعت جیسی بعض دیگر صنعتوں میں بھی اس قسم کے نمونے موجود ہیں۔ بینکنگ سہولیات کو اس سمت میں آگے بڑھنا چاہیے کہ روزگار پیدا کرنے والی صنعتوں پر زیادہ توجہ دی جائے۔

ایک دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہم نے کچھ برسوں سے نالج بیسڈ کمپنیوں پر بہت زیادہ تاکید کی ہے؛ کئي بار دوہرایا ہے، بیان کیا، حمایت کی ہے اور یہ بہت اچھا بھی رہا ہے یعنی کئي ہزار نالج بیسڈ کمپنیاں وجود میں آ گئي ہیں اور اس سلسلے میں اچھی کوششیں بھی ہوئي ہیں، چھوٹی اور متوسط یونٹس وجود میں آئي ہیں۔ لیکن جو چیز غفلت کا شکار ہوئي ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی بڑی صنعتوں کو نالج بیسڈ کریں۔ تیل کی صنعت کو نالج بیسڈ ہونا چاہیے۔ تیل کی صنعت کے میدان میں ہم ٹیکنالوجی میں پچھڑے پن کا شکار ہیں۔ خطے کے بعض ممالک، تیل نکالنے اور اس سلسلے میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے معاملے میں ہم سے کافی آگے ہیں، اس فیلڈ میں ہم پچھڑے پن کا شکار ہیں۔

تو اس پچھڑے پن کی تلافی کون کرے؟ کس سے مدد حاصل کی جائے؟ کیا ضروری ہے کہ ایک غیر ملکی کمپنی ہمارے لیے ٹیکنالوجی لائے؟ نہیں، میں اسے نہیں مانتا۔ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں کس طرح کام کرتی ہیں۔ وہ آتی ہی نہیں ہیں اور اگر آتی بھی ہیں تو امانت داری کے ساتھ کام نہیں کرتیں، يا آتی ہیں تو کسی بہانے سے کام کو بیچ میں ہی چھوڑ دیتی ہیں، یا آتی ہیں لیکن غلط فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہیں یہ بات بھی واضح کر دوں کہ میں غیر ملکی کمپنی کے آنے کا سرے سے مخالف نہیں ہوں لیکن ہمیں انتخاب کرنا چاہیے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ کارآمد داخلی یونٹس ہمارے لیے یہ کام کر سکتی ہیں؛ میرا ماننا یہ ہے۔ میرے خیال میں مثال کے طور پر اگر تیل کی صنعت کے عہدیداران، جوانوں سے درخواست کریں اور ان کی رائے معلوم کریں اور انھیں جو مدد چاہیے اسے ہمارے پڑھے لکھے، سائنٹسٹ، باصلاحیت اور کام کا جذبہ رکھنے والے جوانوں کو بتائيں تو یقینی طور پر وہ بہت ساری مشکلات کو دور کر سکتے ہیں۔ اس کے کئی نمونے ہم قریب سے دیکھ چکے ہیں؛ مثال کے طور پر نوجوانوں کا ایک گروہ میرے پاس آيا اور کہنے لگا کہ ہم تیل کے شعبے میں فلاں فلاں کام کر سکتے ہیں۔ ہم نے انھیں وزارت پیٹرولیم سے ملوا دیا - ایک دو سال پہلے کی بات ہے، کورونا سے پہلے کی - ان لوگوں نے اہم کام انجام دیے اور اس وقت کی وزارت پیٹرولیم کے عہدیداروں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان لوگوں نے ہمارے لیے بڑے بڑے کام انجام دیے ہیں۔ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہماری مختلف صنعتوں میں، جیسے اسی تیل کی صنعت میں، ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کا کام صرف غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے ہی انجام پا سکتا ہے۔ نہیں، نوجوان سائنسدانوں سے کام کہیے، انھیں اپنی حمایت سے خوش رکھیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ یہ کام کر سکتے ہیں، وہ آپ کے لیے کام کے بہترین نتائج فراہم کریں گے، میرے خیال میں تو ایسا ہی ہے۔

جہاں کہیں بھی ہمارے جوانوں پر بھروسہ کیا گيا اور ان سے کوئي کام چاہا گيا، واقعی انھوں نے زبردست طریقے سے انجام دیا، واقعی زبردست کام کیا، تمام شعبوں میں، کورونا کی ویکسین سے لے کر درستگی سے نشانہ لگانے والے میزائیل(loitering missile) تک۔ کورونا ویکسین کے معاملے میں انھوں نے سب سے اچھی ویکسین فراہم کی، میزائل کے معاملے میں بھی انھوں نے سب سے صحیح نشانہ لگانے والے میزائيل (loitering missile) تیار کیے۔ نینو صنعت میں وہ رینکنگ میں بالکل اوپر پہنچے، اسٹیم سیلز کے میدان میں، جس وقت دنیا میں یہ کام کرنے والے ممالک بہت کم اور نادر تھے، ہمارے نوجوان اس اہم علم اور انتہائي اہم حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے آپ کو اگلی قطار میں پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ بایو ٹیکنالوجی میں انھوں نے مجموعی طور پر نمایاں کام انجام دیے۔ ہمارے جوان کام کر سکتے ہیں، میرے خیال میں وہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں ان صلاحیتوں کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے کام کروانا چاہیے؛ وہ تیل نکالنے کے میدان میں اہم کام کیوں نہیں کر سکتے؟ کیوں؟ کر سکتے ہیں، یقینا کر سکتے ہیں۔ اگر ان سے کام کرنے کو کہا جائے گا، ان کی مدد کی جائے گي، حمایت کی جائے گي تو وہ کام کر سکتے ہیں۔

ایک دوسرا نکتہ جسے ہم پہلے بھی کئي بار بیان کر چکے ہیں۔ اس وقت بھی کہ جب محترم حکومتی عہدیداران یہاں ہیں، ایک بار پھر تاکید سے کہتا ہوں کہ بینکنگ کریڈٹس کو پیداوار کی جانب موڑئے! اس کا بینکوں سے مطالبہ کیجیے! بینکوں کے لیے لازمی قرار دیجیے! رزرو بینک اس سلسلے میں سنجیدگي سے کام کر سکتا ہے۔ ملک میں لکویڈٹی کی پیشرفت اور قومی ناخالص پیداوار کی پیشرفت کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے؛ کیوں؟ کیوں کریڈٹس اس طرح استعمال ہوں کہ بے تحاشا لکویڈٹی بڑھے اور ملک میں پیداوار کی پیشرفت میں اس کا کوئي رول نہ ہو؟ اس صورتحال کو بدلنا چاہیے؛ یہ حکومت کے محترم عہدیداروں کا کام ہے۔ جناب مخبر صاحب سے، جو بحمد اللہ ایک باصلاحیت انسان ہیں اور ملک کے دیگر معاشی عہدیداروں سے توقع ہے کہ وہ اس کام کو انجام دیں گے۔ یعنی بینکوں سے لین دین روک دیجیے اور یہی موضوع کہ جو کریڈٹس دیے جاتے ہیں، وہ پروڈکشن کے لیے دیے جائيں، اس کام پر سینٹرل بینک کی نگرانی یقینی طور پر مؤثر ہوگي۔ یہ چیز، بہت اہم اور کلیدی ہے۔ تو یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔

ایک دوسری بات زراعت سے متعلق مسائل کے بارے میں ہے۔ یہاں پر گرین ہاؤس زراعت کے بارے میں بات کی گئي، جو تصویریں دکھائي گئيں، وہ قابل توجہ تصاویر تھیں، جو باتیں کہی گئيں وہ اچھی باتیں تھیں۔ البتہ یہ گرین ہاؤس زراعت اور اس جیسی چیزیں اہم بھی ہیں لیکن گرین ہاؤس زراعت سے ملک کا انتظام نہیں چلایا جا سکتا۔ ہمارے پاس مٹی ہے، زمین ہے، پانی ہے، ہمیں صحیح استعمال کا طریقہ تلاش کرنا چاہیے۔ مٹی کی بربادی کو روکنا چاہیے۔ پانی کو برباد ہونے سے روکنا چاہیے۔ پانی برباد ہوتا ہے۔ میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے پاس پانی اور مٹی کے صحیح استعمال کے بارے میں منصوبے ہیں جو آزمائے جانے کی قابلیت تو رکھتے ہی ہیں۔ ان کی باتیں سنی جانی چاہیے۔ ان سے تعاون کی درخواست کی جانی چاہیے تاکہ ہم اپنے ملک کی زراعت کو فروغ دے سکیں، زراعت کو بھی نالج بیسڈ کیا جائے۔

ہمارے یہاں زراعت کے علوم میں تعلیم مکمل کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ایک بار میں کسی صوبے کے دورے پر تھا، وہاں مجھے بتایا گيا کہ اس شہر میں زراعت کی تعلیم حاصل کرنے والا کوئي بھی شخص بے روزگار نہیں ہے اور ان کی تعداد کافی تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہاں زراعت کے علوم میں تعلیم مکمل کرنے والوں کی کافی تعداد ہے جن میں سے کوئي بھی بے روزگار نہیں ہے۔ ان سب کو کھیتوں میں، مختلف طرح کے مزرعوں میں اور زراعت کے کاموں میں رکھا گيا ہے اور کسان ان کی باتوں سے استفادہ کرتے ہیں؛ یعنی وہ ان کی تجاویز کا فائدہ دیکھتے ہیں، مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کے لیے فائدہ نقد ہے۔ زراعت کو تکنیکی بنایا جائے اور پانی کے استعمال میں کفایت شعاری پر حقیقی معنی میں عمل کیا جائے۔ یہ بھی ایک بات تھی۔

جو بات میں نے شروع میں اسٹریٹجک روڈ میپ کے بارے میں کہی تھی، صنعت کے بارے میں بڑے اسٹریٹیجک پلان کے سلسلے میں وہ بہت اہم چیز ہے؛ اس پر کام کیجیے۔ ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک دستاویز تیار ہو۔ اس سلسلے میں ملک کے صنعتی اسٹریٹیجک روڈ میپ کا دستاویز تیار کیجیے اور اسے پاس کیجئے۔ ایک دوست نے اشارتا کہا کہ حکومتوں کے آنے جانے اور حکومتوں کی تبدیلی سے پروگرام تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر یہ چیز ایک منظور شدہ قانونی دستاویز کی شکل میں ہو تو اس سے برسوں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ خیر کچھ باتیں اور بھی ہیں لیکن نشست تھوڑی طویل ہو گئي، وقت بھی ختم ہو گيا۔

امید ہے کہ ان شاء اللہ خداوند متعال آپ سب کو توفیق عطا کرے، آپ کی مدد کرے۔ میں ان سبھی دوستوں کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو پیداوار اور اقتصادی پیداوار کی سرگرمیوں کے سلسلے میں کوشش کر رہے ہیں اور جو برادران حکومت میں عہدیدار ہیں، مختلف شعبوں کے ذمہ دار ہیں یا پارلیمنٹ میں جو برادران متعلقہ کمیشنز میں سرگرم ہیں، ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اس اہم مسئلے یعنی ملک میں پروڈکشن کے مسئلے پر خصوصی توجہ دیں اور رکاوٹوں کو دور کریں۔

اس سال کے نعرے میں ہم نے کہا (پیداوار کی) 'حمایت اور رکاوٹوں کا ازالہ'(6) حمایت و پشت پناہی اپنی جگہ اہم ہے ہی لیکن میری نظر میں رکاوٹوں کا ازالہ پشت پناہی سے بھی بڑھ کر ہے۔ یعنی پروڈکشن کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں، انھیں برطرف کیجیے۔ آپ انھیں برطرف کر سکتے ہیں۔ بحمد اللہ حکومتی عہدیدار کام کرتے ہیں، میں دیکھتا ہوں کہ واقعی وہ کما حقہ کوشش کرتے ہیں۔ ان کوششوں کو جاری رکھیے، انھیں معاشرے کے حقائق کے مطابق بنائیے، ان رکاوٹوں کو دور کیجیے، ان شاء اللہ کچھ ہی عرصے بعد عوام کی روز مرہ کی زندگي میں اس کے اثرات نظر آنے لگیں گے۔

خداوند متعال سے آپ سب کے لیے توفیق کی دعا کرتا ہوں، امام خمینی کی پاکیزہ روح اور ہمارے عزیز شہداء کے لیے لطف و رحمت الہی طلب کرتا ہوں، ایران، ایرانی قوم اور ملکی حکام کے لیے فیض الہی کی دعا کرتا ہوں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

(1) اس ملاقات کے آغاز میں پیداوار اور مینوفیکچرنگ کے مختلف شعبوں سے وابستہ چودہ افراد نے اپنے خیالات اور نظریات بیان کیے۔

(2) جناب محمد مخبر سینیئر وائس پریسیڈنٹ

(3) مصباح المتہجد و سلاح المتعبد، جلد 2، صفحہ 738

(4) 20 مارچ 2020 کو ایرانی نئے سال اور نوروز کی مناسبت سے تقریر

(5) استقامتی معیشت کی بنیادی پالیسیوں کا نوٹیفکیشن (18/2/2014)

(6) نئے ایرانی سال کی مناسبت سے خطاب (20/3/2021)

/+