شریعتِ اسلام میں حج مخصوص عبادتوں کا ایک مجموعہ ہے، جو اسلام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے: «بُنِیَ اَلْإِسْلاَمُ عَلَی خَمْسٍ عَلَی اَلصَّلاَةِ وَ اَلزَّکَاةِ وَ اَلصَّوْمِ وَ اَلْحَجِّ وَ اَلْوَلاَیَة»[1]
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: نماز، زکات، روزہ، حج اور ولایت۔
حج خواہ واجب ہو یا مستحب، بڑی فضیلت اور بےشمار اجر و ثواب کا حامل ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے پاک اہل بیت )علیہم السلام( سے حج کی فضیلت میں بہت سی روایات منقول ہیں۔ امام جعفر صادق )علیہ السلام( فرماتے ہیں: «الْحَاجُّ وَ الْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ إِنْ سَأَلُوهُ أَعْطَاهُمْ وَ إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ وَ إِنْ شَفَعُوا شَفَّعَهُمْ وَ إِنْ سَکَتُوا ابْتَدَأَهُمْ وَ یُعَوَّضُونَ بِالدِّرْهَمِ أَلْفَ أَلْفِ دِرْهَمٍ.»[2]
حج اور عمرہ ادا کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اگر کچھ مانگیں تو اللہ عطا کرتا ہے؛ دعا کریں تو مستجاب ہوتی ہے؛ کسی کے حق میں شفاعت کریں تو اللہ قبول کرتاہے اور اگر کچھ نہ کہیں تو بھی اللہ خود ان پر کرم فرماتا ہے اور (حج پر خرچ ہونے والے ) ایک درہم کے بدلے اللہ اسے دس لاکھ درہم عطا کرتا ہے۔
حج دین اسلام کے اہم ترین واجبات اور شریعت کے ارکان میں سے ہے اور ایک ایسا فریضہ ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ گویا دین کے تمام فردی، اجتماعی، زمینی، آسمانی، تاریخی اور عالمی پہلوؤں کو حج میں سمیٹنا مقصود ہے۔ حج میں ایسی معنویت ہے جو تنہائی یا گوشہ نشینی سے دور ہے؛ ایسا اجتماع ہے جس میں لڑائی جھگڑا، بدگوئی اور بدخواہی کا شائبہ نہیں۔ ایک طرف انسان کا دل اللہ سے راز و نیاز، دعا اور ذکر سے لبریز ہوتا ہے، تو دوسری طرف لوگوں سے محبت اور تعلق بھی برقرار رہتا ہے۔
حاجی ایک آنکھ سے ماضی میں جھانکتا ہے اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اورحضرت ہاجرہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور رسول خدا کا فاتحانہ انداز میں ا بتدائے اسلام کے مومنین کے جھرمٹ میں مسجد الحرام میں داخل ہونےکے مناظر کو خیال میں لاتا ہے اور دوسری آنکھ سے اپنے آس پاس مؤمنوں کا جم غفیر دیکھتا ہے، جو سب ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے متمسک ہیں۔
حج پر غور و فکر کرنے سے انسان اس یقین پر پہنچتا ہے کہ دین کے بہت سے اہداف اوربشریت کے لئے اس کی آرزوئیں اس وقت پورے ہو سکتی ہیں جب اہل ایمان آپس میں تعاون، یکجہتی اور ہم آہنگی کا جذبہ پیدا کریں۔اگر باہمی تعاون اور ہمدلی کا یہ جذبہ قائم ہو جائے، تو دشمنوں کی سازشیں کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔
مسئلہ 96۔ جو شخص حج بجالانے کے لئے نائب بنتا ہے، اس کے لئے درج ذیل شرائط کا حامل ہونا ضروری ہے:
1. احتیاط واجب کی بنا پر بالغ ہو
2. عاقل ہو
3. مورد وثوق اور قابل اعتماد ہو کہ حج کے اعمال کو بجالائے گا۔
4. احتیاط واجب کی بناپر شیعہ ہو
5. حج کے اعمال و احکام سے واقف ہو یا حج کے دوران کاروان کے مذہبی سالار کی رہنمائی میں یا مناسک حج کی کتاب سے ان اعمال کو سیکھ لے۔
بہرحال اگر حج کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے اعمال درست طور پر انجام دیے ہیں تو کافی ہے۔
6. اس سال اس پر خود حج واجب نہ ہو۔ ہاں! اگر نائب کو معلوم نہ ہو کہ اس پر خود حج واجب ہے، تو اس کا حج نیابتی کاصحیح ہونا بعید نہیں ۔
7. حج کے اعمال کو مکمل انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو یعنی کسی عذر کی وجہ سے حج کے بعض اعمال کو ترک کرنے کا مجاز نہ ہو پس مثلاً اگر کوئی شخص طواف کی نماز میں صحیح قرائت کرنے کی بالکل بھی صلاحیت نہیں رکھتاہو تو اس کا نائب ہونا صحیح نہیں اور اگر صحیح قرائت سیکھ سکتا ہو تو اس پر سیکھنا واجب ہے۔
مسئلہ 97۔ جب یہ بات ثابت ہو جائے کہ نائب نے حج انجام دے دیا ہے تو اس کے عمل کی صحت کا اطمینان حاصل کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کے عمل کو صحیح سمجھا جائے گا۔
مسئلہ 98۔ منوبٌعنه[1] درج ذیل شرائط کا حامل ہونا چاہئے:
1. مسلمان ہو لہٰذا کسی کافر کی نیابت میں حج کرنا درست نہیں۔
2. واجب حج میں نیابت اس صورت میں صحیح ہے جب منوبٌعنه فوت ہو چکا ہو یا بڑھاپا یا بیماری کی وجہ سے آئندہ سالوں میں بھی بغیر مشقت کے حج انجام دینے کی توانائی نہ رکھتا ہو البتہ مستحب حج میں نیابت ہرحال میں جائز ہے۔
مسئلہ 99۔ منوبٌعنه کے لیے عاقل یا بالغ ہونا شرط نہیں ہے۔
مسئلہ 100۔ مرد کا عورت کی طرف سےنائب ہونا اور عورت کا مرد کی طرف سے نائب ہونا صحیح ہے۔
مسئلہ 101۔ صروره (یعنی وہ شخص جس نے آج تک خود حج نہیں کیا) دوسرے صروره یا غیر صروره کا نائب بن سکتا ہے، خواہ نایب یا منوبٌعنه مرد ہو یا عورت۔
مسئلہ 102۔حج نیابتی میں نیابت کی نیت اور منوبٌعنه کی تعیین خواہ اجمالی طور پرکیوں نہ ہو، شرط ہےالبتہ زبان پر جاری کرنا ضروری نہیں۔
مسئلہ 103۔ ایسے شخص کو اجیربنانا درست نہیں جس کا وظیفہ وقت کی تنگی کی وجہ سے حجِ تمتع سے حجِ افراد کی طرف عدول کرنا ہو البتہ اگر نایب کو اس وقت اجیر کیا گیا ہو جب وقت کافی تھا اس کے بعد اتفاقا وقت تنگ ہوجائے تو واجب ہے کہ حجِ افراد کی نیت سے احرام باندھے یا حجِ افراد کی طرف عدول کرے اور اس کا یہ عمل منوبٌعنه کے حجِ تمتع کے لئے کافی ہوگا اور وہ اجرت کا مستحق ہوگا۔
مسئلہ 104۔ اگر کوئی شخص معین اجرت پر حج کیلئے اجیر بن جائے اور اجرت حج کے اخراجات سے کم ہو تو اجیر کرنے والے پر اس کمی کو پورا کرنا واجب نہیں ہے اسی طرح اگر ادا کی گئی رقم میں سے کچھ بچ جائے تو اسے واپس لینے کا حق نہیں ہے۔
مسئلہ 105۔ جن موارد میں نائب کا حج منوب عنہ کیلئے کفایت نہ کرے چنانچہ اسی سال حج بحا لانے کے لئے اجیر بنا ہو تو اجیربنانے والےکو اجرت واپس کرنا واجب ہے۔ بصورت دیگر تو لازم ہے کہ اگلے سالوں میں دوبارہ حج بجالائے۔
مسئلہ 106۔ جو شخص حج کے بعض اعمال انجام دینے سے معذور ہو، حج نیابتی کے لئے اجیر نہیں بن سکتا ہے۔ اور معذور اس شخص کو کہتے ہیں جو حج کے اختیاری اعمال جیسے تلبیہ اور طواف اور سعی میں اپنے پاؤں پر چلنے، نماز طواف کو صحیح طریقے سے بجالانے، اپنے ہاتھ سے رمی جمرات، مقررہ وقت میں عرفات اور مشعر میں وقوف اور منی میں رات گزارنے پر قادر نہ ہواس طرح کہ اس کے نتیجے میں حج کے بعض اعمال ناقص رہ جائیں۔ لیکن اگر عمل ناقص ہونے پر منتج نہ ہوجائے اور فقط احرام کے بعض محرمات کے ارتکاب میں معذور ہو تو اس کی نیابت صحیح ہے۔
مسئلہ 107۔ اگر نیابتی حج کے دوران نائب معذور ہوجائے اور اس کا عذر حج کے اعمال ناقص ہونے کا باعث بنے تو اجارہ کا باطل ہو جانا بعید نہیں ہے ۔ اور احتیاط واجب یہ ہے کہ منوب عنہ کی طرف سے دوبارہ حج بجالائے اور نائب اور منوب عنہ کے درمیان اجرت پرمصالحت ہونی چاہئے۔
مسئلہ 108۔ جو لوگ مشعر الحرام میں اختیاری وقوف سے معذور ہیں ان کا نائب بننا صحیح نہیں ہے اور اگر ایسے لوگ نائب بن جائیں تو وہ اجرت کے مستحق نہیں ہوں گے[1] مثلا کار وانوں کے خدمت گزار جن کو معذور افراد کی ہمراہی کرنا ضروری ہے یا کاروان کے انتظامات کی انجام دہی کے لئے طلوع فجر سے پہلے مشعر سے منی کی طرف نکلنا پڑتا ہے۔ اگر یہ افراد نیابتی حج انجام دینے کے لئے اجیر بنیں تو وہ ضرور اختیاری وقوف انجام دیں اور حج بجا لائیں ۔
مسئلہ 109۔ معذور نائب کا حج کافی نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ اجیر ہو یا مفت میں حج انجام دے رہا ہو۔ اس میں بھی کوئی فرق نہیں ہے کہ خود نائب اپنے معذور ہونے سے لاعلم ہو یا نائب بنانے والا اس بات سے لاعلم ہو؛ اسی طرح کوئی فرق نہیں ہے نائب اس عذر کی وجہ سے نیابت صحیح نہ ہونے سے لاعلم ہو یا نائب بنانے والا اس سے لاعلم ہو مثلا نہیں جانتا ہو کہ نائب مشعر الحرام میں وقوف اضطراری پر اکتفا نہیں کرسکتا ہے۔
مسئلہ 110۔ نایب کو حج کے اعمال انجام دینے میں اپنے مرجعِ تقلید کے فتوے کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔
مسئلہ 111۔ اگر نایب احرام باندھنے اور حرم میں داخل ہونے کے بعد فوت ہو جائے تو حج منوبٌعنه پرسے حج ساقط ہوگا لیکن اگر احرام کے بعد اور حرم میں داخل ہونے سے پہلے فوت ہوجائے تو احتیاط واجب کی بناپر حج کافی نہیں ہوگا، خواہ نیابت مفت ہو یا اجرت پر، حجۃ الاسلام ہو یا کوئی دوسرا واجب حج۔
مسئلہ 112۔ اگر نایب احرام باندھنے اور حرم میں داخل ہونے کے بعد فوت ہوجائےچنانچہ وہ منوبٌعنه کا فریضہ ادا کرنے کے لئے نائب بنا تھا چنانچہ اجارہ کے اطلاق سے یہی ظاہر ہوتا ہے، لہذا وہ پوری اجرت کا مستحق ہوگا جوکہ اس کے ورثاء کو دی جائے۔
مسئلہ 113۔ جو شخص کسی دوسرے کی طرف سے حج پر گیا ہو اور اس نے خود اپنی طرف سے حجۃ الاسلام ادا نہ کیا ہوتو مستحب احتیاط یہ ہے کہ وہ حج کے اعمال مکمل کرنے کے بعد اگر ممکن ہو تو مکہ میں اپنی طرف سے عمرہ مفردہ انجام دے۔
مسئلہ 114۔ نایب حج نیابتی مکمل کرنے کے بعد اپنی طرف سے یا کسی اور کی طرف سے طواف یا عمرہ مفردہ کر سکتا ہے۔
مسئلہ 115۔ جس طرح احتیاط واجب کی بناپر خود نیابت میں ایمان (شیعہ ہونا) شرط ہے،اسی طرح ان اعمال میں بھی احتیاط واجب کی بناپر یہی شرط ہے جن میں نیابت جائز ہے، جیسے طواف، رمی اور قربانی[2]۔
مسئلہ 116۔ نایب پر واجب ہے کہ حج کے اعمال اور طوافِ نساءمنوبٌعنه کی نیابت کی نیت سے انجام دے۔
[1] خواتین معذور شمار نہیں ہوتیں ان کے نائب ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
[2] قربانی میں ایمان شرط ہونے کے بارے میں مسئلہ 514 کی طرف رجوع کیا جائے۔
سوال 117:کوئی شخص مدینہ منورہ میں کسی کو اپنے والد کے لیے حج میقاتی کے لیے اجیر بنائے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ مسجد شجرہ سے احرام باندھنا ہے یا کسی اور میقات سے، تو کیا اجیر مسجد شجرہ سے عمرہ مفردہ کی نیت سے احرام باندھ سکتا ہے، پھر جحفہ یا قرن المنازل جا کر عمرہ تمتع نیابتی کے لیے احرام باندھ لے؟
جواب: ہاں، وہ مسجد شجرہ سے عمرہ مفردہ کا احرام باندھ سکتا ہے اور بعد میں حج نیابتی کے لیے پانچ معروف میقاتوں میں سے کسی سے احرام باندھ سکتا ہے، مگر یہ کہ مدینہ میں اجیر بنانا قرینہ ہو کہ احرام مسجد شجرہ سے ہی باندھنا چاہیے۔
سوال 118: ایک شخص نے حج کے لیے رجسٹریشن کروائی اور وصیت کی کہ اس کا بیٹا اس کے کوٹے سے نیابتی حج کرے۔باپ کی موت کے بعد بیٹے کے پاس مالی استطاعت آ گئی، اور وہ صرف والد کےکوٹے سے حج پر جا سکتا ہےتو کیا باپ کے کوٹے پر وہ میقات پر پہنچ کر والد کی طرف سے نیابتی حج کرے یا اپنی طرف سے؟
جواب: اگر حج میقاتی سے زائد اخراجات، مال کے ایک تہائی مقدار سے زیادہ نہ ہوں، یا ورثاء نے زائد اخراجات کی اجازت دے دی ہو،
تو اپنے والد کی نیابت میں حج کرنا چاہئے۔
سوال 119: پچھلے مسئلے میں اگر میت نے وصیت نہ کی ہو اور ورثا حج کا کوٹہ اس بیٹے کو دیں جو مالی استطاعت رکھتا ہے تاکہ وہ باپ کی طرف سے حج کرے، تو کیا وہ بیٹا جب میقات پہنچے تو اپنے باپ کی نیابت میں حج کرے یا خود مستطیع ہونے کی وجہ سے اپنے لیے؟
جواب: اس صورت میں بھی چونکہ راستہ باپ کےکوٹے کی وجہ سے ہموار ہوا ہے لہذا نیابتی حج مقدم ہے۔
سوال 120: گذشتہ دونوں مسئلوں میں اگر اس کا فریضہ نیابتی حج ہو لیکن وہ اپنے لیے حج ادا کرے، تو کیا یہ اس کے حجة الاسلام کے لیے کافی ہوگا؟
جواب: "حجة الاسلام" کے لیے کافی ہونا محلِ اشکال ہے۔
سوال 121: اگر کسی کا باپ مستطیع تھا اور وفات پا ئےاور بیٹا باپ کے کوٹے سے حج کے لیے روانہ ہو اور میقات پہنچ کر خود بھی مستطیع ہو جائے، کیا کرے؟ جبکہ نہ وصیت ہے نہ اسے نیابت کے لیے کہاگیا ہے مثلاً وہی واحد وارث ہے اور راستہ صرف اسی ذریعے ممکن تھا۔
جواب: اپنے لیے حج ادا کرے اور والد کی طرف سے کسی اور کو نائب بنائے۔
سوال 122: جو شخص حج کے بعض اعمال جیسے طواف، رمی جمرات، قربانی وغیرہ نیابتاً انجام دے رہا ہو، کیا اس کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے؟
جواب: ضروری نہیں۔
سوال 123: اگر کوئی شخص میقات پر احرام باندھتے وقت ایک خاص فرد کی نیابت کی نیت کرے، لیکن حج کے اعمال انجام دیتے وقت دانستہ یا بھول کر کسی اور کی نیت کرے، تو کیا حکم ہے؟
جواب: کافی نہیں ہے اور واجب ہے کہ نائب نے محرم ہوتے وقت جو نیت کی ہے اعمال نیابتی بھی اسی کے مطابق انجام دے۔
سوال 124: اگر کوئی شخص عمرہ یا حج یا مخصوصا طواف کے لیے اجیر ہو تو کیا وہ کسی اور کی طرف سے (بلامعاوضہ یا معاوضہ کے ساتھ) قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے؟
جواب: کوئی اشکال نہیں۔
سوال 125: اگر نائب جان بوجھ کر دن میں رمی جمرات ترک کر دے، تو اس کی نیابت کا کیا حکم ہے؟
جواب: رمی جمرات حج کے اعمال میں سے ہے، اگر صحیح طریقے سے انجام نہ دے تو اس کی نیابت صحیح ہونے میں اشکال ہے، خاص طور پر اگر ایام تشریق میں اس کی قضا نہ کرے۔
سوال 126: اگر نائب حج کا عمل مکمل کرنے سے پہلے منوبٌعنه کا عذر ختم ہو جائے تو کیا نائب کا حج کافی ہوگا؟
جواب: کافی نہیں ہوگا۔
127: اگر اجارہ مطلق ہو (یعنی نہ ذمہ بری کرنے کی قید ہواور نہ اعمال کی قید ہو) اور اجیر احرام باندھنے اور حرم میں داخل ہونے کے بعد فوت ہو جائے، تو کیا وہ پوری اجرت کا حقدار ہے یا اجرت تقسیم ہوگی؟
جواب: اگر اجارہ منوب عنہ کو ذمہ بری کرنے کے لیے ہو، جیسا کہ حج کے اجاروں میں عام طور پر ہوتا ہے، تو وہ پوری اجرت کا مستحق ہے۔
سوال 128: نائب وقت کے ایک حصے میں عمل نیابتی انجام دینے کی توانائی رکھتا تھا اور وقت وسیع ہونے کے باوجود نائب عمل نیابتی انجام نہ دے اور بعد میں عمل انجام دینا ناممکن ہوجائے مثلا بارہویں تاریخ کے ظہر تک رمی جمرات انجام دے سکتا تھا لیکن تاخیر کی اور ظہر کے بعد رش ، بیماری یا کسی اور وجہ سے انجام نہیں دے سکے یا مکہ کے اعمال کو چند روز موخر کیا اس کے بعد بیماری یا کسی اور وجہ سے انجام نہیں دے سکے تو نیابت کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر اجارہ اسی سال کے لیے ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر باطل ہے، بیشتر احتیاط یہ ہے کہ قضا ہونے والے عمل کے لیے نائب مقرر کرے اور اجرت کے بارے میں مستأجر سے مصالحت کرے۔ اگر اجارہ کسی خاص سال کے لیے نہ ہو تو احتیاط واجب کی بناپرنیابتی حج کو آئندہ سال ادا کرے۔
سوال 129: اگر نائب جانتا ہو کہ وہ "حجِ تمتع" کے لیے اجیر بنا ہے، لیکن یہ نہیں جانتا کہ "حجة الاسلام کے لئے نائب بنا ہے یا حج نذری یا مستحب حج کے لیے، تو اگر وہ منوب عنہ کے لئے حج تمتع کی نیت کرے یا اس حج کی نیت کرے جس کے لیے اجیر بنا ہے، تو کیا یہ کافی اور صحیح ہے؟
جواب: جس حج کے لئے نائب بنا ہے اس کی اجمالی نیت کافی ہے۔
سوال 130: جن افراد کے لئے خواتین یا کمزوروں کے ساتھ شب عید کو آدھی رات کے وقت منیٰ جانا لازمی ہے،چنانچہ انہیں معلوم ہو کہ وقوفِ اختیاری کے لیے مشعر واپس آ سکتے ہیں، تو کیا وہ نیابتی حج کر سکتے ہیں؟
جواب: اگر واپس آنے کی صورت میں طلوع فجر سے طلوع آفتاب کے درمیان وقوف کو درک کرسکتا ہے تو نیابت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
سوال 602- حال ہی میں حج و زیارت کے ادارے اور بینک ملی ایران کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے مطابق حج تمتع کے خواہشمند حضرات بینک میں اپنے نام سے مخصوص اکاؤنٹ میں ایک ملین تومان بطور مضاربہ جمع کراتے ہیں اور رسید حاصل کرتے ہیں۔ یہ رقم حج سے مشرف ہونے تک اس شخص کے اکاؤنٹ میں باقی رہتی ہے اور مکتوب قرارداد کے مطابق اکاؤنٹ والے کو ہر سال کے اختتام پر مضاربہ کے سود کے عنوان سے کچھ منافع بھی دیا جاتا ہے۔ادارہ حج جلدی رجسٹریشن کروانے والوں کو ترجیح دیتا ہے اور تقریبا تین سال بعد لوگوں کی نوبت کا اعلان کیا جاتا ہے اور مائل ہونے کی صورت میں ان کو حج پر بھیجا جاتا ہے۔ جب حج پر جانے کا وقت آتا ہے تو مضاربہ کے اکاؤنٹ میں جمع اصلی رقم کو بینک سے دریافت کرتا ہے اور باقی اخراجات کے ساتھ ادارہ حج و زیارات کے اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہے اور حج سے مشرف ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ چونکہ معاہدہ مکتوب ہے اور پیسے کے مالک اور بینک کے درمیان کوئی گفتگو نہیں ہوتی پس صاحب مال کو مضاربہ کے منافع کے عنوان سے ملنے والی کچھ فیصد رقم کا کیا حکم ہے؟
جواب: بینک کے ساتھ مذکورہ طریقے (شرائط) کے مطابق تحریری معاہدہ کرنا بلا اشکال (جائز) ہے، اور مضاربہ سے حاصل ہونے والا منافع اکاونٹ والے کے لیے حلال ہے۔اصل رقم اگر غیر مخمس آمدنی سے ہو تو اس پر خمس ہے ۔اگر حج کا سفر کرنے سے پہلے سود قابل وصول نہ ہو تو جس سال وصول ہوجائے اس سال کی آمدنی کا حصہ ہوگا چنانچہ اسی سال حج کے اخراجات کے طور پر اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے تو خمس نہیں۔
سوال 603۔ مسجد الحرام کے فرش کو آب قلیل سے پاک کیا جاتا ہے، کیا مسجد کے فرش پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟
جواب:معمولا مسجد کے تمام مقامات کا نجس ہونا ثابت نہیں ہے اور اسکی تحقیق و جستجو بھی واجب نہیں بنا بر ایں مسجد کے فرش کے پتھروں پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔
سوال 604- جب مسجد الحرام خون، پیشاب یا کسی اور نجاست کی وجہ سے نجس ہو جاتی ہے اور ملازمین اس کو پاک کرنے کے لئے جو طریقہ اپناتے ہیں ہماری نظر میں اس طریقے سے پاک نہیں ہوتی ہے تو ایسی حالت میں جو نماز مسجد الحرام کی فرش (گیلی ہو یا خشک)پر پڑھی جاتی ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: جب تک سجدے کی جگہ نجس ہونے پر یقین نہ ہو تو نماز صحیح ہے۔
سوال 605-کیا کعبہ کے ارد گرد دائرے کی شکل میں (باقی شرائط کی رعایت کرتے ہوئے) نماز جماعت پڑھنا صحیح اور کافی ہے؟
جواب: جو شخص امام کے پیچھے یا اس کے دائیں یا بائیں کھڑا ہے، اس کی نماز صحیح ہے، اور احتیاط مستحب کی بنا پر جو شخص امام کے دائیں یا بائیں طرف کھڑا ہے اسے چاہئے کہ امام جماعت اور کعبہ کے درمیانی فاصلے کی رعایت کرے اور امام سے زیادہ کعبہ سے نزدیک نہ ہو، لیکن جو کعبہ کی دوسری طرف یعنی امام کے مد مقابل کھڑا ہے اس کی نماز صحیح نہیں۔
سوال 606- کیا قضا نماز میں اہل سنت کی اقتداصحیح ہے؟
جواب: صحیح نہیں۔
سوال 607- اذان اور اقامت کے دوران مسجد الحرام اور مسجد النبی سے باہر نکلنے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ اس وقت اہل سنت مسجد میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں اور ہمیں باہر نکلتے دیکھ کر باتیں کرتے ہیں اور عیب سمجھتے ہیں؟
جواب: اگر یہ کام دوسروں کی نظر میں اول وقت کی نماز کو کم اہمیت دینے کے مترادف ہو اور بالخصوص یہ بات مذہب کی توہین کا باعث بن رہی ہو توجائز نہیں ہے۔
سوال 608- جس شخص نے مکہ مکرمہ میں دس دن اقامت کی نیت کی ہے، وہ عرفات ، مشعر، منی اور اسی طرح ان کے درمیانی فاصلوں میں نماز کو قصر پڑھے گا یاپوری؟
جواب: اگر عرفات جانے سے پہلے اس نے مکہ میں دس روز قیام کا قصد کیا ہے تواقامت ثابت ہونے کے بعد جب تک وہ کوئی نیا سفر انجام نہ دے،اقامت کا حکم باقی ہےاور نماز پوری ہوگی۔ عرفات، مشعر الحرام اورمنی جانا سفر شمار نہیں ہوگا۔
سوال 609- نماز قصر پڑھنے یا پوری پڑھنے میں اختیار کا حکم پورے شہر مکہ اور مدینہ کے لئے ہے یا مسجد الحرام اور مسجد النبی سے مختص ہے؟ اور یہ کہ ان دونوں شہروں کے نئے اور پرانے محلوں کے درمیان کوئی فرق ہے یا نہیں؟
جواب : قصر اور کامل نماز کے درمیان اختیار ان دونوں مقدس شہروں کے تمام مقامات کے لئے ہے، اور نئے اور پرانے محلوں کے درمیان بھی کوئی فرق نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے دو نوںمقدس مساجد کے علاوہ دیگر مقامات پر دس دن کی اقامت کے بغیر نماز قصر پڑھے۔
سوال 610- کیا مسافر تخییری مقامات (مکہ و مدینہ) میں ظہر و عصر کی نفل نمازیں پڑھ سکتا ہے؟
جواب: اگر کوئی شخص تخییری مقامات پر پوری نماز ادا کرنا چاہے، تو وہ یومیہ نوافل بھی پڑھ سکتا ہے۔
سوال 611- جوشخص مشرکین سے برائت کے مراسم میں شرکت سے اجتناب کرے، اس کے حج کاکیا حکم ہے؟
جواب: اس عمل سے حج کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اگرچہ اپنے آپ کو خدا کے دشمنوں سے برائت کے اعلان کے مراسم میں شرکت کی فضیلت سے محروم کیا۔
سوال 612- کیا حیض یا نفاس کی حالت میں عورت مسجدالحرام اور سعی کے راستے کی مشترکہ دیوار پر بیٹھ سکتی ہے؟
جواب: کوئی اشکال نہیں مگر اس صورت میں جب دیوار کا مسجد الحرام کا حصہ ہونا ثابت ہوجائے۔
سوال 613- سیدہ اور غیر سیدہ عورتوں کے یائسہ ہونے کی عمر کیا ہے؟
جواب: یائسہ ہونے کی عمر معین کرنا محل تامل اور محل احتیاط ہے۔ اس مسئلے میں خواتین دوسرے مجتہد جامع الشرائط کی جانب رجوع کر سکتی ہیں۔
سوال 614- اگرکسی کو رؤیت ہلال میں اختلاف کی وجہ سے وقوف اور عید کے دنوں میں شک ہو تو کیا اس کے حج کا کیا حکم ہے؟ کیا دوبارہ حج کرنا ہوگا؟
جواب: اگر وہ اہل سنت کے مفتی کے حکم کے مطابق ذی الحج کی رؤیت پر عمل کرے توکافی ہے پس اگر باقی لوگوں کے ساتھ وقوفات انجام دے تو حج صحیح ہے۔
سوال 615۔ کیا مقام ابراہیم کے پیچھے قرآن کی تلاوت یا دعا اورمستحب نماز میں مشغول ہوکر طواف واجب کی نماز پڑھنے والوں کے لئے جگہ تنگ کرنا جائز ہے؟
جواب: اولیٰ بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب طواف واجب کی نماز کے لئے بھیڑ ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے مذکورہ عبادتیں انجام نہ دے۔
سوال 616۔ کیا مسجد النبی میں قالین پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سجدہ کے لئے ایسی چیز جس پر سجدہ صحیح ہے- کاغذیا چٹائی وغیرہ- کو سامنے رکھنے سے انسان مورد توجہ قرار پاتا ہے اور نمازی مغرضانہ نظروں کی زد میں آجاتا ہے اور مخالفوں کو مذاق اڑانے کا بہانہ مل جاتا ہے؟
جواب: جس جگہ تقیہ ضروری ہے وہاں پر انسان قالین اور اس جیسی چیزوں پر سجدہ کرے اور ضروری نہیں ہے کہ نماز کے لئے کسی اور جگہ چلا جائے، لیکن اگر اسی مقام پر بغیر زحمت اور تکلیف کے وہ پتھر یا چٹائی وغیرہ پر سجدہ کر سکتا ہو تو بنا بر احتیاط واجب انہی چیزوں پر سجدہ کرے۔
سوال 617۔ کیا مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی فرش کے پتھروں پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟ اور کلی طور پر کن پتھروں پر سجدہ کیا جاسکتا ہے؟ اور اینٹ اور مٹی کے برتن پر سجدہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: سنگ مرمر اور اس طرح کے دوسرے پتھر جنہیں تعمیرات یا عمارتوں کی تزئین و آرایش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح ۔ اینٹ ، چونا، مٹی کے برتن اور سیمنٹ پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔ عقیق، فیروزه، دُرّ وغیرہ پراگرچہ سجدہ بھی صحیح ہے، لیکن مستحب احتیاط یہ ہے کہ ان پر سجدہ نہ کیا جائے۔
سوال 618۔ ایسے پانی سے وضو کرنے کا کیا حکم ہے جو پینے سے مخصوص ہے؟
جواب: جس پانی کا مباح ہونامشکوک ہے، اس سے وضو کرنا صحیح نہیں۔
سوال 619۔ اگر اعلم مجتہد کسی مسئلے میں فتوی نہ دے بلکہ فقط احتیاط واجب قرار دے لیکن فالاعلم (اعلم کے بعد دوسرے مرتبے کا مجتہد)نے احتیاط کا فتوی نہیں دیا ہو تو کیا اعلم کے مقلد کے لئےیہ جاننا ضروری ہے کہ اعلم مجتہد نے اس مسئلہ کو احتیاط واجب قرار دیا ہے اور فالاعلم کی طرف رجوع کرنے کی نیت کرے یا یہی کافی ہے کہ اس نے اپنے شرعی وظیفے کو انجام دیا ہے اور اس کا عمل فالاعلم کے فتوی کے مطابق ہے؟
جواب: اگر اس کا عمل، انجام دیتے وقت ایسے مرجع کے فتوے کے مطابق ہو جس کی شرعی طور تقلید صحیح ہو اور اس مسئلے میں اس کی تقلید پر بنا رکھے تو کافی ہے۔
سوال 620۔ بعض مواقع پر بیت اللہ کے زائرین یا دوسرے مسافر نماز کے وقت ہوائی جہاز میں ہوتے ہیں۔ عام طور پر ہوائی جہاز میں نماز پڑھناطمانینہ اور استقرار کے لئے مانع بھی نہیں ہے۔ چنانچہ نماز کی دوسری شرائط مثلاً قیام، قبلہ، رکوع اور سجود وغیرہ کی رعایت کی جائے اور یہ جانتے ہوئے یا احتمال دیتے ہوئے کہ نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے مقصد تک پہنچیں گے اور جہاز سے اترنے کے بعد نماز ادا کر سکتے ہیں، کیا جہاز میں نماز ادا کرنا کافی ہے یا نماز میں تاخیر کرنا ضروری ہے اور اگر اس حالت میں نماز پڑھے اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی جہاز اتر جائے تو نماز کا دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے؟
جواب: اگر بدن کا ساکن ہونا اور استقرار اور رو بہ قبلہ ہونا ممکن ہو تو نماز صحیح اور کافی ہے بلکہ اول وقت کی فضیلت کو درک کرنے کے لئے افضل ہے۔
سوال 621۔ اگر کسی نے مستحب عمرۂ تمتع انجام دیا ہو، لیکن اب وہ حج تمتع انجام نہیں دے سکتا مثلاً ایام تشریق میں حاجیوں کی خدمت کے لئے مکہ میں رہنے کی ذمہ داری ہو تو اس کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: وہ مستحب عمرۂ تمتع چھوڑ سکتا ہےاور احتیاط مستحب ہے کہ طوافِ نساء انجام دے۔
سوال 622۔ اگر کوئی حج واجب ہونے کے بعد پاگل ہوجائے تو اس کے حج کے حوالے سےولی کا کیا وظیفہ ہے؟
جواب: اس کے حج کے حوالے سے ولی پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ اگربعد میں عاقل ہو جائے تو خود حج انجام دےورنہ مرنے کے بعد اس کے مال متروکہ سے نائب مقرر کیا جائے۔
سوال 623۔ ہمیں ایران میں کچھ رقوم دی گئی ہیں تاکہ انہیں مسجد نبوی یا قبور مطہرہ بقیع میں ڈالیں لیکن یہ ممکن نہیں لہذا کیا ہم ان پیسوں کو شیعہ فقراء میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
جواب:اگر پیسے دینے والے راضی ہوں تو انہیں شیعہ فقراء پر خرچ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
سوال 624۔ بہت سارے زائرین خانۂ خدا، مسجد الحرام میں اعتکاف کے مشتاق ہوتے ہیں۔ چونکہ روزہ اعتکاف کے لیے شرط ہےتو کیامکہ مکرمہ میں روزہ کی نذر کر کے اعتکاف کر سکتے ہیں؟
جواب:احتیاطِ واجب کی بناپر نذر وطن یا محل اقامت میں ہونی چاہئے۔
سوال 625۔ اگر کوئی شخص مسجد الحرام میں اعتکاف کرنا چاہے تو کیا جائز ہے کہ اذانِ صبح سے پہلے تنعیم جا کر احرام باندھے اور پھر باقی اعمال اعتکاف کی حالت میں انجام دے؟ یاد رہے کہ سعی کا مقام مسجد کا حصہ نہیں ہے۔
جواب: وہ احرام باندھ سکتا ہے اور سعی انجام دینے کے لیے مسجد سے باہر جانے میں کوئی اشکال نہیں۔
سوال 626۔ حاجت پوری ہونے کے لئے مدینہ منورہ میں تین دن مستحب روزے رکھنا مسافر سے مخصوص ہے یا مدینہ میں رہنے والوں اور دس دن قصد اقامت کرنے والوں کے لئے بھی مستحب ہے؟
جواب: مسافر کے ساتھ مخصوص نہیں۔سفر کی حالت میں روزہ کو مستثنی کرنے کے لئے مسافر کا ذکر ہوا ہے(چونکہ عام طور پر مسافر سفر میں روزہ نہیں رکھ سکتا۔)
رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
جتنا ہوسکے مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں وہ اعمال زیادہ اور تکرار کے ساتھ انجام دیں جنہیں خداوند عالم پسندکرتا ہے،یہ ایسے اعمال ہیں جو خالصانہ اور اللہ کے سامنے عاجزی کے ساتھ انجام دیے جائیں۔ وہ دعائیں جو وارد ہوئی ہیں یا وہ جو ان مقامات سےمخصوص نہیں ہیں—جیسے دعائے کمیل—ان کا اجتماعی طور پر پڑھنا بہت ہی نیک عمل ہے۔[1]
حج ایک انسان کے لیے معنویت کے بیکراں ماحول میں داخل ہونے کا موقع ہے۔ ہم خامیوں اور مشکلات سے بھرپور اپنی معمول کی زندگی سے خود کو نکال کر صفا، معنویت اور اللہ کی قربت اور ریاضت سے معمور فضا میں لے آتے ہیں۔مناسک حج کے آغاز سے ہی ان چیزوں کوآپ اپنے لئے حرام قرار دیتے ہیں جو معمولا مباح ہوتی ہیں۔ احرام کا مطلب ان چیزوں کو اپنے لئے حرام قرار دینا ہے جو عام اوقات میں جائز اور مباح ہوتی ہیں۔ ان میں بہت ساری چیزیں غفلت کا باعث بنتی ہیں اور بعض زوال کی طرف لے جاتی ہیں۔
ظاہری اور مادی تفاخر کے تمام ذرائع ہم سے چھین لیے جاتے ہیں؛ سب سے پہلے لباس۔ عہدہ، مقام، رتبہ، اور قیمتی لباس، یہ سب ختم ہو جاتے ہیں اور سب ایک جیسے لباس میں آ جاتے ہیں۔ آئینے میں نہ دیکھیں، کیونکہ یہ خود پسندی اور خود نمائی کا ایک مظہر ہے۔ خوشبو کا استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ دکھاوے کا ایک ذریعہ ہے۔ چلتے وقت دھوپ یا بارش سے نہ بھاگیں اور چھت کے نیچے نہ جائیں، کیونکہ یہ آرام طلبی اور آسائش کی علامت ہے۔ اگر کسی ایسی جگہ سے گزریں جہاں بدبو ہو، تو اپنی ناک نہ بند کریں۔ اسی طرح احرام کے باقی تمام کاموں کا بھی یہی مقصد ہے؛ یعنی اس مدت کے دوران ان تمام چیزوں کو خود پر حرام کر لینا جو آرام و سکون کا باعث بنتی ہیں، یا نفسانی شہوات اور حرام جنسی خواہشات کو ابھارتی ہیں؛ چاہے وہ چیز فخر و غرور کا ذریعہ ہو یا امتیاز اور فرق پیدا کرنے والی ہو، یہ سب چیزیں ختم کر دی جاتی ہیں۔
پھر بیت اللہ اور مسجد الحرام میں داخل ہوتے ہیں جو پوری سادگی اور سجاوت سے خالی ہونے کے باوجود پرشکوہ اور عظمت سے بھرپور ہےاس جلال و عظمت کو اپنی آنکھوں، اپنے ہاتھوں بلکہ پورے وجود سے محسوس کرتا ہے۔ یہ عظمت اور جلال مادی زینت و آرائش نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی اور باطنی شان و شوکت ہے جو عام انسانوں کے لیے بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ پھر جب انسان حاجیوں کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا حصہ بنتا ہے، اور ایک مرکز کے گرد گریہ اور خشوع کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کے ساتھ طواف کرتا ہے؛ پھر صفا و مروہ کی سعی بھی اسی کیفیت میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے۔ عرفات اور مشعر میں وقوف اور ایام منیٰ کی عبادات بھی اسی طرح ہیں اور یہی حج ہے۔[2]
جو لوگ مکّہ جاتے ہیں، وہ ان لمحات کو مکّہ کو بازاروں میں گھومنے اور دکانوں کی سیر کی نذر نہ کریں۔ مکّہ ان بے اہمیت سرگرمیوں سے بہت برتر و بالا ہے۔ اگر تجارت کا شوق ہے تو بعد میں الگ سے کسی سفر میں جائیں، جہاں چاہیں جائیں۔ لیکن حج کے دوران ان "ایام معلومات" کو اپنے لیے، زیارت کے لیےاور یادِ خدا کے لیے محفوظ رکھیں، اور ان قیمتی دنوں کو بے وقعت کاموں میں ضائع نہ کریں۔ نمازِ جماعت میں شرکت کریں، اجتماعات میں شریک ہوں، اور حرمین شریفین میں نمازِ اوّل وقت کی جماعت کے ساتھ ادا ئیگی کو یقینی بنائیں۔ پورےایمان اور پرہیزگاری کے ساتھ حاضر ہوجائیں جو ایرانی قوم کے شایان شان ہو۔[3]
حج کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک بقائے باہمی ہے۔ ایسے افراد جو ایک دوسرے کو بالکل نہیں جانتے، مختلف ثقافتوں، علاقوں، رنگوں اور زبانوں سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں یہاں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا ہوتا ہے۔[4]
سیاسی اعتبار سے، حج کا مرکزی محور امت مسلمہ کے اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ ہے۔ مسلمان بھائیوں کی ایک دوسرے سےدوری سے دشمنوں کو موقع ملتا ہے اور امت کے درمیان تفرقے کا بیج پروان چڑھتا ہے۔ امت مسلمہ مختلف قوموں، نسلوں اور مسالک کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔ یہ تنوع، جو زمین کے ایک حساس اور اہم حصے میں جغرافیائی طور پر پھیلا ہوا ہے، خود اس عظیم امت کے لیے ایک قوت بن سکتا ہے۔ یہ تنوع ان کے مشترک ورثے، ثقافت اور تاریخ کو ایک وسیع دائرے میں زیادہ مؤثر اور کارآمد بنا سکتا ہے، اور انسانی و قدرتی صلاحیتوں کو اس امت کی خدمت میں استعمال کر سکتا ہے۔[5]
حج، ان مستکبروں کے مقابلے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے، جو فساد، کمزوروں پر ظلم، قتل عام اور لُوٹ مار کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ آج امت مسلمہ کا عظیم پیکر ان کے ظلم و خباثت سے زخمی اور خون آلود ہے۔ حج، امتِ اسلامی کی عسکری اور ایمانی و ثقافتی طاقت کی ایک شاندار نمائش ہے۔ یہی حج کی حقیقت، اس کی روح، اور اس کے اہم ترین اہداف کا ایک حصہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے امام خمینی کبیرؒ نے "حجِ ابراہیمی" کا نام دیا تھا۔[6]
وہ "حجِ ابراہیمی" جو اسلام نے مسلمانوں کو بطور ہدیہ عطا کیا ہے، عزت، معنویت، وحدت اور شکوہ و عظمت کا مظہر ہے۔ یہ حج امتِ اسلامی کی بزرگی اور خدا کی لازوال طاقت پرامت مسلمہ کے اعتقاد کو دشمنوں اور بدخواہوں کے سامنے نمایاں کرتا ہے، اور اُنہیں اُس گندگی، ذلت اور محرومی سے ممتاز و الگ دکھاتا ہے جو عالمی غاصبوں اور مستکبروں نے انسانی معاشروں پر مسلط کر رکھی ہے۔
اسلامی اور توحیدی حج اس نورانی کلام الہی کا مظہر ہے: "أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ"[7] یعنی کفار کے مقابلے میں سخت اور آپس میں مہربان۔ یہ مشرکوں سے براءت اور اہلِ ایمان کے آپس میں باہمی اُلفت و وحدت ظاہر کرنے کا مقام ہے۔[8]