ویب سائٹ دفتر رہبر معظم انقلاب اسلامی
دریافت:

مناسک حج

  • مقدمه: حج کی فضیلت اور اہمیت
  • پہلی فصل:کلیات
  • دوسرا باب: واجب حج (حجّة الاسلام)
  • تیسرا باب: حج  نیابتی (کسی کی طرف سے حج کرنا)
  • چوتھا باب: عمرۂ تمتّع کے اعمال
    • اوّل: احرام
      • عمرۂ تمتع کے احرام کے میقات
        • میقات سے متعلق مسائل
          پرنٹ  ;  PDF
           
          میقات سے متعلق مسائل

           

          مسئلہ 146: میقات یا اس کے محاذات (برابر کے مقام) کا علم نہ ہو، تو وہ شرعی گواہی یعنی دو عادل گواہوں کی شہادت یا اطمینان بخش  شہرت کی بنیاد پرثابت ہوجاتا ہے اور یقین حاصل کرنے کے لیے خود تحقیق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر علم، شرعی گواہ یا  شہرت  نہ ہو، تو اطلاع رکھنے والے مقامی افراد سے سوال کرکے حاصل ہونے والے ظن پر اکتفا کر سکتا ہے۔
          مسئلہ 147: میقات سے پہلے احرام باندھنا  صحیح نہیں، مگر یہ کہ انسان نے نذر کی ہو کہ وہ میقات سے پہلے مثلاً مدینہ یا اپنے شہر سے احرام باندھے۔ اس صورت میں اُسے نذر کے مطابق وہیں سے احرام باندھناہوگا اور یہ احرام صحیح ہے۔
          مسئلہ 148: اگر کوئی شخص عمدا، غفلت، فراموشی یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے بغیر احرام میقات سے گزر جائے، تو اُس پر واجب ہے کہ میقات واپس جا کر وہاں سے احرام باندھے۔
          مسئلہ 149: اگر کوئی شخص غفلت، فراموشی یا جہالت کے باعث بغیر احرام میقات سے گزر جائے، اور وقت کی کمی یا کسی اور عذر کی وجہ سے واپس نہ جا سکے، تو چنانچہ ابھی حرم میں داخل نہیں ہوا ہے، تو احتیاط واجب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو میقات کی طرف واپس جائے اور وہاں سے احرام باندھے اور اگر حرم میں داخل ہو چکا ہے اور وہ حرم سے باہر جا سکتا ہے، تو احرام باندھنے کے لئے باہر جاناواجب ہے۔ اگر وقت کی تنگی یا کسی اور عذر کی وجہ سے حرم سے باہر جانا ممکن نہ ہو، تو اسی جگہ سے احرام باندھے جہاں اس کا عذر ختم ہوا ہے۔
          مسئلہ 150: بغیر کسی عذر کے احرام کو میقات سے مؤخر کرنا جائز نہیں ہے، چاہے اُس کے سامنے دوسرا میقات موجود ہو یا نہ ہو۔
          مسئلہ 151: اگر کسی شخص کو کسی میقات پر احرام باندھنے سے روک دیا جائے، تواگلے میقات سے احرام باندھنا جائز ہے۔
          مسئلہ 152: اگر کوئی شخص علم  ہوتے ہوئےاور جان بوجھ کر میقات پر احرام باندھے بغیر گزر جائے اور وقت کی کمی یا کسی اور عذر کی وجہ سے واپس نہ جا سکے، اور آگے کوئی دوسرا میقات بھی نہ ہو، اور عمرہ کا وقت بھی تنگ ہوجائے تو وہ  عمرہ اور حج سے محروم ہو گیا ہے  اور اگر اُس پر حج واجب ہوچکا تھایا اسی سال مستطیع ہوا تھا تو اُسے اگلے سال حج کرناچاہئے۔
          مسئلہ 153: جدّہ نہ میقات ہے اور نہ ہی کسی میقات کا محاذی لہٰذا جدّہ سے احرام باندھنا صحیح نہیں ہےاور کسی میقات سے احرام باندھنا واجب ہے۔
          مسئلہ 154: اگر کوئی شخص میقات پر احرام باندھنے کے بعد آگے جا کر متوجہ ہوجائے کہ اُس کا احرام صحیح نہیں تھا، تو  اگر ممکن ہے تو اُسےمیقات  واپس جا کر وہاں سے صحیح احرام باندھنا چاہئے اور اگر مکہ آئےبغیر میقات واپسی ممکن نہ ہو، تو حرم میں داخل ہونے سے پہلے، "اَدنی الحِلّ[1]" سےمکہ میں داخل ہونے کے لئے  عمرہ مفردہ کی نیت سے احرام باندھے اورعمرہ مفردہ انجام دینے کے بعد  کسی میقات پر واپس جائے اور وہاں سے عمرۂ تمتّع کے لیے احرام باندھے۔
           

          [1]  حرم کے باہر نزدیک ترین مقام
        • میقات سے متعلق استفتاءات
      • واجبات احرام
      • مستحبّات احرام
      • مکروهات احرام
      • محرّمات احرام
      • مکّۂ مکرمہ کے آداب اور مستحبات
    • دوم طواف
    • سوّم: نمازِ طواف
    • چوتھا: سعی
    • پنجم: تقصیر
    • عمرۂ تمتّع اور حجّ تمتّع کے مشترکہ احکام
    • آٹھواں: منی میں رات گزارنا
  • پانچواں باب: حجِ تمتّع کے اعمال
  • چھٹا باب: عمرہ مفردہ
  • متفرق استفتائات
  • رہبر معظم شہید امام خامنہ ای کے بیانات اور پیغامات سے چند اقتباسات
700 /