ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
    پرنٹ  ;  PDF
     
    دین و قرض
     
    س١٧58:ایک کارخانہ کے مالک نے خام مال خریدنے کیلئے مجھ سے کچھ رقم قرض کے طور پر لی اور کچھ عرصہ کے بعد اضافی رقم کے ساتھ اس نے مجھے وہ رقم واپس کردی، اور اس نے وہ اضافی رقم پوری طرح اپنی رضامندی کے ساتھ مجھے دی ہے اور اس میں نہ تو پہلے کسی قسم کی کوئی شرط طے پائی تھی اور نہ ہی مجھے اسکی توقع تھی کیا میرے لئے اس اضافی رقم کالینا جائز ہے ؟
    ج: مذکورہ سوال کی روشنی میں چونکہ قرض ادا کرنے میں اضافی رقم لینے کی شرط طے نہیں ہوئی اور وہ اضافی رقم قرض لینے والے نے اپنی خوشی سے دی ہے لہذآپ اس میں تصرف کرسکتے ہیں۔
     
    س ١٧٥9:اگر مقروض اپنا قرض ادا کرنے سے انکار کردے اور قرض خواہ چیک کی رقم وصول کرنے کیلئے اسکے خلاف عدالت میں شکایت کردے اور اسکی وجہ سے وہ شخص اس بات پر مجبور ہوجائے کہ اصل قرض کے علاوہ عدالتی فیصلہ کے اجراکے سلسلے میں حکومت کو ٹیکس بھی ادا کرے تو کیا قرض دینے والا شرعاًاس کا ذمہ دار ہے؟
    ج: جو مقروض اپنا قرض اداکرنے میں کوتاہی کرتاہے اگر اجراء حکم کے سلسلے میں اس پر حکومت کو ٹیکس ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے تو اس میں قرض دینے والے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
     
    س ١٧60: میرے بھائی کے ذمہ میرا کچھ قرضہ ہے جب میں نے گھر خریدا تو اس نے مجھے ایک قالین دیا جس کے بارے میں میں نے یہ تصور کیا کہ یہ ہدیہ ہے لیکن بعد میں جب میں نے اس سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا وہ قالین میں نے قرض کی جگہ دیاہے اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس نے اس سلسلے میں مجھ سے کوئی بات چیت نہیں کی تھی کیا اسکے لیئے صحیح ہے کہ وہ اس قالین کو قرض ادا کرنے کے عنوان سے حساب کرلے؟ اور اگر میں قرض کی ادائیگی کے عنوان سے اسے قبول نہ کروں تو کیا وہ قالین میں اسے واپس کردوں؟ اور پیسے کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے کیا میں اصل قرض کے علاوہ اضافی رقم کا مطالبہ کر سکتا ہوں کیونکہ اس زمانے میں اس پیسے کی قیمت اب سے کہیں زیادہ تھی؟
    ج: قالین یا اسکے علاوہ ایسی چیزوں کا قرض کے عوض میں دینا جوجنس قرض سے نہیں ہیں قرض خواہ کی موافقت کے بغیر کافی نہیں ہے اور اگر آپ اس قالین کو قرض کی ادائیگی کے طور پر قبول نہیں کرتے تو اسے واپس کر دیجئے کیونکہ اس صورت میں وہ قالین ابھی اسی کی ملکیت ہے اور پیسے کی قیمت مختلف ہو جانے کی صورت میں احتیاط یہ ہے کہ آ پس میں صلح کرلیں۔
     
    س ١٧61: حرام مال کے ذریعہ قرض ادا کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
    ج: دوسرے کے مال سے قرض ادا کرنے سے قرض ادا نہیں ہوتا اور نہ ہی مقروض اس سے بری الذمہ ہوسکتاہے۔
     
    س ١٧62: ایک عورت مکان خریدنا چاہتی تھی اور اس مکان کی قیمت کاتیسرا حصہ اس نے قرض لیا اور اس نے قرض دینے والے سے یہ طے کیا کہ مالی حالت بہتر ہونے کے بعد وہ مال اسے لوٹا دے گی اور اسی وقت اس کے بیٹے نے قرض کی رقم کے مساوی ایک چیک ضمانت کے طور پر اسے دے دیا اب جبکہ طرفین کو فوت ہوئے چار سال گذر چکے ہیں اور انکے ورثاء اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں تو کیا اس عورت کے ورثاء گھرکا تیسرا حصہ جو قرض کی رقم سے خریدا گیا ہے اس شخص کے ورثاء کو دیں یا اسی چیک کی رقم کو ادا کردیناکافی ہے؟
    ج: قرض خواہ کے ورثاء گھر سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتے وہ صرف اس رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں جو اس عورت نے قرض دینے والے سے مکان خریدنے کیلئے بطور قرض لی تھی اور اس میں یہ شرط ہے کہ جو مال اس نے میراث کے طور پر چھوڑا ہے وہ اسکا قرض ادا کرنے کیلئے کافی ہو اور احتیاط یہ ہے کہ رقم کی قیمت کے تفاوت کی صورت میں باہمی طور پر مصالحت کریں۔
     
    س ١٧63: ہم نے ایک شخص سے کچھ رقم ادھارلی کچھ عرصہ کے بعد وہ شخص غائب ہوگیا اور اب وہ نہیں مل رہا اسکے قرض کے متعلق ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟
    ج: آپ پر واجب ہے کہ اس کا انتظار کریں اور اپنا قرض ادا کرنے کیلئے اسے تلاش کریں تا کہ وہ رقم اسے یا اس کے ورثاء کو واپس کر سکیں۔ اور اگر اس کے ملنے کی امید نہ ہو تو آپ اس سلسلے میں حاکم شرعی کی طرف رجوع کریں یا مالک کی طرف سے صدقہ دے دیں۔
     
    س ١٧64: قرض خواہ عدالت میں اپنا قرض ثابت کرنے کیلئے جو اخراجات برداشت کرتاہے کیا مقروض سے ان کا مطالبہ کر سکتا ہے؟
    ج: شرعی طور پر مقروض وہ اخراجات ادا کرنے کا ذمہ دار نہیں ہے جو قرض خواہ نے عدالت میں کئے ہیں ۔ بہرحال ایسے امور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین کی پابندی ضروری ہے۔
     
    س١٧65:اگر مقروض اپنا قرض ادا نہ کرے یا اسکے ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو کیا قرض خواہ اسکا مال بطور تقاص لے سکتا ہے مثلا اپنا حق مخفی طور پر یا کسی دوسرے طریقے سے اس کے مال سے وصول کرلے؟
    ج: اگرمقروض اپنا قرض ادا کرنے سے انکار کرے یا بغیر کسی عذر کے ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو قرض خواہ اسکے مال سے تقاص لے سکتا ہے لیکن اگر وہ شخص خود کو مقروض نہیں سمجھتا یا وہ نہیں جانتا کہ واقعا قرض خواہ کا کوئی حق اس کے ذمے ہے یا نہیں تو اس صورت میں قرض خواہ کا اس سے تقاص لینا محل اشکال ہے بلکہ جائز نہیں ہے۔
     
    س ١٧66: کیا میت کا قرض حق الناس میں سے ہے کہ اسکے ورثاء پر اسکی میراث سے اسکا ادا کرنا واجب ہو؟
    ج: کلی طور پر قرض چاہے کسی شخص کا ہو یا کسی ادارے و غیرہ سے لیا گیا ہو حق الناس میں سے ہے اور مقروض کے ورثاء پر واجب ہے کہ میت کی میراث سے اس کا قرض خود قرض خواہ یا اسکے ورثاء کو ادا کریں اور جب تک اسکا قرض ادا نہ کردیں انہیں اسکے ترکہ میں تصرف کا حق نہیں ہے۔
     
    س ١٧67: ایک شخص کی زمین ہے لیکن اس میں موجود عمارت کسی دوسرے شخص کی ہے زمین کا مالک دو افراد کا مقروض ہے کیا قرض دینے والوں کیلئے جائز ہے کہ وہ اس زمین اور اس میں موجود عمارت کو اپنا قرض وصول کرنے کیلئے قرقی کردیں یا انہیں صرف زمین کے متعلق ایسا کرنے کا حق ہے؟
    ج: انہیں اس چیز کے قرقی کرنے کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں ہے جو مقروض کی ملکیت نہیں ہے۔
     
    س ١٧68:کیا وہ مکان کہ جس کی مقروض اور اسکے اہل و عیال کو رہائش کیلئے ضرورت ہے وہ مقروض کے اموال کی قرقی سے مستثنی ہے؟
    ج: مقروض اپنی زندگی کو جاری رکھنے کیلئے جن چیزوں کی طرف محتاج ہے جیسے گھر اور اسکا سامان،گاڑی ،ٹیلیفون اور تمام وہ چیزیں جو اسکی زندگی کا جزء اور اسکی شان کے مناسب شمار ہوتی ہیں وہ بیچنے کے ضروری ہونے کے حکم سے مستثنا ہیں۔
     
    س ١٧69: اگر ایک تاجر اپنے قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ ہوجائے اور ایک عمارت کے علاوہ اسکے پاس کوئی اور چیز نہ ہو اور اسے بھی اس نے بیچنے کیلئے پیش کردیا ہو لیکن اسکے بیچنے سے صرف آدھا قرض ادا ہوسکتاہو اور وہ اپنا باقی قرض ادا نہ کرسکتاہو توکیا قرض خواہوں کیلئے جائز ہے کہ اسے عمارت بیچنے پر مجبور کریں یا یہ کہ وہ اسے مہلت دیں تا کہ وہ اپنا قرض بتدریج ادا کرے؟
    ج: اگر وہ عمارت اسکا اور اسکے اہل و عیال کا رہائشی گھر نہیں ہے تو قرض ادا کرنے کیلئے اسے اس کے بیچنے پر مجبور کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اگر چہ وہ تمام قرض ادا کرنے کیلئے کافی نہ ہو اور واجب نہیں ہے کہ قرض خواہ اسے اس کیلئے مہلت دیں ، بلکہ باقی قرض کیلئے صبر کریں تاکہ وہ اسکے ادا کرنے کی قدرت حاصل کرلے۔
     
    س١٧70:کیا اس رقم کا ادا کرنا واجب ہے جو ایک سرکاری ادارہ دوسرے سرکاری ادارے سے بطور قرض لیتا ہے ؟
    ج : اس قرض کے ادا کرنے کا وجوب بھی دیگر قرضوں کی طرح ہے ۔
     
    س ١٧71: اگر کوئی شخص مقروض کی درخواست کے بغیر اس کا قرض ادا کردے توکیا مقروض پر واجب ہے کہ وہ قرض ادا کرنے والے کو اسکا عوض دے؟
    ج: جو شخص مقروض کی درخواست کے بغیر اسکا قرض ادا کردے اسے اس کاعوض طلب کرنے کا حق نہیں ہے اور مقروض پر واجب نہیں ہے کہ وہ اسکی ادا کردہ رقم اسے دے۔
     
    س ١٧72: اگر مقروض قرض کو مقررہ وقت پر ادا کرنے میں تاخیر کرے تو کیا قرض خواہ قرض کی مقدار سے زیادہ رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے ؟
    ج: قرض خواہ شرعی طور پر قرض کی رقم سے زیادہ کا مطالبہ نہیں کرسکتا ۔
     
    س ١٧73: میرے والد صاحب نے ایک بناوٹی معاملہ کی شکل میں کہ جو در حقیقت قرض تھاایک شخص کو کچھ رقم دی اور مقروض بھی ہر ماہ کچھ رقم اسکے نفع کے طور پر ادا کرتارہا اورقرض خواہ (میرے والد) کی وفات کے بعد بھی مقروض نفع کی رقم ادا کرتارہا یہاں تک کہ اسکا بھی انتقال ہوگیا کیا وہ رقم جو نفع کے عنوان سے ادا کی گئی ہے سود شمار ہوگی اورقرض خواہ کے ورثاء پر واجب ہے کہ وہ رقم مقروض کے ورثاء کو واپس کریں؟
    ج: اس چیز کے پیش نظر کہ وہ رقم اس کو قرض کے عنوان سے دی گئی تھی لہٰذا جو پیسہ اصل رقم کے نفع کے طور پر ادا کیا گیا ہے وہ سود شمار ہوگا اور شرعی طور پر حرام ہے لہذا وہی رقم یا اس کا بدل قرض خواہ کی میراث میں سے خود مقروض یا اسکے ورثاء کو ادا کرنا ضروری ہے۔
     
    س ١٧74: کیا جائز ہے کہ کوئی شخص اپنا مال دوسرے کے پاس بطور امانت رکھے اور ہر ماہ اس سے نفع دریافت کرے؟
    ج: اگر فائدہ اٹھانے کی غرض سے مال کسی دوسرے کو سپرد کرنا کسی صحیح عقد کے ذ ریعہ انجام پائے تو کوئی اشکال نہیں ہے اور اس سے حاصل ہونے والے نفع میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے ۔ لیکن اگر قرض کے عنوان سے ہو تو اگر چہ اصل قرض صحیح ہے لیکن اس میں نفع کی شرط لگانا شرعی طور پر باطل ہے اور اس سے لیا جانے والا نفع ، سود اور حرام ہے۔
     
    س ١٧75: ایک شخص نے ایک اقتصادی منصوبے کیلئے کچھ رقم قرض پرلی اگر وہ منصوبہ اسکے لیئے نفع بخش ہوتو کیا اسکے لیئے جائز ہے کہ اس منافع سے کچھ رقم اس قرض خواہ کو دے دے ؟ اور کیا جائز ہے کہ قرض خواہ اسکا مطالبہ کرے ؟
    ج: قرض خواہ کا اس منافع میں کوئی حق نہیں ہے جو مقروض نے قرض والے مال کے ساتھ تجارت کے ذریعہ حاصل کیا ہے اور نہ وہ اسکا مطالبہ کرسکتا ہے لیکن اگر مقروض پہلے سے طے کئے بغیر اپنی مرضی سے اصل قرض کے علاوہ کچھ اضافی رقم قرض خواہ کو دے کر اسکے ساتھ نیکی کرنا چاہے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے بلکہ یہ مستحب ہے ۔
     
    س ١٧76: ایک شخص نے تین مہینے کیلئے کچھ سامان ادھار پر لیا ہے اور مقررہ وقت پہنچنے پر اس نے بیچنے والے سے درخواست کی کہ وہ اسے تین مہینے کی مزید مہلت اس شرط پر دے دے کہ وہ سامان کی قیمت سے زائد رقم اسے ادا کریگا کیا ان دونوں کیلئے یہ جائز ہے ؟
    ج: یہ زائدرقم سود اور حرام ہے ۔
     
    س ١٧77: اگر زید نے خالد سے سود پر قرض لیا ہو اور ایک تیسرا شخص قرض کی دستاویز اور اسکی شرائط کو انکے لیئے تحریر کرے اور چوتھا شخص جو دفتر میں منشی اور اکاؤنٹنٹ ہے اور جسکا کام معاملات کا اندراج کرنا ہے وہ انکے اس معاملہ کو حساب کے رجسٹرمیں اندراج کرے تو کیا اکاؤنٹنٹ بھی انکے اس سودی معاملے میں شریک ہے اور اس سلسلے میں اسکا کام اور اجرت لینا بھی حرام ہے ؟ پانچواں شخص بھی ہے جسکی ذمہ داری آڈٹ کرنا ہے وہ رجسٹر میں کچھ لکھے بغیر صرف اسکی چھان بین کرتا ہے کہ کیا سودی معاملات کے حساب میں کسی قسم کی غلطی تو نہیں ہوئی اور پھر وہ اکاؤنٹنٹ کو اسکے نتیجے کی اطلاع دیتا ہے کیا اسکا کام بھی حرام ہے ؟
    ج: ہر کام جو سودی قرض کے معاملے یا اسکی انجام دہی یا تکمیل یامقروض سے سود کی وصولی میں دخالت رکھتاہو شرعاً حرام ہے اور اس کا انجام دینے والا اجرت کا حقدار نہیں ہے ۔
     
    س ١٧78 : بعض مسلمان سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے کفار سے سرمایہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس پر انہیں سود دینا پڑتا ہے کیا کفار یا غیر اسلامی حکومتوں کے بینکوں سے سودی قرض لینا جائز ہے؟
    ج: سودی قرض حکم تکلیفی کے اعتبار سے بطور مطلق حرام ہے اگرچہ غیر مسلم سے لیا جائے لیکن اگر کوئی شخص ایسا قرض لے لے تو اصل قرض صحیح ہے ۔
     
    س١٧٧9: ایک شخص نے کچھ رقم تھوڑے عرصہ کیلئے اس شرط پر بطور قرض لی کہ وہ قرض خواہ کے حج و غیرہ جیسے سفر کے اخراجات بھی ادا کریگا کیا ان کے لیئے یہ کام جائز ہے ؟
    ج: عقد قرض کے ضمن میں قرض خواہ کے سفرکے اخراجات کی ادائیگی یا اس جیسی کوئی اور شرط لگانا درحقیقت وہی قرض پر منافع وصول کرنے کی شرط ہے جو شرعی طور پر حرام اور باطل ہے لیکن اصل قرض صحیح ہے ۔
     
    س ١٧80: قرض الحسنہ دینے والے ادارے قرض دیتے وقت شرط لگاتے ہیں کہ اگر مقروض نے دو یا زیادہ اقساط مقررہ وقت پر ادا نہ کیں تو ادارے کو حق ہوگا کہ اس شخص سے پورا قرض ایک ہی مرتبہ وصول کرے کیا اس شرط پر قرض دینا جائز ہے ؟
    ج: کوئی اشکال نہیں ہے ۔
     
    س ١٧81: ایک کو آپریٹوکمپنی کے ممبران کمپنی کو کچھ رقم سرمایہ کے عنوان سے دیتے ہیں اور وہ کمپنی اپنے ممبران کو قرض دیتی ہے اور ان سے کسی قسم کا منافع یا اجرت وصول نہیں کرتی بلکہ اسکا مقصد مدد فراہم کرنا ہے اس کام کے بارے میں کیا حکم ہے جسے ممبران نیک ارادے اور صلہ رحمی کی غرض سے انجام دیتے ہیں ؟
    ج: مومنین کو قرض فراہم کرنے کیلئے با ہمی تعاون اور ایک دوسرے کو مدد بہم پہنچانے کے جواز بلکہ رجحان میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے اگر چہ یہ اسی صورت میں انجام پائے جسکی سوال میں وضاحت کی گئی ہے لیکن اگر کمپنی میں رقم جمع کرانا قرض کے عنوان سے ہو کہ جس میں شرط لگائی گئی ہو کہ رقم جمع کرانے والے کو آئندہ قرض دیا جائے گا تو یہ کام شرعاً جائز نہیں ہے اگرچہ اصل قرض حکمِ وضعی کے لحاظ سے صحیح ہے ۔
     
    س ١٧82: قرض دینے والے بعض ادارے ان پیسوں سے جائدادیں اور دوسری چیزیں خریدتے ہیں جو لوگوں نے ان کے پاس امانت کے طور پر جمع کئے ہوتے ہیں۔ ان معاملات کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ جبکہ پیسہ جمع کرانے والے بعض لوگ ان کاموں کے ساتھ موافق نہیں ہیں ، کیا ادارے کے ذمہ دار کو یہ حق ہے کہ وہ ان اموال میں تصرف کرے مثلاً ان کے ساتھ خرید وفروخت کا کام انجام دے؟ کیا یہ کام شرعی طور پر جائز ہے ؟
    ج: اگر لوگوں کی جمع کرائی ہوئی رقوم بطور امانت ادارے کے پاس اسلئے ہیں کہ ادارہ جسے چاہے گا قرض دے دیگا تو اس صورت میں جائداد یا دوسری چیزیں خریدنے میں ان کا استعمال کرنا فضولی اور ان کے مالکوں کی اجازت پرمنحصر ہے لیکن اگر جمع کرائی ہوئی رقم اس ادارے کو قرض الحسنہ کے عنوان سے دی گئی ہو چنانچہ اسکے ذمہ دار افراد ان اختیارات کی بنیاد پر جو انہیں دئیے گئے ہیں جائداد اور دوسری چیزیں خریدنے کا اقدام کریں تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
     
    س١٧83:بعض لوگ دوسروں سے کچھ مقدار پیسے لیتے ہیں اور اس کے عوض ہر مہینے ان کو منافع ادا کرتے ہیں اوریہ کام کسی شرعی عقد کے تحت انجام نہیں دیتے بلکہ یہ کام صرف دوطرفہ توافق کی بنیاد پر انجام پاتا ہے ، اس کام کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
    ج: اس قسم کے معاملات سودی قرض شمار ہوتے ہیں اورقرض میں نفع کی شرط لگانا باطل ہے اوریہ اضافی رقم سود اور شرعاً حرام ہے اور اسکا لینا جائز نہیں ہے ۔
     
    س ١٧84: جس شخص نے قرض الحسنہ دینے والے ادارے سے قرض لیا ہے اگر وہ قرض ادا کرتے وقت اپنی طرف سے بغیر کسی سابقہ شرط کے اصل قرض سے کچھ زیادہ رقم ادا کرتا ہے توکیا اس اضافی رقم کا لینا اور اسے تعمیراتی کاموں میں خرچ کرنا جائز ہے ؟
    ج : اگر قرضہ لینے والا وہ اضافی رقم اپنی مرضی سے اوراس عنوان سے دے کہ قرضہ ادا کرتے وقت یہ کام مستحب ہے تو اسکے لینے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔ لیکن ادارے کے ذمہ دار افراد کا اسے تعمیراتی یا دوسرے کاموں میں خرچ کرنا اس سلسلے میں انکے اختیارات کی حدودکے تابع ہے ۔
     
    س ١٧85: قرض الحسنہ دینے والے ایک ادارے کے ملازمین نے اس رقم سے جو ایک شخص سے قرض لی گئی تھی ایک عمارت خرید لی اور ایک مہینے کے بعد اس شخص کی رقم لوگوں کی جمع کرائی گئی رقم سے انکی مرضی کے بغیر واپس کردی ، کیا یہ معاملہ شرعی ہے ؟ اور اس عمارت کا مالک کون ہے؟
    ج: ادارے کیلئے اس رقم سے عمارت خرید نا جو اسے قرض دی گئی ہے اگرادارے کے ملازمین کی صلاحیت اور اختیارات کے مطابق انجام پائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے اور خریدی گئی عمارت ادارہ اور ان لوگوں کی ملکیت ہے جن کا اس ادارے میں پیسہ ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہ معاملہ فضولی اور اس رقم کے مالکان کی اجازت پر موقوف ہے ۔
     
    س ١٧86: بینک سے قرض لیتے وقت اسے اجرت ادا کرنے کا کیا حکم ہے ؟
    ج: اگر مذکورہ اجرت قرض کے امور انجام دینے کے سلسلے میں ہو جیسے رجسٹر میں درج کرنا ، دستاویز تیار کرنا یا ادارے کے دیگر اخراجات جیسے پانی بجلی وغیرہ اوراسکی بازگشت قرض کے نفع کی طرف نہ ہو تو اسکے لینے اور دینے اور اسی طرح قرض لینے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
     
    س ١٧87: ایک رفاہی ادارہ اپنے ممبران کوقرض دیتا ہے لیکن قرض دینے کیلئے شرط لگا تا ہے کہ قرض لینے والا تین یا چھ مہینے تک کیلئے اس میں رقم جمع کرائے اور یہ مدت گزرنے کے بعد اس نے جتنی رقم جمع کرائی ہے اس کے دو برابر اسے قرض ملے گااور جب قرض کی تمام قسطیں ادا ہوجاتی ہیں تو وہ رقم جو قرض لینے والے نے ابتدا میں جمع کرائی تھی اسے لوٹا دی جاتی ہے اس کام کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
    ج: اگرادارہ میں رقم جمع کرانا اس عنوان سے ہو کہ وہ رقم ایک مدت تک ادارہ کے پاس قرض کے عنوان سے اس شرط کے ساتھ رہے گی کہ ادارہ اس مدت کے ختم ہونے پر اسے قرض دیگا یا ادارے کا قرض دینا اس شرط کے ساتھ ہو کہ وہ شخص پہلے کچھ رقم ادارے میں جمع کرائے تویہ شرط سود کے حکم میں ہے جو حرام اور باطل ہے البتہ اصل قرضہ دونوں طرف کیلئے صحیح ہے۔
     
    س ١٧88: قرض الحسنہ دینے الے ادارے قرض دینے کیلئے بعض امور کی شرط لگاتے ہیں ان میں سے ایک شرط یہ ہوتی ہے کہ قرض لینے والا اس ادارے کا ممبر ہو اور اسکی کچھ رقم ادارے میں موجود ہو یا یہ کہ قرض لینے والا اسی محلے کا رہنے والا ہوکہ جس میں یہ ادارہ قائم ہے اور بعض دیگر شرائط کیا یہ شرائط سود کے حکم میں ہیں؟
    ج: ممبر ہونے یا محلہ میں سکونت یا اس طرح کی دیگر شرطیں اگر محدود پیمانے پر افراد کو قرض دینے کیلئے ہوں تو کوئی اشکال نہیں ہے اور ادارے میں اکاؤنٹ کھلانے کی شرط کا مقصد بھی اگر یہ ہو کہ قرض صرف انہیں افراد کو دیا جائے تو اس میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر اسکا مقصد یہ ہو کہ مستقبل میں قرض لینا اس کے ساتھ مشروط ہو کہ قرض لینے والا کچھ رقم بینک میں جمع کرائے تو یہ شرط قرض میں منفعتِ حکمی ہے کہ جو باطل ہے ۔
     
    س ١٧٨9: کیا بینک کے معاملات میں سود سے بچنے کیلئے کوئی راستہ ہے ؟
    ج: اس کا راہ حل یہ ہے کہ اس سلسلے میں شرعی عقود سے انکی شرائط کی مکمل مراعات کے ساتھ استفادہ کیا جائے ۔
     
    س ١٧90: وہ قرض جو بینک کسی خاص کام پر خرچ کرنے کیلئے مختلف افراد کو دیتاہے کیا اسے کسی اور کام میں خرچ کرنا جائز ہے؟
    ج: بینک افراد کو جو پیسہ دیتا ہے اگر وہ واقعاً قرض ہو اور بینک شرط کرے کہ اسے حتمی طور پر خاص مورد میں استعمال کیا جائے تو اس شرط کی مخالفت جائز نہیں ہے اور اسی طرح وہ رقم جو بینک سے شراکت یا مضاربہ و غیرہ کے سرمایہ کے طور پر لیتا ہے اسے بھی اس کے علاوہ کسی اور کام میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے ۔
     
    س ١٧91: اگر دفاع مقدس کے مجروحین میں سے کوئی شخص قرضہ لینے کیلئے بینک سے رجوع کرے ، اور اپنے بارے میں مجاہد فاؤنڈیشن کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ بھی بینک کو پیش کردے تا کہ اسطرح وہ اس کے ذریعے مسلط کردہ جنگ کے مجروحین کیلئے مخصوص ان سہولیات اور قرضوں سے استفادہ کر سکے جو مجروحین کے کام سے معذور ہونے کے مختلف درجوں کے مطابق انہیں دیئے جاتے ہیں اور وہ خود جانتا ہے کہ اس کا درجہ اس سے کم تر ہے جو اس سرٹیفکیٹ میں لکھا ہوا ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ اس کے بارے میں ڈاکٹروں اور ماہرین کی تشخیص درست نہیں ہے کیا وہ ان کے دیئے ہوئے سرٹیفکیٹ کے ذریعہ بینک کی خصوصی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ؟
    ج: اگر اس کے درجے کا تعین ان ماہر ڈاکٹروں کے ذریعہ ہوا ہو جو ڈاکٹری معائنات اپنی تشخیص و رائے کی بنیاد پر انجام دیتے ہیں اور سہولیات دینے کیلئے قانونی لحاظ سے بینک کے نزدیک انکی رائے معیار ہے تو اس مجاہد کیلئے اس درجے کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں کہ جس کا سرٹیفکیٹ اسے ان ڈاکٹروں نے دیا ہے کوئی اشکال نہیں ہے اگر چہ خود اسکی نظر میں اس کا درجہ کمتر ہو ۔
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /