قائد انقلاب اسلامی نے لبنان کے خلاف صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کے بارے میں فرمایا ہے کہ قانا کے اندوہ ناک المئے نےہمارے دلوں کو درد و غم سے پرکردیا ہے اور ہمیں اور دیگر مسلمانوں اور دنیا کے تمام حریت پسند لوگوں کو غم وغصے میں مبتلا کردیا ہے وہ معصوم بچے ، وہ کمزور و رنجور بدن ، وہ سہمے ہوئے معصوم بچوں کے دل ، کس جرم میں مارے گئے ؟ ان کے ماں باپ کے سلگتے دلوں کو آخر کیوں خون آشام صیہونیوں اوران کے مغرور وبد مست امریکی حامیوں کے ہاتھوں اتنا تڑ پایا گیا ؟ لبنان پر بیس دنوں سے جاری مسلسل بمباری ، وسیع پیمانے پر بیس دنوں سے جاری جرائم ،ایک ملک کوویرانے میں بدل دینا، اس کے شہریوں کا قتل عام اور قانا میں قتل عام کا منطقی جواز کیا ہےجس کی بنا پرمتمدن ہونے کا دعوا کرنے والی دنیا ،اقوام متحدہ ، حکومتیں اور انسانی حقوق کےتحفظ کا دعوا کرنے والے ادارے اس طرح اطمینان کےساتھ خاموش بیٹھے ہوئے ہیں ؟ عالم اسلام آخر کب تک سراپا فتنہ و فساد صیہونی حکومت کوبرداشت کرے گا ؟
رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نئے شمسی سال(۱۳۸۵) کے اپنے پیغام میں سال ۱۳۸۵کا نام پیغمبر اعظم (ص)کے نام سے موسوم کرتے ہوئے فرمایا: ملت ایران، امت مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کو اس وقت سرکاردوعالم (ص)کی تعلیمات کی ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے اوروہ تعلیمات اخلاق، رحمت وکرامت، حصول علم، اتحاد، عزت وسربلندی، جہاداورمزاحمت پر مشتمل ہیں۔
حج کے ایام امید و بشارت کے دن ہیں ۔ ایک طرف خانۂ توحید کے مسافروں کے درمیان یکجہتی کی شان و شوکت ، دلوں میں امید پیدا کرتی ہے اور دوسری طرف ذکر الہی کی برکت سے دل و جان کو ملنے والی طراوت باب رحمت کھلنے کی خوشخبری دیتی ہے۔
الٰہی دعوت قبول کرنے والوں ، لبیک کہنے اور ہرولہ کرنے والوں نے ایک بار پھر خود کو اپنے محبوب کے گھر پہنچا دیا ہے۔ حج کا موسم آپہنچا ہے اور صفا و معنویت سے سرشار لوگوں کے لئے شوق اور آرزؤوں کے منظر کھل گئے ہیں۔ خدا کا گھر اور دلوں کا قبلہ آپ کےسامنے ہے۔ ذکر و معرفت کے چشمے جاری کرنے کے لئے عرفات و مشعر آراستہ ہیں