بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
الحمد للہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطہرین المنتجبین الہداۃ المہدیّین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین.
میں ان تمام عزیز بھائیوں اور بہنوں کو جو یہاں تشریف فرما ہیں، نیز پوری ملتِ ایران کو، عالمِ اسلام کو اور دنیا بھر کے تمام آزادی پسند انسانوں کو عیدِ شریف اور عظیم مبعث کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انشاءاللّٰہ اس دن کی یاد دلوں کو روشن کرے، ہمیں راستہ دکھائے اور ہم حقیقتِ مبعث سے صحیح طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔
بعثتِ رسولِ اکرم ﷺ کا دن نہایت اہم دن ہے؛ بلکہ تاریخِ انسانی میں اس سے زیادہ اہم کوئی دن نہیں۔ یومِ بعثت درحقیقت قرآن کی ولادت کا دن ہے؛ وہ قرآن جو سراسر حکمت ہے اور سراسر نور ہے۔ امیرالمؤمنینؑ کے بیان کے مطابق یہ دن «نورِ ساطع» (۱) کا دن ہے؛ آپؑ فرماتے ہیں: «اَلنّورُ السّاطِع» (۲)۔ یہ دن انسانِ کامل کی تربیت کا دن ہے؛ یعنی اسی دن سے انسانِ کامل کی پرورش کا وہ الٰہی منصوبہ وجود میں آیا جس کا کامل ترین مصداق ائمۂ ہدیٰؑ ہیں۔ یہ دن اسلامی تمدن کے نقشے راہ سے پردہ اٹھنے کا دن ہے؛ یعنی اسی دن اسلامی تمدن کا آغاز ہوا اور اس کا وہ عظیم، تاریخی اور پائدار دستور العمل—جو آج بھی میرے اور آپ کے سامنے موجود ہے—اسی دن عالمِ وجود میں آیا۔ یہ دن عدل، برابری اور اخوت کے پرچم کے بلند ہونے کا دن ہے، اور اس جیسے بے شمار فضائل کا حامل ہے۔ یومِ مبعث کے فضائل ہم جیسے لوگ بیان نہیں کر سکتے؛ ہماری سمجھ، ہماری زبان اور ہمارے دل اس عظمت کو سمیٹنے سے قاصر ہیں کہ بعثتِ پیغمبر کی حقیقت کو پوری طرح بیان کر سکیں۔ ہاں، امیرالمؤمنینؑ اس کو بیان کر سکتے ہیں اور بیان فرمایا بھی ہے۔ آپ نہجالبلاغہ کی طرف رجوع کریں؛ نہجالبلاغہ کا دوسرا خطبہ بعثتِ پیغمبر کے بارے میں ہے کہ خداوندِ متعال نے آپ ﷺ کو کس طرح، کن حالات میں اور کس فضا میں مبعوث فرمایا۔ نہجالبلاغہ کے دیگر خطبات میں بھی یہی مفہوم مختلف انداز سے بیان ہوا ہے۔
میں بعثت کے بارے میں صرف ایک نکتہ عرض کرنا چاہتا ہوں جو آج ہمارے لیے دوسرے تمام نکات سے زیادہ مفید اور کارآمد ہے، اور وہ یہ ہے کہ بعثتِ پیغمبر، انسانی تمدن کی حقیقی علامت ہے؛ یعنی اگر بشریت بہترین انداز میں زندگی گزارنا چاہے تو اسے اسی دستور العمل کے مطابق زندگی بسر کرنی ہوگی جو بعثت کے ذریعے پیش کیا گیا۔ صرف اسی دستور العمل کے تحت انسان صحیح اور صالح زندگی گزار سکتا ہے۔
لیکن یہ عظیم واقعہ کہاں پیش آیا؟ بعثت کن حالات میں وقوع پذیر ہوئی؟ بعثت بدترین قابلِ تصور حالات میں واقع ہوئی؛ ایسے لوگوں کے درمیان جن کی اخلاقی حالت، عملی کیفیت، فکری سطح اور قلبی کیفیت نہایت پست تھی؛ جو اس زمانے کے معاشرے میں بدترین، بدبخت ترین، ہٹ دھرم، متکبر، ظالم اور زور آور افراد سمجھے جاتے تھے۔ حجاز کا معاشرہ اسی نوعیت کا تھا۔ امیرالمؤمنینؑ اس زمانے کے حالات کے بارے میں فرماتے ہیں: «فَالْهُدَىٰ خَامِلٌ وَالْعَمَىٰ شَامِلٌ» (۲)؛ یعنی ہدایت کا چراغ بالکل بجھ چکا تھا، حقائقِ پاکیزہ کی طرف کوئی رہنمائی باقی نہ رہی تھی، اور اندھا پن ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ امیرالمؤمنینؑ مکہ، مدینہ اور ان اطراف کے علاقوں—جہاں رسولِ اکرم ﷺ مبعوث ہوئے—کے لوگوں کی یہی تصویر کھینچتے ہیں۔ لوگ جاہل تھے، ناخواندہ تھے، ہٹ دھرم تھے، متعصب تھے، فاسد تھے، متکبر تھے—اور ان تمام اخلاقی گراوٹوں کے ساتھ ساتھ تکبر بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا—ظالم تھے، اور ان کے درمیان شدید طبقاتی تفریق پائی جاتی تھی۔ ان کا بڑا بھی بگڑا ہوا تھا اور چھوٹا بھی؛ ظالم بھی بگڑا ہوا تھا اور مظلوم بھی؛ غلام بھی اسی فساد میں مبتلا تھا اور مالک بھی۔ ایسی ہی فضا میں بعثت واقع ہوئی، اسلام نے جنم لیا اور قرآن نازل ہوا؛ بالکل ایسی ہی تاریک اور المناک ماحول میں۔
خیر، اسلام کی بنیاد عقل اور ایمان پر ہے۔ تمام اسلامی پروگراموں کو عقل اور ایمان ہی کے معیار پر پرکھنا، سمجھنا اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔ اُس وقت کے لوگوں کے پاس نہ عقل تھی نہ ایمان۔ پیغمبرِ اکرم ﷺ اسی معاشرے میں تشریف لائے؛ یعنی اسی طرح کے لوگوں کے سامنے الٰہی بیانات، وحیِ الٰہی اور کلامِ خدا کی تلاوت فرمائی، اور صرف تیرہ برس کے مختصر عرصے میں—جو کوئی بہت طویل مدت نہیں—اسی معاشرے کے اندر سے عمار جیسے انسان، ابوذر جیسے انسان، مقداد جیسے انسان تیار کر دیے؛ اسی قوم میں سے!
فرض کیجیے کہ ایک استاد ایسے کلاس روم میں داخل ہو جہاں تمام بچے لاپروا، بے شعور، غافل، نالائق اور تعلیم سے بے رغبت ہوں، اور وہی استاد ایک معیّن مدت میں انہیں سنوار کر، نکھار کر، تیار، باشعور، تعلیم یافتہ اور سمجھدار بنا دے؛ اس مثال کو ذہن میں رکھیے، پھر اس کو ہزاروں گنا بڑھا دیجیے، تو بعثتِ پیغمبر اور مکہ کا منظر آپ کے سامنے آ جائے گا۔ یعنی اسلام کی طاقت، دینِ الٰہی کی قوت، احکام اور معارفِ الٰہی کی تاثیر اس حد تک ہے کہ وہ ایسے انسانوں میں سے ایسی بے مثال فضیلتیں پیدا کر سکتا ہے۔ ابوذر کوئی معمولی انسان نہیں تھا۔ یہی ابوذر دورِ جاہلیت میں ایک اور ہی حال میں تھا، عمار ایک اور طرح کا تھا، اور باقی لوگ ایک اور راستے پر تھے۔
یہ بات آج ہمارے لیے بے حد اہم ہے۔ میں یہ دعویٰ کرنا چاہتا ہوں کہ آج بھی اسلام میں وہی طاقت موجود ہے۔ آج کے انسانی معاشرے بھی انہی صفات میں مبتلا ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ زبان بدل گئی ہے، انداز بدل گیا ہے۔ اُس دور کا ظلم آج بھی موجود ہے؛ اُس دور کا تکبر آج بھی ہے؛ اُس دور کا فساد آج بھی ہے۔
آپ پچھلے چند مہینوں کی عالمی خبروں میں سنتے ہی ہیں: ’’فساد کے جزیرے‘‘(۳)—کیا یہ کوئی مذاق ہے؟ اخلاقی فساد، عملی فساد، ظلم، زور، زبردستی، مداخلت؛ جس پر ہاتھ پڑے اسے مارنا، جہاں موقع ملے پنجہ گاڑ دینا۔ انسان وہی انسان ہے، صرف اس کی اصطلاحات بدل گئی ہیں، اس کا ظاہر بدل گیا ہے۔ آج وہ خوشبو، ٹائی، کوٹ پتلون اور چمکدار لباس پہن کر میدان میں آتا ہے؛ مگر حقیقت میں وہی لوگ ہیں، کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج کی دنیا میں—یقیناً یہ بات پوری انسانیت کے بارے میں نہیں—لیکن بہت سے معاشروں میں، خصوصاً مغربی معاشروں میں، یہی آفت موجود ہے؛ حق تلفی ہوتی ہے، کمزوروں کو کچلا جاتا ہے۔
آج بھی ابو جہل موجود ہے، آج بھی ابنِ مغیرہ مخزومی موجود ہے۔ قرآن میں ابنِ مغیرہ کے بارے میں آیا ہے: «اِنَّهُ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ»(۴)؛ پھر فرمایا: «فَقُتِلَ کَیفَ قَدَّرَ»—یعنی اس پر لعنت ہو، ہلاکت ہو اس کے لیے۔ «ثُمَّ قُتِلَ کَیفَ قَدَّرَ * ثُمَّ نَظَرَ * ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَر»—اور آیات آخر تک چلتی ہیں۔ آج بھی وہی لوگ موجود ہیں؛ وہی لوگ جو لاکھوں انسانوں پر حکومت کر رہے ہیں اور اپنے تابع لوگوں کو بھی اپنے ساتھ جہنم کی طرف گھسیٹ لے جا رہے ہیں۔ قرآن میں فرعون کے بارے میں فرمایا گیا ہے: «یَقدُمُ قَومَهُ یَومَ القِیامَةِ فَاَورَدَهُمُ النّار»؛ یعنی فرعون قیامت کے دن بھی—جیسے دنیا میں اپنی قوم کا سردار تھا—وہاں بھی آگے آگے چلے گا اور اپنے پیروکاروں کو جہنم میں لے جائے گا۔ یہ لوگ خود بھی جہنم کی طرف بڑھ رہے ہیں، حقیقت اور باطنی معنی میں خود بھی جہنم میں ہیں، اور اپنے لوگوں کو بھی جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہی ہے آج کی دنیا کی اصل تصویر۔
اسلام وہی اسلام ہے؛ یہی اسلام آج کی دنیا کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؛ یقیناً رکھتا ہے۔ ہم کر سکتے ہیں—ہم سے مراد لازماً میں اور آپ نہیں—بلکہ اسلام کے حامی، اسلام پر ایمان رکھنے والے، اسلام کے سچے مؤمنین دنیا کو فساد کی ڈھلان سے کھینچ کر اصلاح، نجات اور شرافت کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں؛ وہ جہنم کی سمت سے موڑ کر جنت کی طرف لا سکتے ہیں؛ آج بھی یہ ممکن ہے۔ آج بھی ممکن ہے، مگر اس کی ایک شرط ہے:
«وَ لا تَهِنوا وَ لا تَحزَنوا وَ اَنتُمُ الاَعلَون»؛ یعنی «اَنتُمُ الاَعلَون»(۵)—تم ہی غالب ہو سکتے ہو، تم دنیا کو اپنے پیچھے چلا سکتے ہو؛ مگر کب؟ «اِن کُنتُم مُؤمِنین»—اگر تم واقعی مؤمن ہو۔ ایمان شرط ہے۔
ہم میں اور آپ میں الحمدللہ ایمان موجود ہے، خدا کا شکر ہے؛ مگر یہ ایمان، ابوذرؓ جیسا ایمان نہیں ہے۔ ہمیں اپنے عمل کو ٹھیک کرنا ہوگا، اپنے کام کو درست کرنا ہوگا، اپنے دل کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اگر ہم یہ کر پائیں، قرآن کی نصیحت پر، اسلام کی نصیحت پر، پیغمبر کی نصیحت پر کان دھریں، نہجالبلاغہ کو اہمیت دیں اور اس پر عمل کریں، تو ہم بھی وہی کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو اُس دن پیغمبر کے پاس تھا، اور وہی کام کر سکتے ہیں جو پیغمبر نے اُس دن کیا تھا۔ ہم دنیا کو دوبارہ صلاح کی سمت موڑ سکتے ہیں؛ انہی نالائق اور فاسد لوگوں کے زیرِ تسلط معاشروں کو انسان ساز، ترقی یافتہ معاشروں میں بدلا جا سکتا ہے—اگر انشاءاللہ «اِن کُنتُم مُؤمِنین» حقیقت اختیار کر جائے۔
ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا، جو کچھ جانتے ہیں اس پر عمل کرنا ہوگا، گناہ سے پرہیز کرنا ہوگا۔ آج ہمارا ایمان ابوذر ساز نہیں ہے۔ البتہ شکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ میں انفرادی سطح پر ابوذر صفت افراد موجود رہے ہیں—جیسے یہ عظیم، نامور اور بعض اوقات گمنام شہداء؛ یہ موجود ہیں، مگر پورے معاشرے کو بدلنا ہوگا، اصلاح کو پورے سماج میں پھیلنا ہوگا۔
بعثت کا دن ایسا ہی دن ہے؛ اسی طرح کا ایمان پیش کیا گیا، اور جن لوگوں نے اسے قبول کیا، ان میں سب سے نمایاں امیرالمؤمنین تھے؛ علی ابن ابی طالبؑ نے اس ایمان کو قبول کیا، حضرت خدیجہ نے اس ایمان کو قبول کیا؛ ابتدا میں اور لوگ نہیں تھے۔ خیر، یہ بات بعثت کے بارے میں تھی جسے ہم نے بیان کیا۔
اب میں چاہتا ہوں کہ حالیہ فتنے کے بارے میں چند جملے عرض کروں۔ ایک فتنہ برپا ہوا، جس نے کچھ حد تک لوگوں کو اذیت دی، ملک کو نقصان پہنچایا—یہ فتنہ تھا—لیکن پھر خدا کے فضل سے، عوام کے ہاتھوں، ذمہ دار اور باخبر و ماہر اہلکاروں کے ذریعے، الحمدللہ یہ فتنہ دب گیا اور ختم ہو گیا۔ فتنے کو پہچاننا ضروری ہے۔ میں یہاں چند نکات بیان کرنا چاہتا ہوں: اوّل یہ کہ فتنے کی حقیقت کو سمجھا جائے؛ یہ فتنہ تھا کیا اور کیوں پیدا ہوا؟ دوم یہ کہ اس فتنے کے عناصر اور کارندے کون تھے؛ ظاہراً تو ایک نوجوان نظر آتا ہے، مگر حقیقت کیا ہے؟ اور ایک بات یہ کہ دشمن نے ہمارے ساتھ جو کیا، اس کے مقابلے میں ہمارا مؤقف کیا ہونا چاہیے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ یہ چند باتیں مختصراً عرض کرتا ہوں۔
سب سے پہلے فتنے کی نوعیت۔ یہ ایک امریکی فتنہ تھا۔ بالکل واضح تھا؛ امریکیوں نے منصوبہ بندی کی، سرگرمیاں انجام دیں۔ اور امریکیوں کا ہدف—یہ بات میں پورے یقین، صراحت اور اسلامی جمہوریہ میں چالیس سے زائد سال کے تجربے کے ساتھ کہہ رہا ہوں—ایران کو نگل لینا ہے۔ جو تسلط انہوں نے اس ملک پر قائم کر رکھا تھا، وہ عوام کے ہاتھوں، نوجوانوں کے ہاتھوں، پورے ملک کے عوام کے ذریعے اور امامِ خمینی کی قیادت میں ختم ہوا؛ اور انقلاب کے آغاز سے لے کر آج تک وہ اسی سوچ میں ہیں کہ اس تسلط کو دوبارہ قائم کریں؛ یعنی ایران کو پھر سے اپنی عسکری، سیاسی اور معاشی بالادستی کے تحت لے آئیں—اصل مقصد یہی ہے۔
یہ موجودہ امریکی صدر سے مخصوص نہیں ہے؛ یہ اس شخص سے متعلق نہیں جو اس وقت صدر ہے؛ یہ امریکہ کی پالیسی ہے۔ امریکہ کی پالیسی یہ ہے کہ ایسی خصوصیات رکھنے والا ملک، اس قدر حساس جغرافیائی مرکز میں، اتنے وسائل، اتنی وسعت اور اتنی آبادی کے ساتھ، ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسا ملک جو علمی میدان میں، ٹیکنالوجی میں اور مختلف شعبوں میں مسلسل ترقی کر رہا ہو، امریکیوں کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
وہی بات—«اِنَّهُ فَکَّرَ وَ قَدَّرَ * فَقُتِلَ کَیفَ قَدَّرَ»—اس نے بیٹھ کر سوچا، حساب لگایا۔ یہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ معاملہ انہی سے متعلق ہے۔
البتہ ماضی میں جب اس نوعیت کا کوئی فتنہ—اور ظاہر ہے کہ ہم نے متعدد فتنے دیکھے ہیں—ملک میں برپا ہوتا تھا تو عموماً امریکہ کے ذرائع ابلاغ، امریکہ کے دوسرے درجے کے سیاست دان یا بعض یورپی ممالک کے عناصر مداخلت کرتے تھے؛ لیکن اس فتنے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ خود امریکی صدر، اپنی ذات کے ساتھ، اس فتنے میں شامل ہوا؛ اس نے بات کی، بیانات دیے، دھمکیاں دیں، فتنہ پرور عناصر کی حوصلہ افزائی کی؛ امریکہ سے ان لوگوں کو—جن کے بارے میں میں آگے عرض کروں گا کہ وہ کون تھے—پیغام بھیجا کہ آگے بڑھو، نہ ڈرو؛ کہا کہ ہم تمہاری حمایت کریں گے، حتیٰ کہ فوجی حمایت بھی کریں گے۔ یعنی خود امریکہ کا صدر اس فتنے میں شریک ہوا اور خود فتنہ کا حصہ بنا۔
ایک گروہ—وہی لوگ جنہوں نے توڑ پھوڑ کی، آگ لگائی، لوٹ مار کی، غیر قانونی کام کیے اور قتل و غارت کی—انہیں اس نے ملتِ ایران کے نام سے متعارف کرایا؛ یعنی ملتِ ایران پر بہت بڑا الزام لگایا؛ کہا کہ یہ ملتِ ایران ہیں اور میں ملتِ ایران کا دفاع کرنا چاہتا ہوں۔ یہ جرم ہے۔ جو دلائل میں نے عرض کیے، یہ سب مستند دلائل ہیں؛ کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے؛ کھلے عام کہا، کھلے عام بات کی، کھلے عام حوصلہ افزائی کی۔ ہمارے پاس مسلسل شواہد موجود ہیں کہ انہوں نے مدد کی؛ خود انہوں نے بھی، اور صہیونی حکومت نے بھی—جس کا میں مختصراً ذکر کروں گا—مدد کی۔ ہم امریکہ کے صدر کو مجرم سمجھتے ہیں؛ جانی نقصانات کی وجہ سے بھی، مالی و مادی نقصانات کی وجہ سے بھی، اور ملتِ ایران پر لگائے گئے اس بہتان کی وجہ سے بھی۔
دوسرا نکتہ فتنے کے عناصر کے بارے میں ہے؛ یہ جو میدان میں موجود تھے، یہ کون تھے؟ یہ دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک گروہ وہ تھا جسے امریکہ اور اسرائیل کے جاسوسی اداروں نے باقاعدہ انتخاب کر کے چنا تھا، تلاش کیا تھا؛ ان میں سے اکثر کو ملک سے باہر لے جا کر تربیت دی گئی تھی، اور کچھ کو یہیں تربیت دی گئی تھی کہ کیسے حرکت کرنی ہے، کیسے آگ لگانی ہے، کیسے خوف پھیلانا ہے، اور کیسے پولیس کے ہاتھ سے بچ نکلنا ہے؛ انہیں مناسب مقدار میں پیسہ بھی دیا گیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اس ہجوم کے سردار تھے؛ خود کو یہ لوگ لیڈر کہتے تھے—یعنی سرغنہ۔ ایک گروہ یہ تھا۔ الحمدللہ ان میں سے بڑی تعداد گرفتار ہوئی؛ فوجی، انتظامی اور سلامتی کے اداروں نے اس میدان میں اچھا کام کیا۔ ان خبیث اور مجرم عناصر کی بڑی تعداد—اور یہ واقعی مجرم ہیں—گرفتار کر لی گئی۔
دوسرا گروہ وہ تھا جن کا صہیونی حکومت یا فلاں جاسوسی ادارے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا؛ یہ نادان اور سادہ نوجوان تھے جن سے بات کی جاتی ہے، انہیں متاثر کیا جاتا ہے، ان کے اندر جوش اور ہیجان پیدا کیا جاتا ہے؛ نوجوان ویسے ہی جذباتی ہوتے ہیں، نو عمر بھی جذباتی ہوتے ہیں؛ وہ میدان میں آ جاتے ہیں، ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جو نہیں کرنے چاہئیں، ایسی شرارتیں کرتے ہیں جو نہیں کرنی چاہئیں۔ یہ لوگ پیادہ عناصر ہیں؛ ان کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ جا کر کسی جگہ پر حملہ کریں: کسی چوکی پر، کسی گھر پر، کسی دفتر پر، کسی بینک پر، کسی صنعتی مرکز پر، کسی بجلی کے مرکز پر—ان کی ذمہ داری یہی ہوتی ہے۔
وہ سرغنہ ان لوگوں کو جمع کرتا ہے؛ ہر ایک اپنے ساتھ دس، بیس، پچاس افراد جمع کرتا ہے اور رہنمائی کرتا ہے کہ “تمہیں یہاں جانا ہے، یہ کام کرنا ہے اور جرم انجام دینا ہے”؛ اور افسوس کہ وہ ایسا کرتے بھی ہیں۔ بہت سے جرائم وقوع پذیر ہوئے۔ اس فتنے میں یہی نادان اور ناآگاہ عناصر، ان خبیث اور تربیت یافتہ سرغنوں کی قیادت میں، برے کاموں کے مرتکب ہوئے اور بڑے بڑے جرائم انجام دیے۔
انہوں نے ۲۵۰ مساجد کو تباہ کیا؛ ۲۵۰ سے زائد تعلیمی اور علمی مراکز کو نقصان پہنچایا اور برباد کیا؛ بجلی کی صنعت کو نقصان پہنچایا؛ بینکوں کو نقصان پہنچایا؛ طبی مراکز کو نقصان پہنچایا؛ عوام کے ضروری سامان کی دکانوں کو نقصان پہنچایا؛ عوام کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کئی ہزار افراد کو قتل کیا؛ بعض کو انتہائی غیر انسانی، بلکہ سراسر وحشیانہ انداز میں قتل کیا۔
وہ ایک مسجد پر حملہ کرتے ہیں؛ چند نوجوان مسجد کے اندر دفاع کے لیے جاتے ہیں؛ وہ مسجد کے دروازے بند کر دیتے ہیں اور مسجد کو آگ لگا دیتے ہیں؛ مسجد اور وہ چند نوجوان آگ میں جل کر شہید ہو جاتے ہیں! میں آگے عرض کروں گا کہ یہ سب خود ایک منصوبہ ہے؛ یہ جزئیات بھی ایک پہلے سے تیار شدہ عمومی منصوبے کا حصہ ہیں، پہلے سے طے کیا گیا تھا کہ اسی طرح عمل کرنا ہے اور اسی طرح پیش قدمی کرنی ہے۔
انہوں نے گلی کوچوں کے بے گناہ لوگوں کو، معصوم عوام کو، ایک تین سالہ بچی کو، مردوں کو، بے دفاع اور بے قصور عورتوں کو قتل کیا۔ ان کے پاس اسلحہ تھا؛ ان کے پاس قاتل اسلحہ بھی تھا اور نرم اسلحہ بھی؛ یہ اسلحہ انہیں فراہم کیا گیا تھا۔ یہ اسلحہ بیرونِ ملک سے آیا تھا؛ اسی لیے آیا تھا کہ فتنہ پرور عناصر میں تقسیم کیا جائے اور یہ جرائم انجام پائیں۔
یہ ہیں فتنے کے عناصر؛ فتنے کے عناصر یہی لوگ تھے۔
البتہ ملتِ ایران نے فتنے کی کمر توڑ دی۔ ملتِ ایران کی 12 جنوری کے دن ہونے والی کروڑوں کی ریلی کے ذریعے، 12 جنوری بھی [اب] 11 فروری کی طرح ایک تاریخی دن بن گیا؛ یعنی بائیس دی ماہ کو ملتِ ایران نے خود بنایا اور اپنی افتخارات کی فہرست میں ایک اور افتخار کا اضافہ کیا۔ بائیس دی (12 جنوری) کے دن، ملتِ ایران نے تہران میں چند کڑوڑ افراد کی موجودگی کے ذریعے اور ملک کے مختلف شہروں میں بے شمار اور عظیم الشان اجتماعات کے ذریعے، ملند دعوے داروں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کیا۔ الحمدللہ ملت نے یہ کام انجام دیا اور فتنے کو دبا دیا۔ یہ ملتِ ایران کا کارنامہ ہے۔
البتہ دنیا میں صہیونیوں سے وابستہ مطبوعات میں—اور ان خبررساں اداروں کی اکثریت صہیونیوں ہی کی ملکیت ہے—ان چند گنے چنے فتنہ گروں کو بہت بڑا بنا کر پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ یہی ملتِ ایران ہیں؛ جبکہ تہران اور دیگر شہروں میں عوام کے اس عظیم ہجوم کا بعض نے تو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا، اور بعض نے کہا کہ چند ہزار افراد تھے! یہ ان کی عادت ہے، انہیں ایسا ہی کرنا ہوتا ہے؛ کوئی بات نہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے؛ حقیقت وہی ہے جو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، اپنے شہر میں یا تہران میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔
لیکن اب ہمارے طرزِ عمل کا مسئلہ۔ ٹھیک ہے، ملتِ ایران نے امریکہ کو شکست دی۔ امریکیوں نے بہت سی تمہیدات کے ساتھ اس فتنے کو ان بڑے مقاصد کے لیے برپا کیا تھا جن کی طرف میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں؛ یہ فتنہ بڑے منصوبوں کی تمہید تھا۔ ملتِ ایران نے [امریکہ کو] شکست دی۔ چند ماہ پہلے ہونے والی چند روزہ جنگ کے بعد—جس میں بھی ملتِ ایران نے امریکہ اور صہیون کو شکست دی تھی—آج بھی فضلِ الٰہی سے امریکہ کو شکست دی۔ یہ بات درست ہے، لیکن کافی نہیں۔ ہاں، ہم نے فتنے کی آگ کو خاموش کر دیا، مگر یہ کافی نہیں؛ امریکہ کو جواب دہ ہونا ہوگا۔ ہمارے مختلف اداروں کو، وزارتِ خارجہ سمیت اور دیگر متعلقہ اداروں کو، اس معاملے کا پیچھا کرنا چاہیے۔ ہم ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جا رہے؛ ہمارا یہ ارادہ نہیں کہ ملک کو جنگ کی طرف دھکیلا جائے، لیکن ہم داخلی مجرموں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ اور داخلی مجرموں سے بھی بڑھ کر بین الاقوامی مجرم ہیں؛ انہیں بھی نہیں چھوڑیں گے۔ اس کام کو اس کے اپنے طریقوں سے، درست اسلوب کے ساتھ، آگے بڑھانا اور تعاقب میں رکھنا ہوگا، اور ان شاء اللہ ملتِ ایران نے جس طرح فتنے کی کمر توڑی ہے، اسی طرح فتنہ گر کی کمر بھی توڑنی چاہیے۔
میری آخری بات۔ اس واقعے میں، اس امریکی–صہیونی فتنے کے مقابلے میں، انتظامی اور سلامتی کے ذمہ داروں، سپاہ اور بسیج نے حقیقتاً جانفشانی کی؛ واقعی جانفشانی کی۔ ان کے لیے دن رات کا فرق مٹ گیا تھا، یہاں تک کہ دشمن کی بھاری لاگت اور وسیع تمہیدات سے برپا ہونے والے اس فتنے کو مکمل طور پر پاک کر کے ختم کر دیا۔ ملک کے تمام ذمہ داران نے بھی باہمی تعاون کیا۔ ملتِ ایران نے بھی آخری بات کہہ دی اور پوری قوت کے ساتھ معاملے کو انجام تک پہنچایا—لیکن اتحاد کے ساتھ۔
میں اپنی ہمیشہ کی نصیحت دہرانا چاہتا ہوں: سب سے پہلے عوام کے درمیان اتحاد محفوظ رکھا جائے؛ گروہی، سیاسی، لکیری اور اس قسم کے جھگڑے عوام میں رواج نہ پائیں۔ سب ایک ہو جائیں؛ اسلامی نظام کے دفاع میں، ملکِ ایران—اس عزیز ایران—کے دفاع میں، سب مل کر، شانہ بشانہ اور متحد رہیں۔
ذمہ داران نے بھی — مختلف شعبوں میں متعلقہ ذمہ داران نے بھی — حقیقتاً کام کیا۔ معزز صدرِ مملکت،(۹) اور ملک کے دیگر سربراہان نے فعالیت کی؛ میدان میں موجود رہے اور کام کیا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ چونکہ مجھے کسی اور کے کام کی خبر نہیں، اس لیے میں مسلسل اعتراض کرتا رہوں کہ جناب یہ کیوں ہوا اور وہ کیوں ہوا؛ نہیں، سب نے کام کیا ہے۔ میں اس بات سے سختی کے ساتھ پرہیز کرتا ہوں — اور اجازت نہیں دیتا، روکتا ہوں، منع کرتا ہوں — کہ ایسے نہایت اہم بین الاقوامی اور اندرونی حالات میں ملک کے سربراہان، صدرِ جمہور اور دیگر ذمہ داران کی توہین کی جائے؛ چاہے وہ مجلس میں ہوں یا مجلس کے باہر ہوں، یا کہیں بھی ہوں۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے؛ ان ذمہ داران کی قدر کرنی چاہیے جو ایسے مواقع پر، جب ملک کسی بڑے حادثے سے دوچار ہوتا ہے، عوام سے کنارہ کش نہیں ہوتے۔ ماضی میں کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ عوام میدان میں تھے اور ذمہ دار تماشائی بنے رہے، بلکہ کبھی عوام کے خلاف باتیں بھی کیں؛ لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ اس مرتبہ ذمہ داران عوام کے ساتھ تھے، عوام کے درمیان تھے، عوام کے ساتھ چلے، ایک ہی مقصد کے تحت کوشش کی اور کام کیا۔ اس طرزعمل کی قدر دانی ہونی چاہیے؛ یہ بہت اہم بات ہے۔ میری مؤکد تاکید بالخصوص صدرِ مملکت اور ملکی اداروں کے ذمہ داران، دیگر قواؤں کے سربراہان اور فعال قومی قیادت کے لیے ہے: انہیں ان کا کام کرنے دیں، انہیں اپنی کوششیں جاری رکھنے دیں اور وہ بڑی خدمت انجام دینے دیں جو ان کے ذمے ہے۔
البتہ اقتصادی صورتِ حال اچھی نہیں؛ عوام کی معاشی زندگی واقعی مشکل میں ہے؛ میں اس حقیقت سے آگاہ ہوں۔ اس حوالے سے انہیں دوگنا محنت کرنی چاہیے۔ بنیادی اشیائے ضروریہ، مویشیوں کے چارے، روزمرہ کی خوراک اور عوام کی عمومی ضروریات کی فراہمی کے لیے حکومتی ذمہ داران کو ہمیشہ سے دوگنا کام کرنا ہوگا؛ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ محنت کرنا ہوگی؛ اس میں کوئی شک نہیں۔ ذمہ داران پر بھی فرائض ہیں اور ہم عوام پر بھی فرائض عائد ہوتے ہیں؛ ہمیں اپنے اپنے فرائض ادا کرنے چاہییں۔ اگر ہم اپنے فرائض پر عمل کریں گے تو خدائے متعال ہمارے کام میں برکت عطا فرمائے گا۔
اے پروردگار! ہمارے کام میں یہ برکت عطا فرما۔
والسّلام علیکم و رحمةُ اللہ و برکاتُہ
---
۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۲
۲) نہج البلاغہ، خطبہ ۲
۳) امریکی ورجن آئی لینڈز کے نجی جزیروں میں سے ایک، جو نوجوان عورتوں اور کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور ان کے استحصال کے لیے بطور خفیہ پناہ گاہ استعمال ہوتا رہا، اور اس جزیرے کے مہمان دنیا بھر سے، معاشرے کے اعلیٰ ترین طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔
۴) سورۂ مدّثر، آیات ۱۸ تا ۲۲
۵) سورۂ ہود، آیت ۹۸ کا ایک حصہ
۶) سورۂ آلِ عمران، آیت ۱۳۹
۷) ڈونلڈ ٹرمپ
۸) مثال کے طور پر، کرمانشاہ کی تین سالہ بچی ملینا اسدی، جو مسلح دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئی۔
۹) ڈاکٹر مسعود پزشکیان
