دریافت:
مناسک حج
- مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
حج کی فضیلت اور اہمیت
شریعتِ اسلام میں حج مخصوص عبادتوں کا ایک مجموعہ ہے، جو اسلام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے: «بُنِیَ اَلْإِسْلاَمُ عَلَی خَمْسٍ عَلَی اَلصَّلاَةِ وَ اَلزَّکَاةِ وَ اَلصَّوْمِ وَ اَلْحَجِّ وَ اَلْوَلاَیَة»[1]
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: نماز، زکات، روزہ، حج اور ولایت۔
حج خواہ واجب ہو یا مستحب، بڑی فضیلت اور بےشمار اجر و ثواب کا حامل ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پاک اہل بیت )علیہم السلام( سے حج کی فضیلت میں بہت سی روایات منقول ہیں۔ امام جعفر صادق )علیہ السلام( فرماتے ہیں: «الْحَاجُّ وَ الْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ إِنْ سَأَلُوهُ أَعْطَاهُمْ وَ إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ وَ إِنْ شَفَعُوا شَفَّعَهُمْ وَ إِنْ سَکَتُوا ابْتَدَأَهُمْ وَ یُعَوَّضُونَ بِالدِّرْهَمِ أَلْفَ أَلْفِ دِرْهَمٍ.»[2]
حج اور عمرہ ادا کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر کچھ مانگیں تو اللہ عطا کرتا ہے؛ دعا کریں تو مستجاب ہوتی ہے؛ کسی کے حق میں شفاعت کریں تو اللہ قبول کرتاہے اور اگر کچھ نہ کہیں تو بھی اللہ خود ان پر کرم فرماتا ہے اور (حج پر خرچ ہونے والے ) ایک درہم کے بدلے اللہ اسے دس لاکھ درہم عطا کرتا ہے۔
حج دین اسلام کے اہم ترین واجبات اور شریعت کے ارکان میں سے ہے اور ایک ایسا فریضہ ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ گویا دین کے تمام فردی، اجتماعی، زمینی، آسمانی، تاریخی اور عالمی پہلوؤں کو حج میں سمیٹنا مقصود ہے۔ حج میں ایسی معنویت ہے جو تنہائی یا گوشہ نشینی سے دور ہے؛ ایسا اجتماع ہے جس میں لڑائی جھگڑا، بدگوئی اور بدخواہی کا شائبہ نہیں۔ ایک طرف انسان کا دل اللہ سے راز و نیاز، دعا اور ذکر سے لبریز ہوتا ہے، تو دوسری طرف لوگوں سے محبت اور تعلق بھی برقرار رہتا ہے۔
حاجی ایک آنکھ سے ماضی میں جھانکتا ہے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اورحضرت ہاجرہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور رسول خدا کا فاتحانہ انداز میں ا بتدائے اسلام کے مومنین کے جھرمٹ میں مسجد الحرام میں داخل ہونےکے مناظر کو خیال میں لاتا ہے اور دوسری آنکھ سے اپنے آس پاس مؤمنوں کا جم غفیر دیکھتا ہے، جو سب ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے متمسک ہیں۔
حج پر غور و فکر کرنے سے انسان اس یقین پر پہنچتا ہے کہ دین کے بہت سے اہداف اوربشریت کے لئے اس کی آرزوئیں اس وقت پورے ہو سکتی ہیں جب اہل ایمان آپس میں تعاون، یکجہتی اور ہم آہنگی کا جذبہ پیدا کریں۔اگر باہمی تعاون اور ہمدلی کا یہ جذبہ قائم ہو جائے، تو دشمنوں کی سازشیں کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔
- پہلی فصل:کلیات
- دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
- تیسرا باب: حج نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
- چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
- اوّل: احرام
- دوم طواف
- طواف کے شرائط
- طواف کے واجبات
طواف کے واجبات
مسئلہ 374۔ طواف کے واجبات درج ذیل ہیں:
اول۔ طواف کا آغاز حجرِاسود سے ہو۔
دوم۔ ہر چکر کا اختتام بھی حجر اسود پر ہو۔
سوم۔ کعبہ بائیں جانب ہو
چہارم۔ حجر اسماعیل کے باہرطواف کرے۔
پنجم۔ کعبہ معظمہ اور شاذر وان کے باہر سے طواف کرے۔
ششم۔ طواف کا سات چکرہونا۔
مسئلہ 375۔ طواف کو حجر اسود سے شروع کرنا واجب ہے یعنی طواف حجر اسود کے سامنےسے شروع ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا بدن حجر الاسود کے تمام حصوں کے سامنے سے عبور کرے بلکہ اگر عرفا حجر اسود سے شروع کرنا صدق آئے تو اتنا کافی ہے اسی لئے طواف کو حجر اسود کے ہر نقطہ کے سامنے سے شروع کیا جاسکتا ہے البتہ جس نقطہ سےطواف شروع کیا جائے وہیں پر ختم کرنا چاہیے۔ اس کو ثابت کرنے کے لئے یہ نیت کرے کہ طواف کا اختتام بھی وہی نقطہ ہوگا جہاں سے طواف کا آغاز ہوا تھا۔
مسئلہ 376۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر چکر کےاختتام پرحجرِ اسود کے سامنے رک جائےاور پھر دوسرا چکر شروع کرے بلکہ اگر ساتوں چکر بغیر وقفے کے مسلسل مکمل کیے جائیں اور ساتواں چکر اسی نقطے پر ختم کرے جہاں سے طواف شروع کیا تھا تو کافی ہے۔ البتہ احتیاط کی نیت سے تھوڑاآگےطواف جاری رکھے تاکہ یقین ہوجائے کہ جہاں سے شروع کیا تھا وہاں اختتام کیا ہے۔
مسئلہ 377۔ محرم کووسواسی ہوئے بغیر عام مسلمانوں کی طرح حجراسود کے سامنے سے طواف کا آغاز کرنا چاہئے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ شروع کرتے وقت کچھ دیر حجر اسود کے سامنے رکےاس کے بعدطواف شروع کر دے۔
مسئلہ 378۔ واجب ہے کہ طواف کرتے وقت انسان اس طرح حرکت کرے کہ کعبہ اس کے بائیں جانب واقع ہو۔
مسئلہ 379۔ خانہ کعبہ کے بائیں جانب ہونے کا معیار صدقِ عرفی ہے نہ دقت عقلی۔ پس حجر اسماعیل علیہ السلام اور کعبہ کے چاروں کونوں سے عبور کرتے وقت تھوڑا سا منحرف ہوجائے توبھی اس کا طواف صحیح ہے اور اس حالت میں ضروری نہیں کہ اپنے شانوں کو اس طرح سے موڑے کہ کعبہ اس کے بالکل بائیں جانب قرار پائے ۔
مسئلہ 380۔ اگر طواف کے کچھ راستے کو رائج حالت سے ہٹ کر طے کرے۔ مثلاً طواف کے دوران کعبہ کو چومنے کیلئے اسکی طرف رخ کرلے یا بھیڑ کی وجہ سے ناخواستہ طور پر کعبہ کی طرف رخ یا پشت کرے یا کعبہ کو اپنے دائیں جانب قرار دےتو اس کا طواف صحیح نہیں ہے اور اس حالت میں طے کیے ہوئے فاصلے کو دوبارہ بجا لائے۔
مسئلہ 381۔ حجر اسماعیل علیہ السلام کے باہر سے طواف کرنا واجب ہے۔
مسئلہ 382۔ اگر حجر اسماعیل علیہ السلام کے اندر سے یا اسکی دیوار کے اوپر سے طواف بجالائے تو اس کا طواف باطل ہے اور اس کو اعادہ کرنا چاہیے اور اگر کسی ایک چکر میں حجر اسماعیل کے اندر سے طواف کرے تو صرف وہی چکر باطل ہوگا۔
مسئلہ 383۔ اگر جان بوجھ کر حجر کے اندر سے طواف بجالائے تو اس کی مثال اس شخص کی ہے جس نے طواف کو جان بوجھ کر ترک کیا ہے اور اگر بھول کر حجر اسماعیل کے اندر سےطواف انجام دے تو اس کا حکم اس شخص کے حکم کی مانند ہے جس نے بھول کر طواف کو ترک کیا ہے ، اور اس کے احکام بعد میں بیان کئے جائیں گے۔[1]
مسئلہ 384۔ خانہ کعبہ کے باہر سے اور اسکی دیوار کی بنیاد جسے "شاذروان" کہاجاتاہے، سے طواف کرنا چاہئے۔
مسئلہ 385۔ طواف کے دوران حجرِ اسماعیل یا خانۂ کعبہ کی دیوار کو ہاتھ لگانے میں کوئی اشکال نہیں۔
مسئلہ 386۔ طواف کے لیے شرط نہیں کہ وہ کعبہ اور مقامِ ابراہیم کے درمیانی حصے میں ہو بلکہ مسجد الحرام کے دیگر حصوں میں بھی طواف کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب ہجوم کی وجہ سے اس مخصوص فاصلے میں طواف ممکن نہ ہو۔ البتہ اگر ہجوم نہ ہوتو بہتر ہے کہ طواف اسی مخصوص حصےمیں کیا جائے۔
مسئلہ 387۔ مسجد الحرام کے صحن سے اوپر کعبہ معظمہ کی دیوار کے محاذات تک طواف کیا جا سکتا ہےاس طرح کہ کعبہ کے اردگرد طواف کہا جائے اگرچہ احتیاط مستحب کے خلاف ہے۔
مسئلہ 388۔ اگر کوئی شخص ناتوانی کی وجہ سے مسجد الحرام کے صحن یا گراؤنڈ فلور میں طواف بجا لا نہ سکے اور دوسری منزل پر کعبہ کے سامنے طواف بجا لانے پر مجبور ہوجائے تو احتیاط واجب ہے کہ ایسا شخص خود دوسری منزل پر طواف بجا لائے اور کسی کونائب بنادے جو اس کی طرف سے مسجدالحرام کے صحن یا گراؤنڈ فلور میں طواف بجالائے۔ طواف کی نماز اگر ممکن ہو تو خود صحن میں پڑھےاور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو خود اوپر پڑھے اور اس کا نائب بھی صحن میں نماز ادا کرے۔
مسئلہ 389۔ طواف کے سات چکر لگانا واجب ہے۔
- طواف ترک کرنے اور اس میں شک کے احکام
طواف ترک کرنے اور اس میں شک کے احکام
مسئلہ 390۔ طواف عمرہ کے ارکان میں سے ہے۔ اگر کوئی فرصت ختم ہونے تک اسے جان بوجھ کر ترک کرے تو اس کا عمرہ باطل ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس حکم کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔
مسئلہ 391۔ مکہ میں داخل ہونے کےفورا بعدطواف کرنا واجب نہیں ہے بلکہ اسے اس وقت تک موخر کرسکتا ہے جب تک عرفات کا اختیاری وقوف یعنی نو ذی الحجہ کے ظہر شرعی تک کا وقت تنگ نہ ہوجائے اس طرح کہ عمرۂ تمتع کے اعمال اور حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنے کے بعد وقوف عرفات کو درک کر سکے۔
مسئلہ 392۔ اگر عمرہ باطل ہوجائے، جیسا کہ گزشتہ حالت میں بیان کیا یا دیگر حالات میں کہ جنہیں ہم آئندہ بیان کریں گے، تو احتیاط واجب کی بناپر حج تمتع کو حج اِفراد میں تبدیل کرے اور اس کے بعد عمرہ مفردہ بجالائے پھر اگر اس پر حج واجب تھا تو آئندہ سال عمرہ اور حج تمتع دوبارہ بجالائے۔
مسئلہ 393۔ اگرطواف کرنا بھول جائے اور سعی کے بعد یاد آئے اور وقت باقی ہو تو پہلے طواف اور اس کی نماز انجام دے پھر سعی کو دوبارہ کرے۔
مسئلہ 394۔ اگر محرم طواف کرنا بھول جائے اور وقت گزرنے کے بعد یاد آئے تو ہر ممکن فرصت میں طواف اور نماز طواف کی قضا بجالانا چاہیے لیکن اگر اپنے وطن واپس پلٹنے کے بعد یاد آئے تو اگر اس کے لئے بغیر مشقت کے لوٹنا ممکن ہو تو اس پر واجب ہے کہ واپس لوٹ کر طواف اور نماز طواف کی قضا بجالائےبصورت دیگر کسی کو نائب بنائے۔ بہرحال سعی تکرار کرنا لازم نہیں ہے۔
مسئلہ 395۔ اگر کوئی بیماری یا ٹانگ یا جسم کے فریکچر وغیرہ کی وجہ سے، حتیٰ کہ دوسروں کی مدد سے بھی ممکن وقت میں طواف نہ کر سکے تو اگر ممکن ہو تو اسے اٹھا کر طواف کرایا جائےورنہ کسی کو نائب بنانا چاہئے۔
مسئلہ 396۔ اگر طواف مکمل کرنے اور اس کی جگہ سے نکلنے کے بعد طواف کے چکروں کی تعداد میں شک ہو تو اس شک پر اعتبار نہ کرےلیکن اگر طواف کے دوران شک ہو مثلاً یہ نہ یاد ہو کہ ساتواں چکر ہے یا اس سے کم تو طواف باطل ہے اور دوبارہ کرے۔
مسئلہ 397۔ کثیرالشک کو طواف کے چکروں کی تعداد میں شک کی پروا نہیں کرنی چاہیے اور احتیاط مستحب ہے کہ طواف کی تعداد کو یاد رکھنے کے لئے کسی سے مدد لے۔
مسئلہ 398۔ چکروں کی تعداد کے بارے میں گمان کا کوئی اعتبار نہیں اور شک کے حکم میں ہے ۔
- طواف سے متعلق استفتاءات
طواف سے متعلق استفتاءات
سوال 399۔ طواف میں کثیر الشک ہونے کا معیار کیا ہے؟
جواب: یہ مسئلہ عرفی ہے۔
سوال 400۔ ایک شخص نے چند چکر طواف مکمل کرنے کے بعد کچھ دیر آرام کیا پھر طواف مکمل کرنے کے لیے واپس آیا تو اسے شک ہوا کہ یہ پانچواں چکر تھا یا چھٹا؛ اس کا حکم کیا ہے؟
جواب: پانچ اور چھے چکروں کے درمیان شک کرنا ہر صورت میں طواف کو باطل کر دیتا ہے۔
سوال 401۔ ایک شخص نے اپنے والد کی طرف سے عمرۂ مفردہ انجام دیا اور اگلے دن اپنی والدہ کی نیابت میں مُحرِم ہوا۔ اس دوران اسے معلوم ہوا کہ اس نے پہلے عمرے کا طواف اور اس کی نماز بغیر وضو کے ادا کی تھی تو کیا حکم ہے؟
جواب: دوسرا احرام صحیح ہے۔ پہلے عمرے کا طواف اور اس کی نماز تکرار کرے۔
سوال 402۔ کیا واجب ہے کہ طواف کی نماز مقامِ ابراہیم سے قریب ترین جگہ پر پڑھی جائے، خواہ اس سے طواف کرنے والوں کو تکلیف ہو ؟
جواب: سوال کے فرضیے میں مقام ابراہیم کے قریب ہونا واجب نہیں۔
سوال 403۔ کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ طواف اور اس کی نماز کو وقت پر انجام دینے کے لیے حیض مؤخر کرنے والی گولیاں وغیرہ استعمال کرے؟
جواب: اگر ان گولیوں کا قابلِ توجہ نقصان نہ ہو تو یہ جائز ہے۔
سوال 404۔ اگر کوئی شخص احتیاطاً طواف میں ایک چکر بڑھا دے تو کیا حکم ہے؟ اور کیا طواف شروع ہونے سے پہلے یا اس کے دوران اضافہ کرنے کا قصد کرنے میں کوئی فرق ہے؟
جواب: اگر اسے چکروں کی تعداد میں کوئی شک نہ ہو اور اس نے شروع ہی سے سات چکروں کا قصد کیا ہو تو کوئی اشکال نہیں۔
سوال 405۔ چند چکروں کے بعد مجھے گمان ہوا کہ ان میں سے ایک چکر میں اشکال ہے تو میں نے اس چکر کو چھوڑ کر اس کے بدلے نیا چکر لگایا؛ کیا طواف صحیح ہے؟
جواب: طواف کےچکروں میں سے کسی ایک سے منحرف ہونا بذاتِ خود محلِ اشکال ہےاگرچہ طواف باطل ہونے کا باعث نہیں البتہ اگر جتنے چکر لگائے ہیں سب سے منحرف ہوجائے اور شروع سے دوباہ طواف انجام دے تو کوئی اشکال نہیں اورصحیح ہے۔
سوال 406۔ ایک چکر طواف کے بعد مجھے گمان ہوا کہ اس میں اشکال ہے اور اس سے منحرف ہوا اور دوبارہ طواف کیا تو کیا صحیح ہے ؟
جواب: صحیح ہے۔
سوال 407۔ اگر کوئی شخص یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس کا طواف یا سعی باطل ہے، اس کو تکرار کرے مثلاً یہ سمجھتے ہوئے (تکرار کرے) کہ نمازِ جماعت میں شریک ہونا یا طواف یا سعی کے درمیان آرام کرنا باطل ہونے کا باعث ہے۔ کیا یہ عمل صحیح ہے؟
جواب: اگر اس اعتقاد کے ساتھ پہلے عمل سے منحرف ہوا ہو اور جدید عمل انجام دیا ہو تو جدید عمل صحیح ہے۔
سوال 408۔ کیا طواف سے منحرف ہونے کے بعد نیا طواف شروع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ وقت گزر جائے یا کوئی مُبطل عمل انجام دیا جائے؟
جواب: منحرف ہونے کی نیت اور اعراض کافی ہے۔ کچھ وقت گزرنا یا مبطل انجام دینا ضروری نہیں۔
سوال 409۔ اگر طواف کے دوران بلا اختیار چند قدم چلے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب: اگر انسان قدم اپنے ارادے سے اٹھاتا ہےاگرچہ ہجوم کی وجہ سے کبھی آگے یا اِدھر اُدھر ہو جائے تو کوئی اشکال نہیں لیکن اگر اسے دوسرا شخص اس طرح لے جائے کہ اس کا اپنا ارادہ ختم ہو جائے تو اشکال ہے۔
سوال 410۔ کسی شخص سے مدد لیتے ہوئے وہیل چیئر کے ذریعے طواف یا سعی کرنا اس صورت میں جب خود اس کو چلا سکتا ہو، کیا حکم ہے؟
جواب: کافی نہیں ہے۔
سوال 411۔ اگر طواف میں کچھ رکاوٹیں پیدا ہوں تو کیا کعبہ سے زیادہ فاصلے سے یا حائل کے ساتھ کہ کعبہ نظر نہ آئے،طواف صحیح ہے؟
جواب ۔ اگرزیادہ فاصلے سے یا حائل کے ساتھ طواف کعبہ شمار ہوجائے توکوئی اشکال نہیں ۔
سوال 412۔ طواف کے دوران آدھا طواف مکمل کرنے کے بعد میرا وضو ٹوٹ گیا اوردوبارہ وضو کرنے کے لیے مسجد الحرام سے باہر گیا۔ آمد و رفت میں مجموعی طور پر 20 سے 25 منٹ لگ گئے۔ کیا اس سے موالات ٹوٹتی ہے اوردوبارہ شروع سے طواف کروں؟ کیا بوڑھے اور کمزور افراد کی موالات جن کو تجدید وضو میں جوان اور توانا لوگوں کی نسبت زیادہ وقت کی ضرورت ہے، کیا ان کی اور جوان اور توانا افراد کی موالات کے درمیان کوئی فرق ہے ؟کیا رش کے اوقات جب زیادہ وقت لگتا ہے اور خلوت میں فرق ہے؟ اور اگر موالات ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب: موالات ایک عرفی اور واقعی امر ہے اور افراد یا حالات کےاختلاف کا تابع نہیں لہٰذا بوڑھوں اور جوانوں، رش یا خلوت کی حالتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اگر طواف کرنے والا مولات ٹوٹنے کے بارے میں شک کرے تو اصل یہ ہے کہ موالات نہیں ٹوٹی ہے۔
سوال 413۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جو شخص خود طواف کرسکتا ہے، اس کو دوسروں کے ذریعے طواف کروانا صحیح نہیں ہے، اب اگر کوئی پورے سات چکروں کو خود مکمل نہ کرسکے لیکن اس میں سے کچھ مقدار انجام دے سکے تو کیا تم سات چکروں میں اس کو طواف کروانا جائز ہے؟
جواب: جتنا ممکن ہو خود انجام دے اور باقی کے لئے اس کو طواف کروائے۔
- طواف کے آداب اور مستحبات
طواف کے آداب اور مستحبات
مسئلہ 414 ۔ مناسب ہے کہ طواف کی حالت میں مسلسل خشوع اور حضور قلب کے ساتھ رہے اور ذکر خدا میں مشغول رہے اور ماثورہ دعائیں پڑھے۔
طواف کی حالت میں پڑھے: «أللّهُمّ إنّی أسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الّذِی یُمْشی بِهِ عَلی طَلَلِ الْماءِ کَما یُمْشی بِهِ عَلی جُدَدِ الأَرْضِ وَأسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الّذِیْ یَهْتَزّ لَهُ عَرْشُکَ وَأسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الّذِی تَهْتَزّ لَهُ اَقْدامُ مَلائِکَتِکَ وَأسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الّذِی دَعاکَ بِهِ مُوسی مِنْ جانِبِ الطُورِ فاسْتَجَبْتَ لَهُ وَألْقَیْتَ عَلَیْهِ مَحَبّةً مِنْکَ وَأسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الّذی غَفَرْتَ بِهِ لِمُحَمّدٍ (صلی الله علیه وآله) ما تَقَدّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَما تَأخّرَ وأتْمَمْتَ عَلَیْهِ نِعْمَتَکَ أنْ تَفْعَلَ بِی کَذا وَکَذا». کذا و کذا کے بجائے اپنی حاجت طلب کرے۔
طواف کی حالت میں پڑھے: «أللّهُمّ إنّی إلَیْکَ فَقِیْرٌ وَإنّی خائِفٌ مُسْتَجِیْرٌ فَلا تُغَیّرْ جِسْمِی وَلا تُبَدّلْ إسْمِی».
محمد و آل محمد پر صلوات پڑھے مخصوصا جب خانہ کعبہ کے دروازے پر پہنچے۔
جب حجر اسماعیل کے پاس پہنچے میزاب رحمت کی طرف رخ کرے اور پڑھے: «أللّهُمّ أدْخِلْنِی الْجَنّةَ وَأجِرْنِی مِنَ النّارِ بِرَحْمَتِکَ وَعافِنِی مِنَ السّقْمِ وَأوْسِعْ عَلَیّ مِنَ الرّزْقِ الْحَلالِ وَادْرَأْ عَنّی شَرّ فَسَقَةِ الجِنّ وَالْإنْسِ وَشَرّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ».
جب حجر اسماعیل سے گزر کر کعبہ کی پشت پر پہنچے تو پڑھے: «یا ذَا الْمَنّ وَالطّوْلِ یاذَا الْجُودِ وَالْکَرَمِ إنّ عَمَلِی ضَعِیفٌ فَضاعِفْهُ لِی وَتَقَبّلْهُ مِنّی إنّکَ أنْتَ السّمِیْعُ الْعَلِیْمُ»
جب رکن یمانی پر پہنچے تو دعا کے لئے ہاتھوں کو بلند کرے اور پڑھے: «یا أللّهُ یا وَلِیّ الْعافِیَةِ وَخَالِقَ الْعافِیَةِ وَرَازِقَ الْعافِیَةِ وَالْمُنْعِمُ بِالْعافِیَةِ وَالْمَنّانُ بِالعافِیَةِ والمُتَفَضّلُ بِالْعافِیَةِ عَلَیّ وَعَلی جَمِیعِ خَلْقِکَ یا رَحْمنَ الدّنْیا وَالآخِرَةِ وَرَحیْمَهُما صَلّ عَلی مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمّدٍ وَارْزُقْنَا الْعافِیَةَ وَتَمامَ الْعافِیَةِ وَشُکْرَ الْعافِیَةِ فی الدّنْیا وَالآخِرَةِ یا أرْحَمَ الرّاحِمِیْنَ»
رکن یمانی اور حجر الاسود کے درمیان پڑھے: «رَبّنا آتِنا فی الدّنیا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنا عَذابَ النّارِ»
اگر طواف کرنے والوں کے لئے مزاحمت نہ ہو تو ہر چکر میں ارکان خانہ کعبہ اور حجر الاسود کو چھوئے اور چھوتے وقت پڑھے: «أمانَتی أدّیْتُها وَمِیثاقی تَعاهَدْتُهُ لِتَشْهَدَ لِی بِالْمُوافاةِ»
-
- سوّم: نمازِ طواف
- چوتھا: سعی
- پنجم: تقصیر
پنجم: تقصیر
مسئلہ 457 ۔ عمرہ کا پانچواں واجب عمل تقصیر ہے۔
مسئلہ 458 ۔ سعی انجام دینے کے بعد تقصیر کرنا واجب ہےاگرچہ تھوڑی دیر بعد کیوں نہ ہو یعنی اپنے سر کے بال یا داڑھی یا مونچھوں کے تھوڑے سے بال کاٹے یا اپنے ہاتھ یا پاوں کے تھوڑے سے ناخن کاٹ لے۔
مسئلہ 459 ۔ تقصیر بھی عمرہ کے دیگر اعمال کی طرح عبادت ہے اور نیت ضروری ہے، جیسا کہ نیت احرام میں بیان ہوا۔
مسئلہ 460 ۔ عمرہ تمتع کے احرام سے خارج ہونے کیلئے حلق (سر کا مونڈنا)کافی نہیں ہے اور عمرہ تمتع کے احرام سے خارج ہونے کے لئے حتما تقصیر کرنی چاہیے بلکہ اگر تقصیر کرنے سے پہلے مسئلہ جانتے ہوئے اور جان بوجھ کر سر مونڈ لے تو نہ فقط یہ کہ کافی نہیں ہے بلکہ اسے ایک دنبہ کفارہ بھی دینا ہوگا لیکن اگر عمرہ مفردہ کے لئےمحرم ہوا ہو تو تقصیر یا حلق میں سے کسی ایک کو انتخاب کرسکتا ہے ۔
مسئلہ 461۔ اگر عمدا یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے تقصیر نہ کرے یا اس کے بجائے بالوں کو مونڈے یا نوچے اور پھر حج بجالائے تو اس کا عمرہ باطل ہے اور حج اِفراد شمار ہوگا اور اس صورت میں اگر اس پر حج واجب تھا تو بنا بر احتیاط واجب حج کے بعد ایک عمرہ مفردہ انجام دے اور آئندہ سال دوبارہ عمرہ تمتع اور حج بجالائے۔
مسئلہ 462۔ اگر بھول کر تقصیر ترک کردے اور حج کیلئے احرام باندھ لے تو اس کا احرام ، عمرہ اور حج صحیح ہے اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے لیکن مستحب ہے کہ ایک دنبہ کفارہ دے اور کفارہ ترک نہ کرے۔
مسئلہ 463 ۔ عمرہ تمتع کے اعمال کے اختتام پر تقصیر کرنے کے بعد احرام کے تمام محرمات حتی کہ بیوی بھی حلال ہوجاتی ہے۔
مسئلہ 464۔ عمرہ تمتع میں طواف النساءواجب نہیں ہے اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ ثواب کی امید سے تقصیر سے پہلے طواف النساءاور اس کی نماز بجالائے لیکن عمرہ مفردہ میں طواف النساء اور اس کی نماز واجب ہے۔
- عمرۂ تمتّع اور حجّ تمتّع کے مشترکہ احکام
- آٹھواں: منی میں رات گزارنا
-
- پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
- چھٹا باب: عمرہ مفردہ
- متفرق استفتائات
متفرق استفتائات
سوال 602- حال ہی میں حج و زیارت کے ادارے اور بینک ملی ایران کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے مطابق حج تمتع کے خواہشمند حضرات بینک میں اپنے نام سے مخصوص اکاؤنٹ میں ایک ملین تومان بطور مضاربہ جمع کراتے ہیں اور رسید حاصل کرتے ہیں۔ یہ رقم حج سے مشرف ہونے تک اس شخص کے اکاؤنٹ میں باقی رہتی ہے اور مکتوب قرارداد کے مطابق اکاؤنٹ والے کو ہر سال کے اختتام پر مضاربہ کے سود کے عنوان سے کچھ منافع بھی دیا جاتا ہے۔ادارہ حج جلدی رجسٹریشن کروانے والوں کو ترجیح دیتا ہے اور تقریبا تین سال بعد لوگوں کی نوبت کا اعلان کیا جاتا ہے اور مائل ہونے کی صورت میں ان کو حج پر بھیجا جاتا ہے۔ جب حج پر جانے کا وقت آتا ہے تو مضاربہ کے اکاؤنٹ میں جمع اصلی رقم کو بینک سے دریافت کرتا ہے اور باقی اخراجات کے ساتھ ادارہ حج و زیارات کے اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہے اور حج سے مشرف ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ چونکہ معاہدہ مکتوب ہے اور پیسے کے مالک اور بینک کے درمیان کوئی گفتگو نہیں ہوتی پس صاحب مال کو مضاربہ کے منافع کے عنوان سے ملنے والی کچھ فیصد رقم کا کیا حکم ہے؟
جواب: بینک کے ساتھ مذکورہ طریقے (شرائط) کے مطابق تحریری معاہدہ کرنا بلا اشکال (جائز) ہے، اور مضاربہ سے حاصل ہونے والا منافع اکاونٹ والے کے لیے حلال ہے۔اصل رقم اگر غیر مخمس آمدنی سے ہو تو اس پر خمس ہے ۔اگر حج کا سفر کرنے سے پہلے سود قابل وصول نہ ہو تو جس سال وصول ہوجائے اس سال کی آمدنی کا حصہ ہوگا چنانچہ اسی سال حج کے اخراجات کے طور پر اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے تو خمس نہیں۔
سوال 603۔ مسجد الحرام کے فرش کو آب قلیل سے پاک کیا جاتا ہے، کیا مسجد کے فرش پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟
جواب:معمولا مسجد کے تمام مقامات کا نجس ہونا ثابت نہیں ہے اور اسکی تحقیق و جستجو بھی واجب نہیں بنا بر ایں مسجد کے فرش کے پتھروں پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔
سوال 604- جب مسجد الحرام خون، پیشاب یا کسی اور نجاست کی وجہ سے نجس ہو جاتی ہے اور ملازمین اس کو پاک کرنے کے لئے جو طریقہ اپناتے ہیں ہماری نظر میں اس طریقے سے پاک نہیں ہوتی ہے تو ایسی حالت میں جو نماز مسجد الحرام کی فرش (گیلی ہو یا خشک)پر پڑھی جاتی ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: جب تک سجدے کی جگہ نجس ہونے پر یقین نہ ہو تو نماز صحیح ہے۔
سوال 605-کیا کعبہ کے ارد گرد دائرے کی شکل میں (باقی شرائط کی رعایت کرتے ہوئے) نماز جماعت پڑھنا صحیح اور کافی ہے؟
جواب: جو شخص امام کے پیچھے یا اس کے دائیں یا بائیں کھڑا ہے، اس کی نماز صحیح ہے، اور احتیاط مستحب کی بنا پر جو شخص امام کے دائیں یا بائیں طرف کھڑا ہے اسے چاہئے کہ امام جماعت اور کعبہ کے درمیانی فاصلے کی رعایت کرے اور امام سے زیادہ کعبہ سے نزدیک نہ ہو، لیکن جو کعبہ کی دوسری طرف یعنی امام کے مد مقابل کھڑا ہے اس کی نماز صحیح نہیں۔
سوال 606- کیا قضا نماز میں اہل سنت کی اقتداصحیح ہے؟
جواب: صحیح نہیں۔
سوال 607- اذان اور اقامت کے دوران مسجد الحرام اور مسجد النبی سے باہر نکلنے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ اس وقت اہل سنت مسجد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں اور ہمیں باہر نکلتے دیکھ کر باتیں کرتے ہیں اور عیب سمجھتے ہیں؟
جواب: اگر یہ کام دوسروں کی نظر میں اول وقت کی نماز کو کم اہمیت دینے کے مترادف ہو اور بالخصوص یہ بات مذہب کی توہین کا باعث بن رہی ہو توجائز نہیں ہے۔
سوال 608- جس شخص نے مکہ مکرمہ میں دس دن اقامت کی نیت کی ہے، وہ عرفات ، مشعر، منی اور اسی طرح ان کے درمیانی فاصلوں میں نماز کو قصر پڑھے گا یاپوری؟
جواب: اگر عرفات جانے سے پہلے اس نے مکہ میں دس روز قیام کا قصد کیا ہے تواقامت ثابت ہونے کے بعد جب تک وہ کوئی نیا سفر انجام نہ دے،اقامت کا حکم باقی ہےاور نماز پوری ہوگی۔ عرفات، مشعر الحرام اورمنی جانا سفر شمار نہیں ہوگا۔
سوال 609- نماز قصر پڑھنے یا پوری پڑھنے میں اختیار کا حکم پورے شہر مکہ اور مدینہ کے لئے ہے یا مسجد الحرام اور مسجد النبی سے مختص ہے؟ اور یہ کہ ان دونوں شہروں کے نئے اور پرانے محلوں کے درمیان کوئی فرق ہے یا نہیں؟
جواب : قصر اور کامل نماز کے درمیان اختیار ان دونوں مقدس شہروں کے تمام مقامات کے لئے ہے، اور نئے اور پرانے محلوں کے درمیان بھی کوئی فرق نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے دو نوںمقدس مساجد کے علاوہ دیگر مقامات پر دس دن کی اقامت کے بغیر نماز قصر پڑھے۔
سوال 610- کیا مسافر تخییری مقامات (مکہ و مدینہ) میں ظہر و عصر کی نفل نمازیں پڑھ سکتا ہے؟
جواب: اگر کوئی شخص تخییری مقامات پر پوری نماز ادا کرنا چاہے، تو وہ یومیہ نوافل بھی پڑھ سکتا ہے۔
سوال 611- جوشخص مشرکین سے برائت کے مراسم میں شرکت سے اجتناب کرے، اس کے حج کاکیا حکم ہے؟
جواب: اس عمل سے حج کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اگرچہ اپنے آپ کو خدا کے دشمنوں سے برائت کے اعلان کے مراسم میں شرکت کی فضیلت سے محروم کیا۔
سوال 612- کیا حیض یا نفاس کی حالت میں عورت مسجدالحرام اور سعی کے راستے کی مشترکہ دیوار پر بیٹھ سکتی ہے؟
جواب: کوئی اشکال نہیں مگر اس صورت میں جب دیوار کا مسجد الحرام کا حصہ ہونا ثابت ہوجائے۔
سوال 613- سیدہ اور غیر سیدہ عورتوں کے یائسہ ہونے کی عمر کیا ہے؟
جواب: یائسہ ہونے کی عمر معین کرنا محل تامل اور محل احتیاط ہے۔ اس مسئلے میں خواتین دوسرے مجتہد جامع الشرائط کی جانب رجوع کر سکتی ہیں۔
سوال 614- اگرکسی کو رؤیت ہلال میں اختلاف کی وجہ سے وقوف اور عید کے دنوں میں شک ہو تو کیا اس کے حج کا کیا حکم ہے؟ کیا دوبارہ حج کرنا ہوگا؟
جواب: اگر وہ اہل سنت کے مفتی کے حکم کے مطابق ذی الحج کی رؤیت پر عمل کرے توکافی ہے پس اگر باقی لوگوں کے ساتھ وقوفات انجام دے تو حج صحیح ہے۔
سوال 615۔ کیا مقام ابراہیم کے پیچھے قرآن کی تلاوت یا دعا اورمستحب نماز میں مشغول ہوکر طواف واجب کی نماز پڑھنے والوں کے لئے جگہ تنگ کرنا جائز ہے؟
جواب: اولیٰ بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب طواف واجب کی نماز کے لئے بھیڑ ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے مذکورہ عبادتیں انجام نہ دے۔
سوال 616۔ کیا مسجد النبی میں قالین پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سجدہ کے لئے ایسی چیز جس پر سجدہ صحیح ہے- کاغذیا چٹائی وغیرہ- کو سامنے رکھنے سے انسان مورد توجہ قرار پاتا ہے اور نمازی مغرضانہ نظروں کی زد میں آجاتا ہے اور مخالفوں کو مذاق اڑانے کا بہانہ مل جاتا ہے؟
جواب: جس جگہ تقیہ ضروری ہے وہاں پر انسان قالین اور اس جیسی چیزوں پر سجدہ کرے اور ضروری نہیں ہے کہ نماز کے لئے کسی اور جگہ چلا جائے، لیکن اگر اسی مقام پر بغیر زحمت اور تکلیف کے وہ پتھر یا چٹائی وغیرہ پر سجدہ کر سکتا ہو تو بنا بر احتیاط واجب انہی چیزوں پر سجدہ کرے۔
سوال 617۔ کیا مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی فرش کے پتھروں پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ اور کلی طور پر کن پتھروں پر سجدہ کیا جاسکتا ہے؟ اور اینٹ اور مٹی کے برتن پر سجدہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: سنگ مرمر اور اس طرح کے دوسرے پتھر جنہیں تعمیرات یا عمارتوں کی تزئین و آرایش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح ۔ اینٹ ، چونا، مٹی کے برتن اور سیمنٹ پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔ عقیق، فیروزه، دُرّ وغیرہ پراگرچہ سجدہ بھی صحیح ہے، لیکن مستحب احتیاط یہ ہے کہ ان پر سجدہ نہ کیا جائے۔
سوال 618۔ ایسے پانی سے وضو کرنے کا کیا حکم ہے جو پینے سے مخصوص ہے؟
جواب: جس پانی کا مباح ہونامشکوک ہے، اس سے وضو کرنا صحیح نہیں۔
سوال 619۔ اگر اعلم مجتہد کسی مسئلے میں فتوی نہ دے بلکہ فقط احتیاط واجب قرار دے لیکن فالاعلم (اعلم کے بعد دوسرے مرتبے کا مجتہد)نے احتیاط کا فتوی نہیں دیا ہو تو کیا اعلم کے مقلد کے لئےیہ جاننا ضروری ہے کہ اعلم مجتہد نے اس مسئلہ کو احتیاط واجب قرار دیا ہے اور فالاعلم کی طرف رجوع کرنے کی نیت کرے یا یہی کافی ہے کہ اس نے اپنے شرعی وظیفے کو انجام دیا ہے اور اس کا عمل فالاعلم کے فتوی کے مطابق ہے؟
جواب: اگر اس کا عمل، انجام دیتے وقت ایسے مرجع کے فتوے کے مطابق ہو جس کی شرعی طور تقلید صحیح ہو اور اس مسئلے میں اس کی تقلید پر بنا رکھے تو کافی ہے۔
سوال 620۔ بعض مواقع پر بیت اللہ کے زائرین یا دوسرے مسافر نماز کے وقت ہوائی جہاز میں ہوتے ہیں۔ عام طور پر ہوائی جہاز میں نماز پڑھناطمانینہ اور استقرار کے لئے مانع بھی نہیں ہے۔ چنانچہ نماز کی دوسری شرائط مثلاً قیام، قبلہ، رکوع اور سجود وغیرہ کی رعایت کی جائے اور یہ جانتے ہوئے یا احتمال دیتے ہوئے کہ نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے مقصد تک پہنچیں گے اور جہاز سے اترنے کے بعد نماز ادا کر سکتے ہیں، کیا جہاز میں نماز ادا کرنا کافی ہے یا نماز میں تاخیر کرنا ضروری ہے اور اگر اس حالت میں نماز پڑھے اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی جہاز اتر جائے تو نماز کا دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب: اگر بدن کا ساکن ہونا اور استقرار اور رو بہ قبلہ ہونا ممکن ہو تو نماز صحیح اور کافی ہے بلکہ اول وقت کی فضیلت کو درک کرنے کے لئے افضل ہے۔
سوال 621۔ اگر کسی نے مستحب عمرۂ تمتع انجام دیا ہو، لیکن اب وہ حج تمتع انجام نہیں دے سکتا مثلاً ایام تشریق میں حاجیوں کی خدمت کے لئے مکہ میں رہنے کی ذمہ داری ہو تو اس کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: وہ مستحب عمرۂ تمتع چھوڑ سکتا ہےاور احتیاط مستحب ہے کہ طوافِ نساء انجام دے۔
سوال 622۔ اگر کوئی حج واجب ہونے کے بعد پاگل ہوجائے تو اس کے حج کے حوالے سےولی کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: اس کے حج کے حوالے سے ولی پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ اگربعد میں عاقل ہو جائے تو خود حج انجام دےورنہ مرنے کے بعد اس کے مال متروکہ سے نائب مقرر کیا جائے۔
سوال 623۔ ہمیں ایران میں کچھ رقوم دی گئی ہیں تاکہ انہیں مسجد نبوی یا قبور مطہرہ بقیع میں ڈالیں لیکن یہ ممکن نہیں لہذا کیا ہم ان پیسوں کو شیعہ فقراء میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
جواب:اگر پیسے دینے والے راضی ہوں تو انہیں شیعہ فقراء پر خرچ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
سوال 624۔ بہت سارے زائرین خانۂ خدا، مسجد الحرام میں اعتکاف کے مشتاق ہوتے ہیں۔ چونکہ روزہ اعتکاف کے لیے شرط ہےتو کیامکہ مکرمہ میں روزہ کی نذر کر کے اعتکاف کر سکتے ہیں؟
جواب:احتیاطِ واجب کی بناپر نذر وطن یا محل اقامت میں ہونی چاہئے۔
سوال 625۔ اگر کوئی شخص مسجد الحرام میں اعتکاف کرنا چاہے تو کیا جائز ہے کہ اذانِ صبح سے پہلے تنعیم جا کر احرام باندھے اور پھر باقی اعمال اعتکاف کی حالت میں انجام دے؟ یاد رہے کہ سعی کا مقام مسجد کا حصہ نہیں ہے۔
جواب: وہ احرام باندھ سکتا ہے اور سعی انجام دینے کے لیے مسجد سے باہر جانے میں کوئی اشکال نہیں۔
سوال 626۔ حاجت پوری ہونے کے لئے مدینہ منورہ میں تین دن مستحب روزے رکھنا مسافر سے مخصوص ہے یا مدینہ میں رہنے والوں اور دس دن قصد اقامت کرنے والوں کے لئے بھی مستحب ہے؟
جواب: مسافر کے ساتھ مخصوص نہیں۔سفر کی حالت میں روزہ کو مستثنی کرنے کے لئے مسافر کا ذکر ہوا ہے(چونکہ عام طور پر مسافر سفر میں روزہ نہیں رکھ سکتا۔)
- رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
جتنا ہوسکے مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں وہ اعمال زیادہ اور تکرار کے ساتھ انجام دیں جنہیں خداوند عالم پسندکرتا ہے،یہ ایسے اعمال ہیں جو خالصانہ اور اللہ کے سامنے عاجزی کے ساتھ انجام دیے جائیں۔ وہ دعائیں جو وارد ہوئی ہیں یا وہ جو ان مقامات سےمخصوص نہیں ہیں—جیسے دعائے کمیل—ان کا اجتماعی طور پر پڑھنا بہت ہی نیک عمل ہے۔[1]
حج ایک انسان کے لیے معنویت کے بیکراں ماحول میں داخل ہونے کا موقع ہے۔ ہم خامیوں اور مشکلات سے بھرپور اپنی معمول کی زندگی سے خود کو نکال کر صفا، معنویت اور اللہ کی قربت اور ریاضت سے معمور فضا میں لے آتے ہیں۔مناسک حج کے آغاز سے ہی ان چیزوں کوآپ اپنے لئے حرام قرار دیتے ہیں جو معمولا مباح ہوتی ہیں۔ احرام کا مطلب ان چیزوں کو اپنے لئے حرام قرار دینا ہے جو عام اوقات میں جائز اور مباح ہوتی ہیں۔ ان میں بہت ساری چیزیں غفلت کا باعث بنتی ہیں اور بعض زوال کی طرف لے جاتی ہیں۔
ظاہری اور مادی تفاخر کے تمام ذرائع ہم سے چھین لیے جاتے ہیں؛ سب سے پہلے لباس۔ عہدہ، مقام، رتبہ، اور قیمتی لباس، یہ سب ختم ہو جاتے ہیں اور سب ایک جیسے لباس میں آ جاتے ہیں۔ آئینے میں نہ دیکھیں، کیونکہ یہ خود پسندی اور خود نمائی کا ایک مظہر ہے۔ خوشبو کا استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ دکھاوے کا ایک ذریعہ ہے۔ چلتے وقت دھوپ یا بارش سے نہ بھاگیں اور چھت کے نیچے نہ جائیں، کیونکہ یہ آرام طلبی اور آسائش کی علامت ہے۔ اگر کسی ایسی جگہ سے گزریں جہاں بدبو ہو، تو اپنی ناک نہ بند کریں۔ اسی طرح احرام کے باقی تمام کاموں کا بھی یہی مقصد ہے؛ یعنی اس مدت کے دوران ان تمام چیزوں کو خود پر حرام کر لینا جو آرام و سکون کا باعث بنتی ہیں، یا نفسانی شہوات اور حرام جنسی خواہشات کو ابھارتی ہیں؛ چاہے وہ چیز فخر و غرور کا ذریعہ ہو یا امتیاز اور فرق پیدا کرنے والی ہو، یہ سب چیزیں ختم کر دی جاتی ہیں۔
پھر بیت اللہ اور مسجد الحرام میں داخل ہوتے ہیں جو پوری سادگی اور سجاوت سے خالی ہونے کے باوجود پرشکوہ اور عظمت سے بھرپور ہےاس جلال و عظمت کو اپنی آنکھوں، اپنے ہاتھوں بلکہ پورے وجود سے محسوس کرتا ہے۔ یہ عظمت اور جلال مادی زینت و آرائش نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی اور باطنی شان و شوکت ہے جو عام انسانوں کے لیے بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ پھر جب انسان حاجیوں کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا حصہ بنتا ہے، اور ایک مرکز کے گرد گریہ اور خشوع کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کے ساتھ طواف کرتا ہے؛ پھر صفا و مروہ کی سعی بھی اسی کیفیت میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ عرفات اور مشعر میں وقوف اور ایام منیٰ کی عبادات بھی اسی طرح ہیں اور یہی حج ہے۔[2]
جو لوگ مکّہ جاتے ہیں، وہ ان لمحات کو مکّہ کو بازاروں میں گھومنے اور دکانوں کی سیر کی نذر نہ کریں۔ مکّہ ان بے اہمیت سرگرمیوں سے بہت برتر و بالا ہے۔ اگر تجارت کا شوق ہے تو بعد میں الگ سے کسی سفر میں جائیں، جہاں چاہیں جائیں۔ لیکن حج کے دوران ان "ایام معلومات" کو اپنے لیے، زیارت کے لیےاور یادِ خدا کے لیے محفوظ رکھیں، اور ان قیمتی دنوں کو بے وقعت کاموں میں ضائع نہ کریں۔ نمازِ جماعت میں شرکت کریں، اجتماعات میں شریک ہوں، اور حرمین شریفین میں نمازِ اوّل وقت کی جماعت کے ساتھ ادا ئیگی کو یقینی بنائیں۔ پورےایمان اور پرہیزگاری کے ساتھ حاضر ہوجائیں جو ایرانی قوم کے شایان شان ہو۔[3]
حج کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک بقائے باہمی ہے۔ ایسے افراد جو ایک دوسرے کو بالکل نہیں جانتے، مختلف ثقافتوں، علاقوں، رنگوں اور زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں یہاں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا ہوتا ہے۔[4]
سیاسی اعتبار سے، حج کا مرکزی محور امت مسلمہ کے اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ ہے۔ مسلمان بھائیوں کی ایک دوسرے سےدوری سے دشمنوں کو موقع ملتا ہے اور امت کے درمیان تفرقے کا بیج پروان چڑھتا ہے۔ امت مسلمہ مختلف قوموں، نسلوں اور مسالک کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔ یہ تنوع، جو زمین کے ایک حساس اور اہم حصے میں جغرافیائی طور پر پھیلا ہوا ہے، خود اس عظیم امت کے لیے ایک قوت بن سکتا ہے۔ یہ تنوع ان کے مشترک ورثے، ثقافت اور تاریخ کو ایک وسیع دائرے میں زیادہ مؤثر اور کارآمد بنا سکتا ہے، اور انسانی و قدرتی صلاحیتوں کو اس امت کی خدمت میں استعمال کر سکتا ہے۔[5]
حج، ان مستکبروں کے مقابلے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے، جو فساد، کمزوروں پر ظلم، قتل عام اور لُوٹ مار کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ آج امت مسلمہ کا عظیم پیکر ان کے ظلم و خباثت سے زخمی اور خون آلود ہے۔ حج، امتِ اسلامی کی عسکری اور ایمانی و ثقافتی طاقت کی ایک شاندار نمائش ہے۔ یہی حج کی حقیقت، اس کی روح، اور اس کے اہم ترین اہداف کا ایک حصہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے امام خمینی کبیرؒ نے "حجِ ابراہیمی" کا نام دیا تھا۔[6]
وہ "حجِ ابراہیمی" جو اسلام نے مسلمانوں کو بطور ہدیہ عطا کیا ہے، عزت، معنویت، وحدت اور شکوہ و عظمت کا مظہر ہے۔ یہ حج امتِ اسلامی کی بزرگی اور خدا کی لازوال طاقت پرامت مسلمہ کے اعتقاد کو دشمنوں اور بدخواہوں کے سامنے نمایاں کرتا ہے، اور اُنہیں اُس گندگی، ذلت اور محرومی سے ممتاز و الگ دکھاتا ہے جو عالمی غاصبوں اور مستکبروں نے انسانی معاشروں پر مسلط کر رکھی ہے۔
اسلامی اور توحیدی حج اس نورانی کلام الہی کا مظہر ہے: "أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ"[7] یعنی کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں مہربان۔ یہ مشرکوں سے براءت اور اہلِ ایمان کے آپس میں باہمی اُلفت و وحدت ظاہر کرنے کا مقام ہے۔[8]
[1] حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2022
[2] حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2007
[3] حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 1993
[4] حج کے منتظمین سے ملاقات کے دوران خطاب، 2022
[5] حج کانفرنس کے موقع پر پیغام، 1995
[6] ایام حج کے موقع پر پیغام، 2019
[7] فتح، آیت 29
[8] ایام حج کے موقع پر مسلمانان عالم کے نام پیغام، 2015
