ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

نداي رهبري

  • قومی اتحاد اور اسلامی انسجام
  • پیغمبر اسلام(ص)
  • عبادی اور سیاسی حج
    • پیغام حج 2009
    • حج خالص توحید کا مرکز و محور
    • حج میں شیطان کے خلاف مشترکہ رد عمل
      پرنٹ  ;  PDF

      حج میں شیطان کے خلاف مشترکہ رد عمل

      مؤمنین کے درمیان مہر و عطوفت امت اسلامی کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کی دوسری علامت ہے ۔ امت اسلامی کے بعض حصوں میں اختلافات اور تفرقہ ایک خطرناک بیماری ہے ۔ اور اس بیماری کاپوری طاقت کے ساتھ علاج ضروری ہے۔ اسلام دشمن عناصر طویل مدت سے اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب وہ امت اسلامی کی بیداری سے سخت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ۔ لہذا اس نے امت اسلامی کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی کوششیں بھی مزید تیز تر کردی ہیں۔قومی ہمدردی رکھنے والے افراد کا یہی کہنا ہے کہ تفاوتوں کو تضاد میں اور مختلف النوع ہونے کو آپسی دشمنی ،جھگڑے اور لڑائی میں نہیں بدلنا چاہیے ۔
      ایرانی عوام نے اس سال کو اسلامی اتحاد و یکجہتی کا سال قراردیا ہے یہ نام درحقیقت دشمنوں کے شوم پروپیگنڈوں نیز ان کی طرف سے امت اسلامی کے درمیان اختلافات ڈالنے کی سازشوں کے پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ دشمن کی یہ سازشیں فلسطین ، لبنان ، عراق ، پاکستان اور افغانستان میں کار گر ثابت ہوئی ہیں جہاں ایک مسلمان ملک کے لوگ اپنے ہی بھائیوں کے خلاف صف آرا ہوگئے اورانھوں نے ایک دوسرے کا خون بہانے پر کمر ہمت باندھ لی ،ان تمام تلخ اور دردناک حوادث میں دشمن کی سازشیں آشکار تھیں اور تیز نگاہوں نے ان سازشوں کے پیچھے دشمن کا ہاتہ دیکھ لیا ۔
      حکم خدا " رحماء بینھم " کا مطلب یہ ہے کہ آپسی دشمنی اور لڑائیوں کا سلسلہ ختم ہو ۔ آپ ان مبارک ایام میں ، دنیا کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ سب ایک ہی گھر کے ارد گرد طواف کررہے ہیں ، ایک ہی کعبہ کی طرف نماز ادا کررہے ہیں ، شیطان کی علامتوں پرمل کر پتھر پھینک رہے ہیں،قربانی کرنے کی منزل میں ایک جیسا عمل انجام دے رہے ہیں ، عرفات و مزدلفہ میں ایکدوسرے کے ساتھ ملکرخدا کی بارگاہ میں تضرع وزاری کررہے ہیں ، اسلامی مذاہب اصلی ترین فرائض و احکام اور عقائد میں ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک ہیں اس عظیم اتحاد کے بعد معمولی تعصبات اور قبل از وقت فیصلوں کی بنا پر کیوں مسلمانوں کے درمیان فتنہ و فساد اور جھگڑے کی آگ پھیلائی جائے ؟!۔ جبکہ دشمن بھی اس آگ پر مزید تیل چھڑکنے کا کام کرتا ہے ۔ آج وہ لوگ جو بے عقلی ، نادانی اور جہالت کی بنا پر مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقے پر کفر و شرک کا الزام عائد کرتے ہیں ،اور انکا خون بہانا جائز سمجھتے ہیں وہ لوگ خواہ نخواہ ، سامراجی طاقتوں اور کفر و شرک کی خدمت کررہے ہیں بہت سے لوگ جنھوں نے پیغمبر اسلاماور آئمہ طاہرین کی عزت و تکریم کو کفر وشرک قراردیا اور وہ خود کافروں اور ستمگاروں کے حامی اور مددگار بن گئے ۔جبکہ پیغمبر اسلام (ص) اور اہلبیت اطہار ، اور اولیاء خدا کی عزت و تکریم حقیقی دینداری ہے ۔

      حجاج بیت اللہ الحرام کے نام پیغام ، 18/12/2007

    • پیغام حج 2008
    • پیغام حج 2007
    • پیغام حج 2006
  • فلسطين
  • اسلامى انقلاب
700 /