ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی

عیدِ مبعثِ مبارک کے موقع پر سالانہ خطاب:

ایرانی قوم نے فتنے کی کمڑ توڑ دی/ امریکی صدر حقیقی مجرم ہے!

رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی نے عیدِ شریفِ مبعثِ مبارک کے پُرمسرت موقع پر، معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سے ملاقات میں، آج کی انسانی دنیا میں اوائلِ اسلام کی مانند ایک عظیم تبدیلی برپا کرنے کی اسلام کی بے پناہ صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے—اور جاہلیت، ظلم، جبر، خوف اور استکبار میں گرفتار معاشروں کو صلاح، نجات اور شرافت سے بہرہ مند معاشروں میں تبدیل کرنے کی اس کی صلاحیت کو بیان کرتے ہوئے—حالیہ فتنہ کے مختلف پہلوؤں اور اس امریکی فتنہ کے منصوبہ سازوں اور اس کے محرکین کے مقابلے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے مؤقف کی تشریح کی۔ نیز تاریخی دن ۲۲ دی (12 جنوری 2026) کو ملت کی عظیم تحریک کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی ملت نے فتنہ کی کمر توڑ دی، تاہم اس فتنہ کی حقیقت، اس کے مقاصد اور اس کے «تربیت یافتہ» اور «دھوکے کا شکار بنائے گئے» عناصر کو اچھی طرح پہچاننا ضروری ہے۔

حضرت آیت‌الله خامنہ‌ای نے تاریخِ بشر کی سب سے بڑی عید کی مناسبت سے «ملتِ ایران، امتِ اسلامی اور دنیا کے تمام آزادی خواہوں» کو مبارکباد دیتے ہوئے، رسولِ عظیم الشانِ اسلامؐ کی بعثت کو قرآن کی ولادت کا دن، انسان کی الٰہی تربیت کے منصوبے سے بشریت کی آگاہی کا آغاز، اسلامی تمدن کی بنیاد اور عدل، اخوت اور برابری کے پرچم کے برافراشتہ ہونے کا دن قرار دیا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ بعثت کی فضیلتوں کا حقیقی ادراک ہم جیسے لوگوں کی استطاعت سے بالاتر ہے اور اسے امیرالمؤمنینؑ کے کلام کے ذریعے بیان کیا جانا چاہیے اور نہج البلاغہ کے مطالعے سے سمجھا جانا چاہیے۔

اسلام کی انسان سازی اور تمدن سازی کی قدرت کی وضاحت کرتے ہوئے، رہبرِ انقلاب نے بعثت سے قبل کے عرب معاشرے کی خصوصیات—جیسے اخلاقی زوال و فساد، ہمہ گیر جاہلیت، سنگ دلی، ظلم، جبر، تکبر، تعصب، نادانی اور گہری ناانصافی و امتیاز—کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: رسولِ اکرمؐ نے وحی اور عقل و ایمان پر مبنی الٰہی منصوبے کے تحت، ایسے پسماندہ اور منحط لوگوں میں سے ابوذر، عمار اور مقداد جیسے بے مثال باوقار انسان تیار کیے؛ اور اسلام کی یہی بے نظیر صلاحیت آج بھی تبدیلی کا مرکز بن سکتی ہے۔

رہبرِ انقلاب نے آج کے بہت سی انسانی معاشروں—بالخصوص مغربی معاشروں—کو، اگرچہ ظاہری شکل و زبان کے اعتبار سے دورِ جاہلیت سے مختلف ہیں، مگر اسی گہرے اخلاقی فساد، ظلم و ناانصافی، زورگویی اور استکبار میں گرفتار قرار دیا اور فرمایا: اسلام اور مومن و معتقد مسلمان آج کی دنیا کو زوال کے ڈھلان سے، تباہی و فساد کی کھائی میں گرنے سے بچا کر صلاح، نجات اور شرافت کی چوٹیوں کی طرف، اور جہنم کی سمت سے جنت کی طرف لے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ گہرے اور ہمہ گیر ایمان کے ساتھ عمل کریں۔

حضرت آیت‌الله خامنہ‌ای نے آیتِ کریمہ «وَ لا تَهِنوا وَ لا تَحزَنوا وَ أَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنين» کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: بشریت کی نجات میں مسلمانوں کی اصل شرط «ابوذری ایمان» ہے؛ البتہ اسلامی جمہوریہ میں انفرادی سطح پر—خواہ نامور شہداء میں یا گمنام شہداء میں—ابوذر صفت انسان موجود رہے ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ ایسا ایمان پورے معاشرے میں راسخ اور عام ہو جائے۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی نے اپنی تقاریر کے دوسرے حصّے میں حالیہ فتنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے—جس نے عوام کو کسی حد تک اذیت و آزار میں مبتلا کیا اور ملک کو بعض نقصانات پہنچائے—فرمایا: یہ فتنہ اللہ کی توفیق سے اور «ملت، ذمہ داران اور ماہر و کارآزمودہ اہلکاروں» کے ہاتھوں ختم ہوا، لیکن ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ اس فتنہ کی حقیقت کیا تھی اور یہ کیوں برپا کیا گیا؛ اس کے عناصر کون لوگ تھے اور دشمن کے مقابلے میں ہمارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟

آپ نے حالیہ فتنہ کی حقیقت کو امریکی قرار دیتے ہوئے، امریکیوں کی مختلف سازشوں کے اصل ہدف کی تشریح میں فرمایا: امریکہ کا بنیادی اور مستقل مقصد—اور صرف اس کے موجودہ صدر کا نہیں—ایران کو نگل جانا اور ہمارے ملک پر اپنی فوجی، سیاسی اور اقتصادی بالادستی کو دوبارہ قائم کرنا ہے؛ کیونکہ اس وسعت، آبادی، وسائل اور سائنسی و ٹیکنالوجی ترقی رکھنے والا ملک، وہ بھی اس قدر حساس جغرافیائی مرکز میں واقع ہونا، ان کے لیے قابلِ برداشت نہیں ہے۔

رہبرِ انقلاب نے سابقہ فتنوں میں مغربی حکام کی مداخلت کی سطح کو عموماً میڈیا کے عناصر اور دوسرے درجے کے سیاست دانوں تک محدود قرار دیا اور فرمایا: لیکن حالیہ فتنہ کی خصوصیت یہ تھی کہ خود امریکہ کے صدر نے ذاتی طور پر اس میں مداخلت کی، بیانات دیے، دھمکیاں دیں اور فتنہ‌گروں کو حوصلہ دے کر پیغام دیا کہ آگے بڑھو، مت ڈرو، ہم تمہاری فوجی حمایت کریں گے۔

حضرت آیت‌الله خامنہ‌ای نے امریکہ کے صدر کے ان بیانات کو—جن میں اس نے تخریب کاروں اور قاتلوں کو ملتِ ایران کا نام دیا—قوم پر ایک عظیم بہتان قرار دیتے ہوئے فرمایا: امریکی صدر نے علانیہ فتنہ‌گروں کی حوصلہ افزائی کی اور پس پردۂ میں بھی امریکہ اور صہیونی حکومت نے ان کی مدد کی؛ لہٰذا ہم امریکہ کے صدر کو مجرم سمجھتے ہیں، چاہے وہ جانی و مالی نقصانات کے سبب ہو یا اس بہتان کی بنا پر جو اس نے ملتِ ایران پر لگایا۔

آپ نے فتنہ کے میدانی عناصر کی نوعیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: میدان میں سرگرم عناصر دو قسم کے تھے؛ ایک گروہ وہ تھا جسے امریکہ اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں نے نہایت دقّت سے منتخب کیا تھا اور بھاری رقوم دینے کے علاوہ انہیں نقل و حرکت کے طریقوں، آگ لگانے، خوف پھیلانے اور پولیس سے بچ نکلنے جیسے امور کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی؛ ان خبیث اور مجرم عناصر کی بڑی تعداد کو قانون نافذ کرنے اور سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

رہبرِ انقلاب نے فتنہ کے دوسرے میدانی گروہ کو ایسے نوجوانوں اور نوخیز لڑکوں پر مشتمل قرار دیا جو پہلے گروہ کے زیرِ اثر آ گئے تھے، اور فرمایا: اس گروہ کا صہیونی رژیم یا خفیہ ایجنسیوں سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا، بلکہ یہ ناتجربہ کار افراد تھے جنہیں سرغنوں نے متاثر کیا اور جوش و ہیجان پیدا کر کے انہیں ایسے اقدامات اور شرارتوں پر آمادہ کیا جن کا انہیں ارتکاب نہیں کرنا چاہیے تھا۔

حضرت آیت‌اللّٰہ خامنہ‌ای نے فرمایا: یہ لوگ فتنہ کے آلہ کار تھے اور ان کی ذمہ داری عمارتوں، رہائشی گھروں، سرکاری دفاتر اور صنعتی مراکز پر حملہ کرنا تھی؛ اور افسوس کہ «نادان اور ناآگاہ عناصر» نے «خبیث اور تربیت یافتہ سرغنوں» کی قیادت میں نہایت بُرے کام اور سنگین جرائم انجام دیے، جن میں تقریباً ۲۵۰ مساجد کی تخریب، ۲۵۰ سے زائد تعلیمی و علمی مراکز کی بربادی، بجلی کی صنعت کے مراکز، بینکوں، طبی و معالجہ اداروں اور عوامی اشیائے خورونوش کی دکانوں کو نقصان پہنچانا شامل ہے؛ نیز عوام کو نشانہ بنا کر ان میں سے چند ہزار افراد کو قتل کیا گیا۔

آپ نے نہایت غیر انسانی اور سراسر وحشیانہ اقدامات—جیسے ایک مسجد میں چند نوجوانوں کو محصور کر کے زندہ جلانا، یا تین سالہ بچی اور بےدفاع و بےگناہ مردوں اور عورتوں کا قتل—کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ تمام اعمال فتنہ کے پہلے سے تیار شدہ منصوبے کا حصّہ تھے، اور یہ عناصر نرم اسلحہ کے ساتھ ساتھ سخت اسلحہ سے بھی لیس تھے جو بیرونِ ملک سے منگوا کر ایسے جرائم کے ارتکاب کے لیے فتنہ‌گروں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملتِ ایران نے فتنہ کی کمر توڑ دی، فرمایا: ملتِ ایران نے ۲۲ دی (12 جنوری) کو اپنی کڑوڑوں پر مشتمل اور عظیم الشان ریلیوں کے ذریعے اس دن کو اپنی بے انتہا درخشاں تاریخ میں ایک اور تاریخی دن بنا دیا، اور دعوے داروں کے منہ پر ایک کاری ضرب لگا کر فتنہ کو دبا دیا۔

آپ نے صہیونیوں سے وابستہ عالمی مطبوعات اور خبر رساں اداروں میں فتنہ‌گروں کی قلیل تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور اس کے مقابل، ۲۲ دی کو ملتِ ایران کے عظیم الشان اجتماع کا انکار کرنے یا اسے معمولی دکھانے کو ان کی ہمیشگی عادت قرار دیتے ہوئے فرمایا: ان ہتھکنڈوں سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی؛ حقیقت وہی ہے جسے ملت نے تہران اور دیگر شہروں میں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

حضرت آیت‌اللّٰہ خامنہ‌ای نے حالیہ فتنہ میں ملتِ ایران کے ہاتھوں امریکہ کی شکست کو، بارہ روزہ جنگ میں امریکہ اور صہیون کی شکست کا تسلسل قرار دیتے ہوئے فرمایا: انہوں نے اس فتنہ کو بڑے اقدامات کے لیے وسیع آمادگی کے ساتھ برپا کیا تھا؛ اگرچہ ملت نے فتنہ کو دبا دیا، لیکن یہ کافی نہیں ہے اور امریکہ کو اپنے اقدامات کا جواب دہ ہونا چاہیے۔

آپ نے وزارتِ خارجہ سمیت متعلقہ اداروں کو حالیہ امریکی جرائم کی پیگیری کا پابند قرار دیتے ہوئے فرمایا: ہم ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جا رہے، لیکن مقامی مجرموں کو—اور ان سے بڑھ کر بین الاقوامی مجرموں کو—ہرگز آزاد نہیں چھوڑیں گے؛ اس معاملے کو اپنے متعلقہ طریقوں اور درست اسلوب کے ساتھ سنجیدگی سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

رہبرِ انقلابِ اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: توفیقِ الٰہی سے ملتِ ایران نے جس طرح فتنہ کی کمر توڑی، اسی طرح فتنہ‌گر کی کمر بھی توڑنی چاہیے۔

آپ نے اپنے خطاب کے آخری حصّے میں، امریکی–صہیونی فتنہ کے خلاف کامیاب جدوجہد میں ذمہ داران اور پولیس، سیکیورٹی فورسز، سپاہ اور بسیج کی شبانہ‌روزی جانفشانی اور قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک کے تمام ذمہ داران نے باہمی تعاون کیا اور ملت نے بھی فیصلہ کن اقدام کیا؛ اور اپنی وحدت کے ذریعے اس معاملے کو پوری مضبوطی کے ساتھ انجام تک پہنچا دیا۔

حضرت آیت‌اللّٰہ خامنہ‌ای نے عوام کے درمیان وحدت کے تحفظ کی اپنی ہمیشہ کی تاکید کو دہراتے ہوئے فرمایا: گروہی، سیاسی اور فکری اختلاف عوام کے درمیان نہیں پھیلنے چاہئیں؛ سب کو اسلامی نظام اور عزیز ایران کے دفاع میں ایک ساتھ، شانہ بشانہ اور متحد رہنا چاہیے۔

آپ نے مختلف شعبوں کے ذمہ داران کی کوششوں اور میدان کے عین وسط میں صدرِ مملکت اور دیگر اعلیٰ حکام کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرمایا: ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ بعض لوگ سرگرمیوں سے بےخبر ہو کر محض اعتراضات کرتے رہیں؛ میں اس بات سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہوں کہ ایسے حساس اندرونی اور بین الاقوامی حالات میں ملک کے سربراہان، صدرِ مملکت یا دیگر ذمہ داران کی توہین کی جائے، اور چاہے وہ پارلیمان کے اندر ہوں یا باہر، ایسے افراد کو اس عمل سے باز رکھتا ہوں۔

رہبرِ انقلاب نے اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ایسے حادثات کے وقت جو ذمہ داران میدان میں اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں، ان کی قدر دانی کی جانی چاہیے، فرمایا: ماضی میں بعض اوقات ایسے ذمہ داران بھی رہے ہیں جو میدان اور عوام سے کنارہ کش ہو جاتے تھے یا حتیٰ عوام کے خلاف باتیں بھی کرتے تھے، لیکن اس مرتبہ ذمہ داران عوام کے ساتھ اور عوام کے درمیان رہے اور اسی مقصد کے لیے کوشاں رہے؛ اس جذبے کی قدر شناسی ہونی چاہیے۔

حضرت آیت‌اللّٰہ خامنہ‌ای نے نہایت تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ صدرِ مملکت اور دیگر سربراہانِ قوا کو ان کے کام اور اس عظیم خدمت کو انجام دینے دیا جائے جو ان کے ذمہ ہے، اور مزید کہا: اگرچہ معاشی صورتحال اچھی نہیں ہے اور عوام کی معیشت کو واقعی مشکلات درپیش ہیں؛ تاہم حکومتی ذمہ داران کو بعض شعبوں—جیسے «بنیادی اشیائے ضروریہ اور مویشیوں کے چارے کی فراہمی»، اور عوام کی روزمرہ ضروریات و اشیائے خوردونوش کی فراہمی—میں پہلے سے کہیں زیادہ، بلکہ دوگنی سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے؛ کیونکہ اگر عوام اور ذمہ داران اپنی اپنی ذمہ داریوں کو درست طور پر انجام دیں، تو پروردگار یقیناً اس کام میں برکت عطا فرمائے گا۔

700 /