ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

قم کی عوام کے تاریخی قیام کی سالگرہ پر خطاب

بسم اللّہ الرّحمن الرّحیم

و الحمد للّہ ربّ العالمین والصّلاۃ والسّلام علیٰ سیّدنا و نبیّنا ابی‌القاسم المصطفیٰ محمّد و علیٰ آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیۃ اللّہ فی الارضین.

عزیز بھائیو، عزیز بہنو، قم کے معزز، مؤمن اور انقلابی عوام! آپ سب کو بہت خوش آمدید۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انیس دی (۱۹ دی ۱۳۵۶ھ ش / ۹ جنوری ۱۹۷۸ء) ایران کی شاندار اور افتخار سے بھرپور تاریخ کی موٹی کتاب کا ایک ناقابلِ جدا ورق ہے؛ یہ دن پوری تاریخ کے لیے ایک باوقار اور افتخارآمیز دن ہے۔ یہ درست ہے کہ تحریک کا آغاز انیس دی سے نہیں ہوا؛ اسلامی تحریک انیس دی سے پندرہ سال قبل، ہمارے عزیز امامؒ خمینی کی قیادت میں شروع ہو چکی تھی۔ ان پندرہ برسوں کے دوران امام کے بیانات، امام کی حکمت و تدبیر، امام کی مسلسل تقاریر—جو وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سماجی ذہنیت میں رچ بس رہی تھیں—اسی طرح ہمارے اسلامی مفکرین کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں نوجوانوں کے ساتھ، مساجد میں اور مختلف مراکز میں فکری مباحث، ان سب نے مل کر تحریک کے معارف کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ یہ بات بالکل درست ہے؛ یعنی اسلامی تحریک کے نظری مباحث پندرہ سال کے عرصے میں روز بروز عوام کے اذہان میں زیادہ مستحکم ہوتے گئے، لیکن اس فکری اور نظری خزانے کو ایک اجتماعی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے ایک اہم اور مؤثر واقعے کی ضرورت تھی۔

خیالات اذہان میں موجود تھے، تحریک کے افکار، معارف اور اس کی بنیادیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے دلوں میں—میں یہ نہیں کہتا کہ سب کے دلوں میں، لیکن ایک کثیر تعداد کے دلوں میں—گہرائی تک اتر چکی تھیں اور وہ تحریک کے مبانی سے آشنا تھے؛ مگر اس تحریک کو عملاً ظہور میں آنا تھا، اسے تحقق حاصل کرنا تھا، اور وہ ذہنی مفاہیم ایک عینی حقیقت، ایک عملی حرکت میں تبدیل ہونے تھے۔ اس مقصد کے لیے ایک چنگاری درکار تھی؛ گویا یوں سمجھ لیجیے کہ پورے ملک میں بارود کا ایک عظیم ذخیرہ موجود ہو اور اسے بھڑکانے کی ضرورت ہو۔ قم کا واقعہ اسی کردار کا حامل تھا؛ انیس دی نے یہی کردار ادا کیا اور ان ذہنی آمادگیوں کو ایک ہمہ گیر تحریک میں بدل دیا۔

البتہ قم کا واقعہ محض ایک چنگاری نہ تھا بلکہ ایک بجلی کا کڑکا تھا جو الٰہی ارادے سے آسمان سے نازل ہوا۔ بظاہر قم کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جو ایک، دو یا تین دن میں رونما ہوا اور ختم ہو گیا، لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ قم کے واقعے نے اپنے بعد ایک تسلسل کو جنم دیا؛ تبریز آیا، پھر دوسرے شہر آئے، پھر پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ گیا اور اچانک پورا ملک شعلہ‌ور ہو گیا۔ قم کے واقعے کا اصل کارنامہ یہی تھا۔

میں جب کہتا ہوں کہ یہ ’’صاعقہ‘‘(بجلی) تھا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انیس دی کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں، اگلے سال کے دی کے مہینے میں، ایران سے بادشاہت کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا۔ جب پہلوی حکومت کا یہ خاتمہ وقوع پذیر ہوا—ایک ایسی حکومت جو وابستہ بھی تھی، فاسد بھی تھی، کمزور بھی تھی اور ظالم بھی تھی؛ بدترین حکومتوں میں سے بدترین—بلکہ حقیقتاً آپ شاید دنیا کی معاصر تاریخ میں ہم اس سے بدتر کوئی حکومت نہ پائیں—تو اس کے بعد ایک عوامی اور اسلامی حکومت کے قیام کی زمین ہموار ہو گئی؛ بالکل وہی وعدہ جو ہمارے عظیم امامؒ خمینی نے کیا تھا۔

امام خمینی کے بیانات میں اس بات کی واضح نشانیاں موجود تھیں کہ فاسد حکومت کی جگہ عوامی حکومت آئے، آمریت کی جگہ عوام کو حاکمیت حاصل ہو، اور امریکہ، صہیونیت اور دنیا کی سیاست کے تمام اراذل و اوباش پر انحصار کے بجائے ایک خودمختار اور سربلند حکومت برسرِ اقتدار آئے۔ قم کے واقعے نے اسی عظیم تبدیلی کے لیے فضا اور زمینے دونوں کو آمادہ کر دیا۔

یہ نکتہ بھی میں عرض کر دوں کہ قم کے اس زبردست اور فیصلہ کن واقعے کا سبب دراصل خود پہلوی حکومت کی غلط پالیسیاں بنیں؛ خود انہوں نے اپنی زوال کی زمین ہموار کی؛ خود ہی اپنے لیے بدبختی کا سامان مہیا کیا۔ کیسے؟ غلط اندازوں کے ذریعے، غلط حساب کتاب سے، سنگین فکری اور عملی غلطیوں کے سبب۔ یہ خطرہ ہر حکومت کے لیے بہت بڑا ہوتا ہے۔ آج بھی امریکہ اسی قسم کی غلط فہمی اور غلط اندازوں کا شکار ہے؛ آج بھی امریکہ مسائل کو غلط طور سے سمجھتا ہے، اس کی حساب کتاب اور اندازہ سراسر غلط ہے۔ اُس وقت بھی، خواہ وہ امریکہ ہو جو پہلوی حکومت کا پشت پناہ تھا، یا خود پہلوی حکومت—دونوں ہی غلط اندازوں میں مبتلا تھے اور حقیقت کو درست طور پر نہیں سمجھ پا رہے تھے۔

انیس دی کے واقعے سے تقریباً دس دن پہلے—بالکل صرف دس دن قبل—امریکی صدر تہران میں موجود تھا(۱) اور پہلوی دربار کی جنوری کی تقریب میں اس نے ایک تقریر کی؛ وہ نشے اور اس قسم کی چیزوں میں مگن تھا۔ اسی تقریر میں اس نے کہا: ’’ایران استحکام کا جزیرہ ہے‘‘۔ دس دن بعد قم کا واقعہ پیش آ گیا؛ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ایران کو نہیں جانتے تھے۔ اس نے کہا ’’ایران استحکام کا جزیرہ ہے‘‘؛ اس نے شاہ کی تعریف کی، اس کی مدح سرائی کی، ایران کی صورتِ حال کو بہترین قرار دیا، اور صرف دس دن بعد قم کا واقعہ رونما ہو گیا۔ وہ ایران کو نہیں پہچانتے تھے اور آج بھی نہیں پہچانتے۔ ہمارے دشمنوں نے اُس وقت بھی ایران کو نہیں سمجھا اور غلط منصوبہ بندی کی، اور آج بھی نہیں سمجھتے اور غلط منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اُس دن وہ غلط منصوبہ بندی کے نتیجے میں شکست کھا گئے تھے، اور آج بھی امریکہ اپنی ہی غلط منصوبہ بندیوں کے سبب شکست سے دوچار ہوگا۔

یہ سب تاریخی حقائق ہیں؛ جو باتیں میں نے عرض کیں وہ کوئی محض تجزیہ نہیں ہیں بلکہ ایسی حقیقتیں ہیں کہ جو کوئی بھی اُس دور کے ملکی حالات کا مطالعہ کرے—اگرچہ آپ میں سے اکثر نوجوانوں نے وہ دور دیکھا نہیں—اس پر یہ باتیں پوری طرح واضح ہو جائیں گی۔ یہ تاریخ کے اٹل حقائق ہیں۔ اب ہمیں ان تاریخی حقائق سے سبق لینا چاہیے۔ تاریخی حقائق محض کہانیاں نہیں ہوتیں—اگرچہ کہانیوں سے بھی سبق لیا جاتا ہے—لیکن یہاں تو ہمیں لازماً سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اس سبق کو میں چند جملوں میں بیان کرتا ہوں:

اُس وقت ملتِ ایران کے پاس نہ توپ تھی، نہ ٹینک، نہ میزائل؛ نہ اس کے پاس سخت ہتھیار تھے اور نہ مادی وسائل، اس کے باوجود وہ کامیاب ہوئی۔ کیوں؟ جبکہ مقابل کے پاس توپ بھی تھی، ٹینک بھی تھے؛ اس نے اپنے ٹینک سڑکوں پر نکالے، گولہ باری کی، مگر پھر بھی شکست کھا گیا۔ ملتِ ایران بغیر سخت ہتھیاروں کے فاتح ہوئی، اور وہ فریق سخت ہتھیار رکھنے کے باوجود مغلوب ہوا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ وجہ یہ تھی کہ اگرچہ ملتِ ایران کے پاس سخت ہتھیار نہیں تھے، مگر اس کے پاس نرم طاقت موجود تھی؛ اور نرم طاقت ہر میدان میں زیادہ فیصلہ کن ہوتی ہے۔

ملتِ ایران کی نرم طاقت کیا تھی؟ اس کی نرم طاقت دینی غیرت تھی، ایمانی حمیت تھی، ذمہ داری اور فرض شناسی کا وہ احساس تھا جو ہمارے عظیم امامؒ خمینی نے اس کے سپرد کیا تھا اور جس کا مطالبہ انہوں نے کیا تھا۔ امام خمینی نے حتیٰ کہ بڑے علما اور مراجع سے بھی ذمہ داری کا مطالبہ کیا، اور بلند آواز سے پکارا: ’’اے خاموش نجف! اے خاموش قم!‘‘(۲) وہ احساس ذمہ داری کا تقاضا کرتے تھے، اور عوام نے بھی اس ذمہ داری کو اپنے کاندھوں پر محسوس کیا۔ ملتِ ایران کی نرم طاقت اپنے وطن سے محبت تھی، اپنے ملک، اپنے ایران سے عشق تھا۔

لوگ دیکھتے تھے کہ ملک کے اندر امریکی اہلکار، امریکی ایجنٹ اور امریکی  تنخواہ دار حکمرانی کر رہے ہیں؛ جیسا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی بعض ملکوں میں امریکی نمائندے حکم دیتے ہیں: ’’یہ کام کرو، وہ کام مت کرو، اسے رکھو، اسے نصب کرو، اسے معزول کرو!‘‘ اُس زمانے میں ایران کی حالت یہی تھی، اور عوام یہ بات سمجھتے تھے، اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ یقیناً تمام لوگ اعلیٰ سیاسی حلقوں میں شامل نہیں تھے، لیکن خبریں عوام تک پہنچتی تھیں، لوگ سمجھ جاتے تھے۔

اُس وقت عوام اپنے ہی ملک کے اُن کارگزاروں کی خیانت کو دیکھتے تھے—جو درحقیقت امریکی کارندے تھے؛ ایرانی تھے، مگر امریکہ کے لیے کام کرتے تھے؛ ایرانی تھے، مگر صہیونی رژیم کے مفادات کے لیے سرگرم تھے—یہ سب کچھ عوام دیکھتے تھے، سمجھتے تھے، ان کے اندر غصہ اور نفرت پیدا ہوتی تھی، اور یہ غم و غصہ ان کے دلوں میں جمع ہوتا جاتا تھا۔ جب تحریک کا آغاز ہوا تو یہی دبا ہوا غصہ ابھر آیا، ظاہر ہوا، خود کو نمایاں کر دیا۔ یہی معنوی ہتھیار تھا، یہی نرم طاقت تھی۔

عوام کی سب سے بڑی معنوی طاقت ان کا اسلام پر ایمان تھا۔ وہ دیکھتے تھے کہ حکومتی نظام علانیہ اور مسلسل اسلام کے خلاف موقف اختیار کر رہا ہے: ہجری تاریخ کو بدل دیا گیا، اسلامی مفاہیم کو مسخ کیا گیا، اسکولوں کی کتابوں کو غیر اسلامی بنایا گیا، غیر اسلامی تصورات کو فروغ دیا گیا۔ عوام یہ سب دیکھتے تھے؛ باشعور اور بیدار لوگ ان باتوں کو سمجھتے تھے اور عوام تک منتقل کرتے تھے۔ یہی معنوی ہتھیار تھا؛ اور یہی معنوی ہتھیار، سخت ہتھیاروں—توپ اور ٹینک—کے مقابلے میں غالب آ گیا اور انہیں شکست دے گیا۔

یہ سب باتیں ماضی سے تعلق رکھتی ہیں۔ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج ملتِ ایران اُس وقت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مسلح اور زیادہ تیار ہے؛ آج نہ صرف ہماری معنوی طاقت اُس زمانے سے زیادہ مضبوط، زیادہ منظم اور زیادہ آمادہ ہے بلکہ ہمارے مادی، ظاہری اور روایتی سخت ہتھیار بھی اُس دور سے قابلِ موازنہ نہیں رہے۔

جب بھی اسلامی جمہوریہ کے کھلے دشمنوں کے ساتھ ٹکراؤ اور مقابلے کی بات ہوتی ہے تو بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ’’حضور! آپ ہمیشہ دشمنی اور ٹکراؤ کی بات کیوں کرتے ہیں؟‘‘ یہ لوگ غفلت میں مبتلا ہیں، توجہ نہیں دیتے۔ اس ٹکراؤ کا آغاز انہوں نے خود کیا؛ امریکہ نے شروع کیا، امریکہ سے وابستہ دشمنوں نے آغاز کیا۔ کیوں آغاز کیا؟ امریکہ اسلامی جمہوریۂ ایران سے اس قدر ناراض اور بیزار کیوں ہے؟ اس کی وجہ بالکل واضح ہے: اس لیے کہ اس ملک کی دولت، اس کے تمام مالی وسائل امریکہ کے قبضے میں تھے، اور اسلامی جمہوریہ نے آ کر یہ سب ان کے ہاتھوں سے چھین لیا۔

آج آپ دیکھتے ہیں کہ لاطینی امریکہ میں ایک ملک(۳) کا محاصرہ کیا جاتا ہے، مختلف اقدامات کیے جاتے ہیں، اور ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی؛ کھلے لفظوں میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب تیل کے لیے ہے اور ہم یہ کام تیل کے لیے کر رہے ہیں! یہاں بھی معاملہ یہی تھا؛ ایران کا تیل، ایران کی معدنی دولت، ایران کی زرعی زمینیں۔ قزوین کے وسیع میدان، تہران کے قریب کے زرخیز علاقے صہیونیوں کے قبضے میں تھے اور وہ آہستہ آہستہ انہیں پھیلا رہے تھے۔ ہمارے خراسان کے علاقے میں، مشہد اور قوچان کے درمیان ایک بہت وسیع خطہ تیار کیا جا رہا تھا تاکہ اسے بہائیوں کے حوالے کیا جائے، صہیونی عناصر اور امریکی کارندوں کو دیا جائے۔ ہر جگہ ان کا ہاتھ کھلا ہوا تھا۔ اسلامی جمہوری نظام آیا اور ان سب کے ہاتھ کاٹ دیے؛ ظاہر ہے، پھر دشمنی تو ہوگی ہی۔

ابتدا ہی سے انہوں نے دشمنی اختیار کی ہے اور اسلامی جمہوریہ نے ان کا مقابلہ کیا ہے، اور آج تک یہ دشمنی جاری ہے۔ فضلِ الٰہی سے اسلامی جمہوری نظام روز بہ روز زیادہ مضبوط ہوتا گیا ہے۔ انہوں نے اقدامات کیے، مگر اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے میں ناکام رہے۔ بحمداللّٰہ آج اسلامی جمہوری نظام دنیا میں سربلند، مضبوط، مقتدر اور باوقار حیثیت رکھتا ہے، ان کی خواہش کے بالکل برعکس۔ اصل بات یہی ہے۔

ان گزشتہ چالیس اور کچھ برسوں میں جو کچھ وہ کر سکتے تھے، سب کر کے دیکھ لیا؛ یعنی کسی ملک کے خلاف دشمنانہ کارروائی کی جو بھی صورت ممکن ہو سکتی تھی، ایسی کوئی صورت نہیں جسے انہوں نے انجام نہ دیا ہو: انہوں نے فوجی حملے کیے، سلامتی کے حملے کیے، اقتصادی پابندیاں لگائیں، ثقافتی یلغار کی، اپنے ایجنٹ بھیجے، بعض کمزور نفس افراد کو پیسے کے ذریعے یہاں اپنا آلۂ کار بنایا؛ ان برسوں میں انہوں نے یہ سب کچھ کیا، مگر ناکام رہے، کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔

آج بحمداللّٰہ ایران اسلامی جمہوریہ کی برکت سے طاقتور ہے؛ اس لیے کہ اسلامی جمہوریہ برسرِ اقتدار ہے۔ اگر یہاں لبرل جمہوری حکومت ہوتی، بادشاہی نظام ہوتا، یا کسی نہ کسی کے زیرِ اثر اور تابع حکومت ہوتی تو صورتِ حال ایسی نہ ہوتی۔ یہ اسلام ہے، یہ عوامی نظام ہے، یہ اسلامی نظام ہے—یعنی اسلامی جمہوریہ—جس نے ایران کو علم، ٹیکنالوجی، فنون و ادب، بین الاقوامی سیاست اور بہت سے دوسرے میدانوں میں بڑی ترقیوں تک پہنچایا ہے۔

بعض لوگ—اکثر ابتدا بیرونی حلقے اور پھر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اندرونِ ملک بھی کچھ افراد ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں—یہ کہتے ہیں کہ ایران تنہا اور الگ تھلگ ہو گیا ہے؛ ہرگز نہیں! ایران، ایرانی حکومت، اسلامی جمہوریۂ ایران ہرگز منزوی نہیں ہے۔ یہ لوگ خود کو فریب دیتے ہیں؛ ایران منزوی نہیں۔ آج کا ایران دنیا میں ایک آزاد، باہمت اور مستقبل رکھنے والے ملک کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں سے بہت سی ہمارے نوجوانوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔

میں ایرانی نوجوان کے بارے میں ایک مختصر بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ یقیناً تمام نوجوان ایک جیسے نہیں ہوتے، جیسے تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے؛ کہیں بہتر ہیں، کہیں کم تر ہیں؛ نوجوانوں میں بھی، بزرگوں میں بھی، عوام میں بھی، علماء میں بھی، طلبہ میں بھی—ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر اگر حساب کیا جائے تو، دشمن کی جھوٹے دعوؤں کے برخلاف، ایرانی نوجوان ایران کی سب سے بڑی طاقتوں اور امتیازات میں سے ایک ہے؛ ہمارے اہم ترین سرمایہ نوجوان ہی ہیں۔ حوادث اور بحرانوں کے مقابلے میں کچھ خاص صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور آج ان میں سے سب سے بڑی صلاحیت ہمارے نوجوان ہیں۔

دشمن چاہتا ہے کہ ایرانی نوجوان کو غلط انداز میں پیش کرے؛ وہ چاہتا ہے کہ یہ دکھائے کہ ایرانی نوجوان سیاسی طور پر منحرف ہے، مغرب کا تابع ہے؛ دینی اعتبار سے گمراہ ہے اور دین سے منہ موڑ چکا ہے؛ اخلاقی لحاظ سے لاپروا، فاسد اور روحانی طور پر کمزور ہے۔ دشمن یہی تصویر پیش کرنا چاہتا ہے۔ وہ جو کچھ ایرانیوں، بالخصوص نوجوانوں کے بارے میں کہتے، پھیلاتے اور اپنے تجزیوں میں دہراتے ہیں، یہی باتیں ہیں۔ یہ تصویر سو فیصد غلط ہے؛ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

ایرانی نوجوان وہی ہے جو جنگ کے میدان میں دلیر ہوتا ہے؛ جب جنگ چھڑتی ہے تو سینہ سپر ہو جاتا ہے۔ مختلف محاذوں پر—ان نوجوانوں میں سے جو محاذ پر بھیجے نہیں گئے—چاہے ساٹھ کی دہائی میں مسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ ہو، چاہے یہ حالیہ جنگ(۴) ہو، یا حرم کے دفاع کا مرحلہ—کتنے ہی نوجوان تھے جو آ کر روتے تھے، آنسو بہاتے تھے اور درخواست کرتے تھے کہ ہمیں بھیج دیا جائے، ہم جہاد کرنا چاہتے ہیں؛ یہی تو بہادری ہے۔ نوجوان آمادہ ہیں؛ لہٰذا یہ تصویر سو فیصد غلط ہے۔ اب میں اپنے نوجوانوں کی صورتحال کے دو تین نمونے آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں:

ایرانی نوجوان جنگ میں دلیر اور جانباز ہے؛ سیاست کے میدان میں بصیرت رکھتا ہے، دشمن کو پہچانتا ہے، امریکہ کو جانتا ہے؛ ایک زمانہ تھا کہ ایسا نہیں تھا۔ دینی امور میں پابندی اور التزام رکھتا ہے؛ اعتکاف نوجوانوں ہی کا میدان ہے، بائیس بہمن اور یومِ قدس کی ریلیاں، ماہِ رمضان میں روزے کی حالت میں سڑکوں پر نکلنا—یہ سب زیادہ تر نوجوانوں ہی کا کام ہے؛ اصل وزن انہی کا ہے، منصوبہ بندی یہی کرتے ہیں۔ نصفِ شعبان، امیرالمؤمنین اور امام حسینؑ کی ولادت کے موقع پر جو گلی محلّوں کے جشن پچھلے چند برسوں میں رائج ہوئے ہیں، یہ نوجوانوں ہی کی محنت کا نتیجہ ہیں؛ یہ کام نوجوان ہی انجام دیتے ہیں۔ مذہبی جشن ہوں یا عزاداریاں، سب نوجوانوں سے بھرپور ہوتی ہیں۔ شہداء کے جنازے نوجوانوں کی سرگرم شرکت سے انجام پاتے ہیں؛ یہی نوجوان شہداء کی تعظیم کرتے ہیں، ان کی قدر شناسی کرتے ہیں، انہیں سربلند رکھتے ہیں۔ ہمارے نوجوان ایسے ہی ہیں۔

وہ مصنوعی سیارے جن کا میں نے اس سے پہلے ذکر کیا تھا(۵) کہ ایک ہی دن میں تین سیٹلائٹ فضا میں بھیجتے ہیں(۶)، یہ سب نوجوانوں ہی کے ہاتھوں انجام پاتا ہے۔ جو دقیق اور عمیق سائنسی تحقیقات جوہری میدان میں ہوں، بنیادی خلیات کے شعبے میں ہوں، نینو ٹیکنالوجی میں ہوں، ادویات کے میدان میں ہوں یا دیگر شعبوں میں—یہ سب ہمارے نوجوان انجام دیتے ہیں؛ ہمارے نوجوان یہی ہیں۔ ہمارا مؤمن نوجوان—چاہے جامعہ میں ہو، چاہے حوزۂ علمیہ میں ہو یا کسی اور میدان میں—ان ہی خصوصیات کا حامل ہے؛ حقیقتاً ایسا ہی ہے۔ جہاں ضرورت ہو قربانی دینے کے لیے تیار ہے، جہاں لازم ہو تحقیق و تدقیق کے لیے آمادہ ہے، جہاں لازم ہو تعلیم حاصل کرتا ہے، اور جہاں ضرورت ہو سیاسی میدان میں موجود ہوتا ہے؛ ہمارا نوجوان اسی طرح کا ہے۔

ہاں، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا کام محض تخریب ہے۔ کل رات تہران میں اور بعض دوسرے مقامات پر چند تخریب کار آئے اور اپنے ہی ملک کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا—مثلاً کسی عمارت کی ایک دیوار گرا دی—صرف اس لیے کہ امریکہ کے صدر(۷) کا دل خوش ہو جائے؛ کیونکہ اس نے ایک بے ربط بات کہی ہے کہ اگر ایرانی حکومت فلاں کام کرے تو میں تمہارا ساتھ دوں گا—یعنی انہی ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا ساتھ—اور یہ لوگ اسی پر دل لگائے بیٹھے ہیں! وہ اگر کچھ کر سکتا ہے تو اپنے ہی ملک کو سنبھال لے؛ اس کے اپنے ملک میں طرح طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ اس کے ہاتھ ہزار سے زیادہ ایرانیوں کے خون سے آلودہ ہیں۔

بارہ روزہ جنگ میں، ہمارے ایک ہزار سے کچھ زائد ہم وطن — سرداروں، سائنس دانوں اور بزرگ شخصیات کے علاوہ — عام شہریوں میں سے شہید ہوئے؛ اور اسی شخص نے خود کہا کہ میں نے حکم دیا، میں نے اس جنگ کی قیادت کی! یعنی اس نے صاف اعتراف کیا کہ اس کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے آلودہ ہیں۔ پھر وہی شخص یہ کہتا ہے کہ میں ملتِ ایران کا حامی ہوں! اور کچھ ناتجربہ کار، بے توجہ اور بے سوچے سمجھے لوگ اس بات کو مان بھی لیتے ہیں، قبول بھی کر لیتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے لیے عمل کرتے ہیں، کوڑے دانوں کو آگ لگاتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ خوش ہو جائے۔

سب جان لیں: اسلامی جمہوری نظام چند لاکھ پاکیزہ انسانوں کے خون سے قائم ہوا ہے؛ تخریب کاروں کے سامنے اسلامی جمہوری نظام ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا، غیر ملکی آقاؤں کی مزدوری کو برداشت نہیں کرے گی۔ تم جو کوئی بھی ہو؛ جیسے ہی تم غیر ملکی کے آلۂ کار بنے، غیر ملکی کے لیے کام کیا، ملت تمہیں مسترد کر دے گی اور اسلامی نظام بھی تمہیں مسترد کر دے گا؛ یہ بات بالکل واضح ہے۔

اور وہ شخص جو مستی اور غرور کے ساتھ وہاں بیٹھ کر پوری دنیا کے بارے میں فیصلے صادر کرتا ہے، وہ یہ بھی جان لے کہ دنیا کے مستبد اور متکبر حکمران — جیسے فرعون، نمرود، رضا خان، محمد رضا اور ان جیسے دوسرے — عین غرور کے عروج پر آ کر ہی پچھاڑے گئے؛ یہ بھی پچھاڑا جائے گا۔

اے عزیز نوجوانو! اپنے دین کو محفوظ رکھیں، اپنی سیاسی فکر کو محفوظ رکھیں، اپنی موجودگی، اپنی آمادگی، ملک کی ترقی کے لیے اپنی سنجیدگی کو برقرار رکھیں، اور سب سے بڑھ کر اپنی وحدت کو محفوظ رکھیں۔ وحدت کو بچائے رکھیں؛ ایک متحد ملت ہر دشمن پر غالب آتی ہے۔
خداوند ان شاء اللہ آپ سب کو محفوظ رکھے اور آپکی یہ آمادگیاں بھی برقرار رکھے۔ ان شاء اللہ بہت جلد خداوند متعال تمام ملتِ ایران کے دلوں میں فتح کا احساس عام فرما دے گا۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ
۱۔ جمی کارٹر کا ایران کا سفر، دسویں دی ماہ ۱۳۵۶ھ ش (۳۱ دسمبر ۱۹۷۷ء)
۲۔ صحیفۂ امام، جلد ۱، صفحہ ۲۱۳؛ قم کے علما کے اجتماع سے خطاب (۱۲/۲/۱۳۴۲ھ ش = ۲ مئی ۱۹۶۳ء)؛
«افسوس اس ملک پر، افسوس اس حکمران طبقے پر، افسوس اس دنیا پر، افسوس ہم پر، افسوس ان خاموش علما پر، افسوس اس خاموش نجف پر، اس خاموش قم پر، اس خاموش تہران پر، اس خاموش مشہد پر!»
۳۔ وینزویلا
۴۔ بارہ روزہ جنگ
۵۔ شہید سلیمانی کے خانوادے اور بارہ روزہ مسلط کی گئی جنگ کے شہدا کے اہلِ خانہ سے ملاقات میں ارشادات
(۱۳/۱۰/۱۴۰۴ھ ش = ۳ جنوری ۲۰۲۶ء)
۶۔ ساتویں دی ماہ ۱۴۰۴ھ ش (۲۸ دسمبر ۲۰۲۵ء) کو تین ایرانی سیٹلائٹس «پایا»، «ظفر ۲» اور «کوثر» کا خلا میں پرتاب
۷۔ ڈونلڈ ٹرمپ
۸۔ شرکائے اجتماع کا نعرہ:
«اے آزاد منش رہبر! ہم تیار ہیں، ہم تیار ہیں۔»