ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

استفتاآت کے جوابات

  • تقلید
  • طہا رت
  • احکام نماز
  • احکام روزہ
  • کتاب خمس
  • جہاد
  • امر بالمعروف و نہی عن المنکر
  • حرام معاملات
  • شطرنج اور آلات قمار
  • موسیقی اور غنا
  • رقص
  • تالی بجانا
  • نامحرم کی تصویر اور فلم
  • ڈش ا نٹینا
  • تھیٹر اور سینما
  • مصوری اور مجسمہ سازی
  • جادو، شعبدہ بازی اور روح و جن کا حاضر کرنا
  • قسمت آزمائی
  • رشوت
  • طبی مسائل
  • تعلیم و تعلم اور ان کے آداب
  • حقِ طباعت ، تالیف اور ہنر
  • غیر مسلموں کے ساتھ تجارت
  • ظالم حکومت میں کام کرنا
  • لباس کے احکام
  • مغربی ثقافت کی پیروی
  • جاسوسی، چغلخوری اور اسرار کا فاش کرنا
  • سگریٹ نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال
  • داڑھی مونڈنا
  • محفل گناہ میں شرکت کرنا
  • دعا لکھنا اور استخارہ
  • دینی رسومات کا احیاء
  • ذخیرہ اندوزی اور اسراف
  • تجارت و معاملات
  • سود کے احکام
  • حقِ شفعہ
  • اجارہ
  • ضمانت
  • رہن
  • شراکت
  • دین و قرض
  • صلح
  • وکالت
  • صدقہ
  • عاریہ اور ودیعہ
  • وصیّت
    پرنٹ  ;  PDF
     
    وصیّت
     
    س ١٨2٩: بعض شہداء نے یہ وصیت کی ہے کہ انکے ترکہ میں سے ایک تہائی دفاع مقدس کے محاذوں کی تقویت کیلئے خرچ کیا جائے اب جب ان وصیتوں کا موضوع ہی ختم ہوچکا ہے انکے بارے میں کیا حکم ہے ؟
    ج : اگر وصیت کے عمل کا مورد ختم ہوجائے تو وہ مال انکے ورثاء کی میراث قرار پائے گا اور احوط یہ ہے کہ ورثاء کی اجازت سے اسے کارخیر میں خرچ کیا جائے ۔
     
    س ١٨3٠: میرے بھائی نے وصیت کی کہ اسکے مال کا ایک تہائی حصہ ایک خاص شہر کے جنگی مہاجرین کیلئے خرچ کیا جائے لیکن اس وقت مذکورہ شہر میں کوئی بھی جنگی مہاجر موجود نہیں ہے اسکے بارے میں کیا حکم ہے ؟
    ج : اگر ثابت ہوجائے کہ جنگی مہاجرین سے موصی(وصیت کرنے والا) کی مرادوہ لوگ ہیں جو اس وقت اس شہر میں زندگی بسرکررہے ہیں تو اس صورت میں چونکہ اس وقت اس شہر میں کوئی مہاجر نہیں ہے اسکا مال ورثاء کو ملے گا ۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو ضروری ہے کہ وہ رقم ان جنگی مہاجرین کو دی جائے جو اس شہر میں زندگی بسر کرتے تھے اگر چہ اس وقت وہ وہاں سے جاچکے ہوں ۔
     
    س ١٨3١: کیا کسی شخص کیلئے یہ وصیت کرنا جائز ہے کہ اسکے مرنے کے بعد اس کا آدھا مال اس کے ایصال ثواب کی مجلس میں خرچ کیا جائے یا یہ کہ اس مقدار کا معین کرنا جائز نہیں ہے ، کیونکہ اسلام نے ان موارد کیلئے خاص حدود کو معین کردیا ہے ؟
    ج: وصیت کرنے والے کا اپنے اموال اپنے لئے ایصال ثواب کے کاموں میں خرچ کرنے کی وصیت کرنا کوئی اشکال نہیں رکھتا اور شرعی طور پر اسکے لیئے کوئی خاص حد معین نہیں ہے لیکن میت کی وصیت صرف اسکے ترکہ کے ایک تہائی حصے میں نافذ ہے اور اس سے زیادہ میں تصرف کرنا ورثاء کی اجازت پرموقوف ہے۔
     
    س ١٨3٢: کیا وصیت کرنا واجب ہے یعنی اگر انسان اسے ترک کرے تو گنا ہ کا مرتکب ہوگا ؟
    ج : اگر اسکے پاس دوسروں کی امانتیں ہوں اور اسکے ذمے حقوق العباداورحقوق اللہ ہوں اور اپنی زندگی کے دوران انہیں ادا کرنے کی توانائی نہ رکھتا ہو تو انکے متعلق وصیت کرنا واجب ہے ورنہ واجب نہیں ہے ۔
     
    س ١٨3٣: ایک شخص نے اپنے اموال میں سے ایک تہائی سے کم حصہ اپنی بیوی کو دینے کیلئے وصیت کی اور اپنے بڑے بیٹے کو اپنا وصی قرار دیا لیکن دیگر ورثا اس وصیت پر معترض ہیں اس صورت میں وصی کی کیا ذمہ داری ہے ؟
    ج : اگر وصیت اموال کے ایک تہائی یا اس سے کمتر حصے میں ہوتو ورثاء کا اعتراض صحیح نہیں ہے بلکہ ان پر واجب ہے کہ وہ وصیت کے مطابق عمل کریں ۔
     
    س ١٨3٤: اگر ورثاء ، وصیت کا بالکل انکار کردیں تو اس صورت میں ذمہ داری کیا ہے ؟
    ج : وصیت کے مدعی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسے شرعی طریقے سے ثابت کرے اور ثابت کردینے کی صورت میں اگر وصیت ترکہ کے ایک تہائی یا اس سے کمتر حصے میں ہو تو اسکے مطابق عمل کرنا واجب ہے اور ورثاء کا انکار اور اعتراض کوئی اثر نہیں رکھتا۔
     
    س ١٨3٥: ایک شخص نے اپنے قابل اطمینان افراد کہ جن میں سے ایک خود اس کا بیٹا ہے کے سامنے وصیت کی کہ اسکے ذمہ جو شرعی حقوق ہیں جیسے خمس، زکوٰة ، کفارات اور اسی طرح اسکے ذمے جو بدنی واجبات ہیں جیسے نماز ، روزہ ، حج وغیرہ انہیں ادا کرنے کیلئے اسکی بعض املاک اسکے ترکہ سے نکال لی جائیں لیکن اسکے بعض ورثاء اسے قبول نہیں کرتے بلکہ وہ بغیر کسی استثناء کے تمام املاک ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کے خواہاں ہیں اس سلسلے میں کیا حکم ہے ؟
    ج :اگر دلیل شرعی یا ورثاء کے اقرار کے ذریعہ وصیت ثابت ہوجائے تو وہ ملک جسکی وصیت کی گئی ہے اگر پورے ترکہ کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو تو انہیں اسکی تقسیم کے مطالبہ کا حق نہیں ہے بلکہ ان پر واجب ہے کہ وہ وصیت کے مطابق عمل کریں اور میت کے ذمہ جومالی حقوق اور دیگر بدنی واجبات ہیں کہ جنکی میت نے وصیت کی ہے انکے ادا کرنے کیلئے خرچ کریں بلکہ اگر شرعی طریقہ سے یا ورثاء کے اقرار کے ذریعہ ثابت ہوجائے کہ میت لوگوں کی مقروض ہے یا اسکے ذمہ خدا تعالیٰ کے مالی حقوق ہیں جیسے خمس، زکوٰة، کفارات یا اسکے ذمہ مالی و بدنی حقوق ہیں جیسے حج تو بھی ان پر واجب ہے کہ وہ اس کا پورا دین اسکے اصل ترکہ سے ادا کریں اور پھر باقیماندہ ترکہ اپنے درمیان تقسیم کریں اگر چہ انکے متعلق کوئی وصیت نہ بھی کی ہو ۔
     
    س ١٨3٦: ایک شخص جو ایک زرعی زمین کا مالک ہے نے وصیت کی ہے کہ اس زمین کو مسجد کی تعمیر کیلئے خرچ کیا جائے لیکن اسکے ورثاء نے اسے فروخت کردیا ہے کیا متوفیٰ کی وصیت نافذ ہے ؟ اور کیا ورثاء اس ملک کو بیچنے کا حق رکھتے ہیں ؟
    ج: اگر وصیّت کا محتوا یہ ہو کہ زرعی زمین کو بیچ کر اسکی قیمت مسجد کی تعمیر میں خرچ کی جائے اور زمین کی قیمت بھی ترکہ کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ نہ ہو تو وصیت نافذ ہے اور زمین فروخت کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر وصیت کرنے والے کی مراد یہ ہو کہ زمین کی آمدنی مسجد کی تعمیر کیلئے خرچ کی جائے تو اس صورت میں ورثاء کو زمین فروخت کرنے کا حق نہیں ہے ۔
     
    س ١٨3٧: ایک شخص نے وصیت کی کہ اسکی اراضی میں سے ایک قطعہ اس کی طرف سے نماز و روزہ اور دوسرے نیک کام انجام دینے کیلئے خرچ کیا جائے کیا اس زمین کا فروخت کرنا جائز ہے یا اسے وقف شمار کیا جائے گا ؟
    ج: جب تک قرائن و شواہد کے ذریعہ معلوم نہ ہو کہ اسکی مراد یہ تھی کہ زمین اپنی حالت پر باقی رہے تا کہ اسکی آمدنی ان کاموں کیلئے خرچ کی جائے بلکہ فقط یہ وصیت کی ہو کہ زمین کو خود اسکے لیئے خرچ کیا جائے تو یہ وصیت زمین کے وقف کے حکم میں نہیں ہے ، پس اگر اسکی قیمت ترکہ کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ نہ ہو تو اسکا فروخت کرنا اور اسکی قیمت کو خود اس کیلئے خرچ کرنے میں اشکال نہیں ہے ۔
     
    س ١٨3٨: کیا جائز ہے کہ کچھ مال ترکہ کے ایک تہائی حصہ کے عنوان سے علیحدہ کر دیا جائے یا کسی شخص کے پاس امانت کے طور پر رکھ دیا جائے تا کہ اسکی وفات کے بعد اسے اپنے مصرف میں خرچ کیا جائے ؟
    ج : اس کام میں اشکال نہیں ہے بشرطیکہ اسکی وفات کے بعد اسکے ورثاء کیلئے اسکے دوبرابر مال باقی رہے۔
     
    س ١٨3٩: ایک شخص نے اپنے باپ کو وصیّت کی کہ کچھ مہینوں کی قضا نمازیں اور روزے اس کے ذمہ ہیں لہذا کسی کو اجیر بنا کر انکی قضا کرادینا اس وقت خود وہ شخص لاپتہ ہوگیا ہے کیا اسکے باپ پر واجب ہے کہ وہ اسکی قضا نما زوں اور روزوں کیلئے کسی کو اجیر بنائے؟
    ج: جب تک وصیت کرنے والے کی موت ،شرعی دلیل یا وصی کے علم کے ذریعہ ثابت نہ ہوجائے اسکی طرف سے اسکی قضا نماز وں اورروزوں کوبجالانے کیلئے کسی کو اجیر بنانا صحیح نہیں ہے ۔
     
    س ١٨4٠: میرے باپ نے اپنی زمین کے ایک تہائی حصے میں مسجد بنانے کی وصیت کی ہے لیکن اس زمین کے پڑوس میں دو مسجدیں موجود ہیں اور وہاں سکول کی سخت ضرورت ہے کیا جائز ہے کہ ہم مسجد کی جگہ وہاں سکول قائم کردیں؟
    ج: مسجد کی جگہ سکول بنا کر وصیت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر اس کا مقصود خود اس زمین میں مسجد بنانا نہ ہو تو اسے فروخت کرکے اسکی رقم سے کسی ایسی جگہ مسجد بنانے میں حرج نہیں ہے کہ جہاں مسجد کی ضرورت ہے۔
     
    س ١٨4١: کیا جائز ہے کہ کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ اسکی وفات کے بعد اس کا جسم میڈیکل کالج کے طالب علموں کو دے دیا جائے تا کہ اسے چیر کر اس سے تعلیم و تعلم کیلئے استفادہ کیا جائے یا چونکہ یہ کام مسلمان میت کے جسم کو مُثلہ کرنے کا موجب بنتا ہے لہذا حرام ہے؟
    ج : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مُثلہ اوراس جیسے دیگر امور کی حرمت پر جو دلیلیں ہیں وہ کسی اور چیز کی طرف ناظر ہیں اور جس چیز کے متعلق سوال کیا گیا ہے اس جیسے امور کہ جن میں میت کے بدن کو چیرنے میں اہم مصلحت موجود ہے سے، منصرف ہیں اور اگر مسلمان میت کے احترام کی شرط کہ جو اس جیسے مسائل میں اصل مسلّم ہے حاصل ہو تو ظاہراً بدن کے چیرنے میں اشکال نہیں ہے۔
     
    س ١٨4٢: اگر کوئی شخص وصیت کرے کہ اسکے مرنے کے بعد اسکے بدن کے بعض اعضاء کسی ہسپتال یا کسی دوسرے شخص کو ہدیے کے طور پردے دیئے جائیں تو کیا یہ وصیت صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے؟
    ج : اس قسم کی وصیتوں کا ان اعضاء کے متعلق صحیح اور نافذ ہونا بعید نہیں ہے کہ جنہیں بدن سے جدا کرنا بے احترامی نہ سمجھا جاتا ہو اور ایسے موارد میں وصیت پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
     
    س ١٨4٣: اگر ورثاء ،وصیت کرنے والے کی حیات کے دوران ، ایک تہائی سے زیادہ میں اس کی وصیت کی اجازت دے دیں تو کیا یہ اس کے نافذ ہونے کیلئے کافی ہے؟ اور کافی ہونے کی صورت میں ، کیا جائز ہے کہ وصیت کرنے والے کے مرنے کے بعد ورثاء اپنی اجازت سے عدول کرلیں؟
    ج :وصیت کرنے والے کی حیات کے دوران ورثاء کا ایک تہائی سے زیادہ کی نسبت اجازت دینا وصیت کے نافذ اور صحیح ہونے کیلئے کافی ہے اور اس کی وفات کے بعد انہیں اس سے عدول کرنے کاحق نہیں ہے اور ان کے عدول کا کوئی اثر نہیں ہے۔
     
    س ١٨4٤: ایک شہید نے اپنی قضا نمازوں اور روزوں کے بارے میں وصیت کی لیکن اسکا کوئی ترکہ نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو صرف گھر اور گھریلو سامان کہ جنہیں فروخت کرنے کی صورت میں اسکے نابالغ بچوں کیلئے عسر و حرج لازم آتا ہے۔ اس وصیت کے بارے میں اسکے ورثاء کی کیا ذمہ داری ہے؟
    ج: اگر اس شہید کا ترکہ اور میراث نہیں ہے تو اسکی وصیت پر عمل کرنا واجب نہیں ہے ، لیکن اسکے بڑے بیٹے پر واجب ہے کہ بالغ ہونے کے بعد باپ کی قضا نمازوں اور روزوں کو بجالائے لیکن اگر اسکا ترکہ موجود ہے تو واجب ہے کہ اسکا تیسرا حصہ اسکی وصیت کے سلسلے میں خرچ کیا جائے اور فقط ورثاء کا ضرورت مند اور صغیر ہونا وصیت پر عمل نہ کرنے کا عذر شرعی نہیں بن سکتا ۔
     
    س ١٨4٥: کیا مال کے بارے میں وصیت کے صحیح اور نافذ ہونے کیلئے موصیٰ لہ(جسکے لئے وصیت کی گئی ہے) کا وصیت کے وقت موجود ہونا شرط ہے؟
    ج : کسی شے کی تملیک کی وصیت میں موصیٰ لہ کاوصیت کے وقت وجود شرط ہے اگر چہ وہ جنین کی صورت میں ماں کے رحم میں ہو حتی اگر اس جنین میں ابھی روح پھونکی نہ گئی ہو لیکن شرط یہ ہے کہ وہ زندہ دنیا میں آئے۔
     
    س١٨4٦: وصیت کرنے والے نے اپنی وصیتوں کو عملی جامہ پہنا نے کیلئے اپنی تحریری وصیت میں وصی منصوب کرنے کے علاوہ ایک شخص کو ناظر کے عنوان سے منتخب کیا ہے لیکن اسکے اختیارات کے سلسلے میں وضاحت نہیں کی یعنی معلوم نہیں ہے کہ اسکی نظارت سے مراد صرف وصی کے کاموں سے مطلع ہونا ہے تا کہ وہ وصیت کرنے والے کے مقرر کردہ طریقہ کے خلاف عمل نہ کرے یا یہ کہ وہ وصیت کرنے والے کے کاموں کے سلسلے میں نگران ہے اور وصی کے کاموں کا اس ناظر کی رائے اور صوابدید کے مطابق انجام پا ناضروری ہے اس صورت میں ناظر کے اختیارات کیا ہیں؟
    ج : اگر وصیت مطلق ہے تو وصی پر واجب نہیں ہے کہ وہ اسکے امور میں ناظر کے ساتھ مشورہ کرے ، اگرچہ احوط یہی ہے اور ناظر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ وصی کے کاموں سے مطلع ہونے کیلئے نظارت کرے۔
     
    س ١٨4٧: ایک شخص اپنے بڑے بیٹے کو وصی اور مجھے اس پر ناظر بناکر فوت ہو گیا پھر اسکا بیٹا بھی وفات پاگیا اور میں اسکی وصیت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اکیلا رہ گیا ہوں لیکن اسوقت اپنے خاص حالات کی وجہ سے میرے لئے اسکے وصیت کردہ بعض امور کو انجام دینا مشکل ہوگیا ہے کیا میرے لئے مورد وصیت کو تبدیل کرنا جائز ہے کہ میں اسکے ترکہ کے تیسرے حصے سے حاصل ہونے والی آمدنی محکمہ حفظان صحت کو دے دوں تا کہ وہ اسے بھلائی کے کاموں اور اپنے زیر کفالت ضرورتمند افراد پر کہ جو مدد اور تعاون کے مستحق ہیں خرچ کر دے۔
    ج : ناظر بطور مستقل میت کی وصیتوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا حتی کہ وصی کی موت کے بعدبھی مگر یہ کہ وصیت کرنے والے نے وصی کی موت کے بعد ناظر کووصی قرار دیا ہو اور اگر ایسا نہیں ہے تو وصی کی موت کے بعد ضروری ہے کہ وہ حاکم شرع کی طرف رجوع کرے تا کہ وہ کسی دوسرے شخص کو اسکی جگہ مقرر کرے بہرحال میت کی وصیت سے تجاوز اور اس میں رد و بدل کرنا جائز نہیں ہے ۔
     
    س ١٨4٨: اگر ایک شخص وصیت کرے کہ اسکے اموال کا کچھ حصہ نجف اشرف میں تلاوت قرآن کی غرض سے خرچ کیا جائے یا وہ اپنا کچھ مال اس کام کیلئے وقف کردے اور وصی یا وقف کے متولی کیلئے نجف اشرف میں کسی کو تلاوت قرآن کیلئے اجیر بناکر وہاں مال بھیجنا ممکن نہ ہو تو اس سلسلے میں اسکی ذمہ داری کیا ہے؟
    ج: اگر مستقبل میں بھی اس مال کا نجف اشرف میں تلاوت قرآن کیلئے خرچ کرنا ممکن ہو توواجب ہے کہ وصیت کے مطابق عمل کیا جائے۔
     
    س ١٨4٩: میری والدہ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کی کہ میں اس کا سونا جمعہ کی راتوں میں نیک کاموں کیلئے خرچ کروں اور میں اب تک اس کام کو انجام دیتا رہاہوں لیکن دوسرے ممالک کے سفر کے دوران کہ جنکے باشندوں کے بارے میں زیادہ احتمال یہ ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں میری ذمہ داری کیا ہے؟
    ج: جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ خرچ کرنے سے اسکی مراد مسلم اور غیر مسلم دونوں پر خرچ کرنا تھا توواجب ہے کہ وہ مال صرف مسلمانوں کیلئے بھلائی کے کاموں میں خرچ کیا جائے اگر چہ اس کیلئے یہ مال کسی اسلامی سرزمین میں ایک امین شخص کے پاس رکھناپڑے جو اسے مسلمانوں پر خرچ کرے۔
     
    س ١٨5٠: ایک شخص نے وصیت کی کہ اسکی کچھ زمین بیچ کر اسکی رقم عزاداری اورنیکی کے کاموں میں خرچ کی جائے لیکن ورثاء کے علاوہ کسی دوسرے کو بیچنا ورثا کیلئے مشکل اور زحمت کا سبب بنے گاکیونکہ مذکورہ زمین اور دوسری زمینوں کو علیحدہ کرنے میں بہت سی مشکلات ہیں کیا جائز ہے کہ خود ورثاء اس زمین کو قسطوں پر خریدلیں اور ہر سال اسکی کچھ قیمت ادا کرتے رہیں تاکہ اسے وصی اور ناظر کی نگرانی میں وصیت کے مورد میں خرچ کیا جائے۔
    ج: ورثاء کیلئے وہ زمین اپنے لیئے خریدنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اوراسے قسطوں پر اور عادلانہ قیمت کے ساتھ خرید نے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب یہ بات ثابت نہ ہوکہ وصیت کرنے والے کی مراد یہ تھی کہ اسکی زمین کو نقد بیچ کر اسی سال اسکی قیمت مورد وصیت میں خرچ کی جائے نیز اس کی شرط یہ ہے کہ وصی اور ناظر بھی اس کام میں مصلحت سمجھتے ہوں اور قسطیں بھی اسطرح نہ ہوں کہ وصیت نظر انداز ہوجائے اور اس پرعمل نہ ہو پائے۔
     
    س١٨5١: ایک شخص نے جان لیوا بیماری کی حالت میں دو آدمیوں میں سے ایک کو وصی اور دوسرے کو نائب وصی کے طور پر مقرر کیا لیکن بعد میں اپنی رائے میں تبدیلی کی وجہ سے وصیت کو باطل کرکے وصی اور اسکے نائب کو اس سے آگاہ کردیا اور ایک دوسرا وصیت نامہ لکھا کہ جس میں اپنے ایک ایسے رشتہ دار کو اپنا وصی قرار دیا جو غائب ہے ، کیا اس عدول اور تبدیلی کے بعد بھی پہلی وصیت اپنی حالت پر باقی اور معتبر ہے؟ اور اگر دوسری وصیت صحیح ہے اور وہ غائب شخص وصی ہے تو اگر معزول وصی اور اسکا نائب وصیت کرنے والے کی باطل کردہ وصیت کا سہارا لیکر اس پر عمل کریں تو کیا انکا یہ عمل اور تصرف ظالمانہ شمار ہوگا اور کیا ان پر واجب ہے کہ جو کچھ انہوں نے میت کے مال سے خرچ کیا ہے وہ دوسرے وصی کو لوٹائیں؟
    ج: اگر میت نے اپنی زندگی میں پہلی وصیت سے عدول کر لیا ہو اور اس نے پہلے وصی کو بھی معزول کردیا ہو تو معزول ہونے والا وصی اپنے معزول ہونے سے آگاہ ہونے کے بعد پہلی وصیت کا سہارا لیکر اس پر عمل کرنے کا حق نہیں رکھتا لہذا وصیت سے متعلق مال کے سلسلے میں اسکے تصرفات فضولی شمار ہونگے اور وصی کی اجازت پر موقوف ہونگے اور اگر وصی انکی اجازت نہ دے تو معزول ہونے والا وصی ان اموال کا ضامن ہوگا جو اس نے خرچ کئے ہیں۔
     
    س١٨5٢: ایک شخص نے وصیت کی ہے کہ اسکی املاک میں سے ایک ملک اسکے بیٹے کی ہے پھر دوسال کے بعد اس نے اپنی وصیت کو مکمل طور پر بدل دیا کیا اسکا پہلی وصیت سے دوسری وصیت کی طرف عدول کرنا شرعی طور پر صحیح ہے؟ جبکہ یہ شخص مریض ہے اور اسکی خدمت ونگہداری کی سخت ضرورت ہے ، کیا یہ ذمہ داری اسکے مقرر کردہ وصی یعنی اسکے بڑے بیٹے کی ہے یا یہ کہ اسکی ساری اولاد مساوی طور پر اسکی ذمہ دار ہے؟
    ج: جب تک وصیت کرنے والا زندہ ہے اور اس کا ذہنی توازن صحیح و سالم ہے تو شرعی طور پر اس کیلئے اپنی وصیت سے عدول کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور شرعی لحاظ سے صحیح اورمعتبر بعد والی وصیت ہوگی اور اگر بیمار اپنی خدمت کیلئے کوئی نوکر رکھنے پر قادر نہ ہو تو مریض کی خدمت اور اسکی دیکھ بھال کی ذمہ داری اسکی تمام اس اولاد پر بطور مساوی ہے جو اسکی نگہداری کی قدرت رکھتی ہے اوریہ صرف وصی کی ذمہ داری نہیں ہے۔
     
    س١٨5٣:ایک باپ نے اپنے ایک تہائی اموال کی اپنے لیئے وصیت کی ہے اور مجھے اپنا وصی بنایا ہے، میراث تقسیم کرنے کے بعد ایک تہائی مال الگ رکھ دیا ہے کیا میں اسکی وصیت کو پورا کرنے کیلئے ایک تہائی مال سے کچھ مقدار کو بیچ سکتا ہوں؟
    ج: اگر اس نے وصیت کی ہو کہ اس کا ایک تہائی مال اسکی وصیت کو پورا کرنے کیلئے خرچ کیا جائے تو ترکہ سے جدا کرنے کے بعد اس کے بیچنے اور وصیت نامہ میں ذکر کئے گئے موارد میں خرچ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر وصیت یہ کی ہو کہ ایک تہائی اموال سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعہ اسکی وصیت کو پورا کیا جائے تو اس صورت میں خود ایک تہائی مال کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ یہ وصیت کے موارد میں خرچ کیلئے ہو۔
     
    س ١٨5٤: اگر وصیت کرنے والا، وصی اور ناظر کو معین کرے ، لیکن انکے اختیارات اور فرائض کو ذکر نہ کرے اور اسی طرح اپنے ایک تہائی اموال اور انکے مصارف کا بھی ذکر نہ کرے ، اس صورت میں وصی کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا جائز ہے کہ وصی اسکے ترکہ سے ایک تہائی اموال الگ کرکے نیکی کے کاموں میں خرچ کردے؟ کیا صرف وصیت کرنے اور وصی کے معین کرنے سے وصی کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ وصیت کرنے والے کے ترکہ سے ایک تہائی اموال کو جدا کرے تا کہ اس پر ایک تہائی اموال الگ کر کے انہیں وصیت کرنے والے کیلئے خرچ کرنا واجب ہو؟
    ج: اگر قرائن و شواہد یا وہاں کے مقامی عرف کے ذریعہ وصیت کرنے والے کا مقصود معلوم ہوجائے تو واجب ہے کہ وصی وصیت کے مورد کی تشخیص اور وصیت کرنے والے کے مقصود کہ جسے وہ ان ذرائع سے سمجھا ہے کے مطابق عمل کرے ورنہ وصیت مبہم اور متعلقِ وصیت کے ذکر نہ کرنے کی بناپر باطل اور لغو قرار پائے گی۔
     
    س ١٨5٥: ایک شخص نے اس طرح وصیت کی ہے کہ : " تمام سلے اور ان سلے کپڑے و غیرہ میری بیوی کے ہیں" کیا کلمہ ' 'و غیرہ " سے مراد اسکے منقولہ اموال ہیں یا وہ چیزیں مراد ہیں جو لباس اور کپڑے سے کمتر ہیں جیسے جوتا اور اسکی مانند؟
    ج: جب تک وصیت نامہ میں مذکور کلمہ " وغیرہ " سے اسکی مراد معلوم نہ ہوجائے اورکسی دوسرے قرینے سے بھی وصیت کرنے والے کی مراد اس سے سمجھ میں نہ آئے تو وصیت نامہ کا یہ جملہ مبہم ہونے کی بنا پر قابل عمل نہیں ہے اور سوال میں بیان کئے گئے احتمالات پر اسکی تطبیق کرنا ورثاء کی رضامندی اور موافقت پر موقوف ہے۔
     
    س١٨5٦: ایک عورت نے وصیت کی کہ اسکے ترکے کے ایک تہائی مال سے اسکی آٹھ سال کی قضا نمازیں پڑھائی جائیں اور باقی مال رد مظالم ، خمس اور دوسرے نیک کاموں میں خرچ کیا جائے۔ اور چونکہ اس وصیت پر عمل کرنے کا زمانہ دفاع مقدس کا زمانہ تھا کہ جس میں محاذ جنگ پر مدد پہنچانا بہت ضروری تھا اور وصی کو یہ یقین ہے کہ عورت کے ذمہ ایک بھی قضا نماز نہیں ہے لیکن پھر بھی اس نے اسکی دو سال کی نمازوں کیلئے ایک شخص کو اجیر بنایا اور ایک تہائی مال کا کچھ حصہ محاذجنگ پر مدد کیلئے بھیج دیا اور باقی مال خمس ادا کرنے اور رد مظالم میں خرچ کردیا ۔کیا وصیت پر عمل کرنے کے سلسلے میں وصی کے ذمہ کوئی چیز باقی ہے؟
    ج: وصیت پر اسی طرح عمل کرنا واجب ہے جس طرح میت نے کی ہے۔اور کسی ایک مورد میں بھی وصی کیلئے وصیت پر عمل کو ترک کرنا جائز نہیں ہے لہذا اگر کچھ مال وصیت کے علاوہ کسی اور جگہ میں خرچ کیا ہو تو وہ اس مقدار کاضامن ہے ۔
     
    س ١٨5٧: ایک شخص نے دو آدمیوں کو وصیت کی کہ اسکی وفات کے بعد وصیت نامہ میں مذکور مطالب کے مطابق عمل کریں اور وصیت نامہ کی تیسری شق میں یوں لکھاہے کہ وصیت کرنے والے کا تمام ترکہ ۔چاہے وہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ ، نقد رقم ہو یا لوگوں کے پاس قرض کی صورت میں ۔ جمع کیا جائے اور اس کا قرض اسکے اصل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ، اسکا ایک تہائی حصہ جدا کرکے وصیت نامہ کی شق نمبر٤، ٥اور٦ کے مطابق خرچ کیا جائے ، اور سترہ سال کے بعد اس ایک تہائی حصے کاباقی ماندہ اسکے فقیر ورثاء پر خرچ کیا جائے لیکن وصیت کرنے والے کے دونوں وصی اسکی وفات سے لیکر اس مدت کے ختم ہونے تک اسکے مال کا ایک تہائی حصہ جدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور ان کیلئے مذکورہ شقوق پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ ورثاء مدعی ہیں کہ مذکورہ مدت ختم ہونے کے بعد وصیت نامہ باطل ہوچکاہے اور اب وہ دونوں و صی وصیت کرنے والے کے اموال میں مداخلت کرنے کا حق نہیں رکھتے اس مسئلہ کا حکم کیا ہے ؟ اور ان دونوں وصیوں کی کیا ذمہ داری ہے ؟
    ج : وصیت پر عمل کرنے میں تاخیر سے وصیت اور وصی کی وصایت ( وصی کا وصی ہونا) باطل نہیں ہوتا بلکہ ان دو وصیوں پر واجب ہے کہ وہ وصیت پر عمل کریں اگر چہ اسکی مدت طولانی ہوجائے اور جب تک انکی وصایت ایسی خاص مدت تک نہ ہو جو ختم ہوگئی ہو اس وقت تک ورثاء کو حق نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کیلئے وصیت پر عمل کرنے میں رکاوٹ بنیں۔
     
    س ١٨5٨: میت کے ورثاء کے درمیان ترکہ تقسیم ہونے اور انکے نام ملکیت کی دستاویزجاری ہونے کے چھ سال گزرنے کے بعد ورثاء میں سے ایک یہ دعویٰ کرتا ہے کہ متوفیٰ نے زبانی طور پر اسے وصیت کی تھی کہ گھر کا کچھ حصہ اسکے ایک بیٹے کو دیا جائے اور بعض عورتیں بھی اس امر کی گواہی دیتی ہیں کیا مذکورہ مدت گزرنے کے بعد اسکا یہ دعویٰ قابل قبول ہے ؟
    ج: اگر شرعی دلیل سے وصیت ثابت ہوجائے توزمانے کے گزرنے اور ترکہ کی تقسیم کے قانونی مراحل طے ہوجانے سے وصیت کے قابل قبول ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔نتیجةً اگر مدعی اپنے دعوے کو شرعی طریقے سے ثابت کردے تو سب پر واجب ہے کہ اسکے مطابق عمل کریں اور اگر ایسا نہ ہو تو جس شخص نے اسکے صحیح ہونے کا اقرار کیا ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اسکے محتوا کے مطابق اور ترکہ میں سے اپنے حصے کی مقدار میں اس پر عمل کرے ۔
     
    س ١٨5٩ : ایک شخص نے دوآدمیوں کو وصیت کی کہ اس کی اراضی میں سے ایک قطعہ فروخت کرکے اسکی طرف سے حج بجالائیں اور اپنے وصیت نامہ میں اس نے ان میں سے ایک کو اپنا وصی اور دوسرے کو اس پر ناظر مقرر کیا ہے ایک تیسرا شخص ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے وصی اور ناظر کی اجازت کے بغیر اسکی طرف سے حج انجام دے دیا ہے اب وصی فوت ہوچکا ہے اور ناظر زندہ ہے کیا ناظر کیلئے ضروری ہے کہ وہ زمین کی رقم سے میت کی طرف سے دوبارہ فریضہ حج بجا لائے؟ یا اس پر واجب ہے کہ زمین کی رقم اس شخص کو دے دے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے میت کی طرف سے فریضۂ حج ادا کردیا ہے یا اس سلسلے میں اس پر کچھ واجب نہیں ہے ؟
    ج: اگرمیت پر حج واجب ہو او روہ وصیت کے ذریعہ نائب کے توسط سے اسے ادا کرانا چاہتا ہو تو اگر تیسرا شخص میت کی طرف سے حج بجالائے تو اس کیلئے کافی ہے لیکن اس شخص کو کسی سے اجرت طلب کرنے کا حق نہیں ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو ناظر اور وصی کیلئے ضروری ہے کہ وہ وصیت پر عمل کریں اور زمین کی رقم سے اس کی طرف سے فریضۂ حج کو بجالائیں اور اگر وصی، وصیت پر عمل کرنے سے پہلے مرجائے تو ناظر پر واجب ہے کہ وصیت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے حاکم شرع کی طرف رجوع کرے ۔
     
    س ١٨6٠: کیا ورثاء ، وصی کو میت کی قضا نمازوں اور روزوں کے ادا کرنے کیلئے معین رقم خرچ کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں ؟ اور اس سلسلے میں وصی کی کیا ذمہ داری ہے ؟
    ج: میت کی وصیت پر عمل کرنے کی ذمہ داری وصی کی ہے اور اس کیلئے اپنے تشخیص کردہ مصالح پر عمل کرنا ضروری ہے اور ورثاء کو اس میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے ۔
     
    س ١٨6١:تیل کے ذخائر پربمباری کے موقع پر وصیت کرنے والے کی شہادت ہوجاتی ہے اور تحریری وصیت جو اسکے ہمراہ تھی وہ بھی اس حادثے میں جل جاتی ہے یا گم ہوجاتی ہے اور کوئی بھی اسکے متن اور محتوا سے آگاہ نہیں ہے اس وقت وصی نہیں جانتا کہ کیا وہ اکیلا اس کا وصی ہے یا کوئی دوسرا شخص بھی ہے ، اس صورت میں اسکی ذمہ داری کیا ہے ؟
    ج: اصل وصیت کے ثابت ہونے کے بعد ، وصی پر واجب ہے کہ جن موارد میں اسے تبدیلی کا یقین نہیں ہے ان میں وصیت کے مطابق عمل کرے اور اس احتمال کی پروا نہ کرے کہ ممکن ہے کوئی دوسرا وصی بھی ہو ۔
     
    س ١٨6٢: کیا جائز ہے کہ وصیت کرنے والا اپنے ورثاء کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنے وصی کے طور پر منتخب کرے؟ اور کیا کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسکے اس کام کی مخالفت کرے ؟
    ج : وصیت کرنے والا جن افراد کو اس کام کے لائق سمجھتاہے ان میں سے وصی کا انتخاب اور اس کا مقرر کرنا خود اس کے ہاتھ میں ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ وہ اپنے ورثاء کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا وصی بنائے اور اسکے ورثاء کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے ۔
     
    س ١٨6٣: کیا جائز ہے کہ بعض ورثاء دوسروں کے ساتھ مشورہ کئے بغیر یا وصی کی موافقت حاصل کرنے کیلئے میت کے اموال سے وصی کی دعوت کے عنوان سے اسکے لیئے انفاق کریں ؟
    ج: اگر اس کام سے انکی نیت وصیت پر عمل کرنا ہے تو اسکا انجام دینا میت کے وصی کے ذمہ ہے اور انہیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وصی کی موافقت کے بغیر اپنے طور پر یہ کام کریں اور اگر انکا ارادہ یہ ہے کہ میت کے ورثاء کی میراث میں سے خرچ کریں تو اسکے لیئے بھی تمام ورثاء کی اجازت ضروری ہے اور اگر وہ راضی نہ ہوں تو دوسرے ورثاء کے حصے کی نسبت یہ کام غصب کے حکم میں ہے۔
     
    س ١٨6٤: وصیت کرنے والے نے اپنے وصیت نامہ میں ذکر کیا ہے کہ فلاں شخص اسکا پہلا وصی ، زید دوسرا وصی اور خالد تیسرا وصی ہے کیا تینوں اشخاص باہمی طور پراسکے وصی ہیں یا یہ کہ صرف پہلا شخص اسکا وصی ہے؟
    ج: یہ چیز وصیت کرنے والے کی نظر اور اسکے قصد کے تابع ہے اورجب تک قرائن وشواہد کے ذریعہ معلوم نہ ہوجائے کہ اسکی مراد تین اشخاص کی اجتماعی وصایت ہے یا ترتیبی وصایت ، ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس پر اجتماعی طور پر عمل کریں ۔
     
    س ١٨6٥: اگر وصیت کرنے والا تین افراد کو اجتماعی طور پر اپنا وصی مقرر کرے لیکن وہ لوگ وصیت پر عمل کرنے کی روش پر متفق نہ ہوں تو ان کے درمیان اس اختلاف کو کیسے حل کیا جائے ؟
    ج : اگر وصی متعدد ہوں اور وصیت پر عمل کرنے کے طریقے میں اختلاف ہوجائے تو ان پر واجب ہے کہ حاکم شرع کی طرف رجوع کریں ۔
     
    س ١٨6٦: میں اپنے باپ کا بڑا بیٹاہوں اور شرعی طور پر اسکی قضا نمازوں اور روزوں کو بجا لانے کا ذمہ دار ہوں اگر میرے باپ کے ذمہ کئی سال کی قضا نمازیں اور روزے ہوں لیکن اس نے وصیت کی ہو کہ اسکے لیے صرف ایک سال کی قضا نمازیں اور روزے ادا کئے جائیں تواس صورت میں میری ذمہ داری کیا ہے ؟
    ج: اگر میت نے وصیت کی ہو کہ اسکی قضا نمازوں اور روزوں کی اجرت اسکے ایک تہائی ترکہ سے ادا کی جائے تو ایک تہائی ترکہ سے کسی شخص کو اسکی نمازوں اور روزوں کیلئے اجیر بناناجائز ہے اور اگر اسکے ذمہ قضا نمازیں اور روزے اس مقدار سے زیادہ ہوں کہ جسکی اس نے وصیت کی ہے تو آپ پر انکا بجالانا واجب ہے اگر چہ اس کیلئے آپ اپنے اموال سے کسی کو اجیر بنائیں۔
     
    س ١٨6٧: ایک شخص نے اپنے بڑے بیٹے کو وصیت کی ہے کہ اسکی اراضی میں سے ایک معین قطعہ فروخت کر کے اسکی رقم سے اسکی طرف سے حج بجالائے اور اس نے بھی یہ عہد کیا کہ باپ کی طرف سے حج بجالائے گا لیکن ادارہ حج و زیارات کی طرف سے اسے سفرِ حج کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ حج انجام نہیں دے سکا اور اس وقت چونکہ حج کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اس لئے اس زمین کی رقم سے حج پر جانا ممکن نہیں ہے لہذا باپ کی وصیت پر بڑے بیٹے کا عمل کرنا اسوقت ناممکن ہوگیا ہے او روہ کسی دوسرے کو حج انجام دینے کیلئے نائب بنا نے پر مجبور ہے لیکن زمین کی رقم نیابت کی اجرت کیلئے کافی نہیں ہے کیا باقی ورثاء پر واجب ہے کہ باپ کی وصیت پر عمل کرنے کیلئے اسکے ساتھ تعاون کریں یا یہ کہ صرف بڑے بیٹے پر اسکا انجام دینا واجب ہے کیوں کہ بہرحال بڑے بیٹے کیلئے باپ کی طرف سے فریضہ حج کو انجام دینا ضروری ہے؟
    ج : سوال کی روشنی میں حج کے اخراجات دیگرورثاء پر واجب نہیں ہیں لیکن اگر وصیت کرنے والے کے ذمے میں حج مستقر ہوچکاہے اور زمین کی وہ رقم جو نیابتی حج انجام دینے کیلئے معین کی گئی ہے وہ میقات سے نیابتی حج کے اخراجات ادا کرنے کیلئے بھی کافی نہ ہو تو اس صورت میں واجب ہے کہ حج میقاتی کے اخراجات اصل ترکے سے پورے کئے جائیں ۔
     
    س ١٨6٨: اگر ایسی رسید موجود ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ میت نے اپنے شرعی حقوق ادا کئے ہیں یا کچھ لوگ گواہی دیں کہ وہ اپنے حقوق ادا کرتا تھا تو کیا ورثاء پر اسکے ترکہ سے اسکے شرعی حقوق ادا کرنا واجب ہے ؟
    ج : محض رسید کا موجود ہونا اور گواہوں کا گواہی دینا کہ وہ اپنے حقوقِ شرعی ادا کرتا تھا میت کے بری الذمہ ہونے پر حجت شرعی نہیں ہے اور اسی طرح اس سے یہ بھی ثابت نہیں ہوگا کہ اسکے مال میں حقوق شرعی نہیں تھے لذا اگر اس نے اپنی حیات کے دوران یا وصیت نامہ میں اس بات کا اعتراف کیا ہو کہ وہ کچھ مقدار حقوق شرعی کا مقروض ہے یا اسکے ترکہ میں حقوق شرعی موجود ہیں یا ورثاء کو اس کا یقین حاصل ہوجائے تو ان پرواجب ہے کہ جس مقدار کا میت نے اقرار کیا ہے یا جس مقدار کا انہیں یقین حاصل ہوگیا ہے اسے میت کے اصل ترکہ سے ادا کریں ورنہ ان پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔
     
    س ١٨6٩: ایک شخص نے اپنے ایک تہائی اموال کی اپنے لیئے وصیت کی اور اپنے وصیت نامہ کے حاشیہ پر قید لگادی کہ باغ میں جو گھر ہے وہ ایک تہائی حصہ کے مصارف کیلئے ہے اور اسکی وفات کے بیس سال گزرنے کے بعد وصی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسے بیچ کراسکی رقم اسکے لیئے خرچ کرے کیا ایک تہائی حصہ اسکے پورے ترکہ یعنی گھر اور اسکے دیگر اموال سے حساب کیا جائیگا تاکہ اگر گھر کی قیمت ایک تہائی مقدار سے کمتر ہو تو اسے اسکے دیگر اموال سے پورا کیا جائے یا یہ کہ ایک تہائی حصہ صرف اس کا گھر ہے اور ورثاء سے تہائی حصہ کے عنوان سے دوسرے اموال نہیں لیئے جائیں گے ؟
    ج : جو کچھ میت نے وصیت نامے اور اسکے حاشیہ میں ذکر کیا ہے اگر اس سے اس کا مقصود صرف اپنے گھر کو ایک تہائی کے عنوان سے اپنے لئے معین کرنا ہو اور وہ گھر بھی میت کا قرض ادا کرنے کے بعد اسکے مجموعی ترکہ کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو تو اس صورت میں صرف گھر ایک تہائی ہے اور وہ میت سے مختص ہے اور یہی حکم اس صورت میں بھی ہے کہ جب ا س نے اپنے لیئے ترکہ کے ایک تہائی کی وصیت کے بعد گھر کو اس کے مصارف کیلئے معین کیا ہو اور اس گھر کی قیمت میت کے قرض کو ادا کرنے کے بعد باقی بچنے والے ترکہ کا ایک تہائی ہواوراگر ایسا نہ ہو تو ضروری ہے کہ ترکے کے دوسرے اموال میں سے اتنی مقدار گھر کی قیمت کے ساتھ ملائی جائے کہ انکی مجموعی مقدار ترکے کے ایک تہائی کے برابر ہوجائے؟
     
    س ١٨7٠: ترکہ کو تقسیم کئے ہوئے بیس سال گزر گئے ہیں اور چار سال پہلے میت کی بیٹی اپنا حصہ فروخت کرچکی ہے اب ماں نے ایک وصیت نامہ ظاہر کیا ہے جسکی بنیاد پر شوہر کے تمام اموال اسکی بیوی کے متعلق ہیں اور اسی طرح اس نے اعتراف کیا ہے کہ یہ وصیت نامہ اسکے شوہر کی وفات کے وقت سے اسکے پاس تھا لیکن اس نے ابھی تک کسی کو اس سے آگاہ نہیں کیا تھا کیا اسکی بناپر میراث کی تقسیم اور میت کی بیٹی کا اپنے حصے کو فروخت کرنا باطل ہوجائے گا ؟ اور باطل ہونے کی صورت میں ، کیا اس ملک کی قانونی دستاویز کوجسے تیسرے شخص نے میت کی بیٹی سے خریدا ہے ، میت کی بیٹی اور اسکی ماں کے درمیان اختلاف کی وجہ سے باطل کرنا صحیح ہے ؟
    ج: مذکورہ وصیت کے صحیح ہونے اور دلیل معتبر کے ذریعہ اسکے ثابت ہونے کی صورت میں، چونکہ ماں کو اپنے شوہر کی وفات سے لیکر ترکہ کی تقسیم تک اس وصیت کے بارے میں علم تھا اوربیٹی کو اسکا حصہ دیتے وقت اور اسکا اپنے حصے کو کسی دوسرے کے پاس فروخت کے وقت ، وصیت نامہ ماں کے پاس تھا لیکن اسکے باوجود اس نے وصیت کے بارے میں خاموشی اختیار کی اور بیٹی کو اس کا حصہ دینے پرکوئی اعتراض نہیں کیا جبکہ وہ اعتراض کر سکتی تھی اور اعتراض کرنے سے کوئی چیز مانع بھی نہ تھی اور اسی طرح جب بیٹی نے اپنا حصہ فروخت کیا تب بھی اس نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا یہ تمام چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ماں لڑکی کے میراث کا حصہ لینے اور پھر اسکے فروخت کرنے پر راضی تھی ۔اسکے بعد ماں کو حق حاصل نہیں ہے کہ جو کچھ اس نے لڑکی کو دیا ہے اسکا مطالبہ کرے اسی طرح و ہ خریدار سے بھی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتی اور اسکی لڑکی نے جو معاملہ کیا ہے وہ صحیح ہے اور بیچی گئی چیز بھی خریدار کی ملکیت ہے۔
     
    س ١٨7١: ایک شہید نے اپنے باپ کو وصیت کی کہ اگر اسکا قرض ادا کرنا اسکا مکان فروخت کئے بغیر ممکن نہ ہو تو اسکا مکان بیچ دے اور اسکی رقم سے اسکا قرض ادا کرے اسی طرح اس نے یہ بھی وصیت کی کہ کچھ رقم نیک کاموں میں خرچ کی جائے اور زمین کی قیمت اسکے ماموں کو دی جائے اور اسکی ماں کو حج پربھیجے او رکچھ سالوں کی قضا نمازیں اور روزے اسکی طرف سے بجالائے جائیں پھر اسکے بعد اسکے بھائی نے اسکی بیوی سے شادی کرلی اور اس بات سے آگاہ ہونے کے ساتھ کہ گھر کا ایک حصہ شہید کی بیوی نے خرید لیا ہے وہ اس گھر میں رہائش پذیر ہوگیا اور اس نے مکان کی تعمیر کیلئے کچھ رقم بھی خرچ کردی اور شہید کے بیٹے سے سونے کا ایک سکہ بھی لے لیا تا کہ اسے گھر کی تعمیر کیلئے خرچ کرے شہید کے گھر اور اسکے بیٹے کے اموال میں اسکے تصرفات کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اس امر کے پیش نظر کہ اس نے شہید کے بیٹے کی تربیت کی ہے اور اسکے اخراجات پورے کئے ہیں اسکا اس ماہانہ وظیفہ سے استفادہ کرنا جو شہید کے بیٹے سے مخصوص ہے کیا حکم رکھتاہے؟
    ج : واجب ہے کہ اس شہید عزیز کے تمام اموال کا حساب کیا جا ئے اور اس سے اسکے تمام قرضے ادا کرنے کے بعد ، اسکے باقیماندہ ترکہ کا ایک تہائی حصہ اسکی وصیت پر عمل کرنے کیلئے خرچ کیا جائے چنانچہ قضا نمازوں اور روزوں کے سلسلے میں اسکی وصیتوں کو پورا کیا جائے ،اسکی ماں کو سفرحج کے لئے اخراجات فراہم کئے جائیں اور اسی طرح دوسرے کام اور پھر دیگر دو حصوں اور مذکورہ ایک تہائی کے باقیماندہ مال کو شہید کے و رثا یعنی باپ ماں اولاد اور اس کی بیوی کے درمیان کتاب و سنت کے مطابق تقسیم کیا جائے ۔اور اسکے گھر اور باقی اموال میں ہر قسم کے تصرفات کیلئے شہید کے ورثاء اور اسکے بچے کے شرعی ولی کی اجازت لینا ضروری ہے اور شہید کے بھائی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس نے گھر کی تعمیرکیلئے نابالغ بچے کے ولی کی اجازت کے بغیر جو اخراجات کئے ہیں انہیں وہ نابالغ کے مال سے وصول کرے اور اسی طرح اسے یہ بھی حق نہیں ہے کہ نابالغ بچے کا سونے کا سکہ اور اس کا ماہانہ وظیفہ گھر کی تعمیر اور اپنے مخارج میں خرچ کرے بلکہ وہ انہیں خود بچے پر بھی خرچ نہیں کرسکتا البتہ اسکے شرعی ولی کی اجاز ت سے ایسا کرسکتا ہے ور نہ وہ اس مال کا ضامن ہوگا اور اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ یہ مال بچے کو واپس لوٹا دے اور اسی طرح ضروری ہے کہ گھر کی خرید بھی بچے کے شرعی ولی کی اجازت سے ہو۔
     
    س١٨7٢: وصیت کرنے والے نے اپنے وصیت نامہ میں تحریر کیا ہے کہ اسکے تمام اموال جو تین ایکڑپھلوں کے باغ پر مشتمل ہیں ان میں اس طرح مصالحت ہوئی ہے کہ اسکی وفات کے بعد ان میں سے دو ایکڑ اسکی اولاد میں سے بعض کیلئے ہواور تیسرا ایکڑ خود اس کیلئے رہے تا کہ اسے اسکی وصیت کے مطابق خرچ کیا جائے لیکن اسکی وفات کے بعد معلوم ہوا کہ اسکے تمام باغات کا رقبہ دوایکڑ سے بھی کم ہے لہذا اولاً تو یہ بتائیے کہ جو کچھ اس نے وصیت نامہ میں لکھا ہے کیا وہ اسکے اموال پر اسی طرح مصالحہ شمار کیاجائے گا جیسے اس نے لکھا ہے یا یہ کہ اسکی وفات کے بعد اسکے اموال کے سلسلے میں وصیت شمار ہوگی ؟ ثانیاً جب یہ معلوم ہوگیا کہ اسکے باغات کا رقبہ دو ایکڑ سے کمتر ہے تو کیا یہ سب اسکی اولاد سے مخصوص ہوگااورایک ایکڑ جو اس نے اپنے لیئے مخصوص کیاتھا منتفی ہوجائے گا یا یہ کہ کسی اور طرح سے عمل کیا جائے؟
    ج : جب تک اس کی طرف سے اسکی زندگی میں صحیح اورشرعی صورت پر صلح کا ہونا ثابت نہ ہوجائے ـکہ جو اس بات پر موقوف ہے کہ جس سے صلح کی گئی ہے (مصالح لہ ) وہ صلح کرنے والے (مصالح) کی زندگی میں صلح کو قبول کرلے۔ اسوقت تک جو کچھ اس نے ذکر کیا ہے اسے وصیت شمار کیا جائے گا چنانچہ اسکی وصیت جو اس نے پھلوں کے باغات کے متعلق اپنی بعض اولاد اور خود اپنے لئے کی ہے وہ اسکے پورے ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ ہوگی اور اس سے زائد میں ورثاء کی اجازت پر موقوف ہے اور اجازت نہ دینے کی صورت میں ایک تہائی سے زائد حصہ انکی محصے یراث ہے ۔
     
    س ١٨7٣: ایک شخص نے اپنے تمام اموال اس شرط پر اپنے بیٹے کے نام کردیئے کہ باپ کی وفات کے بعد اپنی ہربہن کو میراث سے اسکے حصے کی بجائے نقد رقم کی ایک معین مقدار دے گا لیکن باپ کی وفات کے وقت اسکی بہنوں میں سے ایک بہن موجود نہ تھی جس کے نتیجے میں وہ اپنا حق نہ لے سکی جب وہ اس شہر میں واپس آئی تواس نے بھائی سے اپنا حق طلب کیا لیکن اس کے بھائی نے اس وقت اسے کچھ نہیں دیا اب جب کہ اس واقعہ کوکئی سال گزر چکے ہیں اور جس رقم کی وصیت کی گئی تھی اس کی قیمت کافی کم ہو گئی ہے اس وقت اسکے بھائی نے وصیت شدہ رقم ادا کرنے کیلئے آمادگی کا اظہار کیا ہے لیکن اس کی بہن وہ رقم موجودہ قیمت کے مطابق طلب کرتی ہے اور اسکا بھائی اسے ادا کرنے سے انکار کرتا ہے اور بہن پر سود مانگنے کا الزام لگاتاہے اس مسئلہ کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
    ج : اگر جائیداد بیٹے کی تحویل میں دینے اور بیٹیوں کو معین رقم دینے کی وصیت صحیح اورشرعی طریقے سے انجام پائی ہو تو بہنوں میں سے ہرا یک اسی رقم کی مستحق ہے جسکی وصیت کی گئی ہے لیکن اگر ادا کرتے وقت رقم کی قیمت اس قیمت سے کم ہوگئی ہو جو وصیت کرنے والے کے فوت ہونے کے وقت تھی تو احوط یہ ہے کہ دونوں اس مقدار کے تفاوت کےسلسلے میں با ہمی طور پر مصالحت کریں اور یہ سود کے حکم میں نہیں ہے ۔
     
    س ١٨7٤: میرے ماں باپ نے اپنی زندگی میں اپنے سب بچوں کے سامنے اپنے اموال کے ایک تہائی حصے کے عنوان سے اپنی زرعی زمین کا ایک قطعہ مختص کیا تا کہ انکی وفات کے بعد اس سے کفن ، دفن اور قضا نمازوں اور روزوں وغیرہ کے اخراجات میں استفادہ کیا جائے چونکہ میں انکا تنہا بیٹاہوں لہذا اس کے متعلق انہوں نے مجھے وصیت کی اورچونکہ انکی وفات کے بعدانکے پاس نقد رقم نہیں تھی لذا ان تمام امور کو انجام دینے کیلئے میں نے اپنی طرف سے رقم خرچ کی کیا اب میں وہ رقم مذکورہ ایک تہائی حصے سے لے سکتا ہوں۔
    ج: جو کچھ آپ نے میت کیلئے خرچ کیا ہے اگر وہ اس نیت سے خرچ کیا ہو کہ اسے وصیت نامہ کے مطابق اسکے ایک تہائی اموال سے لے لوں گا تو آپ لے سکتے ہیں ورنہ جائز نہیں ہے۔
     
    س ١٨7٥: ایک شخص نے وصیت کی کہ اگر اسکی بیوی اسکے مرنے کے بعد شادی نہ کرے تو جس گھر میں وہ رہتی ہے اسکا تیسرا حصہ اسکی ملکیت ہے اور اس بات کے پیش نظر کہ اسکی عدت کی مدت گزر گئی ہے اور اس نے شادی نہیں کی اور مستقبل میں بھی اسکے شادی کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تو وصیت کرنے والے کی وصیت پر عمل کے سلسلے میں وصی اوردیگر ورثا کی ذمہ داری کیا ہے؟
    ج: ان پر واجب ہے کہ فی الحال جسکی وصیت کی گئی ہے وہ ملک اسکی بیوی کو دے دیں لیکن اسکی شرط یہ ہے کہ وہ دوسری شادی نہ کرے چنانچہ اگر بعد میں وہ شادی کرلے تو ورثاء کو فسخ کرنے اور ملک واپس لینے کا حق ہوگا۔
     
    س ١٨7٦: جب ہم نے باپ کی وہ میراث تقسیم کرنے کاارادہ کیا جو اسے اپنے باپ سے ملی تھی اور جو ہمارے ،ہمارے چچا اور ہماری دادی کے درمیان مشترک تھی اور انہیں بھی وہ مال ہمارے دادا کی طرف سے وراثت میں ملاتھا تو انھوں نے دادا کا تیس سال پرانا وصیت نامہ پیش کیا جس میں دادی اور چچا میں سے ہر ایک کو میراث سے انکے حصے کے علاوہ ، معین مقدار میں نقد رقم کی بھی وصیت کی گئی تھی لیکن ان دونوں نے مذکورہ رقم کو اسکی موجودہ قیمت میں تبدیل کرکے مشترکہ اموال سے وصیت شدہ رقم سے کئی گنا زیادہ اپنے لیئے مخصوص کرلیا ہے کیا انکا یہ کام شرعی طور پر صحیح ہے؟
    ج: احتیاط یہ ہے کہ رقم کی قیمت کے تفاوت کے متعلق با ہمی طور پر مصالحت کریں۔
     
    س ١٨7٧: ایک شہید عزیز نے وصیت کی ہے کہ جو قالین اس نے اپنے گھر کیلئے خریدا ہے اسے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے حرم کو ہدیہ کردیا جائے ، اسوقت اگر اسکی وصیت پر عمل کے امکان تک اس قالین کو ہم اپنے گھر میں رکھیں تو اسکے ضائع ہونے کا خوف ہے ۔ کیا نقصان سے بچنے کیلئے اس سے محلہ کی مسجد یا امام بارگاہ میں استفادہ کر سکتے ہیں؟
    ج: اگر وصیت پر عمل کرنے کا امکان پیدا ہونے تک قالین کی حفاظت اس بات پر موقوف ہو کہ اسے وقتی طور پر مسجد یا امام بارگاہ میں استعمال کیا جائے تو اس میں اشکال نہیں ہے۔
     
    س ١٨7٨: ایک شخص نے وصیت کی کہ اسکی بعض املاک کی آمدنی کی ایک مقدار مسجد ، امام بارگاہ ، دینی مجالس اور نیکی کے دیگر کاموں میں خرچ کی جائے لیکن اسکی مذکورہ ملک اور دوسری املاک غصب ہوگئی ہیں اور انکے غاصب سے واپس لینے کیلئے خرچ کرنے کی ضرورت ہے کیا ان اخراجات کااسکی وصیت کردہ مقدار سے وصول کرنا جائز ہے؟ اور کیاصرف ملک کے غصب سے آزاد ہونے کا امکان وصیت کے صحیح ہونے کیلئے کافی ہے؟
    ج: غاصب کے قبضہ سے املاک واپس لینے کے اخراجات وصیت شدہ ملک سے وصول کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور کسی ملک کے بارے میں وصیت کے صحیح ہونے کیلئے اس کا وصیت کے مورد میں قابل استفادہ ہونا کافی ہے اگر چہ یہ غاصب کے ہاتھ سے مال واپس لینے اور اس کیلئے خرچ کرنے کے بعد ہی ممکن ہو۔
     
    س ١٨7٩: ایک شخص نے اپنے تمام منقولہ اور غیر منقولہ اموال کی اپنے بیٹے کیلئے وصیت کی اور یوں اس نے چھ بیٹیوں کو میراث سے محروم کردیا کیا یہ وصیت نافذ اور قابل عمل ہے؟ اور اگر قابل عمل نہیں ہے تو ان اموال کو چھ بیٹیوں اور ایک بیٹے کے درمیان کیسے تقسیم کیا جائے؟
    ج: اجمالی طور پر مذکورہ وصیت کے صحیح ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن وہ میراث کے صرف تیسرے حصے میں نافذ ہے اور اس سے زائد مقدار میں تمام ورثاء کی اجازت پرموقوف ہے ۔ نتیجتاً اگر بیٹیاں اسکی اجازت سے انکار کریں تو ان میں سے ہر ایک ترکہ کے باقیماندہ دو تہائی میں سے اپنا حصہ لے گی لہذا اس صورت میں باپ کا مال چو بیس حصوں میں تقسیم ہوگا اور اس میں سے بیٹے کا حصہ وصیت شدہ مال کے ایک تہائی کے عنوان سے ٢٤/٨اور باقی ماندہ دو تہائی (٢٤/١٦)میں سے بیٹے کا حصہ ٢٤/٤ہوگا اور بیٹیوں میں سے ہرایک کا حصہ ٢٤/٢ ہوگا اور باالفاظ دیگر پورے ترکے کا آدھا حصہ بیٹے کا ہے اور دوسرا آدھا حصہ چھ بیٹیوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔
  • غصب
  • بالغ ہونے کے علائم اور حَجر
  • مضاربہ
  • بینک
  • بیمہ (انشورنس)
  • سرکاری اموال
  • وقف
  • قبرستان کے احکام
700 /