ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

علامہ طباطبائی انٹرنیشنل کانگریس کے منتظمین کے ساتھ ملاقات

علامہ طباطبائی، عصری تقاضوں کے مطابق جارحانہ فکری بنیاد کے موجد

8 نومبر 2023 بروز بدھ کو قم میں علامہ طباطبائی انٹرنیشنل کانگریس کے منتظمین کے ساتھ ملاقات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بیانات 15 نومبر 2023 کی صبح کانفرنس میں نشر ہوئے۔
اس ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای نے علامہ مرحوم کو حالیہ صدیوں میں حوزہ علمیہ کا ایک نادر اثاثہ قرار دیا اور فرمایا: آیت اللہ سید محمد حسین طباطبائی کے اہم کاموں میں سے ایک فکری جہاد کرنا اور درآمد شدہ اور بیرونی افکار کی یلغار کے دوران ایک مضبوط اور قابل اعتماد فکری بنیاد تشکیل دینا تھا۔"

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مرحوم علامہ طباطبائی کی نمایاں اور ممتاز خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے، "علم"، "تقویٰ اور پرہیزگاری"، "بلند پایہ اخلاق"، "ہنری ذوق، شعر و ادب"، "دوستی اور وفاداری" اور "پاکیزگی" جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ فکری سطح پر ان کی خصوصیات کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ایک ان کا منفرد علمی تنوع تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے فقہ، اصول فقہ، فلکیات اور ریاضی، تفسیر، قرآنی علوم، شاعری، ادب اور نسب نامہ جیسے علوم میں علامہ طباطبائی کی مہارت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا، "اس حیرت انگیز فکری تنوع کے علاوہ، مختلف شعبوں میں ان کی علمی اور فکری گہرائی اس قدر قابل ذکر ہے کہ وہ ایک ماہر اصولی، ایک مفکر فلسفی اور ایک حیرت انگیز مفسر تھے۔"

انہوں نے علامہ طباطبائی کے زیادہ تر علمی کاموں کی ان کی زندگی میں ہی اشاعت اور ان کی شاگردوں کی تربیت کو علامہ مرحوم کے دیگر علمی کارناموں کے طور پر بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، "انھوں نے اس تعداد میں اپنے شاگردوں کو اسلامی اسکالرز اور مفکر بننے کی تربیت دی جس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے شہید مطہری، شہید بہشتی اور مرحوم مصباح یزدی جیسے بااثر شاگردوں کی پرورش کی اور مرحوم علامہ کے اکثر شاگرد انقلاب اسلامی کے قائدین میں سے تھے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے علامہ طباطبائی کی دو نمایاں خصوصیات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا، "ان خصوصیات میں سے ایک ان کا منفرد فکری جہاد تھا اور درآمد شدہ اور غیر ملکی نظریات اور خیالاتی دلائل کے حملے کے درمیان ایک مضبوط، جارحانہ فکری بنیاد تیار کرنا تھا اور یہ ان کی دو تصانیف "فلسفہ کے اصول اور حقیقت پسندی کی روش" اور "تفسیر المیزان" میں جھلکتا ہے۔

انہوں نے تفسیر المیزان کو عصری سماجی اور سیاسی علوم کا ایک سمندر قرار دیا جس میں علمی اور نظریاتی بنیاد اور قرآنی تفسیر کے حوالے سے ایک منفرد نقطہ نظر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج بھی ہمیں ایک ایسی جارحانہ فکری بنیاد کی ضرورت ہے جو عصری تقاضوں اور شکوک و شبہات کا جواب دے، جسے ہمیں علامہ طباطبائی مرحوم سے سیکھنا چاہیے۔‘‘

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ علامہ کی دوسری نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ علامہ نے اپنی کردار سازی (اخلاق) اور روحانی سفر پر بے حد توجہ دی اور اس طرح کے معاملات کے فقط ظاہر کو کافی نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مرحوم علامہ طباطبائی تمام علمی کمالات کے باوجود نہایت خوددار انسان تھے اور اپنی ذاتی اور عوامی بات چیت میں نرم گو، حلیم، گرمجوشی، دلکش اور فصیح انسان تھے۔‘‘

آیت اللہ خامنہ ای نے یہ بھی فرمایا کہ "علامہ طباطبائی اپنی زندگی میں اتنے مشہور نہیں تھے جتنے کہ آج پہچانے جاتے ہیں اور ان کے اخلاص، کردار اور تحریروں کی بدولت جیسے جیسے دن گزرتے جائیں وہ اس ملک اور دنیا میں مزید مشہور ہوں گے۔"

 

700 /