ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طهارت کے احکام
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • خمس کے احکام
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
    پرنٹ  ;  PDF
     
    حقِ شفعہ
     
    س1633: اگر ایک چیز دو اشخاص کے نام پر وقف ہو جبکہ ان میں سے ایک شخص اپنے حصے کو بیچنے کا حق بھی رکھتا ہو اور کسی تیسرے شخص کو اپنا حصہ بیچنا چاہے تو کیا پہلا شخص شفعہ کا حق رکھتا ہے؟ اسی طرح اگر دو اشخاص مل کر کسی جائیداد یا وقف شدہ جگہ کو کرائے پر لیں پھر ان میں سے ایک شخص صلح یا کرائے کے ذریعے اپنا حق کسی تیسرے شخص کو دے دے تو کیا کرائے پر لی گئی جائیداد پر شفعہ کا حق بنتا ہے؟
    ج: حق شفعہ وہاں ہوتا ہے جہاں عین(خارجی اشیاء) کی ملکیت میں شراکت ہو اور دو میں سے ایک شریک اپنا حصہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کر دے۔ لہذا اگر دو اشخاص کے لئے کوئی شئے وقف ہو اور ایک شخص اپنا حصہ تیسرے شخص کو فروخت کر دے جبکہ اس کا فروخت کرنا جائز بھی ہو تو اس صورت میں حق شفعہ نہیں ہے اوراسی طرح کرایہ پر لی ہوئی شئے میں اگر ایک شخص اپنا حق کسی تیسرے شخص کو منتقل کر دے تو بھی شفعہ کا حق نہیں ہے۔
     
    س1634: شفعہ کے باب میں فقہی متون کی عبارتوں اور شہری قوانین سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دو میں سے ایک شریک اپنا حصہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کر دے تو دوسرے شریک کو شفعہ کا حق ہے بنابرایں اگر ایک شریک کسی خریدار کو اس بات پر ابھارے کہ وہ دوسرے شریک کا حصہ خرید لے یا واضح طور پر کہے کہ اگر وہ خریدار اسکے شریک کا حصہ خریدے تو وہ اپنا حق شفعہ استعمال نہیں کر ے گا تو کیا یہ عمل حق شفعہ کا ساقط ہونا شمار ہوگا؟
    ج: محض ایک شریک کا کسی تیسرے شخص کو اپنے شریک کا حصہ خریدنے پر ابھارنا اس کیلئے حق شفعہ کے ثابت ہونے سے ٹکراؤ نہیں رکھتا۔بلکہ اگروہ وعدہ کرے کہ اسکے شریک اور اس شخص کے درمیان معاملہ ہوجانے کی صورت میں وہ حق شفعہ استعمال نہیں کریگا تو اس سے بھی معاملہ انجام پانے کے بعد حق شفعہ ساقط نہیں ہوگا۔
     
    س1635:کیا شریک کے اپنا حصہ فروخت کرنے سے پہلے حق شفعہ کو ساقط کرنا صحیح ہے کیونکہ یہ ایسی چیز کا اسقاط ہے جو ابھی واقع نہیں ہوئی (اسقاط ما لم یجب)ہے۔
    ج: جب تک حق شفعہ واقع نہ ہوجائے اور دو میں سے ایک شریک کے اپنا حصہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کرنے کے ساتھ یہ مرحلہ عملی نہ ہو جائے اسے ساقط کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہاں اگر ایک شریک عقد لازم کے تحت اپنے آپ کو اس بات کا پابند بنائے کہ اگر اسکے شریک نے اپنا حصہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کیا تو وہ شفعہ نہیں کریگا تو اشکال نہیں ہے۔
     
    س1636: ایک شخص نے ایک ایسے دو منزلہ گھر کی ایک منزل کرایہ پرلی کہ جس کے مالک دو بھائی ہیں اور وہ کرایہ دار کے مقروض ہیں اور دو سال سے مسلسل اصرار کے باوجود اس کا قرض ادا نہیں کر رہے اس طرح کہ کرایہ دار کے لئے حق تقاص(ادھار کے بدلے کوئی چیز قبضے میں لینا) ثابت ہوجاتا ہے۔ گھر کی قیمت قرض کی رقم سے زیادہ ہے۔ اب اگر وہ اپنے قرض کی مقدار کے برابر اس گھرکا کچھ حصہ اپنی ملکیت میں لے لے اور ان کے ساتھ گھر میں شریک ہوجائے تو کیا باقی ماندہ مقدار کی نسبت اسے حق شفعہ حاصل ہوگا ؟
    ج: سوال کی مفروضہ صورت میں حق شفعہ کا موضوع نہیں ہے اس لئے کہ حق شفعہ اس جگہ ہوتا ہے جہاں کسی شریک نے اپنا حصہ ایک تیسرے شخص کو فروخت کیا ہو اورخرید و فروخت سے پہلے شراکت ہو، تاہم اس شخص کو حق شفعہ حاصل نہیں جو دو میں سے ایک کا حصہ خرید کر یا تقاص کی وجہ سے اس کا مالک بن کر دوسرے کے ساتھ شریک ہو جائے۔ علاوہ از ایں اگر ایک شریک اپنا حصہ بیچ دے تو اس صورت میں حق شفعہ ثابت ہوتا ہے کہ جب اس ملک میں زیادہ افراد شریک نہ ہوں بلکہ صرف دو شخص شریک ہوں۔
     
    س1637: ایک جائیدا د دو افراد کے درمیان مشترکہ ہے اور ہر ایک آدھے حصے کا مالک ہے اور اسکی رجسٹری بھی دونوں کے نام ہے۔ تقسیم کے ایک ،سادہ اشٹام کی بنیاد پر کہ جو انکے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے مذکورہ جائیداد معین حدود کے ساتھ ان کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ اگر ایک شریک تقسیم کے بعد اپنا حصہ تیسرے شحص کو فروخت کر دے تو کیادوسرے شریک کوصرف اس بنیاد پر کہ اس جائیداد کی رجسٹری ان کے درمیان مشترکہ ہے حق شفعہ حاصل ہے؟
    ج: فروخت شدہ حصہ اگر معاملے کے وقت دوسرے شریک کے حصے سے علیحدہ اور معین حدود کے ساتھ جدا کردیا گیا ہو تو صرف دو زمینوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا یا سابقہ شراکت یا رجسٹری کا مشترکہ ہونا حق شفعہ کے ثبوت کا باعث نہیں ہوگا۔
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ کے احکام
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /