بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
و الحمد للّہ ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیّۃ اللّہ فی الارضین.
تمام معزز خواتین کو، بالخصوص عزیز شہداء کے خانوادوں کو، اور خصوصاً حالیہ شہداء کے اہلِ خانہ کو دل کی گہرائی سے خوش آمدید عرض کرتا ہوں؛ وہ شہداء جو ملک کی طاقت اور اسلامی جمہوریہ کے اقتدار کی روشن علامت تھے۔ نیز ان معزز خواتین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے یہاں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جو کچھ یہاں کہا گیا—خواہ وہ شہید رشید کی اہلیہ اور شہید امینعباس رشید کی والدہ کی جانب سے ہو یا شہید سلامی کی صاحبزادی کی طرف سے—مضمون و معنی کے اعتبار سے بھی نہایت گراں قدر اور بھرپور تھا، اور اس سے ان محترم خواتین، بلکہ ہمارے ملک کی ایثار پیشہ خواتین کے روشن ذہن اور بلند فکر کی عکاسی ہوتی تھی؛ اور اسلوب و متن کے لحاظ سے بھی نہایت شیریں اور دل نشیں تھا۔ میں تمام خواتین کا، اور خصوصاً ان محترم خواتین کا، تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔
یہ ایّام حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمہ زہرا (سلامُ اللہ علیہا) سے منسوب ہیں۔ میں پہلے اس عظیم ہستی کے بارے میں ایک مختصر جملہ عرض کروں گا، اس کے بعد عورت اور خواتین کے مسئلے پر—جو آج دنیا میں ایک نمایاں اور زیرِ بحث موضوع ہے—چند باتیں عرض کروں گا۔
حضرت فاطمہ زہرا (سلامُ اللہ علیہا) کے فضائل اگر شمار کیے جائیں تو ان کی کوئی حد و انتہا نہیں۔ اگر ایک ہی جملے میں اس عظیم شخصیت کا تعارف کرانا ہو تو کہنا پڑے گا: ایک عرشی انسان، ایک کامل انسان؛ جیسے دیگر معصومین—انسان تو ہیں، مگر اہلِ عرش ہیں۔ ہم اہلِ فرش، زمینی انسان، ان کے مرتبے، مقام اور نورانیت کو نہ پوری طرح دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس پر نگاہ جما سکتے ہیں؛ جیسے انسان سورج کے سامنے براہِ راست نگاہ نہیں ڈال سکتا۔ فاطمہ زہرا (سلامُ اللہ علیہا) کا مرتبہ یہی ہے۔ زندگی کے ہر پہلو میں وہ ایک عرشی ہستی ہیں، ایک آسمانی انسان ہیں۔
چاہے عبادت اور پروردگار کے حضور خشوع کا مقام ہو—کہ آپ نے ان کی عبادتیں، راتوں کی مناجاتیں اور دوسروں کے لیے دعائیں سنی ہوں گی—یا لوگوں کے لیے ایثار اور درگزر کا وصف؛ یعنی وہ ہستی جو الٰہی معارف، معنویت اور توجۂ الیٰ اللہ میں ڈوبی ہوئی ہے، زمین سے غافل نہیں، انسانوں سے غافل نہیں۔ شبِ ازدواج اپنا لباس ایک سائل، ایک فقیر کو بخش دیتی ہیں؛ تین دن بھوکی رہتی ہیں اور اپنی افطاری محتاج کو دے دیتی ہیں؛ لوگوں کی خبرگیری اور خدمت کرتی ہیں۔
سختیوں اور مصیبتوں میں صبر و استقامت کا کیا کہنا! کون ہے جو حضرت فاطمہ زہرا (سلامُ اللہ علیہا) کے مصائب کا بوجھ اٹھا سکے اور ان کی تاب لا سکے؟ اس میدان میں بھی وہ ایک آسمانی، ایک عرشی انسان ہیں۔ مظلوم کے حق کے دفاع میں شجاعت، حقائق کی توضیح اور روشنگری، سیاسی فہم اور عملی بصیرت—یہ سب فاطمہ زہرا (سلامُ اللہ علیہا) کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
یہ سب اس وقت ہے جب وہ ایک عورت کی حیثیت سے، نسوانی لطافت اور ذمہ داریوں کے ساتھ، گھر داری، شوہر داری اور اولاد کی پرورش میں بھی کمال کا نمونہ ہیں؛ ایسی ماں جو زینب (س) جیسی بیٹی کو پروان چڑھاتی ہے، جو امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) جیسے فرزندوں کو اپنی آغوش میں تربیت دیتی ہے۔ تاریخ کے ناقابلِ فراموش حساس موڑ میں ان کی موجودگی—شِعبِ ابیطالب میں شرکت، مدینہ کی ہجرت میں ساتھ، رسولِ اکرم ﷺ کی بعض غزوات میں فعّال شرکت، اور واقعۂ مباہلہ میں فیصلہ کن کردار—یہ سب ایک ایسی فہرست ہے جس کا اختتام نہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا (سلامُ اللہ علیہا) ان تمام اوصاف سے آراستہ ہیں، اور یہ سلسلہ تمام نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ کہ جیسا کہ خود رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: سَیِّدَةُ نِسَاءِ العَالَمِينَ—تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار۔ روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ حضرت مریم کے بارے میں بھی آیا ہے کہ وہ “سَیِّدَةُ نِسَاءِ العَالَمِينَ” ہیں؛ آپ ﷺ نے فرمایا: مریم اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار تھیں، لیکن فاطمہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں، تاریخ کے ہر دور میں۔
یہ ہیں فاطمہ زہرا (سلامُ اللہ علیہا)۔ آپ اپنا سبق ایسی ہی عظیم شخصیت سے لیتی ہیں، اپنے قدم اسی سمت بڑھاتی ہیں، اپنے اہداف اسی ہستی سے اخذ کرتی اور ان کا تعاقب کرتی ہیں۔ یہی وہ نکات ہیں جن کی طرف ہمارے معاشرے کی، ہمارے ملک کی خواتین الحمدللہ متوجہ ہیں اور ہونا بھی چاہیے۔ یہ تھا حضرت فاطمہ زہرا (سلامُ اللہ علیہا) کا مختصر تذکرہ۔
اب عورت سے متعلق موضوعات کی بات آتی ہے—وہ موضوعات جو آج دنیا میں بھی زیربحث ہیں، اور اس کی وجہ وہ زیادتیاں اور ناانصافیاں ہیں جو ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں اور آج بھی ہو رہی ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ عورت کے بارے میں جن امور کو بیان کیا جانا چاہیے، ان میں سب سے زیادہ اہمیت دو باتوں کو حاصل ہے: ایک عورت کا مقام و مرتبہ اور دوسرا عورت کے حقوق؛ یہی دونوں پہلو اصل بنیاد ہیں اور انہی پر گفتگو ہونی چاہیے۔
اسلام میں عورت کا مقام نہایت بلند اور انتہائی والا ہے۔ شاید عورت کے بارے میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ، جامع اور اعلیٰ تعبیرات، اور عورت کے تشخص اور شخصیت کے بارے میں سب سے بہترین تصورات، ہمیں قرآنِ کریم میں ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے یہاں چند نکات یادداشت میں درج کیے ہیں:
اوّل: انسانی حیات اور تاریخِ بشر کے وجود میں آنے میں مرد اور عورت کا یکساں کردار۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے: اِنّا خَلَقناکُم مِن ذَکَرٍ وَ اُنثیٰ؛ یعنی انسانی نسل—جس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے اور خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی کتنے ہزار برس جاری رہے گا—اس کی بنیاد ایک مرد اور ایک عورت پر رکھی گئی ہے۔ گویا قرآن کی تعبیر کے مطابق، انسانی حیات کے اثر و تشکیل میں عورت نصف حصہ رکھتی ہے۔
دوم: عمومی ذمہ داری اور مقصدِ تخلیق کے باب میں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ہدف کے لیے، ایک خاص مقام تک پہنچنے کے لیے پیدا کیا ہے؛ اس میدان میں بھی اسلام کی منطق کے مطابق مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔ قرآن فرماتا ہے: وَ مَن یَعمَل مِنَ الصّالِحاتِ مِن ذَکَرٍ اَو اُنثیٰ وَ هُوَ مُؤمِن؛ یعنی نیک عمل اور ایمان کا اثر مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں ہے، اور یہی دونوں کو نجات کی راہ تک پہنچاتا ہے۔ یہ مفہوم قرآن کی متعدد آیات میں بیان ہوا ہے؛ میں نے جو آیت پڑھی وہ سورۂ نساء کی ہے، لیکن یہی حقیقت دیگر مقامات پر بھی دہرائی گئی ہے۔
سوم: روحانی کمالات اور ان تک رسائی کے ذرائع۔ جب عورت بھی مرد کی طرح ایمان اور عملِ صالح سے متصف ہو جائے تو روحانی بلندیوں اور اعلیٰ ترین مقامات تک پہنچنے کی راہ اس کے لیے بھی کھلی ہوتی ہے اور آسان ہو جاتی ہے۔ غور کیجیے! یہ تمام نکات اور یہ تمام بیانات ان غلط فہمیوں کے مقابل ہیں—خواہ وہ ان لوگوں کی طرف سے ہوں جو دیندار تو ہیں مگر دین کو درست طور پر نہیں سمجھتے، یا ان کی طرف سے جو سرے سے دین پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔
سورۂ مبارکۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ المُسلِمینَ وَ المُسلِماتِ وَ المُؤمِنینَ وَ المُؤمِناتِ وَ القانِتینَ وَ القانِتاتِ وَ الصّادِقینَ وَ الصّادِقاتِ وَ الصّابِرینَ وَ الصّابِراتِ وَ الخاشِعینَ وَ الخاشِعاتِ وَ المُتَصَدِّقینَ وَ المُتَصَدِّقاتِ وَ الصّائِمینَ وَ الصّائِماتِ وَ الحافِظینَ فُرُوجَهُم وَ الحافِظاتِ وَ الذَّاکِرینَ اللَهَ کَثیراً وَ الذَّاکِرات؛ ہر جگہ مرد اور عورت کو ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے؛ دس اعلیٰ اور ہم مرتبہ صفات مرد و عورت دونوں کے لیے بطور بندگانِ خدا اور بندگانِ مؤمن بیان کی گئی ہیں۔ جو لوگ ان اوصاف کے حامل ہوں، وہ اللہ کے لطف، اس کی مغفرت اور اس کی خاص توجہ کے مستحق ہوتے ہیں اور عرشی، روحانی اور الٰہی مقامات تک پہنچنے کے اہل قرار پاتے ہیں۔
اسی طرح مرد کے ساتھ باہمی حقوق کے باب میں سورۂ بقرہ میں فرمایا گیا ہے: وَ لَهُنَّ مِثلُ الَّذی عَلَیهِنّ۔ یہ ہے قرآن کی منطق۔ دیکھیے کہ قرآن کس طرح عورت اور مرد کے درمیان—بطور مؤمن، بطور انسان، اور بطور ایک بلند پایہ فرد—مکمل مساوات قائم کرتا ہے۔
اسلام کی نظر میں عورت سماجی سرگرمیوں میں، کسبِ معاش میں، سیاسی میدان میں، بیشتر حکومتی مناصب میں، اور زندگی کے تمام شعبوں میں فعّال کردار ادا کر سکتی ہے۔ وہ تصور جو مغربی انحطاطی، فاسد اور گمراہ ثقافت نے عورت کے بارے میں پیش کیا ہے—جس کی طرف میں آگے چل کر اشارہ کروں گا—اسلام میں قطعی طور پر مسترد کیا گیا ہے۔ اسلام میں عورت ان بلند معانی کے ساتھ، ان اعلیٰ مراتب کے ساتھ، مادّی زندگی میں ترقی کے مواقع کی حامل ہوتے ہوئے، اور روحانی عالم میں سیر و حرکت کرتے ہوئے زندگی گزارتی ہے۔
اسلام میں عورت کے بارے میں جن اہم نکات پر توجہ دی گئی ہے، ان میں ایک بنیادی نکتہ مرد کے ساتھ اس کے تعلق میں بعض حدود و قیود کا تعین بھی ہے۔ یہ برابریاں اپنی جگہ موجود ہیں، جیسا کہ بیان کیا گیا، مگر عورت اور مرد کے باہمی تعلق میں کچھ حدود بھی مقرر کی گئی ہیں، اور یہی اسلام کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔ پست مغربی تہذیب میں اس پہلو کو سرے سے نظرانداز کیا گیا ہے، اور اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جنسی خواہشات اور تقاضوں کی کشش نہایت طاقتور ہوتی ہے؛ اسے قابو میں رکھنا ضروری ہے، اور اسلام نے اپنے احکام کے ذریعے اس پر مؤثر ضبط قائم کیا ہے۔ اگر ان احکام پر عمل نہ کیا جائے تو یہی بے لگام خواہشات وہی تباہ کاریاں برپا کرتی ہیں جو آج مغرب میں ہو رہی ہیں، جن کے بارے میں آپ امریکہ، یورپ اور بیشتر مغربی ممالک میں موجود فاسد گروہوں اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی خبریں سنتے رہتے ہیں۔
عورت اور مرد کا لباس اور پردہ بھی انہی حدود میں شامل ہے؛ یہ پابندیاں صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ مرد کے لیے بھی ہیں۔ مسئلۂ لباس صرف عورت سے مخصوص نہیں۔ عورت کا حجاب اسی زمرے میں آتا ہے؛ عورت اور مرد کے درمیان جسمانی حدود و فواصل بھی اسی نوعیت کی ہیں؛ اور نکاح کی ترغیب بھی انہی اسباب میں سے ہے۔ یہ تمام امور اس خطرناک اور تباہ کن عنصر کو قابو میں رکھنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
اسلامی ثقافت میں عورت کا مقام نہ صرف نہایت بلند ہے—جس کی طرف میں نے مختصراً اشارہ کیا—بلکہ مکمل طور پر منطقی بھی ہے؛ یعنی یہ عورت کی فطرت کے عین مطابق، معاشرے کی حقیقی ضرورتوں کے مطابق، اور اجتماعی مصلحت کے مطابق ہے۔
اسلام کی نگاہ میں عورت اور مرد دو متوازن انسانی عناصر ہیں؛ مکمل توازن کے ساتھ، بے شمار مشترکات رکھتے ہوئے، اور کچھ فطری و جسمانی اختلافات کے ساتھ، جو ساختِ بدن اور طبعی خصوصیات کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ ان دونوں عناصر کو زندگی کے نظم و نسق، نسلِ انسانی کے تسلسل، تہذیبی ترقی، اور روحانی ضروریات—بلکہ روحانی ضروریات!—کو پورا کرنے میں کردار ادا کرنا ہے۔ یعنی عورت اور مرد مل کر دنیا کو بھی سنبھالتے ہیں اور اپنے باطن، اپنے انسانی وجود کو بھی سنوارتے اور منظم کرتے ہیں۔
ان کی انجام دی جانے والی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک خاندان کی تشکیل ہے، جو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مغربی اور سرمایہ دارانہ ثقافت کی غلط منطق میں فراموش کر دی گئی ہے۔ آگے چل کر میں اس کی طرف اشارہ کروں گا کہ خاندان کے اندر حقوق کا ایک پورا نظام موجود ہے: عورت کے حقوق، مرد کے حقوق، اور بچوں کے حقوق—اور ان تینوں عناصر، یعنی مرد، عورت اور اولاد کے درمیان باہمی حقوق۔
اب اسی مقام سے عورت کے حقوق کے موضوع پر بات کی جائے گی۔ عورت کے مقام و مرتبے کا ذکر ہو چکا۔
عورت کے حقوق کے باب میں سب سے پہلا حق جس پر توجہ دینا لازم ہے، وہ سماجی اور گھریلو زندگی میں عدل و انصاف ہے۔ معاشرے میں انصاف، اور گھر کے اندر انصاف—یہ عورت کا پہلا اور بنیادی حق ہے، اور اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ اس کے ذمہ دار سب ہیں: حکومتیں اور ریاستیں بھی، اور معاشرے کے تمام افراد بھی۔
عورت کی سلامتی، حرمت اور کرامت کا تحفظ بھی اس کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ عورت کی عزت و وقار کا محفوظ رہنا لازم ہے۔ سرمایہ دارانہ اور خبیث منطق عورت کی کرامت کو پامال کر دیتی ہے اور اسے روند ڈالتی ہے؛ جبکہ اسلام میں عورت کی عزت اور اس کا احترام بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ سے روایت ہے: اَلمَرأَةُ رَیحانَةٌ وَ لَیسَت بِقَهرَمانَة۔ میں نے یہ حدیث بارہا پڑھی ہے اور جان بوجھ کر چاہتا ہوں کہ یہ بات بار بار دہرائی جائے۔ عربی میں “قَهرَمان” اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کام میں ملازم ہو، مثلاً باغ، تجارت یا کسی اور نظام کا منتظم، جس پر ساری ذمہ داریاں ڈال دی جائیں۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: عورت ریحانہ ہے، یعنی پھول ہے؛ اور وہ گھر کی ملازمہ نہیں ہے کہ اس سے پوچھا جائے کہ یہ کام کیوں نہیں کیا، وہ کام کیوں رہ گیا، گھر صاف کیوں نہیں۔ وہ پھول ہے؛ اور پھول کی نگہداشت کی جاتی ہے، اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ وہ بھی بدلے میں اپنے رنگ، اپنی خوشبو اور اپنی تاثیر سے ماحول کو معطر اور خوشگوار بنا دیتا ہے۔ دیکھیے! اسلام عورت کو اسی نظر سے دیکھتا ہے۔
عورت کے عمل، عورت کے فکر اور اس راستے کی اہمیت واضح کرنے کے لیے جس پر عورت گامزن ہوتی ہے، قرآنِ کریم ایک نہایت عجیب اور بامعنی مثال پیش کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ؛ یعنی اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کے لیے ایک نمونہ، ایک مثال اور ایک معیار مقرر کرتا ہے—اور یہ معیار صرف عورتوں کے لیے نہیں بلکہ تمام اہلِ ایمان کے لیے ہے۔ لِلَّذِينَ آمَنُوا، یعنی سب مؤمنین کے لیے۔ یہ معیار کون ہے؟ ایک فرعون کی بیوی ہے، اور دوسری وَمَرْيَمَ بْنَتَ عِمْرَانَ۔ گویا دنیا کے تمام مرد، دنیا کے تمام اہلِ ایمان، اپنے راستے کی درستی جانچنے کے لیے ان دو خواتین کی طرف دیکھیں؛ یہ دیکھیں کہ انہوں نے کس طرح عمل کیا، کس طرح کردار ادا کیا؛ نجات کا راستہ یہی ہے۔ اسلام کی نگاہ میں عورت کی حیثیت یہی ہے۔
معاشرے میں عورت کے حقوق محفوظ رہنے چاہئیں اور کسی قسم کا امتیاز روا نہیں رکھا جانا چاہیے—جبکہ آج یہ امتیاز موجود ہے۔ آج بہت سے مغربی ممالک میں ایک ہی کام کے عوض عورتوں کی اجرت مردوں سے کم دی جاتی ہے؛ یہ صریح ناانصافی ہے۔ عورت کے کام کی قدر و قیمت مرد کے برابر ہونا چاہیے؛ اسی طرح حکومتی مراعات میں بھی برابری ہونی چاہیے، مثلاً کام کرنے والی عورتوں کے لیے بیمہ، گھر کی کفالت کرنے والی عورتوں کے لیے بیمہ، عورتوں کے لیے مخصوص رعایتیں، اور اس نوعیت کے درجنوں دیگر مسائل—یہ سب معاشرتی سطح پر لازماً عمل درآمد اور تحفظ کے مستحق ہیں۔
گھر کے اندر عورت کا سب سے اہم حق محبت ہے۔ اس کی سب سے بڑی ضرورت اور اس کا سب سے بنیادی حق محبت ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ مرد اپنی بیویوں سے یہ کہیں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں؛ یعنی محبت کا اظہار صراحت کے ساتھ کریں—حالانکہ عورت جانتی بھی ہے۔ یہی پہلا حق ہے۔
گھر میں عورت کا ایک اور نہایت اہم اور بڑا حق تشدد سے مکمل اجتناب ہے۔ مغربی پست ثقافت مردوں کے ہاتھوں عورتوں پر ہونے والے تشدد سے بھری ہوئی ہے؛ عورتوں کا اپنے شوہروں کے ہاتھوں قتل ہونا، مارپیٹ کا نشانہ بننا—یہ سب مغرب میں عام ہے، اور یہ نہایت سنگین انحرافات میں سے ہے۔ ایک واقعہ—اگرچہ کہانی کی صورت میں ہے مگر ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے—امریکہ سے منسوب ہے: ایک مرد گھر آتا ہے اور اپنی بیوی کو بری طرح مارتا ہے۔ دیکھیے! جب ایسی ثقافت رائج ہو جاتی ہے تو انجام یہی ہوتا ہے۔ ایسے رویّے، ایسی حرکات اور ایسی بے ادبی پیدا ہوتی ہے جو فضا کو زہر آلود کر دیتی ہیں۔ اسلام ہر صورت میں تشدد کی نفی کرتا ہے۔
گھریلو نظام کا انتظام عورت کے ہاتھ میں ہے۔ گھر کی مسئول اور ناظم خواتین ہی ہوتی ہیں۔ شوہر پر لازم ہے کہ بچوں کی ولادت اور پرورش سے پیدا ہونے والی مشقتوں میں عورت کا ہاتھ بٹائے۔ عورت پر گھریلو کاموں کا جبر نہیں ہونا چاہیے۔ اس حقیقت کی قدر کرنی چاہیے کہ ناکافی اور محدود آمدنی کے باوجود عورتیں گھر کو مہارت سے چلاتی ہیں—ہم اکثر اس نکتے سے غافل رہتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے: مرد کی آمدنی محدود اور مقرر ہوتی ہے، اشیاء مہنگی ہوتی چلی جاتی ہیں، مگر گھر کا نظام چلتا رہتا ہے، دوپہر کا کھانا وقت پر تیار ہوتا ہے؛ یہ سب کون انجام دیتا ہے؟ وہ کون سا ہنر ہے جو گھر کو سنبھالے رکھتا ہے؟ یہ عورت ہی ہے۔
عورت کا ایک اور حق یہ ہے کہ ترقی اور پیش رفت کے دروازے اس پر بند نہ کیے جائیں؛ جیسے تعلیم حاصل کرنا، بعض مناسب اور فطری شعبوں میں کام کرنا، اور اسی طرح کے دیگر مواقع۔ یہ اسلام کے نقطۂ نظر سے عورت کے بارے میں ایک اجمالی خاکہ ہے۔ یہ محض چند اشارات ہیں؛ ورنہ اسلام میں عورت کے مقام اور حقوق کی تفصیلی وضاحت کے لیے نہ آدھے گھنٹے کی گفتگو کافی ہے اور نہ ایک گھنٹے کی—یہ موضوع اس سے کہیں زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ یہ چند جملے محض ایک اجمالی بیان تھے۔
اس کے بالکل برعکس، مغربی نقطۂ نظر ہے، یعنی مغربی سرمایہ دارانہ فکر؛ حقیقی معنوں میں یہ اسلام کے نقطۂ نظر کا سراسر مقابل ہے۔ اسلام میں عورت کو رشد، ترقی اور پیشرفت میں استقلال حاصل ہے؛ اس کے پاس صلاحیت ہے، مقام ہے، شناخت ہے اور مستقل شناخت ہے۔ مگر مغرب میں ایسا نہیں؛ وہاں عورت کی شناخت شوہر کی شناخت کے تابع ہوتی ہے۔ آپ کا ایک خاندانی نام ہوتا ہے، شادی کے بعد وہ نام ختم ہو جاتا ہے اور شوہر کا خاندانی نام آپ پر چڑھ جاتا ہے! یہ محض ایک رسمی بات نہیں بلکہ ایک علامت ہے، ایک نشانی ہے—مرد میں ضم ہو جانا، مرد کی شناخت کے سامنے اپنی شناخت کا مغلوب ہو جانا۔ اجرتوں میں فرق، عورت کی عزت و شرافت کا لحاظ نہ رکھنا، عورت کو محض ایک مادی وسیلے کے طور پر دیکھنا—یہ سب اسی سوچ کے مظاہر ہیں۔ عورت کو ایک مادی استعمال کی چیز سمجھا جاتا ہے؛ ممکن ہے کوئی مالدار یا اشرافی شخص اپنی بیوی کا احترام بھی کرے، بحث اس فرد کی نہیں بلکہ عمومی نگاہ کی ہے—عورت کو عیش و عشرت اور خواہشاتِ نفس کے آلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ مجرمانہ گروہ، جن کا شور حالیہ دنوں میں امریکہ میں بہت زیادہ ہوا ہے، دراصل اسی سوچ کا نتیجہ ہیں؛ یعنی عورت کو عیاشی کا وسیلہ سمجھنا، ایک آلہ، ایک استعمال کی چیز۔ جب یہ ثقافت غالب آجاتی ہے تو خود عورت بھی یہ نہیں سمجھ پاتی کہ وہ ایک آلہ بن چکی ہے؛ بلکہ وہ اسی پر فخر کرنے لگتی ہے—واقعی فخر کرنے لگتی ہے!
خاندان کی بنیاد کو منہدم کرنا۔ مغربی سرمایہ دارانہ تمدن اور ثقافت کا سب سے بڑا گناہ یہی ہے کہ اس نے خاندان کے ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔ خاندان، یعنی ایک جڑا ہوا، یکجان اور باہم محبت رکھنے والا مجموعہ، اب شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔ میں نے ایک غیر ملکی کتاب میں پڑھا کہ مرد اور عورت آپس میں یہ طے کرتے ہیں کہ مثلاً شام چار بجے چائے پینے کے لیے ایک گھنٹے کے لیے دونوں گھر آئیں گے؛ بچے جانتے ہیں کہ اس وقت ماں باپ گھر میں ہوں گے۔ خاندانی اجتماع بس اتنا ہی ہے کہ چار بجے وہ خاتون دفتر سے آجائے، وہ مرد بھی کام سے آ جائے، بچے—بیٹے یا بیٹیاں—بھی آ جائیں، پھر اس کے بعد ہر ایک اپنے اپنے کام میں لگ جائے؛ کسی کی نوکری ہے، کسی کو مشغلہ، کسی کی دوستوں کے ساتھ نشست ہے، کسی کو کلب جانا ہے؛ اور سب کی نظریں گھڑی پر ہوتی ہیں کہ پانچ بجے، جب نشست ختم ہونی ہے، ہوئی یا نہیں۔ وہاں خاندان کی حالت یہی ہے!
باپ سے ناواقف بچے، خاندانی رشتوں کا کمزور ہونا، گھرانے کی تباہی، نوجوان لڑکیوں کے شکار کے لیے بنائے گئے گروہ، اور آزادی کے نام پر بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی! شاید مغربی سرمایہ دارانہ منطق اور ثقافت کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ اتنے بڑے بڑے گناہ انجام دیتی ہے اور ان سب کا نام آزادی رکھ دیتی ہے۔ فریب دیتی ہے، بہکاتی ہے، اور اسے آزادی کہتی ہے۔ یہاں بھی جب وہی ثقافت پھیلانا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں ہم آزادی دے رہے ہیں! حالانکہ حقیقت میں وہ غلام بنا رہے ہوتے ہیں، قید میں ڈال رہے ہوتے ہیں، مگر اس کا نام آزادی رکھ دیتے ہیں۔ یہ عورت کے مقام، عورت کے وقار اور معاشرتی و خاندانی حیثیت سے متعلق ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو ایک غلط اور گمراہ کن ثقافت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
البتہ یورپ میں اس کی سابقہ صورت اور پچھلی صدیوں میں معاملہ اس طرح نہیں تھا؛ یہ کیفیت زیادہ تر گزشتہ ایک صدی میں، اور خصوصاً اسی صدی کے آس پاس شدت کے ساتھ ایجاد ہوئی اور اسی صورت میں ڈھل گئی۔ افسوس یہ ہے کہ خود مغرب والے اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اسی ثقافت کو پوری دنیا میں برآمد کیا جائے؛ مغربی طاقتوں اور سرمایہ داروں کا اصرار یہی ہے کہ یہ ثقافت لازماً دنیا بھر میں پھیلنی چاہیے۔ پھر اس کے لیے دلیلیں بھی گھڑ لی جاتی ہیں؛ کہتے ہیں کہ اگر عورت حجاب اختیار کرے اور اپنے لیے یہ حدود مقرر کرے تو وہ ترقی سے باز رہ جائے گی!
اسلامی جمہوریۂ نے اس غلط منطق کو باطل کر دیا، اسے پاؤں تلے روند ڈالا۔ اسلامی جمہوریۂ میں یہ عملاً ثابت کر دکھایا گیا کہ مسلمان، باکردار اور پابند عورت، اسلامی حجاب کی حامل باوقار خاتون، زندگی کے تمام میدانوں میں دوسروں سے زیادہ بہتر اور زیادہ کامیاب انداز میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ وہ کردار ادا کر سکتی ہے؛ معاشرے میں بھی اور گھر میں بھی۔ اسی نگاہ کے سائے میں، انقلاب کی کامیابی کے بعد، جمہوریۂ اسلامی میں ہمارے ملک کی خواتین، ہماری عورتیں اور ہماری نوجوان لڑکیاں بے شمار میدانوں میں آگے بڑھیں؛ تعلیمی اعداد و شمار میں، صحت و علاج کے شعبوں میں، متوقع عمر میں اضافے میں، سائنسی اور کھیلوں کے میدانوں میں، اور جہادی امداد و تعاون کے شعبوں میں۔
ان خاتون نے بالکل درست بات کہی؛(۱۱) ہمارے یہ عزیز شہداء، اگر ایسی بیگمات نہ ہوتیں تو وہ میدانِ مجاہدت میں اس قدر یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو وقف نہیں کر سکتے تھے کہ اس باعزت مقام تک پہنچتے—یعنی شہادت تک۔ سختیاں ان خواتین نے برداشت کیں؛ یہی وہ خواتین تھیں جنہوں نے اپنا جہادی تعاون اس طرح فراہم کیا، اپنے مجاہد شوہروں کے ساتھ اس طرح قدم سے قدم ملا کر چلیں، کہ وہ جہاد کی چوٹی پر جا پہنچے۔
آج ہماری خواتین، ہماری عورتیں، فکری اور تحقیقی مراکز میں جن کامیابیوں تک پہنچی ہیں، وہ ایران کی تاریخ میں بے مثال ہیں؛ بلا شبہ۔ ہم نے کبھی ایران میں اتنی بڑی تعداد میں خواتین دانشور، خواتین مفکر نہیں دیکھیں؛ کبھی اتنی بڑی تعداد میں ایسی خواتین نہیں تھیں جو متحرک فکر پیش کر سکیں، عملی راہیں دکھا سکیں۔ کبھی نہیں۔ صرف یہ نہیں کہ اتنی تعداد نہیں تھی، بلکہ اس کا دسواں حصہ بھی نہیں تھا؛ بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کا سوواں حصہ بھی نہیں تھا۔ جمہوریۂ اسلامی نے، بحمداللہ، ملک میں علمی ترقی کے ساتھ ساتھ خواتین کے میدان میں بھی ایسا ارتقا پیدا کیا کہ آج ہماری خواتین دنیا میں بلند مقام رکھتی ہیں؛ علمی میدان میں، سماجی میدان میں، سیاسی میدان میں اور کھیلوں کے میدان میں، بحمداللہ، ہماری خواتین صفِ اوّل میں شمار ہوتی ہیں۔
میری آخری بات یہ ہے: میڈیا کو میری تاکید یہ ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور مغربی غلط فکر کی ترویج کا ذریعہ نہ بنیں۔ ہمارے ذرائع ابلاغ اس بات کا خیال رکھیں کہ عورت کے بارے میں مغربی اور سرمایہ دارانہ باطل نظریات کو پھیلانے کا آلہ نہ بن جائیں اور ان کے ہتھیار نہ بنیں۔ جب حجاب پر بحث ہو، عورت کے لباس پر گفتگو ہو، مرد و زن کے باہمی تعاون کا مسئلہ زیرِ بحث آئے، تو ایسا نہ ہو کہ جمہوریۂ اسلامی کے اندرونی ذرائع ابلاغ انہی کی باتیں دہرانے لگیں، انہی کے بیانیے کو نمایاں کریں اور بڑھا کر کے پیش کریں۔
اسلام کو فروغ دیجئے، اسلام کے نقطۂ نظر کو بیان کیجئے۔ اسلام کا نقطۂ نظر باعثِ فخر ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں اور عالمی سطح پر اس فکر کو، اس نگاہ کو، اس عظیم اور کارآمد نظریے کو پیش کریں، تو یقیناً دنیا کے بہت سے لوگ اسلام کی طرف مائل ہوں گے؛ خصوصاً خواتین، وہ ضرور متوجہ ہوں گی۔ یہی اسلام کی سب سے بہترین تبلیغ ہے، اور ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ آپ سب اس راہ میں کامیاب ہوں گے۔
۱) اس ملاقات کے آغاز میں، سرلشکر شہید غلامعلی رشید (کمانڈر قرارگاہِ خاتمالانبیاء) کی اہلیہ اور سرلشکر شہید حسین سلامی (سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے سربراہ) کی صاحبزادی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
۲) امالیِ صدوق، مجلس 73، صفحہ ۴۸۶
۳) سورۂ حجرات، آیت ۱۳ کا ایک حصہ
۴) تسلسل۔۔۔
۵) سورۂ نساء، آیت ۱۲۴ کا ایک حصہ
۶) سورۂ احزاب، آیت ۳۵ کا ایک حصہ؛
«مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، عبادت گزار مرد اور عبادت گزار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں، عاجز مرد اور عاجز عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، پاکدامن مرد اور پاکدامن عورتیں، اور وہ مرد و عورتیں جو اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں ...»
۷) سورۂ بقرہ، آیت ۲۲۸ کا ایک حصہ؛
«… اور جس طرح عورتوں پر ذمہ داریاں ہیں، اسی طرح دستور کے مطابق مردوں پر بھی ان کے حقوق عائد ہوتے ہیں …»
۸) سورۂ تحریم، آیت ۱۱ کا ایک حصہ؛
«اور ایمان لانے والوں کے لیے اللہ نے فرعون کی بیوی کو مثال بنا کر پیش کیا …»
۹) سورۂ تحریم، آیت ۱۲ کا ایک حصہ؛
«اور مریم، عمران کی بیٹی کو …»
۱۰) الکافی، جلد ۵، صفحہ ۵۶۹
۱۱) شہید غلامعلی رشید کی اہلیہ کے بیانات کی طرف اشارہ
