ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
    • نائب کے شرائط
    • منوبٌ‌عنه کے شرائط
    • نیابت کے احکام
    • نیابت سے متعلق چند استفتائات
      پرنٹ  ;  PDF
       
      نیابت سے متعلق چند استفتائات

       

      سوال 117:کوئی شخص  مدینہ منورہ میں کسی کو اپنے والد کے لیے حج میقاتی کے لیے اجیر بنائے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ مسجد شجرہ سے احرام باندھنا ہے یا کسی اور میقات سے، تو کیا اجیر مسجد شجرہ سے عمرہ مفردہ کی نیت سے احرام باندھ سکتا ہے، پھر جحفہ یا قرن المنازل جا کر عمرہ تمتع نیابتی کے لیے احرام باندھ لے؟
      جواب: ہاں، وہ مسجد شجرہ سے عمرہ مفردہ کا احرام باندھ سکتا ہے اور بعد میں حج نیابتی کے لیے پانچ معروف میقاتوں میں سے کسی سے احرام باندھ سکتا ہے، مگر یہ کہ مدینہ میں اجیر بنانا قرینہ ہو کہ احرام مسجد شجرہ سے ہی باندھنا چاہیے۔

       

      سوال 118: ایک شخص نے حج کے لیے رجسٹریشن کروائی اور وصیت کی کہ اس کا بیٹا اس کے  کوٹے سے نیابتی حج کرے۔باپ کی موت کے بعد بیٹے کے پاس مالی استطاعت آ گئی، اور وہ صرف والد کےکوٹے سے حج پر جا سکتا ہےتو کیا باپ کے کوٹے پر وہ میقات پر پہنچ کر والد کی طرف سے نیابتی حج کرے یا اپنی طرف سے؟
      جواب: اگر حج میقاتی سے زائد اخراجات، مال کے ایک تہائی مقدار سے زیادہ نہ ہوں، یا ورثاء نے زائد اخراجات کی اجازت دے دی ہو،
      تو  اپنے والد کی نیابت میں حج کرنا چاہئے۔

       

      سوال 119: پچھلے مسئلے  میں اگر میت نے وصیت نہ کی ہو اور ورثا حج کا کوٹہ اس بیٹے کو دیں جو مالی استطاعت رکھتا ہے تاکہ وہ باپ کی طرف سے حج کرے، تو کیا وہ بیٹا جب میقات پہنچے تو اپنے باپ کی نیابت میں حج کرے یا خود مستطیع ہونے کی وجہ سے اپنے لیے؟
      جواب: اس صورت میں بھی چونکہ راستہ باپ کےکوٹے کی وجہ سے ہموار ہوا ہے لہذا نیابتی حج مقدم ہے۔

       

      سوال 120: گذشتہ دونوں مسئلوں میں اگر اس کا فریضہ نیابتی حج ہو  لیکن وہ اپنے لیے حج ادا کرے، تو کیا یہ اس کے حجة الاسلام کے لیے کافی ہوگا؟
      جواب: "حجة الاسلام" کے لیے کافی ہونا محلِ اشکال ہے۔

       

      سوال 121: اگر کسی کا باپ مستطیع تھا اور  وفات پا ئےاور بیٹا باپ کے کوٹے سے حج کے لیے روانہ ہو اور میقات پہنچ کر خود بھی مستطیع ہو جائے، کیا کرے؟ جبکہ نہ وصیت ہے نہ اسے نیابت کے لیے کہاگیا ہے  مثلاً وہی واحد وارث ہے اور راستہ صرف اسی ذریعے ممکن تھا۔
      جواب: اپنے لیے حج ادا کرے اور والد کی طرف سے کسی اور کو نائب بنائے۔

       

      سوال 122: جو شخص حج کے بعض اعمال جیسے طواف، رمی جمرات، قربانی وغیرہ نیابتاً انجام دے رہا ہو، کیا اس کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے؟
      جواب: ضروری نہیں۔

       

      سوال 123: اگر کوئی شخص میقات پر احرام باندھتے وقت ایک خاص فرد کی نیابت کی نیت کرے، لیکن حج کے اعمال انجام دیتے وقت دانستہ یا بھول کر کسی اور کی نیت کرے، تو کیا حکم ہے؟
      جواب: کافی نہیں ہے اور واجب  ہے کہ نائب نے محرم ہوتے وقت جو نیت کی ہے اعمال نیابتی بھی اسی کے مطابق انجام دے۔

       

      سوال 124: اگر کوئی شخص عمرہ یا حج یا مخصوصا طواف کے لیے اجیر ہو تو کیا وہ کسی اور کی طرف سے (بلامعاوضہ یا معاوضہ کے ساتھ) قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے؟
      جواب: کوئی اشکال نہیں۔

       

      سوال 125: اگر نائب جان بوجھ کر دن میں رمی جمرات ترک کر دے، تو اس کی نیابت کا کیا حکم ہے؟
      جواب: رمی جمرات حج کے اعمال میں سے ہے، اگر صحیح طریقے سے انجام نہ دے تو  اس کی نیابت صحیح ہونے میں اشکال ہے، خاص طور پر اگر ایام تشریق میں اس کی قضا نہ کرے۔

       

      سوال 126: اگر نائب حج کا عمل مکمل کرنے سے پہلے منوبٌ‌عنه کا عذر ختم ہو جائے تو کیا نائب کا حج کافی ہوگا؟
      جواب: کافی نہیں ہوگا۔

       

      127: اگر اجارہ مطلق ہو (یعنی نہ ذمہ بری کرنے کی قید ہواور نہ اعمال کی قید ہو) اور اجیر احرام باندھنے اور حرم میں داخل ہونے کے بعد فوت ہو جائے، تو کیا وہ پوری اجرت کا حقدار ہے یا اجرت تقسیم ہوگی؟
      جواب: اگر اجارہ منوب عنہ کو ذمہ  بری کرنے کے لیے ہو، جیسا کہ حج کے اجاروں میں عام طور پر ہوتا ہے، تو وہ پوری اجرت کا مستحق ہے۔

       

      سوال 128: نائب وقت کے ایک حصے میں عمل نیابتی انجام دینے کی توانائی رکھتا تھا اور  وقت وسیع ہونے کے باوجود نائب عمل نیابتی انجام نہ دے اور بعد میں عمل انجام دینا ناممکن ہوجائے مثلا بارہویں تاریخ کے ظہر تک رمی جمرات انجام دے سکتا تھا لیکن تاخیر کی اور ظہر کے بعد رش ، بیماری یا کسی اور وجہ سے انجام نہیں دے سکے یا مکہ کے اعمال کو چند روز موخر کیا اس کے بعد بیماری یا کسی اور وجہ سے انجام نہیں دے سکے تو نیابت کا کیا حکم ہے؟
      جواب: اگر اجارہ اسی سال کے لیے ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے، بیشتر احتیاط یہ ہے کہ قضا ہونے والے عمل کے لیے نائب مقرر کرے اور اجرت کے بارے میں مستأجر سے مصالحت کرے۔ اگر اجارہ کسی خاص سال کے لیے نہ ہو تو احتیاط واجب کی بناپرنیابتی حج کو  آئندہ سال ادا کرے۔

       

      سوال 129: اگر نائب جانتا ہو کہ وہ "حجِ تمتع" کے لیے اجیر بنا ہے، لیکن یہ نہیں جانتا کہ "حجة الاسلام کے لئے نائب بنا ہے یا حج  نذری یا مستحب حج کے لیے،  تو اگر وہ منوب عنہ کے لئے حج تمتع کی نیت کرے یا اس حج کی نیت کرے  جس کے لیے اجیر بنا ہے، تو کیا یہ کافی اور صحیح ہے؟
      جواب: جس حج کے لئے نائب بنا ہے اس کی اجمالی نیت کافی ہے۔

       

      سوال 130: جن افراد کے لئے خواتین یا کمزوروں کے ساتھ شب عید کو  آدھی رات  کے وقت منیٰ جانا لازمی ہے،چنانچہ  انہیں معلوم ہو کہ وقوفِ اختیاری کے لیے مشعر واپس آ سکتے ہیں، تو کیا وہ نیابتی حج کر سکتے ہیں؟
      جواب: اگر واپس آنے کی صورت میں طلوع فجر سے طلوع آفتاب کے درمیان وقوف کو درک کرسکتا ہے تو نیابت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

       

  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
700 /