ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
    • عمرۂ مفردہ کے بارے میں استفتائات
      پرنٹ  ;  PDF
       
      عمرۂ مفردہ کے بارے میں استفتائات

       

      سوال 590۔ اگر کسی نے عمرۂ مفردہ میں تقصیر بھول کر طواف نساء انجام دے دیا تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا تقصیر کے بعد طواف نساء کو دوبارہ انجام دینا واجب ہے؟
      جواب: واجب ہے کہ تقصیر کے بعد طواف نساء اور نماز طواف دوبارہ بجالائے۔

       

      سوال 591۔  کیا مستحب عمرۂ مفردہ کو اپنی طرف سے  اور بغیر اجرت کے دوسروں کی نیابت میں  انجام دینا صحیح ہے؟
      جواب: مستحب حج یا عمرہ میں دوسروں کو شریک کرنا جائز ہے۔

       

      سوال  592۔  اگر مکلف قمری مہینے کے آخری دن مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے مُحرم ہوجائے لیکن عمرۂ مفردہ کے اعمال نئے قمری مہینے کی پہلی رات یا دن یا اس کے بعد انجام دے، تو کیا یہ عمرہ پچھلے مہینے کا شمار ہوگا یا نئے مہینے کا؟ اور اگر وہ نئے مہینے میں مکہ سے باہر جائے تو کیا واپس آنے پر احرام باندھنا ہوگا؟ کیا رجب اور دوسرے مہینوں  میں کوئی فرق ہے؟
      جواب: مکہ میں بغیر احرام دخول جائز  ہونے کا معیار، عمرہ کے اعمال کی انجام دہی کا وقت ہےپس اگر کسی نے پچھلے مہینے کے آخری دن احرام باندھا لیکن اعمال نئے مہینے میں انجام دیے، تو عمرہ نئے مہینے کا شمار ہوگا۔لہٰذا اگر وہ نئے مہینے میں مکہ سے باہر جائے تو وہ بغیر احرام مکہ واپس آ سکتا ہےسوائے ماہ رجب کے کہ روایات کےظاہر کے مطابق، اگر کسی نے ماہ رجب کے آخری دن احرام باندھا اور اعمال شعبان میں انجام دیے، تو بھی یہ عمرۂ رجبیہ شمار ہوگالہذا واجب احتیاط یہ ہے کہ اگر شعبان میں مکہ سے باہر جائےتو اسی مہینے میں مکہ واپسی آنے کے لئے  احرام باندھے۔ اس احتیاط کی رعایت دوسرے مہینوں میں بھی بہتر ہے۔

       

      سوال  593۔  اگر کوئی  شخص عمرہ انجام دے اور ایک ماہ بعد جدہ جائے  پھر واپسی پر بغیر احرام مکہ میں داخل ہوتو اس کا حکم کیا ہے؟
      جواب: فی الحال اس کا کوئی خاص وظیفہ نہیں، لیکن اگرجان بوجھ کر بغیر احرام مکہ میں داخل ہوا ہے تو حرام کام کیا ہےاور توبہ کرنا چاہئے۔

       

      سوال  594۔ کسی  شخص کا حج باطل ہو گیا اور وہ اگلے سال مکہ آیا تاکہ حج کی قضا بجالائے، تو کیا ایسی صورت میں جب کہ اس کے ذمے حج واجب ہے، عمرۂ مفردہ انجام دے سکتا ہے؟
      جواب: کوئی اشکال نہیں۔

       

      سوال  595۔  حائض عورت کو علم ہے کہ حیض کی وجہ سے وہ عمرۂ مفردہ کے اعمال انجام نہیں دے سکتی اور اس کے ساتھی اعمال انجام دینے کے لئے اس کے انتظار میں نہیں رکیں گے، اور اُسے طواف و نماز کے لیے نائب بنانا ہوگا جبکہ خود فقط سعی و تقصیر کرسکتی ہے تو کیا وہ عمرۂ مفردہ کا احرام باندھ سکتی ہے؟
      جواب: ہر حال میں مکہ میں داخل ہونے کے لیے احرام باندھنا چاہئے، اور طواف و نماز کے لیے نائب مقرر کرے۔

       

      سوال  596۔ اگر کوئی شخص قمری مہینے میں عمرۂ مفردہ انجام دے اور اگلے قمری مہینے میں مکہ شہر سے باہر جائے لیکن حرم کی حدود سے باہر نہ نکلے  مثلاً منیٰ جائے  تو کیا وہ مکہ میں بغیر احرام داخل ہو سکتا ہے؟ اوراس مسئلے میں اگر وہ صرف عرفات تک جائے تو کیا مکہ واپسی کے لیے احرام واجب ہوگا؟
      جواب: اصل معیار شہر مکہ سے باہر نکلنا ہے، چاہے حرم کی حدود سے باہر نہ بھی جائے، پس اگر وہ کسی بھی ایسی جگہ جائے جو موجودہ شہرِ مکہ سے باہر ہو  تو اگر اس مہینے میں اس نے عمرہ انجام نہ دیا ہو تو مکہ میں واپسی پر احرام باندھنا چاہئے۔شہر مکہ سے مراد موجودہ شہر ہےجدید توسیع کے ساتھ۔

       

      سوال  597۔ اگر کوئی شخص پولیس یا سیکیورٹی فورسز میں ہو اور ہنگامی صورتِ حال جیسے حادثے کی صورت میں فوری طور پر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا حکم ملے اور وقت کی تنگی کے باعث احرام باندھ کر داخل نہ ہو سکے تو کیا وہ گناہگار ہوگا اور اس پر کفارہ واجب ہوگا؟
      جواب:  وہ گناہگار نہیں اور اس پر کوئی کفارہ واجب نہیں۔

       

      سوال  598۔ اگر کوئی شخص ذی القعدہ میں عمرۂ مفردہ کی نیت سے مکہ میں داخل ہوجائے اور دس دن بعدذی الحجہ میں دوبارہ مکہ میں داخل ہونا چاہے تو کیا بغیر احرام مکہ میں داخل ہو سکتا ہے؟
      جواب: اس فرض کے ساتھ کہ وہ عمرہ کی ادائیگی والے مہینے کے بعد مکہ میں داخل ہو رہا ہے اس لیے احرام باندھنا واجب ہے۔

       

      سوال  599۔ اگر کوئی شخص مکہ میں کام کرتا ہو لیکن جدہ میں رہتا ہو اور چھٹیوں کے علاوہ اکثر مکہ جاتا ہو  یا آدھا ہفتہ یعنی تین دن مکہ جاتا ہو اور چار دن جدہ میں رہتا ہو تو اگرجس مہینے میں عمرہ کیا ہے ، ختم ہوجائے تو اگلے قمری مہینے میں اسے دوبارہ عمرہ کرنا چاہئے؟
      جواب: اس صورت میں دوبارہ عمرہ کرنا واجب نہیں ہے۔

       

      سوال  600۔ گذشتہ مسئلے میں اگر وہ عمرہ ادا کرنے کے بعدنیا مہینہ شروع ہونے تک  مکہ سے باہر نہ جائے  تو کیا اس پر دوبارہ احرام باندھنا چاہئے؟ اور اگر احرام باندھنا چاہے تو کہاں سے باندھے؟
      جواب:جب تک مکہ میں موجود ہے، دوبارہ عمرہ کرنا واجب نہیں۔ اگردوبارہ عمرہ کرنا چاہے تو حرم سے باہر قریب ترین جگہ مثلا مسجدِ تنعیم  جا کر وہاں سے احرام باندھ سکتا ہے۔

       

      سوال  601۔ اگر کسی کا پیشہ ٹیکسی چلانا ہو اور وہ مکہ کے مسافروں کو لے جاتا ہو جبکہ اس نےپہلے عمرہ انجام نہ دیا ہو تو کیا احرام کے ساتھ  مکہ میں داخل ہونا چاہئے؟ بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونےکا کیا حکم ہے؟
      جواب: مکہ میں داخل ہونے کے لئے احرام باندھنا چاہئے اور عمرۂ مفردہ کے اعمال انجام دے۔ اگر  بغیر احرام کے داخل ہو جائے تو گناہگار ہوگاتاہم کفارہ  نہیں۔
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
700 /